Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • بیوی کااپنے نام کے ساتھ خاوند کے نام کو بحیثیت شوہر جوڑنا

    سوشل میڈیا پر ایک تحریر ’’جو عورتیں اپنے والد کا نام ہٹا کر اس کی جگہ اپنے شوہر کا نام اپناتی ہیں ‘‘ کے نام سے پھیلی ہوئی ہے ، جس کو لے کر کئی لوگوں کے ذہن الجھن کا شکار ہیں کہ کیا واقعی کوئی عورت اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام شوہر کی وضاحت کے ساتھ نہیں جوڑ سکتی ؟اگر کسی عورت نے ایسا کردیا تو کیا واقعی اس نے حرام کا ارتکاب کردیا؟ اوراس پر جنت حرام ہوگئی؟
    اُس تحریر کوپڑھ کر یہی محسوس ہواکہ وہ شریعت کے صرف’’ عمومی نصوص‘‘ کو ملحوظِ خاطر رکھ کر تحریر کی گئی ہے ’’ کہ عورت کا اپنے نام کے ساتھ باپ کے علاوہ کسی اور کا نام خاص کر شوہر کا نام جوڑنا حرام ہے‘‘ جو کہ محلِّ نظر ہے۔
    کیونکہ کوئی بھی عورت اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام حقیقی باپ مان کر نہیں جوڑتی ہے بلکہ بحیثیت شوہر اپنے خاوند کی طرف نسبت کرتی ہے۔
    مزید ایک عورت جب اپنے شوہر کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ اس نے اپنا باپ شوہر کو یا کسی اور کو بنا لیا،یا اپنے شوہر کا نام لکھ کر یہ بالکل نیت اور عقیدہ نہیں رکھتی کہ آج سے یہ میرا شوہر میرا حقیقی باپ ہے ۔تو جب کوئی بھی عورت اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کے نام کوجوڑ کر اسے اپنا باپ تصور ہی نہیں کرتی ہے ،یعنی’’انما الاعمال بالنيات ‘‘ ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ‘‘ کے تحت وہ اسے اپنا شوہر ہی سمجھتی ہے نا کہ باپ تو وہ حرام یا ناجائز کیسے ہوا؟
    اُس تحریر میں جن دلائل کا سہارا لے کر حرمت تک کی بات کہی گئی ہے اس سے وہ مراد نہیں ہے جو مراد لیا گیا ہے ، بلکہ اس سے مراد دراصل یہ ہے کہ واقعتاًاگر کوئی مسلمان مردو عورت جان بوجھ کر اپنے حقیقی باپ کو چھوڑکر کسی اور کو اپنا باپ باور کراتے ہیں جو ان کے حقیقی باپ نہیں ،تو ایسا ان کے لیے جائزنہیں بلکہ حرام ہے۔دلائل ملاحظہ فرمائیں:
    عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُول:’’ لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَي لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ…‘‘
    ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺسے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے:’’ جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا…‘‘
    [صحیح بخاری:۳۵۰۸]
    عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّي اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ’’مَنِ ادَّعَي إِلَي غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ‘‘
    ’’سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا نبی کریم ﷺنے فرمایا :’’کہ جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے‘‘
    [صحیح بخاری:۶۷۶۶،۴۳۶۲]
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’مَنِ انْتَسَبَ إِلَي غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّي غَيْرَ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ‘‘
    عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو اپنے کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے، یا (کوئی غلام یا لونڈی) اپنے مالک کے بجائے کسی اور کو مالک بنائے تو اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی اس پر لعنت ہے‘‘
    [سنن ابن ماجۃ:۲۶۰۹،صحیح]
    یہ اور اس جیسی جتنی بھی احادیث ملتی ہیں کم و بیش ساری احادیث ایسے مرد و عورت کے لیے ہیں جو اپنے اصل باپ کی طرف نسبت چھوڑ کر اس کی طرف نسبت کرے جو حقیقت میں اس کا باپ نہ ہو۔یعنی تمام احادیث نسبتِ ابوت کے لیے غیر کا نام ساتھ لگانے سے منع کرتی ہیں ۔
    رہا مسئلہ عورت کا اپنے شوہر کے نام کے ساتھ جوڑنا تو معلوم ہو کہ ایسا کرنا شرعاً ممنوع نہیں ہے، بلکہ ایسا ہوا ہے کہ شوہر کا نام عورت اپنے نام کے ساتھ لگائے یا کوئی اور اس کانام لیتے ہوئے شوہر کے نام کو ساتھ ذکر کرے، بالخصوص امہات المؤمنین کے ناموں کے ساتھ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ ’’زوجۃ رسول اللہﷺ‘‘ کا لاحقہ ان کے ناموں کے ساتھ لگتا ہے کتب ِاحادیث میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں ۔
    اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے زینب رضی اللہ عنہا کے بارے میں پوچھا کہ کون سی زینب ہے؟ تو بتانے والے نے بتایا ’’ امْرَأَۃُ ابْنِ مَسْعُودٍ ‘‘ یعنی ابن مسعود کی بیوی ہے ۔
    [صحیح بخاری:۱۴۶۲]
    یعنی باپ کے نام کے بجائے اس زینب کے شوہر کا نام ذکر کیا گیا ۔ اسی کلمہ ’’ امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ ‘‘ کو آج لوگ’’ مسز ابن مسعود ‘‘کہہ دیں تو کیا عار ہے؟
    الحمد للہ اکثر و بیشتر مسلمان مردوعورت اتنا علم تو رکھتے ہیں کہ شریعت نے اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کو حقیقی باپ کہنے، پکارنے اور اپنے نام کے ساتھ باپ کے طور پر کسی اور کے نام کو لکھنے سے منع کررکھا ہے ۔جیسا کہ اللہ رب العالمین نے لَے پالک اولاد جن کی پرورش و پرداخت ایک شخص اس کے بچپن سے کرتا ہے ان کے تعلق سے بھی اللہ نے واضح کردیا : {اُدْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ…} ’’کہ لَے پالکوں کو ان کے(حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کرکے بلاؤ…‘‘[الاحزاب:۵] یہی وجہ ہے کہ کم و بیش سب مسلمان اس سے بچتے ہیں ۔
    ہاں نکاح کے بعد کچھ عورتیں اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہروں کا نام لکھتی ہیںجس سے انکار نہیں ۔ لیکن لکھنے کا سبب یہ بالکل نہیں ہوتا کہ وہ عورتیں نعوذ باللہ اپنے شوہروں کو اپنا باپ سمجھنے لگتی ہیں، ان عورتوں کے دلوں کے کسی بھی گوشے میں یہ سوچ تک نہیں آتی ہے کہ جب وہ اپنے نام کے ساتھ شوہر وںکا نام لکھ رہی ہیں تو وہ انہیں اپنا حقیقی باپ تصور کرکے لکھ رہی ہیں،بلکہ وہ صرف اور صرف اس لیے لکھ رہی ہوتی ہیں کہ انہیں اپنے شوہروں سے بے پناہ محبت ہے یا اس لیے لکھ رہی ہوتی ہیں کہ سرکاری آئی ڈیز میں نکاح کے بعد شوہر کا نام ہونا ضروری ہوجاتا ہے ۔
    انہی دو اسباب کے تحت عام طور سے نکاح کے بعد عورتوں کے نام شوہروں کے نام کے ساتھ نظر آنے لگتے ہیں ۔ اور اگر انہی دو اسباب کے تحت ہی ایسا کیا جاتا ہے تواس میں کوئی حرج کی بات نہیں کیونکہ عورت اپنے نام کے ساتھ شوہر کے نام کو حقیقی باپ سمجھ کر نہیں لکھتی ہے کہ جس کو ناجائز و حرام کہا جائے ۔
    نکاح کے بعد عورتوں کی آئیڈیز کو ہی دیکھ لیں تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عورت کے نام کے ساتھ جو اس کے شوہر کا نام لکھاجاتا ہے وہ ’’ڈاٹر آف‘‘( Daughter of) نہیں بلکہ ’’وائف آف‘‘(Wife of) یعنی عربی میں کہیں تو ’’بنت ‘‘’’بیٹی‘‘کے ساتھ نہیں بلکہ’’اِمرأۃ، زوجۃ‘‘’’بیوی‘‘ کی وضاحت کے ساتھ لکھا جاتا ہے ۔ تو جب اتنی وضاحت کے ساتھ عورت کے نام کے ساتھ اس کے شوہر کا نام شوہر مان کرلکھا جاتا ہے تو یہ حرام و نا جائز کیسے ہوسکتا ہے؟
    اور صحابیات کی جتنی بھی مثالیں اُس تحریر میں دی گئی ہیں کہ ’’کسی بھی صحابیہ نے اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام نہیں لکھا ‘‘تو اس پر کہنا یہ ہے کہ عرب اپنا نسب پرانے زمانے سے محفوظ کرتے آئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے یہاں عام رواج یہی رہا ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ اپنے والد کا نام ہی لکھتے رہے ہیں ۔
    اور جن صحابیات کا حوالہ دے کر یہ کہا گیا ہے کہ دیکھو صحابیات اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہروں کا نام نہیں لکھتی تھیں، اِنہی صحابیات کے نام پر غور کریں تو معلوم ہوتا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ’’ بِنت‘‘ کے لفظ کو بھی غائب نہیں کرتی تھیں، یعنی کہیں بھی یہ نہیں مل سکتا کہ عائشہ ابوبکر، صفیہ حی، فاطمہ محمد، وغیرہ لکھا ہوا ملے۔ بلکہ جہاں بھی جس صحابیہ کا نام ملے گا وہاں’’ بنت‘‘ لکھا ہواضرور ملے گا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ’’بنت ‘‘کے ساتھ حقیقی باپ کا نام لکھنا ضروری، بہتراور مناسب ہے۔ ویسے ہی ’’بنت ‘‘کے بجائے ’’اِمرأۃ،زوجہ‘‘ لگا کر بھی کسی عورت کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لکھنا جائز ہے۔جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی کو’’ امْرَأَۃُ ابْنِ مَسْعُودٍ ‘‘ کہا گیا۔ اور الحمد للہ ہمارے یہاں شادی کے بعد کی آئیڈیز میں ’’وائف آف‘‘(Wife of) کی وضاحت کے ساتھ ہی عموماًایسا لکھا جاتا ہے جو کہ جائز اوردرست ہے۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings