-
جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے حرام ذرائع کیوں؟ معزز قارئین! ہمارے معاشرے میں پھیلنے والی برائیوں میں ایک بہت بڑی برائی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے حرام ذرائع کا انتخاب ہے، جو ہمارے معاشرے میں ہر بڑھتے دن کے ساتھ پھیلتی جارہی ہے۔
تعریف: جنسی خواہش جسے ہم انگریزی میں( sexual desire)کہتے ہیں یہ ایک بنیادی ضرورت ہے جو بلاشک و شبہ فطری طور پر ہر بالغ مرد اور عورت کے اندر موجود ہوتی ہے حتیٰ کہ یہ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے اندر بھی موجود ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اسی خواہش کی تکمیل و تسکین کو انسانی و حیوانی نسل کی بقا کا ذریعہ بنایا ہے۔
جنسی خواہش جسے جذبۂ شہوانی بھی کہا جاتا ہے اللہ رب العزت نے اس جذبہ کو مردوزن کے لیے مرغوب بنایا ہے، جیسے انسان اپنی دوسری فطری ضرورتوں مثلاً کھانا، پینا، سونا وغیرہ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہر انسان کی فطرت میں جذبہ شہوانی بھی شامل ہے جس کے بغیر کسی بالغ انسان کا گزارا نہیں ہے، اللہ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے:
{زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآئِ وَالْبَـنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَـيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَـرْثِ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ عِنْدَه حُسْنُ الْمَاٰبِ}
ترجمہ: ’’مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لیے مزین کردی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان دار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے‘‘۔
[آل عمران:۱۴]
جس طرح یہاں شہوت (مرغوب چیزوں)کے متعلق مردوں کے لیے عورتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے بالکل اسی طرح عورتوں کے لیے مرد بھی ہیں۔
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَمِنْ كُلِّ شَيْء ٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ}
ترجمہ:’’ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو‘‘۔
[الذاریات :۴۹]
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے لیے ان کی ہم جنس میں سے اس کی مقابل ضد کو بھی پیدا کیا ہے فرمان باری تعالیٰ ہے:
{وَاَنَّه خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰي}
ترجمہ:’’اور اسی نے جوڑا یعنی نر مادہ پیدا کیا‘‘۔
[النجم:۴۵]
دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
{وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ}
ترجمہ:’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی یقیناً غورو فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں ہیں‘‘۔
[روم:۲۱]
اسی طرح شریعت نے انسانوں کے جنسی تسکین و تکمیل کے لیے حلال اور جائز راہ مہیا کی جسے ہم نکاح کے نام سے جانتے ہیں جو نہایت ہی پاکیزہ اور آسان راہ ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں فرمایا :
’’يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاء َةَ، فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاء ٌ ‘‘۔
’’اے نوجوانوں کی جماعت ! جو تم میں سے نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ نکاح کرلے کیونکہ نکاح کرنا نگاہ کو نیچا رکھنے والا اور زنا سے محفوظ رکھنے والا ہے اور جو نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ روزے رکھنا یہ اس کے لیے خصی ہونے کے مترادف ہے‘‘۔
[صحیح مسلم:۱۴۰۰]
اب سوال یہ ہے کہ جب شریعت نے انسانوں کے لیے جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے حلال راہ مہیا کی ہے تو وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر آج کی نوجوان نسل اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے حرام ذرائع، گندی و غلیظ راہوں کا انتخاب کررہی ہے۔
آئیے ہم اس کی بعض اہم وجوہات جانتے ہیں :
(۱) نکاح میں تاخیر :
نکاح کے متعلق شریعت ہمیں یہ حکم دیتی ہے کہ جب لڑکے اور لڑکیاں بالغ ہوجائیں اور وہ اپنے لیے ساتھی کی ضرورت محسوس کریں تو ان کا نکاح کر دیا جائے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰي مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَآئِكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآء َ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ}
ترجمہ:’’تم سے جو مرد عورت بے نکاح ہوں ان کا نکاح کردو اور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گااللہ تعالیٰ کشادگی والا علم والا ہے‘‘۔
[النور:۳۲]
اس آیت میں ولی کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے ماتحتی میں رہنے والے نوجوانوں کا نکاح کردیں، کیونکہ یہ ولی کی ذمہ داری ہے اور ولی کو چاہیے کہ اپنی ذمہ داری سے جس قدر جلد ممکن ہو سبکدوش ہوجائے تاکہ نوجوانوں کو اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے نا جائز راہوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
اس آیت: وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰي…
میں ایک اور بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا‘‘۔
لہٰذا اولیاء کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے پر یقین رکھتے ہوئے نوجوانوں کی غریبی، مفلسی یا تنگدستی کے سبب نکاح میں تاخیر نہ کریں۔
بعض دفعہ یہ چیز بھی دیکھنے کو ملتی ہے کہ شادی شدہ مرد اپنی حلال کی گئی بیویوں کے علاوہ بھی ناجائز طریقے سے اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل چاہتے ہیں، ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دو، تین اور چار بیویاں بھی حلال کی ہیں اگر وہ ان کے درمیان ہر لحاظ سے عدل کرسکیں، فرمان باری تعالیٰ ہے:
{وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰي فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَـكُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰي وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَـكَتْ اَيْمَانُكُمْ ذٰ لِكَ اَدْنٰٓي اَلَّا تَعُوْلُوْا}
ترجمہ:’’اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے تم انصاف نہ رکھ سکوگے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیادہ قریب ہے (کہ ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھکنے سے بچ جاؤ‘‘۔
[النساء:۳]
ایسے مرد جو استطاعت رکھتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ حلال طریقہ اختیار کریں اور اگر ان شرائط کے متعلق جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں استطاعت نہیں رکھتے تو انہیں چاہیے کہ صبر کریں۔
بالغ و بالغہ کی دوران تعلیم ہی شادی کردینی چاہیے تاکہ وہ ذہنی، جسمانی، معاشرتی، اخلاقی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں، والدین کو چاہیے کہ اپنے بیٹوں کے تعلیمی اخراجات کے ساتھ اس کی بیوی کے خرچہ کا بھی بندوبست کریں اور لڑکی کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین سے کہے کہ میں اپنے شوہر کے خاندان کے ساتھ ایک کمرہ میں گزر بسر کرنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ وہ اپنے لیے علیحدہ گھر بنانے کے قابل ہوجائے۔
اگر نکاح کے وسائل آسان کردیئے جائیں اور بری رسومات کو ختم کردیا جائے تو نکاح کا معاملہ بہت آسان ہوجائے گا۔(المرأۃ بین الفقہ و القانون:۵۲-۵۳ ؛ ملخصا)
(۲) معاشرے میں پھیلتی بے حیائی:
ہمارا معاشرہ مغربی تہذیب کی تقلید میں اس قدر اندھا ہوچکا ہے کہ لوگوں کو اپنے برباد ہوتے ہوئے گھر اور خاندان کا خیال ہی نہیں رہا، مخلوط تعلیم، مخلوط ملازمت، مخلوط گھریلو ماحول اورکزنز کے ساتھ بے تکلفی، یہ تمام چیزیں انسان کے اندر موجود حیا کو ختم کرتی ہیں وہ حیا جس کے متعلق رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے:’’حیا ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘۔
[سنن نسائی:۵۰۰۶، صحیح ]
اور جب نوجوان مخلوط ماحول میں رہ کر اپنی ہم جنس میں اپنے مقابل ضد کے ساتھ تعلقات استوار کرتے اور تنہائی میں وقت گزارتے ہیں تو اس وقت ان دونوں کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے، چنانچہ رسول اکرمﷺنے فرمایا:
’’أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ‘‘۔
ترجمہ:’’تم میں سے کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے‘‘۔
[سنن الترمذی:۲۳۰۲، صحیح]
اور جب شیطان انہیں بہکاتا ہے تو وہ اپنی شرم و حیا کو پس پشت ڈال کر اپنی جنسی تسکین کے لیے وہ کام کر گزرتے ہیں جو ان کی دنیا اور آخرت کو تباہ و برباد کردے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓي اِنَّه كَانَ فَاحِشَةً وَسَآئَ سَبِيْلًا}
ترجمہ:’’خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے‘‘۔
[اسراء:۲۳]
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی ہر قسم کی بے حیائی اور فحاشی سے اجتناب کریں، اپنے دل میں اللہ کا خوف رکھیں اور ہمارے ما تحت جتنے بھی لوگ ہیں انہیں بھی ہر طرح سے ہر قسم کی بے حیائی سے لاکھوں کوس دور رکھیں۔
(۳) انٹرنیٹ کا غلط استعمال:
دنیا بھر میں انٹرنیٹ کا استعمال بہت عام اور اہم ہوگیا ہے، لیکن جہاں ہم انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے کاموں میں آسانی محسوس کرتے ہیں خیر کو تلاش کرتے ہیں وہیں انٹرنیٹ کی ڈارک سائٹ میں بے حیائی کے نام سے لوگوں کے جنسی جذبات کو ابھارا اور بھڑکایا جاتا ہے بات بے حیائی سے حرام رشتوں، باتوں اور ملاقاتوں تک پہنچتی ہے جہاں زنا سر انجام ہوتا ہے، اس کے علاوہ انٹرنیٹ میں زبان کا زنا اور آنکھوں کا زنا بھی عام ہوتا جارہا ہے جو نہ صرف نوجوانوں کے جنسی جذبات بھڑکاتا ہے بلکہ ان کے باطن کو بھی تباہ کر دیتا ہے اور ان کی پرسکون زندگی کو عذاب جان بنا دیتا ہے۔
جو لوگ انٹرنیٹ کے ڈارک سائٹ کا استعمال کرتے ہیں اس کے ذریعے اپنی جنسی تسکین چاہتے ہیں وہ اس بات کو بھی جان لیں کہ وہ جو کام کررہے ہیں وہ تو حرام ہے ہی لیکن جن چیزوں کی نشر و اشاعت کا وہ حصہ بن رہے ہیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کتنی سخت وعید سنائی ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے:
{اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْـتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ}
ترجمہ:’’جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے‘‘۔
[النور:۱۹]
جدید سائنسی تحقیقات کے ذریعے اس بات کا خلاصہ ہوا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ڈارک سائٹ کا اگر کسی نوجوان کو نشہ لگ جائے تو وہ اپنے وقت کے ۱۴ گھنٹے اس میں برباد کرتا ہے جس سے اس کی صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔
لیکن یہ دنیا کا معاملہ ہے، ہوسکتا ہے یہاں اس کی صحت سدھر جائے، لیکن اگر آج کے نوجوان اس نشہ کو ترک نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے پرخلوص اور سچی توبہ نہیں کریں گے تو اس زنا کی اللہ کے ہاں انہیں کس قدر خوفناک سزا ملے گی یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
اسی طرح والدین کا انٹرنیٹ کے آلات کو استعمال کرنا اور ان آلات کو خرید کر اپنے گھروں میں اپنی اولاد کو لاکر دینا اور پھر دوبارہ ان کی خبر گیری نہ کرنا یہ جانتے ہوئے کہ اس میں خیر کے ساتھ شر بھی کثیر تعداد میں شامل ہے۔
جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّيَتَّخِذَهَا هُزُوًا اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ}
ترجمہ:’’اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں کہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے‘‘۔
[لقمان:۶]
ایسی چیزیں جو انسان کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں، وہ خیر نہیں ہوسکتیں، ان سب کے باوجود اگر ہم ان چیزوں کا استعمال کر رہے ہیں یا کسی اہم ضرورت کے تحت گھروں میں لاکر رکھ رہے ہیں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی نگرانی بھی کریں کیونکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے جس کے متعلق ہم سے سوال کیا جائے گارسول اکرمﷺکا فرمان ہے:
’’تم میں کا ہر شخص ذمہ دار ہے اور( قیامت کے دن) ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے متعلق سوال کیا جا ئے گا‘‘۔
[صحیح البخاری:۲۵۵۴، ۲۵۵۸]
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم تمام اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے بہترین طریقے سے انہیں ادا کریں۔
(۴) غلط اوربری صحبت :
یہ بھی ایک بہت اہم سبب ہے جس پر ہم تمام کو غور کرنا چاہیے، کیونکہ ایسا بھی ممکن ہے کہ ایک شخص بذات خود نیک اور صالح ہو اور اپنے نفس سے جہاد کرنا جانتا ہو لیکن اس کی صحبت، دوستی اور ساتھ اچھا نہ ہو اور اپنی اس بری صحبت کے سبب وہ گناہوں میں ملوث ہوجائے، رسول اکرمﷺکا ارشاد ہے:
’’الرَّجُلُ عَلَي دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ‘‘۔
ترجمہ:’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے‘‘۔
[سنن ابو داؤد:۴۸۳۳، صحیح]
لہٰذا ہم تمام کو اچھی نیک اور صالح صحبت اختیار کرنی چاہیے۔
یہ چند اہم وجوہات ہیں جو نوجوانان کو راہ حق سے بھٹکا کر خواہشات نفسانی اور خواہش جنسی کی حرام طریقے اور حرام ذریعے سے تکمیل کا سبب بنتی ہیں۔
لہٰذا ہم تمام کو چاہیے کہ ہم ان باتوں پر غور کریں اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے :
{يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ}
ترجمہ:’’اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں‘‘۔
[التحریم:۶]
کے تحت خود بھی جہنم کی آگ سے حفاظت کا سامان اکٹھے کریں اور اپنے اہل و عیال کو اور استطاعت کے مطابق امت محمدیہ کو بھی جہنم سے بچانے کی کوشش کریں۔اللہ تعالی ہم تمام کا حامی و ناصر ہو۔