-
سوشل میڈیا کے دور میں اسلامی اخلاق و کردار اکیسویں صدی ٹیکنالوجی اور اطلاعات کی صدی ہے، آج دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں فاصلے سمٹ گئے ہیں اور چند لمحوں میں ایک انسان کی آواز، تصویر، تحریر یا ویڈیو دنیا کے کسی بھی کونے تک پہنچ سکتی ہے، سوشل میڈیا نے علم، دعوت، رابطے اور اظہار کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، مگر اسی کے ساتھ اس نے ہمارے اخلاق، وقت اور ذمہ داری کا ایک نیا امتحان بھی سامنے رکھ دیا ہے۔
اصل مسئلہ سوشل میڈیا کا وجود نہیں بلکہ اس کا استعمال ہے، ایک مسلمان کے لیے موبائل کی اسکرین بھی اسی طرح جواب دہی کا ذریعہ ہے جیسے اس کی زبان، نگاہ، مال اور وقت۔ اسلام نے زندگی کے کسی شعبے کو اخلاقیات سے خالی نہیں چھوڑا، قرآن و سنت ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ انسان جو کچھ دیکھے، سنے، کہے یا آگے پہنچائے، اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے، آج سوال یہ نہیں کہ ہمارے ہاتھ میں موبائل ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ موبائل ہمارے ہاتھ میں ہے یا ہم موبائل کے ہاتھ میں ہیں؟اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو محض تفریح اور وقت گزاری کا ذریعہ نہ بنائیں، بلکہ اسے قرآن و سنت کے بتائے ہوئے اسلامی اخلاق، دینی ذمہ داری اور احساسِ جواب دہی کے تابع کریں۔
سوشل میڈیا کے استعمال میں ایک مسلمان کے لیے ہر قدم پر یہ شعور ضروری ہے کہ اس کی ہر بات، ہر تحریر اور ہر عمل اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے، اس لیے سوشل میڈیا کی آزادی کو بے لگام آزادی کے بجائے دینی ذمہ داری اور اخلاقی جواب دہی کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔
اسی لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت چند چیزوں کا پاس و لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے :
(۱) خبر کی تحقیق: اسلامی معاشرت کا بنیادی اصول : سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ غیر مصدقہ معلومات اور افواہوں کا پھیلاؤ ہے، ایک پیغام، تصویر یا ویڈیو موصول ہوتی ہے اور لوگ تحقیق کیے بغیر اسے آگے بھیج دیتے ہیں، یوں ایک جھوٹی خبر چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے اور کسی فرد یا خاندان کی عزت متاثر ہو سکتی ہے، قرآن کریم نے اس معاملے میں نہایت واضح اصول بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو‘‘۔
[سورۃ الحجرات:٦]
یہ آیت آج کے سوشل میڈیا کے دور میں ہمارے لیے ایک مکمل اخلاقی ضابطہ بن سکتی ہے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ کسی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے سوچے: کیا یہ درست ہے؟ اس کا معتبر ذریعہ کیا ہے؟ کیا اس خبر سے کسی کی عزت یا جان و مال کو نقصان تو نہیں پہنچے گا؟
ہر موصول ہونے والا پیغام شیئر کرنے کے لیے نہیں ہوتا بعض اوقات خاموشی بھی ایک دینی ذمہ داری ہوتی ہے۔
(۲) غیبت، بہتان اور کردار کشی : سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کے مواقع بڑھائے ہیں، وہیں کسی کی عزت و آبرو کو مجروح کرنے کے امکانات بھی بڑھا دیئے ہیں، کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کی ایسی برائی بیان کرنا جو اس میں موجود ہو، غیبت ہے اور ایسی بات اس کی طرف منسوب کرنا جو اس میں موجود ہی نہ ہو، بہتان ہے، اسی طرح کسی فرد کی عزت، ساکھ اور شخصیت کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کے خلاف الزامات، تحقیر آمیز تبصرے یا منفی مواد پھیلانا کردار کشی کے زمرے میں آتا ہے، قرآنِ کریم نے غیبت کی قباحت کو نہایت موثر انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ ’’اور تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت نہ کرے‘‘۔
[سورۃ الحجرات: ١٢]
آج غیبت صرف کسی مجلس میں بیٹھ کر کسی کی برائی بیان کرنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ سوشل میڈیا پر کسی کے عیوب بیان کرنا، اس کی تضحیک کرنا، نجی بات دوسروں تک پہنچانا یا اس کے خلاف تحقیر آمیز تبصرے کرنا بھی اسی دائرے میں آتا ہے، اسی طرح کسی کے بارے میں بغیر تحقیق کوئی الزام یا ایسی خبر پھیلانا جو اس کی عزت کو نقصان پہنچائے، محض ایک ’’فارورڈ‘‘ یا ’’شیئر‘‘ نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی معاملہ ہے۔
ایک مسلمان کو یاد رکھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر لکھا یا شیئر کیا گیا ایک جملہ بھی چند لمحوں میں سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، اس لیے ’’میں نے تو صرف آگے بھیجا تھا‘‘ کہہ دینے سے ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی، لہٰذا سوشل میڈیا پر کسی کی کمزوری اچھالنے، الزام تراشی یا کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے سے اجتناب ضروری ہے، اگر کسی کی اصلاح مقصود ہو تو اسے ذلیل کرنے کے بجائے خیر خواہی، حکمت اور نرمی کا راستہ اختیار کریں، یہی اسلامی اخلاق ہے کہ ہماری زبان، قلم اور انگلیاں کسی کی عزت پامال کرنے کے بجائے خیر، اصلاح اور بھلائی کا وسیلہ بنیں۔
(۳) نگاہ کی حفاظت : سوشل میڈیا کے ذریعے انسان کے سامنے ہر قسم کا مواد آ سکتا ہے، ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی نگاہ کی حفاظت کرے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾
ترجمہ:’’ایمان والوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں‘‘۔
[سورۃ النور: ٣٠]
یہ حکم آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ہر دور میں تھا، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے انسان کو غلط منظر تک پہنچنے کے لیے کہیں جانا پڑتا تھا، آج وہ منظر اس کی جیب میں موجود موبائل کی اسکرین پر خود آ جاتا ہے، اس لیے ایک مسلمان کو اپنی نگاہ کی حفاظت کرتے ہوئے ہر ایسے منظر سے بچنا چاہیے جو حیا، پاکیزگی اور تقویٰ کے منافی ہو۔
(۴) پرائیویسی اور دوسروں کی عزت : سوشل میڈیا پر کسی کی ذاتی تصویر، نجی گفتگو، ذاتی معاملہ یا ویڈیو بغیر اجازت پھیلانا ایک خطرناک رویہ ہے، بعض اوقات لوگ کسی کی ذاتی بات کو محض مذاق سمجھ کر شیئر کرتے ہیں، لیکن اس کا اثر دوسرے انسان کی عزت، ذہنی سکون اور خاندانی زندگی پر پڑ سکتا ہے، اسلام انسان کی عزت، پردے اور نجی زندگی کی حفاظت کرتا ہے، قرآنِ کریم دوسروں کے عیوب تلاش کرنے اور ٹوہ لگانے سے روکتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ وَلَا تَجَسَّسُوا﴾ ترجمہ :’’اور ٹوہ میںنہ لگو‘‘۔ [سورۃ الحجرات: ١٢]
لہٰذا کسی کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر یا ذاتی گفتگو نشر کرنا، کسی کی کمزوری کو عوامی موضوع بنانا یا کسی کے راز کو افشا کرنا مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔
(۵) دکھاوا اور شہرت کی دوڑ : سوشل میڈیا پر اپنی ہر خوشی، ہر سفر، ہر خریداری یا ہر نیکی کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے اور ہر عمل پر داد چاہنے کی عادت انسان کو آہستہ آہستہ اخلاص سے دور کر سکتی ہے، البتہ کسی نیک کام کی ترغیب، خیر کی دعوت یا دوسروں کو بھلائی کی طرف متوجہ کرنے کے لیے کسی عمل کا ذکر کرنا اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے اصل اہمیت نیت کی ہے، اس لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے انسان کو اپنے دل سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے:’’میں یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے‘‘؟
(۶) وقت کی حفاظت : سوشل میڈیا کا ایک بہت بڑا نقصان وقت کا ضیاع ہے، چند منٹ کے لیے موبائل کھولنے والا شخص کبھی کبھی گھنٹوں اسکرول کرتا رہتا ہے، نتیجتاً نماز، قرآن، تعلیم، گھر والوں، صحت اور حقیقی زندگی کے رشتوں کے لیے وقت کم پڑ جاتا ہے، وقت دراصل انسان کی زندگی ہے جو وقت گزر گیا وہ دوبارہ واپس نہیں آتا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ‘‘ ۔’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت‘‘۔
[صحیح بخاری: ٦٤١٢]
اس لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا ہمارے وقت کا مالک نہ بن جائے بلکہ ہم اس کے درست استعمال کے مالک بنیں۔
(۷) اختلافِ رائے کے اسلامی آداب : سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ نظر آنے والی چیزوں میں سے ایک سخت لہجے میں اختلاف ہے، معمولی اختلاف بھی بعض اوقات گالی، الزام اور دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے، اسلام ہمیں اختلاف کے وقت بھی حکمت، شائستگی اور حسنِ گفتگو کی تعلیم دیتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ﴾ ’’اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کیجیے جو سب سے بہتر ہو‘‘۔
[سورۃ النحل: ١٢٤]
رسول اللہ ﷺ نے بھی گفتگو میں احتیاط اور زبان کی حفاظت کی تاکید فرمائی:
’’مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ‘‘۔
’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے‘‘۔
[صحیح بخاری: ٦٠١٨]
لہٰذا سوشل میڈیا پر اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے دلیل، ادب اور نرمی کے ساتھ اپنی بات بیان کرنی چاہیے۔ اختلاف کو ذاتی دشمنی بنانا، مخالف کی تحقیر کرنا، طنز، گالی اور الزام تراشی کرنا اسلامی آداب کے خلاف ہے، اگر سامنے والا غلط ہے تو اسے ذلیل کرنا ضروری نہیں بلکہ دلیل، حکمت اور نرمی کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے۔
تاہم سوشل میڈیا کا صرف منفی پہلو دیکھنا بھی درست نہیں، یہی ذریعہ اگر صحیح نیت اور درست طریقۂ استعمال کے ساتھ اختیار کیا جائے تو خیر، علم، دعوت اور خدمتِ خلق کے فروغ کا موثر وسیلہ بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کے ذریعے قرآن و حدیث کی تعلیم عام کی جا سکتی ہے، دینی و علمی مواد پھیلایا جا سکتا ہے، ضرورت مندوں کی مدد کی جا سکتی ہے، تعلیمی معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں اور لوگوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔
ایک اچھی بات، ایک مفید تحریر ،درست معلومات یا کسی ضرورت مند کے لیے مدد کا پیغام بھی کسی انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے، لہٰذا ہمیں سوشل میڈیا چھوڑنے کی نہیں بلکہ اسے صحیح مقصد کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے چند اصول ہمیشہ سامنے رکھے:
(۱) خبر شیئر کرنے سے پہلے تحقیق کرے۔ (۲) غیبت، بہتان اور کردار کشی سے بچے۔ (۳) دوسروں کی نجی زندگی، تصاویر اور رازوں کا احترام کرے۔ (۴) اپنی نگاہ کو نامناسب مواد سے محفوظ رکھے۔ (۵) گالی، طنز، تحقیر اور الزام تراشی سے اجتناب کرے۔(۶) اختلافِ رائے میں دلیل، حکمت اور شائستگی اختیار کرے۔ (۷) اپنے وقت کو بے مقصد ضائع ہونے سے بچائے۔ (۸) نیکی اور خیر کی تشہیر میں اخلاص کا خیال رکھے۔(۹) سوشل میڈیا کو علم، دعوت، اصلاح اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بنائے۔
سوشل میڈیا آج ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، اس سے مکمل طور پر کنارہ کشی شاید ممکن نہ ہو، لیکن اس کے استعمال کو اسلامی اخلاق و آداب کے تابع کرنا ضرور ممکن ہے۔ ہماری ذمہ داری صرف زبان سے نکلنے والے الفاظ تک محدود نہیں، بلکہ ہماری انگلی سے لکھا جانے والا ہر لفظ، کیا جانے والا ہر تبصرہ، شیئر کیا جانے والا ہر مواد اور اسکرین پر دیکھی جانے والی ہر چیز بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ سوشل میڈیا بھی ہماری ذمہ داری کے دائرے سے باہر نہیں بلکہ اس کے ذریعے ہم جس قدر زیادہ لوگوں تک پہنچتے ہیں، ہماری ذمہ داری بھی اسی قدر بڑھ جاتی ہے، اس لیے ہمیں پوسٹ کرنے سے پہلے سوچنا، خبر شیئر کرنے سے پہلے تحقیق کرنا، اختلاف کے وقت شائستگی اختیار کرنا اور اپنی نگاہ و زبان کی حفاظت کرنا چاہیے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ‘‘ ’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔[صحیح بخاری: ٨٩٣]
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری آن لائن سرگرمیاں بھی ہماری ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ لہٰذا سوشل میڈیا کو وقت ضائع کرنے، فتنہ پھیلانے یا کسی کی عزت مجروح کرنے کے بجائے علم، دعوت، اصلاح، خیر اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بنانا چاہیے، ہماری پوسٹ کسی کے لیے ہدایت کا سبب بنے، ہماری گفتگو دل آزاری کے بجائے خیر خواہی کا ذریعہ ہو اور ہماری آن لائن موجودگی معاشرے میں بھلائی کو فروغ دے۔
آج ضرورت ایسی نسل کی ہے جو ٹیکنالوجی میں جدید، علم میں مضبوط، کردار میں پاکیزہ اور قرآن و سنت سے وابستہ ہو۔ اگر ہم سوشل میڈیا کو اسلامی اخلاق کے تابع کرلیں تو یہی ذریعہ ہماری لغزشوں کا سبب بننے کے بجائے علم، دعوت، اصلاح اور خیر کا وسیلہ بن سکتا ہے۔ ہمیں ہر آن لائن سرگرمی سے پہلے یہ احساس زندہ رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ہر لفظ، ہر نظر اور ہر عمل سے باخبر ہے اور ایک دن ہمیں اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا، ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہماری ہر پوسٹ کسی کے لیے خیر کا سبب بنے، ہماری گفتگو دل آزاری کے بجائے خیر خواہی کا ذریعہ ہو اور ہماری موجودگی معاشرے میں خیر کو فروغ دے، یہی احساسِ جواب دہی سوشل میڈیا کے دور میں ایک مسلمان کے اسلامی اخلاق و کردار کی حقیقی پہچان ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سوشل میڈیا کے درست اور مثبت استعمال کی توفیق عطا فرمائے، ہماری زبان، نگاہ، قلم اور انگلیوں کو ہر برائی سے محفوظ رکھے، اور ہماری ہر آن لائن سرگرمی کو علم، خیر، اصلاح اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔