Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • کتب ستّہ سے ہم کیسےمستفید ہوں؟ (قسط اول)

    لکچر از شیخ :عبد المحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ ، یہ لیکچر انہوں نےجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پیش کیا تھا۔
    ترجمہ: صہیب حسن بن فضل حق مدنی مبارکپوری
    لکچرر جامعۃ الہند الاسلامیہ منی اولی مالاپورم پرالا

    مقدمہ

    شیخنا المحترم شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، آپ عالم اسلام کی ان چیدہ شخصیات میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تفقہ فی الدین کی نعمت سے مالا مال کیا ہے۔ آپ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے اولین اساتذہ میں سے ہیں۔ عرصۂ درازسے آپ محدثانہ شان کے ساتھ مسجد نبوی شریف میں حدیث شریف کا درس دے رہے ہیں اورکتب ستہ مکمل کر چکے ہیں ۔آپ نے بہت سے علمی و دینی اور اصلاحی رسائل تالیف کیے ہیں اور احادیث کی شرحیں لکھی ہیں۔ آپ کی جملہ تالیفات موضوعات کی تقسیم کے ساتھ ساتھ الگ الگ جلدوں میں شائع ہوچکی ہیں ۔
    شیخ سے مجھے شرف تلمذ حاصل ہے ، آپ سے ہم نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں عقیدہ کا درس لیاہے ،گزشتہ سال ارض حرم کے مبارک سفر میں مدینہ منورہ میں آپ سے ملاقات ہوئی آپ نے بڑی شفقت کا معاملہ فرمایا اور اپنی جملہ تالیفات عنایت فرمائیں ۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء
    زیر نظر رسالہ ’’کیف نستفید من الکتب الحدیثیۃ الستۃ ‘‘ علم حدیث سے متعلق بڑا ہی اہم رسالہ ہے، ہمارے عم زاد بردرم حاجی عبد الرقیب رحمہ اللہ کے پوتے عزیزم حافظ صہیب حسن مدنی نے اسے اردو قالب دیا ہے ۔ یہ رسالہ علم حدیث سے شغف رکھنے والے طلبہ کےلیے انتہائی مفید ہے ۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے مؤلف و مترجم کے حسنات میں شامل فرمائے اور طلبۂ عزیز کے لیے اسے مفید بنائے ۔ آمین۔
    عبد الرحمٰن عبید اللہ رحمانی
    یوم الجمعۃ المبارک ۱۰ ؍محرم الحرام ۱۴۴۳ھ
    ۲۰؍ اگست ۲۰۲۱ء
    تمام تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں ، اُس سے مدد چاہتے ۔ ہیں اور اُس سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اپنی جانوں کی برائیوں سے اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے، جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے گمراہ کر دے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تنہا اللہ کے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں۔ اس کا کوئی سا جھی نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اُسے سارے دین پر غالب کرے ۔ چنانچہ آپ نے پیغام پہنچایا ۔ امانت کی ادائیگی کی اور امت کی خیر خواہی کی ۔ اے اللہ ! تو قیامت کے دن تک درود و سلام اور برکتیں نازل فرما اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمدﷺ اُن کی آل واولاد اور اُن کے اصحاب پر اور اُن لوگوں پر جو آپ ﷺ کے راستے پر چلے اور آپ کے طریقے کو اپنایا ۔
    حمد و صلاۃ کے بعد : حدیث کی اِن چھ کتابوں ، صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داور سنن نسائی، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ سے استفادہ کے متعلق یہ مختصر سا کتا بچہ ہے۔
    میں عرض کرتا ہوں کہ محمد ﷺکی امت پر الله کی سب سے عظیم نعمت جس کا اُس نے اُس پر انعام کیا یہ ہے کہ اُن کے درمیان اُس نے اپنے رسول کریم کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ آپ کے ذریعہ انہیں تاریکیوں سے نور کی طرف لے آئے ۔ آپ پر سب سے افضل درود اور سب سے مکمل سلام نازل ہو۔ آپ نے اس مہم کو بہت بہتر طریقے سے انجام دیا۔
    اور جس چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا تھا پورے تمام و کمال کے ساتھ آپ نے اس کی ادائیگی کی۔ چنانچہ آپ نے اُمت کو ہر خیر سے واقف کرایا اور اُس میں رغبت دلائی اور ہر شرسے اُس کو ڈرایا اور اُس سے منع کیا۔ اللہ تعالیٰ کا درود و سلام اور اس کی برکتیں آپ پر نازل ہوں ۔ نبی ﷺکے صحابۂ کرام سے اللہ راضی ہوا اور انہیں (اپنے فیصلے سے)راضی کیا ۔
    اللہ تعالیٰ کی توفیق اُن کو شامل حال اس طور پر رہی کہ اُس نے آپ ﷺ کی صحبت کے لیے اُن کو پسند کیا اور دنیوی زندگی میں اُن کی نگاہوں کو آپ کےدیدار سے مشرف کیا ، آپ کی حدیث شریف کو آپ کی زبان مبارک سے سنوا کر اُنہیں شرف عظیم سے مالا مال کیا۔ چنانچہ اُنہوں نےآپ سے قرآن اور آپ سے صادر ہونے والے ہر قول وفعل اور تقریر کو سیکھا اور پورے تمام و کمال کے ساتھ اسے اپنے بعد والوں تک پہنچایا ۔ اپنے اس عمل کی وجہ سے وہ لوگوں میں ہر خیر کی طرف سب سے زیادہ سبقت کرنے والے اور اس خیر امت کے سب سے افضل لوگ ٹھہرے۔ پھر صحابۂ کرام کا زمانہ ختم ہونے کے بعد حدیث کی تدوین اور رسول اللہ ﷺ تک اُس کی سندوں کو پہنچا کر اُس کے جمع کرنے کا کام شروع ہوا ۔
    تدوین سنت کے تعلق سے تالیفی عمل جاری و ساری رہا یہاں تک کہ تیسری صدی ہجری میں اس تحریک نے خوب زور پکڑا اور سنت کی جو کتابیں تالیف کی گئیں اُن میں علی الاطلاق سب سے اہم امام ابو عبد الله محمد بن اسماعیل البخاري (۱۹۴۔۲۵۶ھ) کی صحیح ہے۔ اور اس کے بعد امام مسلم بن الحجاج النیسا پوری(۲۰۴۔۲۶۱ھ ) کی صحیح ہے ۔
    ان دونوں کتابوں کے بعد ان ائمہ اربعہ کی سنن ہے :
    ۱۔ابو داؤد سلیمان بن الاشعث السجستانی (المتوفی۲۷۵ھ ) ۲۔ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعيب النسائی (المتوفی ۳۰۳ھ) ۳۔ ابو عیسیٰ محمد بن عيسیٰ الترمذی(المتوفی۲۷۹ھ) ۴۔ ابو عبد الله محمد بن يزيد بن ماجہ القزوينی (المتوفی۲۷۳ھ)
    یہی وہ چھ کتابیں ہیں جو کتب ستہ سے مشہور ہوئیں، اور ان کے متون ورجال، علماء کی خاص توجہ اور اُن کے خوب اہتمام کا مرکز رہے ۔
    ان کتابوں میں سب سے پہلی کتاب امام ابو عبد اللہ بخاری رحمہ اللہ کی صحیح ہے جو علی الاطلاق فن حدیث میں تالیف کی گئی سب سے صحیح کتاب ہے۔ اس کے بعد صحت میں امام مسلم رحمہ اللہ کی صحیح ہے ، ان دونوں کتابوں کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی کیونکہ ان دونوں کے مؤلف نے زیادہ تر اپنی توجہ رسول اللہﷺ کی صحیح حدیثوں کے جمع کرنے کی طرف مرکوز کی، حالانکہ انہوں نے جملہ صحیح احادیث کا استیعاب واحاطہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس کا التزام کیا ہے بلکہ صحیحین کے علاوہ بہت سی صحیح حدیثیں پائی جاتی ہیں لیکن احادیث صحیحین کی ایک بڑی تعداد اُن صحیح احادیث کی ہے جو رسول اللہ ﷺسے ثابت ہے ۔
    جس حدیث (کی صحت اور ذکر کرنے) پرامام بخاری و امام مسلم رحمہ اللہ متفق ہوں اس کا مقام و مرتبہ اُس حدیث سے بلند ہے جس کی روایت میں دونوں میں سے ایک منفرد ہوں۔ اس بنا پر بخاری ومسلم کی روایت کردہ اور غیر روایت کردہ حدیثوں کی نسبت سے صحیح احادیث کے سات درجات ہیں:
    ۱۔جس پر بخاری ومسلم دونوں متفق ہوں ۔
    ۲۔ جس کی روایت میں بخاری منفرد ہوں۔
    ۳۔جس کی روایت میں مسلم منفرد ہوں ۔
    ۴۔جو بخاری ومسلم کی شرط پر ہو اور انہوں نے اسے اپنے یہاں روایت نہ کیا ہو۔
    ۵۔ جو بخاری کی شرط پر ہو اور اُنہوں نے اُسے روایت نہ کیا ہو۔
    ۶۔جو مسلم کی شرط پر ہو اور اُنہوں نے اُسے روایت نہ کیا ہو۔
    ۷۔جو صحیحین میں نہ ہو اور نہ اُن کی شرط پر ہو اور وہ صحیح ہو ۔
    یہ صحیح حدیث کے سات درجات ہیں، ان میں سب سے بلند درجہ ۔ جیساکہ گزرا ۔ اُس حدیث کا ہے جس پر بخاری ومسلم متفق ہوں اور اس سلسلے کی سب سے بہترین تالیف شیخ محمد فؤاد عبد الباقی (المتوفی۱۳۸۸ھ) کی کتاب ’’اللؤلؤ والمرجان فيما اتفق علیہ الشیخان‘‘ہے۔ مؤلف نے اس کی ترتیب میں امام مسلم کی موافقت کی ہے اور نص کا اثبات صحیح بخاری سے اس طرح کیا ہے کہ اُس کا جو لفظ صحیح مسلم کے سب سے زیادہ موافق پایا اُسی کو نقل کر دیا۔ مسلم کی ترتیب پر کتاب لانے کی وجہ یہ ہے کہ امام مسلم رحمہ الله ایک موضوع سے متعلق تمام حدیثوں کو عمدہ سیاق کے ساتھ یکجا بیان کرتے ہیں۔
    اور (ہر باب میں پہلے )وہ ایسی حدیث ذکر کرتے ہیں جسے وہ (اس باب کی ) اصل سمجھتے ہیں پھر وہ دیگر طرق اور سندوں کو لاتے ہیں اور ان اضافات و نقص اور فروق کو ذکر کرتے ہیں جو ان (طرق کی حدیثوں) کے اور اصل حدیث کے درمیان ہوتے ہیں ۔ حدیث کا جو لفظ بخاری کے یہاں اپنے مقام میں صحیح مسلم سے مطابقت رکھنے والا ہے اُسی کو شیخ محمد فؤاد عبد الباقی ثابت رکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں: امام بخاری اس حدیث کو فلاں کتاب اور فلاں باب میں لائے ہیں پھر کتاب اور باب کا نمبر ذکر کرتے ہیں۔ شیخ محمد فؤاد کے امام بخاری کی ترتیب پر حدیثوں کو ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ امام بخاری حدیثوں سے ترجمۃالباب کے مسائل پر استدلال کرنے کے لیے اُنہیں ٹکڑے ٹکڑے کرتے اور انہیں متعدد ابواب میں الگ الگ ذکر کرتے ہیں۔ ایسا انہوں نے اس ارادے سے کیا ہے کہ اُن کی کتاب روایت و درایت دونوں کو شامل ہو۔ کتاب ’’اللؤلؤ والمرجان ‘‘میں حدیثوں کی مجموعی تعداد انیس سو چھ (1906) ہے۔
    صحیحین کی حدیثوں کا حوالہ دیتے وقت علماء یہ کہتے ہیں : اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا یاشیخین نے اس کی تخریج کی یا یہ متفق علیہ ہے۔ اصطلاح میں’’متفق علیہ‘‘ سے مراد حدیث کی روایت کرنے پر بخاری و مسلم کا متفق ہونا ہے ۔ البتہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دادا مجد ابن تیمیہ جن کی کتاب ’’منتقى الأخبار‘‘ ہے۔ اور جس کی شرح شوکانی نے ’’نیل الاوطار‘‘ کے نام سے کی ہے وہ جب ’’ متفق علیہ‘‘ کہتے ہیں تو اس سے اُن کی مراد بخاری ومسلم اور امام احمد اپنی مسند کے ساتھ ہوتے ہیں۔ لہذا جب وہ متفق علیہ کہیں تو اس سے یہی تینوں مراد ہوتے ہیں۔
    جاری …..

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings