Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • لفظ ’’عالم‘‘کا صحیح معنوں میں مصداق کون؟

    ترجمہ:آفاق احمد شبیر احمد سنابلی

    کسی لفظ کابے محل استعمال اور کسی اسم کا غیر مسمی پر اطلاق ایک قسم کا ظلم ہے جس میں کوئی بھی صاحب ِعقل شک وشبہ نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ یہ ایک طرح سے حقیقت میں الٹ پھیر،امانت میں خیانت اور لوگوں کی آ نکھوں میں دھول جھونکنا نیز انہیں لفظ کے صحیح معنی ومفہوم کے تئیںگمراہ کرناہے۔
    اسی ضمن میں ایک لفظ ’’عالم‘‘بھی ہے جو ہر کس وناکس کے حق میں بے جا استعمال کیے جانے کے ناطے اس قدر مظلومیت کاشکار ہوچکا ہے کہ عوام تو کجا بہت سارے طلبۂ علم کی نگاہوں سے بھی اس کا حقیقی معنی ٰاوجھل ہوکررہ گیا ہے۔ آج کل تو اس کا استعمال اس قدر غیر موزوں ہو چکا ہے کہ اسے دیکھ کرعلم و حقیقت خود پانی پانی ہوجائے۔
    چنانچہ اس کا اطلاق ہر اس شخص پر کیاجانے لگا ہے جوکسی دینی مدرسہ کافارغ التحصیل ہویا اسے شرعی علوم میں شد بد ہو یا اس کے پاس شرعی علوم کی کوئی سند(ڈگری)ہویا اس نے گنے چنے چند مسائل کا دراسہ کیا ہو،یا دینی موضوعات پر اس کی کچھ تقریریں ہوں یا اس نے اپنی مادری زبان میں عامۃالناس کے لیے علماء کے چند فتوے نقل کر دیئے ہوں گرچہ وہ ان فتؤوں کی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر ہویا وہ کسی مدرسہ میں دینیات کا استاذ ہو یادعوت وتبلیغ کے میدان سے منسلک ہو ، گرچہ اس کا پورا انحصار علماء کے افکار واستنباطات پر ہو ، ہر چھوٹے بڑے مسئلہ میں ان کی تحقیقا ت کا محتاج ہو اور ہنوز اس کے اندر اتنی صلاحیت پیدا ہی نہ ہوئی ہوکہ اسے اس اعلیٰ وارفع مقام کااہل قراردیا جاسکے ۔
    بلکہ بسااوقات کسی مشہورو مقبول عالم کی لکھی ہوئی کسی تحریر کی تلخیص کرکے یا کسی موضوع پرمتفرق علمی مواد کو یکجاکرکے بعض حضرات اس خوش فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اب وہ علم کے اس مقام تک پہنچ گئے ہیں کہ انہیں طبقہ علماء میں شمار کیاجائے۔
    واقعتا یہ افسوس ناک اور تکلیف دہ صورت حال ہے جس سے بڑی حکمت عملی اور سوجھ بوجھ کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے شرور وفتن غالب آ جائیں پھر اس کی اصلاح دشوار ہوجائے۔
    انہی امور کومدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنی علمی بے بضاعتی کے باوجود مناسب سمجھا کہ اس اہم مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے اور ان امور کی وضاحت کی جائے جواس عظیم منصب کے حصول کے لئے لازمی طور پر مطلوب ہیں ۔اس سے مقصود اپنے آپ کو اور طلب علم میں مصروف بھائیوں کو اس امر پر ابھارنا ہے کہ ہم اس مقام کو پانے کے لیے خودکوجہد مسلسل کا عنوان بنا لیں۔
    سب سے پہلے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ کسی بھی فن کا عالم اسے کہیں گے جس کے اندر درج ذیل چار شرطیں موجود ہوں :
    ۱۔ اسے اس فن کے اصول کا مکمل علم ہو۔
    ۲۔ اس فن کی تعبیروتشریح پر قادر ہو۔
    ۳۔ اس فن کے لوازمات سے وہ واقف ہو ۔
    ۴۔ اس فن پر کیے جانے والے اعتراضات اوراشکالات کو دور کرنے پراسے قدرت ہو۔ [ الإفادات والإنشادات للشاطبی :ص:۱۰۷]
    علامہ شاطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’من شروطهم فى العالم بأيِّ علمٍ اتفق:أن يكون عارفًا بأصوله، وما ينبني عليه ذلك العلم، قادرًا على التعبير عن مقصوده فيه، عارفًا بما يلزم عنه، قائمًا على دفع الشبه الواردة عليه فيه‘‘
    ’’کوئی شخص کسی فن کا عالم اسی وقت کہاجائے گا جب اس کے یہاں یہ شرائط پائی جائیں ۔وہ شخص اس علم کے اصول سے واقف ہو۔ اس فن میں اپنے مقصودکو بحسن و خوبی بیا ن کرنے کا ملکہ رکھتا ہو ۔اس کے لوازمات کو بھی جانتا ہو اور اس فن پروارد ہونے والے شبہات و اعتراضات کے ازالہ پر بھی قادر ہو‘‘
    [ الموافقات:۱؍۱۴۰]
    اس اعتبار سے شرعی عالم وہ ہے جسے شرعی احکام کی معرفت اور ان کے بنیادی اصول سے واقفیت ہو اور وہ درج ذیل ہیں:
    ۱۔ اس کے پاس قرآن کا اتناعلم ہوجس کے ذریعہ وہ اس کے اندر موجودشرعی احکامات محکم متشابہ،عموم خصوص ، مجمل مفسر، اورناسخ منسوخ کوصحیح طور پر سمجھ سکتا ہو ۔
    ۲۔ سنت رسول یعنی آپ ﷺ سے ثابت اقوال وافعال کی معرفت اسے حاصل ہو، اسنادحدیث کے متعلق یہ جانکاری ہو کہ کون سی حدیث آحاد کے قبیل سے ہے اور کون سی متواتر ہے اور کون صحیح ہے اور کون ضعیف، اسی طرح ان احادیث میں کون سی احادیث علی الاطلاق وارد ہوئی ہیں اور کون سی احادیث کسی سبب کی بنیادپر وارد ہوئی ہیں۔
    ۳۔ سلف کے اجماع واختلاف سے متعلق ان کے اقوال سے واقف ہوتاکہ اجماع میں ان کی پیروی کرسکے اور اختلاف کے وقت اجتہاد کرسکے ۔
    ۴۔ قیاس کی جانکاری ہوتاکہ جن فروعی مسائل کے بارے میں نص صریح وارد نہیں ہے انہیں منصوص ومجمع علیہ اصول کی طرف لوٹاسکے۔
    اورایک انسان ان اصول کو جاننے کا کماحقہ اہل اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ عربی علوم (نحو، صرف، بلاغہ) ، اصول فقہ اور مصطلح الحدیث کامطلوبہ علم حاصل کرلے۔ [ الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی:۲؍۲۳۰۔۲۳۱]
    علوم عربیہ کو حاصل کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ قرآن وحدیث عربی زبان ہی میں ہیں لہٰذا عربی زبان وقواعد میں مطلوبہ مہارت حاصل کیے بغیرقرآن وحدیث کوکماحقہ سمجھنا اور ان کے احکام ومقاصدسے واقف ہونا ممکن نہیں۔
    امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’لا يَعلم مِن إيضاح جُمَل علم الكتاب أحدٌ جهل سعةَ لسان العرب، وكثرةَ وجوهه، وجِماعَ معانيه، وتفرُّقَها‘‘[ الرسالۃ:ص:۵۰]
    جو شخص عربی زبان کی وسعت، اس کی کثیر تعبیرات، اور ان کے معانی کے اتفاق واختلاف کو نہیں جانے گا وہ قرآن مجید کے چند جملوں کی وضاحت و تفسیر کو نہیں جان سکتا۔
    امام الحرمین امام جوینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’إنّ شريعة المصطفي صلى اللّٰه عليه وسلم، مُتلقّاها ومُستقاها الكتابُ والسننُ، وآثارُ الصحابة ووقائعُهم، وأقضيتُهم فى الأحكام، وكُلُّها بأفصح اللغات، وأشرف العبارات، ولا بد من الارتواء من العربية، فهي الذريعةُ إلى مدارك الشريعة‘‘
    ’’شریعت محمدیہ کے مآخذوسرچشمے کتاب وسنت ،صحابہ ٔکرام کے آثار وواقعات اور احکام میں ان کے فیصلے ہیں ۔ اور یہ سب فصیح ترین زبان اورعمد ہ ترین پیرایۂ بیان میں ہیں ۔بنابریں عربی زبان میں درک حاصل کرناضروری ہے۔ کیونکہ شریعت کے احکام ومقاصدکی معرفت کایہی ذریعہ ووسیلہ ہے‘‘[ غیاث الأمم فی الْتیاث الظلم :ص:۴۰۰]
    ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’إنّ نفس اللغة العربية من الدين، ومعرفتها فرض واجب، فإنّ فهم الكتاب والسنة فرض، ولا يفهم إلا بفهم اللغة العربية، وما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب۔ثم منها ما هو واجبٌ على الأعيان، ومنها ما هو واجبٌ على الكفاية‘‘
    ’’عربی زبان بذات خود دین کاحصہ ہے،لہٰذا عربی زبان کو جاننا واجب ہے۔کیونکہ کتاب وسنت کا سمجھنا فرض ہے، اور کتاب وسنت کو عربی زبان کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا ہے ۔لہٰذاجس کے بغیر واجب کی ا دائیگی نہ ہو تو وہ بھی واجب ہو جاتا ہے۔ اورعربی زبان میں کچھ کا سیکھنا واجب عینی یعنی ہر شخص پر واجب ہے اور کچھ فرض کفایہ ہے ‘‘[ اقتضاء الصراط المستقیم :۱؍ ۵۲۷]
    واجب عینی کی وضاحت کرتے ہوئے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’فعلي كلٍّ مسلمٍ أن يتعلّم من لسان العرب ما بلغه جهده، حتي يشهد به أن لا إله إلا اللّٰه، وأن محمّدًا عبده ورسوله، ويتلو به كتاب الله، وينطق بالذكر فيما افترض عليه من التكبير، وأمر به من التسبيح، والتشهد، وغير ذلك۔ وما ازداد من العلم باللسان، الذى جعله اللّٰه لسانَ مَن ختم به نبوته، وأنزل به آخرَ كتبه، كان خيرًا له‘‘
    ’’ہر مسلمان پر کم از کم اتنی عربی زبان سیکھنا واجب ہے کہ وہ شہادتین کا اقرار اور کتاب اللہ کی تلاوت کرسکے نیز تسبیح وتکبیراورتشہد وغیرہ جیسے واجبی ذکر و اذکا ر کی ادائیگی بھی وہ عربی میں کرسکے اورجو شخص اس زبان کوجسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی کی زبان قرار دیا اور جس میں اپنی آخری کتاب نازل فرمائی جتنا زیادہ سیکھ لے تو اس کے لیے اتنا ہی بہتر ہے‘‘[ الرسالۃ: ص:۴۷]
    واجب عینی کے بعد فرض کفایہ کی طرف آتے ہیں جس کا یہاں بیان کرنا اصل مقصود ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کوعربی زبان میں اتنا درک حاصل ہو کہ وہ کلام عرب اور ان کے طریقۂ استعمال کوبآسانی سمجھ سکتا ہو۔تاکہ وہ ان کے کلام میں صریح و ظاہر ، حقیقت و مجاز ،عام وخاص اورمنطوق و مفہوم کے مابین تمییز کرسکے۔الغرض یہ کہ اس کے اندرعربی زبان میں اتناملکہ پیداہوجائے کہ کتاب اللہ ، سنت رسول اور ائمہ کے کلا م کوسمجھنے میں اس کی فہم پر اعتماد کیاجاسکے اور اس بات کا غالب گمان ہوجائے کہ اس کی فہم درست ہے گرچہ اسے کتابوں کی طرف رجوع ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ [ المستصفی للغزالی :ص:۳۴۴][ وتحقیق الکلام فی المسائل الثلاث للمعلمی:ص:۴۵]
    تاہم خلیل ومبرد جیسے ماہرین زبان کے رتبہ کو پہنچنا یا پوری عربی زبان کا احاطہ ،اسی طرح علم نحو کی باریکیوں اور گہرائیوں سے واقفیت شرط نہیں بلکہ مقاصد کلام کے حقائق کا ادراک کافی ہے۔ انظر:[ المستصفی :ص:۳۴۴]
    امام الحرمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’’لا يُشترط التعمّقُ والتبحُّر فيها حتي يصير الرجل علّامة العرب، ولا يقع الاكتفاء ُ بالاستطراف، وتحصيل المبادء والأطراف، بل القولُ الضابطُ فى ذلك أن يُحصّل من اللغة والعربية، ما يترقّي به عن رتبة المقلّدين فى معرفة الكتاب والسنة، وهذا يستدعي منصبًا وسطًا فى علم اللغة والعربية‘‘
    ’’عربی زبان میں اتنی بھی باریک بینی اور تبحر شرط نہیں کہ وہ علامہ عرب بن جائے ،تاہم صرف مبادیات اور سرسری معلومات کافی نہیں ۔ اس تعلق سے سیدھا سادا ضابطہ یہ ہے کہ وہ عربی زبان و قواعد اس قدر سیکھ لے جس سے کتاب وسنت کوسمجھنے میں مقلدین کے مرتبہ سے اوپر اٹھ جائے اور یہ اس بات کامتقاضی ہے کہ عربی زبان و قواعد کی معرفت میں وہ کم ازکم متوسط درجہ کی صلاحیت کا حامل ہو‘‘۔
    [ غیاث الأمم فی الْتیاث الظلم:ص:۴۰۳]
    اس کے بعد اصول فقہ کاعلم اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس کے ذریعہ دلائل کی روشنی میں بالکل ٹھیک ٹھیک شرعی احکامات کے استنباط کا ملکہ حاصل ہوتا ہے۔ [ الأصول من علم الأصول لابن عثیمین: ص:۹]
    علامہ سمعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’أصول الفقه عند الفقهاء هي طريقُ الفقه التى يُؤدِّي الاستدلالُ بها إلى معرفة الأحكام الشرعية‘‘
    ’’اصول فقہ سے مراد فقہاء کے نزدیک ، فقہ کاوہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ شرعی احکامات کا استنباط کیا جاتا ہے‘‘ [قواطع الأدلۃ فی الأصول:۱؍۲۱]بتصرف یسیر.
    صحیح اورضعیف احادیث کو جاننے کے لیے ’’مصطلح الحدیث‘‘کا جاننا ضروری ہے کیونکہ شرعی احکام میں ضعیف احادیث پر عمل جائز نہیں ہے لہٰذا اگر کسی کوصحیح اورضعیف ،مقبول ا ورمعلول احادیث کی جانکاری نہیں ہوگی تو کوئی بعید نہیں کہ وہ ضعیف احادیث سے استدلال کربیٹھے پھر شریعت کی جانب ایسی چیز کی نسبت کردے جو شریعت کا حصہ نہیں ہے۔لہٰذا ایک عالم ِدین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سی احادیث قابل حجت ہیں اور کون سی احادیث قابل حجت نہیں ہیں۔
    امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ کہتے ہیں:’’إنّ العالم إذا لم يعرف الصحيح والسقيم، والناسخ والمنسوخ من الحديث، لا يُسمَّي عالِمًا‘‘
    اگر کسی عالم کے پاس صحیح اور ضعیف ناسخ اور منسوخ احادیث کا علم نہیں ہے تو اسے عالم نہیں کہاجائے گا۔ [معرفۃ علوم الحدیث للحاکم:ص:۶۰]
    اب جسے مذ کورہ علوم کے متعلق معتد بہ علم حاصل ہوجائے یہاں تک کہ اس کے استنباط پر اعتماد کیاجاسکے اور ظن غالب یہ ہو کہ اس کے یہاں غلطی کاامکان کم ہوگا گرچہ کتابوں کامراجعہ ہی کرنا پڑے تو وہ کتاب اللہ وسنت رسول سے براہ راست استفادہ کا اہل ہوگیا ہے۔چنانچہ اب اسے چاہیے کہ وہ کتاب اللہ کی کثرت سے تلاوت کرے اور اس میں تدبرو تفکر کا خوب خوب اہتمام کرے، کتب احادیث کا مطالعہ کرے ، احادیث کے معانی پر غور کرے نیزان کتابوں میں موجود علمی مسائل پر اس کی نظر ہو یہاں تک کہ اسے اپنی بابت اس بات کاغالب گمان ہوجائے کہ جب کبھی وہ کسی مسئلہ میں غور کرے اور اس سے متعلق قرآن و حدیث کے نصوص اپنے ذہن میں لائے تو اس مسئلہ کے ظاہری دلائل اس کے ذہن میں حاضر ہوجائیں اور اسے یہ اشتباہ نہ ہوکہ کون سی دلیل لائق حجت ہے اور کون سی دلیل لائق حجت نہیں ہے اسی طرح ناسخ و منسوخ ، راجح ومرجوح اورصحیح و ضعیف احادیث کے درمیان بھی اسے اشتباہ نہ ہو۔ انظر:[تحقیق الکلام فی المسائل الثلاث :ص:۶۴]
    چنانچہ جسے کتاب وسنت کا علم اتنا حاصل ہوجائے توحقیقی معنوں میں وہی عالم کہلانے کا حقدار ہے اس لیے کہ اب وہ کتاب و سنت سے شرعی احکام کوجاننے اوراخذکرنے کا اہل ہوچکا ہے۔ انظر:[المصدر السابق ،ص:۵۰]
    مزید برآں حقیقی عالم کی کچھ علامتیں بھی ہیں جن میں سب سے اہم دوعلامات ہیں:
    ۱۔ ایک علامت یہ ہے کہ عالم باعمل ہو تاکہ اس کا قول اس کے فعل کے مطابق ہو لیکن اگر اس کے قول و فعل میں تضاد ہے تو وہ اس لائق نہیں ہے کہ اس سے علم حاصل کیا جائے یا کسی بھی علم میں اس کی اقتداء کی جائے۔
    ۲۔ دوسری علامت یہ ہے کہ اس نے وہ علم علماء کے زیر تربیت حاصل کی ہو اور ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا ہو اور ایک لمبی مدت گزاری ہوجیسا کہ سلف ِصالحین کا شیوہ رہا ہے۔ انظر:[الموافقات :۱؍۱۴۱۔۱۴۲]
    لہٰـذاطالبان علوم نبوت کو چاہیے کہ حصول علم کی راہ میں جاں فشانی وعرق ریزی کا مظاہرہ کریں۔ چشمۂ علم وعرفاں سے خوب خوب سیرابی حاصل کریں۔ یہاں تک کہ انہیں علم میں پختگی اور رسوخ حاصل ہوجائے۔نیز وقت سے پہلے اپنے آپ کو نمایاں کرنے میں جلدبازی نہ کریں تاکہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جنہیں پرجمنے سے پہلے پرواز کی فکر دامن گیر ہونے لگتی ہے اور علم میں پختگی پیدا ہونے سے پہلے بلندوبانگ دعوے کرنے لگتے ہیں۔
    چنانچہ افسوس کامقام ہے کہ موجوہ وقت میں کتنے ایسے نوخیز طلبہ ہیں جو اس عظیم لقب کے دعویدار ہیں حالانکہ یہ ابھی سطحِ آب پر تیر رہے ہیں اور علم میں دستگاہ حاصل نہیں ہوئی ہے نیز علماء کی تربیت بھی نا کے برابرملی ہے۔
    فالله المستعان
    إن أريد إلا الإصلاح ما استطعت وما توفيقي إلا باللّٰة، عليه توكلّت، وإليه أنيب۔

مصنفین

Website Design By: Decode Wings