Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • فتنۂ شکیل ابن حنیف اور اس سے نجات کے راستے

    دور حاضر دراصل فتنوں کا دور ہے آئے دن کوئی نہ کوئی فتنہ سامنے آتا ہی رہتا ہے ،فی الوقت ایک فتنہ ہے شکیل ابن حنیف کا ، یوں تو یہ فتنہ تقریباً ۲۰سال پرانا ہے لیکن گزرتے ایام کے ساتھ ساتھ اس کی جڑیں مضبوط در مضبوط ہوتی جارہی ہیں، دلی سے ظاہر ہونے والا یہ فتنہ اس وقت اپنی مسافت طے کرتے ہوئے یوپی ، بہار اور ممبئی سمیت ہندوستان کے مختلف صوبوں میں پہنچ چکا ہے ،اس فتنے میں گرفتار قوم کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے ۔ وسیم بریلوی نے کہا تھا کہ :
    ’’جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے‘‘۔
    شکیل ابن حنیف کون ہے ؟ اس کا فتنہ کیا ہے ؟ اس فتنے سے کیسے بچیں ؟ اس مختصر سے مضمون میں انہی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے ۔
    شکیل ابن حنیف کون ہے ؟
    شکیل ابن حنیف کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار کے ضلع دربھنگا میں واقع ایک گاؤں عثمان پور رتن پورہ سے ہے ، تاریخ میلاد ۱۹۶۸ء بتائی جاتی ہے، تعلیم کا حال یہ ہے کہ اسکول لائن سے بارہویں پاس ہے یعنی دینی تعلیم سے محروم ہے ، بعض ذرائع سے یہ بات بھی موصول ہوئی کہ وہ چار سالوں تک تبلیغی جماعت سے بھی جڑا رہا اسی لیے اس کے مریدوں کا پہناوا اور عادات واطوار تبلیغی جماعت سے کافی ملتا جلتا ہے ۔
    شکیل ابن حنیف کا فتنہ ؟
    اور جہاں تک یہ بات ہے کہ شکیل ابن حنیف کا فتنہ کیا ہے تو اس کا فتنہ یہ ہے کہ وہ پہلے تو مسیحیت کا ، بعد میں مسیحیت کے ساتھ مہدویت کا بھی دعویدار ہے ، اس کا دعویٰ ہے کہ وہ بیک وقت عیسیٰ علیہ السلام ہے اور امام مہدی ہے ۔
    اس کے اس دعوے میں کتنی سچائی ہے آیئے ذرا اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں، اس کا پہلا دعویٰ ہے عیسیٰ مسیح کا :
    ٭ ایک طرف اللہ کے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام ہیں جن کا نام عیسیٰ ابن مریم (البقرۃ :۸۶،۲۵۳؍آل عمران:۴۵ وغیرہ ) جبکہ اس کا نام محمد شکیل ابن حنیف خان ۔
    ٭ عیسیٰ ابن مریم بغیر باپ کے پیدا ہوئے جبکہ اس کے باپ کا نام حنیف خان ہے ۔
    ٭ عیسی ابن مریم کو آسمان دنیا پر اٹھا لیا گیا ہے (النساء:۱۵۸ )قرب قیامت ان کا نزول ہو گا۔ (صحیح الجامع (۸۱۶۹)یعنی عیسیٰ ابن مریم اب دوبارہ پیدا نہیں ہوں گے جبکہ اس جھوٹے شخص ، عیسیٰ ابن مریم کا دعویدار شکیل ابن حنیف کی بہار میں پیدائش ہوئی ہے ۔
    ٭ عیسیٰ ابن مریم دمشق کے سفید مشرقی مینارے کے قریب نازل ہوں گے۔ (مسلم :۲۹۳۷) جبکہ اس جھوٹے شکیل ابن حنیف نے مسیحیت کا دعویٰ دہلی سے کیا ۔
    خلاصہ: شکیل ابن حنیف کا مسیحیت کا دعویٰ باطل ہے کیوں کہ قرآن وحدیث میں عیسیٰ ابن مریم کے مذکورہ اوصاف اس پر صادق نہیں آتے ہیں ۔
    دوسرا دعویٰ :مہدی موعود کا :
    ٭ امام مہدی کا نام محمد ہوگا جو کہ مفرد ہے ۔(صحیح الترمذی (۲۲۳۰) جبکہ اس کا نام محمد شکیل ہے جو کہ مرکب ہے ۔
    ٭ امام مہدی کے والد کا نام عبد اللہ ہوگا۔ (صحیح أبی داؤد (۴۲۸۲) جبکہ اس کے باپ کا نام حنیف خان ہے۔
    ٭ امام مہدی قریشی ہوں گے۔ (شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ للالکائی ۴۷؍۲۱ ) جبکہ شکیل ابن حنیف بہاری ہے۔
    ٭ امام مہدی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے۔ (صحیح ابن ماجہ (۳۳۱۷) جبکہ شکیل ابن حنیف کی نسل کا پتہ ہی نہیں ۔
    ٭ مہدی اہل بیت سے ہوں گے ۔(صحیح الجامع (۶۷۳۵ ) جبکہ شکیل ابن حنیف کی نسل کا پتہ ہی نہیں ۔
    ٭امام مہدی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ (صحیح أبی داؤد (۴۲۸۵) اب شکیلی یہ ثابت کریں کہ شکیل ابن حنیف نے زمین کے کس حصے کو عدل وانصاف سے بھرا ہے؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب سے اس نے دعویٰ کیا ہے اس کے بعد سے ظلم و تشدد کی عالمی پیمانے پر ان گنت داستانیں لکھی گئی ہیں ۔
    ٭ امام مہدی سات سالوں تک عرب پر حکومت کریں گے ،جبکہ شکیل ابن حنیف کو دعویٰ کیے ہوئے تقریباً ۲۰ سال ہوگئے۔عرب پر حکومت تو بعید از بعید ، بہار میں جس گاؤں میں پیدا ہوا ہے وہاں اس کی حکومت نہیں۔
    ٭ امام مہدی ظاہر ہونے کے بعد سات یا آٹھ سالوں تک زندہ رہیںگے۔ (السلسلۃ الصحیحۃ (۴؍۴۰ ) نیز ترمذی کی حسن درجے کی روایت میں ۵ یا ۷ یا ۹ سالوں کا ذکر بھی ملتا ہے جبکہ شکیل ابن حنیف کو دعویٰ کیے ہوئے تقریباً ۲۰ سال گزر گیے ۔
    خلاصہ : شکیل ابن حنیف کا مہدی موعود کا دعویٰ باطل ہے ۔
    شکیلی فتنے سے کیسے بچیں ؟
    ۱ ۔ دینی تعلیم کا حصول :
    کیونکہ جس کے پاس دین کی معرفت ہوگی ، قرآن و سنّت کا علم ہوگا وہ امام مہدی اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ، دو الگ الگ شخصیات ہیں اس بات سے بھی بخوبی واقف ہوگا وہ ایسے جھوٹے مکار محمد شکیل ابن حنیف کے جال میں پھنسنے والا نہیں۔
    لہٰذا شکیلی فتنے سے بچنے کے لیے امام مہدی کی احادیث کی روشنی میں کیا پہچان بتلائی گئی ہے اس کو جانا جائے ساتھ ہی عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں معرفت حاصل کی جائے ۔
    ۲ ۔ علماء سے جڑے رہیں :
    اہل علم سے جڑے رہیں ، اور اگر اس قسم کا کوئی شخص آپ سے امام مہدی و عیسیٰ ابن مریم یا علامات قیامت کا تذکرہ کرکے بہکانے کی کوشش کرے فوراً کسی عالم سے رجوع کریں ، بالخصوص فتنوں کے اس دور میں تو علماء سے چمٹ کر رہیں کبھی بھی کوئی دینی مسئلہ پیش آئے علماء ہی سے رجوع کریں کیوں کہ انبیاء کے حقیقی وارث علماء ہیں لہٰذا دین کی صحیح رہنمائی ایک عالم دین ہی کرے گا ۔ قرآن کہتا ہے کہ:
    {وَإِذَا جَآئَ هُمْ أَمْر مِّنَ الْأَمْنِ أَوِا لْخَوْفِ أَذَاعُوْا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَي لرَّسُولِ وَإِلَيٰٓ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُوْنَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰـنَ إِلَّا قَلِيلٌ}
    [النساء: ۸۳]
    آیت کریمہ میں’’ وَإِلَيٰٓ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ ‘‘سے ایک قول کے مطابق ’’اہل علم‘‘مراد ہیں۔
    [تفسیر الرازی ، المیسر ]
    امام طبری رحمہ اللہ’’ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُوْنَهُ مِنْهُمْ ۔۔۔۔۔ ‘کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ :
    ’’لَعَلِمَ حَقِيقَةَ ذٰلِكَ الْخَبَرِ‘‘اس خبر کی حقیقت جان لیتا یعنی اگر اس خبر کو اہل علم سے ذکر کیا جاتا ۔
    [تفسیر الطبری جامع البیان – ط ہجر ۷؍۲۵۵ ]
    اب تلک جتنے لوگ شکیلی فتنے کے شکار ہوئے ہیں کہیں نہ کہیں ایک اہم سبب علماء سے دوری ہے اگر علماء سے رجوع کرتے تو شاید اس فتنے سے بچ جاتے ۔
    ۳۔دعاؤں کا اہتمام :
    فتنوں سے تحفظ وبقا کے لیے دعاؤں کا اہتمام ضرور کریں ،اللہ کے نبی ﷺ فتنوں سے خود اللہ کی پناہ طلب کرتے تھے اور آپ نے اپنی امت کو بھی یہی تعلیم دی ہے ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا :
    ’’ تعوَّذوا باللّٰهِ من الفِتَنِ ما ظهر منها وما بطنَ‘‘
    ’’ظاہری و باطنی فتنوں سے اللہ کی مانگو ۔۔۔‘‘
    [صحیح الجامع للألبانی رحمہ اللہ :۲۲۶۲]
    اس موقعہ پر پیارے نبی کی وہ پیاری دعا بھی خوب کرنی چاہیے جس کے بارے میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ زیادہ تر یہ دعا کیا کرتے تھے:
    ’’يا مُقلِّبَ القلوبِ ثبِّت قلبي علٰي دينِكَ‘‘
    ’’اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ‘‘۔
    [صحیح الترمذی للألبانی :۳۵۲۲]
    اور بھی جو دیگر دعائیں ہیں ان کا اہتمام کیا جائے ۔مثلاً:
    {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ}
    ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقینا تو ہی بہت بڑی عطا دینے والاہے‘‘۔
    [آل عمران: ۸]
    ’’اَللّٰهُمَّ مُصَرِّفَ القُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوبَنا علٰي طاعَتِكَ‘‘
    ’’اے دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی جانب پھیر دے ‘‘۔
    [مسلم ]
    محترم قارئین:
    فتنہء شکیل ابن حنیف کی تردید میں چند کتابیں لکھی گئی ہیں جن کا مطالعہ فائدے سے خالی نہ ہوگا۔
    کتابیں:
    ۱۔ دور حاضر کا مدعئی مہدویت و مسیحیت شکیل ابن حنیف :ایک تعارف وتجزیہ از جناب مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری
    ۲۔ شکیل ابن حنیف کا فتنہ از ثناء اللہ مدنی (رومن انگلش میں بھی اس کا ترجمہ موجود ہے)
    ۳۔ فتنہء شکیل ابن حنیف کی حقیقت از مولانا ابرار الحق قاسمی ۔
    ٭٭٭

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings