-
ماہ رمضان کو مفید کیسے بنائیں؟ لفظ ’’رمضان‘‘ اپنے تعارف کا محتاج نہیں ہے، ہم سبھی بحیثیت ِمسلمان رمضان کے روزوں سے خصوصی طور پر فطری محبت رکھتے ہیں، نیز اس مہینے کی فضیلت سے تقریباً ہر کوئی واقف ہے، اس ماہ میں کی جانے والی عبادتیں مثلاً :لیلۃ القدر، قیام، صیام، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات اور دیگر عبادات کی خاص فضیلتیں ہیں، روزے انسان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، روزے اور قرآن کی شفاعت اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا، روزے داروں کے لیے جنت میں ’’باب الریان‘‘نامی خصوصی دروازہ ہے، روزے کے جسمانی، روحانی، دنیاوی اور اخروی کئی فوائد ہیں، رمضان اور صدقہ باہمی گہرا تعلق رکھتے ہیں، افطاری کروانا باعث اجر ہے، رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، قرآن اور رمضان لازم و ملزوم ہیں، روزے کی حالت میں دعا رد نہیں ہوتی، نبی کریم ﷺ نے مدنی زندگی میں کبھی اعتکاف نہیں چھوڑا، نیز اولاد کی تربیت، والدین کے ساتھ حسن سلوک، اچھی مجلسیں اختیار کرنا، توبہ کرنا، استغفار کرنا، کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا، اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنا، خواتین کا پردے کا اہتمام کرنا بھی رمضان میں کیے جانے والے ضروری اور اہم اعمال میں سے ہیں۔
انسان کی سعادت و نیک بختی اسی میں ہے کہ وہ اپنی زندگی اللہ کی بندگی میں گزارے، ابدی خوشیوں کے متمنی کو چاہئے کہ وہ بندگی کے چوکھٹ پر اپنا بسیرا کرے، یاد رکھیں کہ مہینوں کا سردار’’رمضان ‘‘آگیا ہے!ہم اس مہینے کے لمحات سے گزر رہے ہیں، بندۂ مومن کے لیے یہ مہینہ سعادتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے، یہ تربیت والا مہینہ ہے، یہ نیکیوں اور عبادتوں میں سبقت کرنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں اللہ تعالیٰ ڈھیروں عنایات اور اجر سے نوازتا ہے، چاہت رکھنے والے کے لیے خیر و برکات کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو دیگر تمام مہینوں پر فوقیت دی ہے، اسی طرح ہماری امت کو دیگر تمام امتوں پر فضیلت دیتے ہوئے پورے مہینے کے روزے عطا کیا ہے، ماہِ رمضان میں کی ہوئی محنت قابل قدر ہوتی ہے، مومنین اس ماہ میں نیکیوں سے مزین ہوجاتے ہیں۔
جو شخص اس مبارک مہینے کو پانے کے باوجود اس کا حق ادا نہ کرسکا اور اپنی مغفرت و بخشش نہ کرواسکا اس کے لیے افسوس کا مقام ہوگا۔
اب اختیار ہمارے پاس ہے کہ ہم اس مبارک ماہ کو اپنے لیے مفید بنائیں یا اپنے خلاف حجت!کامیاب و چالاک وہی ہے جو موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھائے، ذیل میں کچھ اہم نکات پیش خدمت ہیں جو اس ماہ کو اپنے حق میں مفید بنانے میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے ۔ان شاء اللہ
(۱) اعمال کی درستی :
اخلاص اعمال کی ’’روح‘‘ ہے بلکہ قبولیتِ اعمال کی ایک اہم شرط ہے، اخلاص اور اتباع سنت کے بغیر کوئی بھی عمل بارگاہ الٰہی میں قابلِ قبول نہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
{لَن يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَيٰ مِنْكُمْ)
[سورۃ الحج :۳۷]
’’اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچے گا‘‘۔
نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’إنَّما الأعْمالُ بالنِّيّاتِ‘‘۔
[صحیح بخاری:۱]
’’تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے‘‘۔
چنانچہ اپنے اعمال کو نمود و نمائش اور ریاکاری سے محفوظ رکھنا چاہیے ورنہ محنت اور کوششوں کے باوجود سارے اعمال برباد ہوجائیں گے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے :
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَيٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَائَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْئٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِيْنَ}
[سورۃ البقرۃ : ۲۶۴]
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے صدقے احسان رکھنے اور تکلیف پہنچانے سے برباد مت کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، تو اس کی مثال ایک صاف چٹان کی مثال جیسی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی ہو، پھر اس پر ایک زوردار بارش برسے، پس اسے ایک سخت چٹان کی صورت چھوڑ جائے، وہ اس میں سے کسی چیز پر دسترس نہیں پائیں گے جو انہوں نے کمایا اور اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘۔
(۲) نمازوں کی پابندی اور نوافل کی کثرت :
’’نماز‘‘دین کا اہم ستون ہے، نماز مومنوں کے لیے روشنی کا باعث اور اعمال کی بہتری و قبولیت کا ذریعہ ہے، روزِ قیامت دینی امور میں سب سے پہلے نماز ہی کا حساب لیا جائے گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :’’مسلمان بندے سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہوگی، اگر اس نے اسے کامل طریقے سے ادا کیا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ کہا جائے گا کہ دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر اس کے پاس نفل نمازیں ہوں گی تو اس سے فرض میں کمی پوری کی جائے گی، پھر باقی دوسرے فرائض اعمال کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا‘‘۔
[سنن ابن ماجہ:۱۴۲۵، صحیح]
رمضان میں فرائض سے غافل انسان درحقیقت رمضان کی حقیقت سے غافل ہے، اور رمضان میں سنتوں اور مستحبات کی ادائیگی میں سستی کرنے والا رمضان کی فضیلت سے نابلد ہے۔
(۳) روزے رکھنے میں سستی نہ کرنا :
ماہِ رمضان کے روزے رکھنا نیک شخصیت کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے ہم پر فرض کیا ہے، بلکہ اِن روزوں کو ہم سے پہلے والی اُمتوں پر بھی فرض کیا اور انہیں اسلام کا رکن قرار دیا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
{يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ}
[سورۃ البقرۃ :۱۸۳]
’’اے ایمان والو! تم پر روزے ایسے ہی فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کیے گئے تھے‘‘۔
نیز اللہ تعالیٰ نے صرف رمضان کے روزوں کو اپنے لیے مختص فرمایا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ابن آدم کے ہر عمل کا ثواب بڑھا چڑھا کر دیا جاتا ہے، چنانچہ ایک نیکی دس سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا:سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھانا پینا چوڑ دیتا ہے‘‘۔
[صحیح مسلم :۲۷۰۷]
جو شخص ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں، نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
’’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ‘‘۔
[متفق علیہ، واللفظ للبخاری : ۳۸]
’’جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے‘‘۔
اس طرح روزہ اور روزے رکھنے والوں کے کئی فضائل و برکات شریعت میں وارد ہیں۔
(۴) قیام اللیل کا اہتمام کرنا :
رمضان المبارک میں قیام کرنے کی خصوصی تاکید ہے، اہل جنت کی صفات میں یہ شامل ہے کہ
:{كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ}
[الذاریات :۱۷]
’’ وہ رات کا تھوڑا حصہ ہی سوتے تھے‘‘۔
اسی طرح نبی کریم ﷺنے فرمایا:
’’من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه‘‘۔
[متفق علیہ، واللفظ للبخاری:۳۷]
’’جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں‘‘۔
(۵) آخری عشرے میں خوب عبادت کرنا:
نبی کریم ﷺ جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو اپنی کمر کس لیتے اور رات میں خوب عبادت کرتے، اسی آخری عشرے میں لیلۃ القدر بھی ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
’’ جب (رمضان کا) آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ اپنا تہبند مضبوط باندھتے (یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے) اور ان راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے‘‘۔
[متفق علیہ، واللفظ للبخاری :۲۰۲۴]
کمر کس لینے کا مطلب یہ کہ آپ اس عشرہ میں عبادت الٰہی کے لیے خاص محنت کرتے، خود جاگتے گھر والوں کو جگاتے اور رات بھر عبادت الٰہی میں مشغول رہتے، اور آپ ﷺکا یہ سارا عمل تعلیم امت کے لیے تھا۔
یوں تو ہمیشہ ہی عبادت الٰہی کرنا بڑا کار ثواب ہے لیکن رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت الٰہی کرنا بہت ہی بڑا کار ثواب ہے، لہٰذا ان ایام میں جس قدر بھی عبادت ہوسکے غنیمت ہے۔(شرح صحیح بخاری از داؤد راز رحمہ اللہ:۲۰۴)
(۶) کثرت سے صدقہ و خیرات کرنا :
صدقہ نجات کی دلیل ہے، رمضان میں کیا ہوا صدقہ افضل صدقہ ہے، جس وقت آپ کو بھوک پیاس لگے تو اپنے ان بھائیوں کو یاد کریں جو پورا سال اس کرب میں گزارتے ہیں، اللہ تعالیٰ انتہائی سخی ذات ہے اور سخاوت کو پسند فرماتا ہے، پیارے نبی ﷺ سب سے بڑے سخی تھے، لیکن رمضان میں آپ کی سخاوت اس وقت مزید بڑھ جاتی تھی جب آپ جبریل امین کے ساتھ مل کر قرآن کریم کا دور کرتے، آپ تیز آندھی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ صدقہ و خیرات کرتے تھے، آپ سے کوئی کچھ بھی مانگتا آپ دے دیتے تھے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :’’رسول اللہ ﷺ خیر (اچھی چیزوں) میں تمام انسانوں میں سے زیادہ سخی تھے، اور آپ رمضان کے مہینے میں سخاوت میں بہت ہی زیادہ بڑھ جاتے تھے، جبرئیل علیہ السلام ہر سال رمضان کے مہینے میں اس کے ختم ہونے تک (روزانہ آکر)آپ سے ملتے تھے، رسول اللہ ﷺ ان کے سامنے قرآن مجید کی قراء ت فرماتے تھے، اور جب جبرئیل علیہ السلام آپ سے آکر ملتے تھے تو آپ خیر (کے عطا کرنے) میں بارش برسانے والی ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے تھے‘‘۔
[متفق علیہ، واللفظ لمسلم:۶۰۰۹]
اس لیے آپ بھی اپنی حلال روزی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور اللہ تعالیٰ سے اس کے اجر کی امید رکھیں۔
(۷) روزے دار کو افطار کروانا :
بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے کسی بھی چیز کو حقیر نہیں سمجھتا، کیونکہ اللہ کی راہ خرچ کی جانے والی ایک پائی بھی ہزاروں کی مالیت سے زیادہ اہم ہوسکتی ہے، پانی پلانا اور کھانا کھلانا بھی صدقہ ہے، خاص طور پر روزے دار کو افطار کروانے کی فضیلت حدیث میں وارد ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’من فطر صائما كان له مثل اجرهم من غير ان ينقص من اجورهم شيئا‘‘۔
[سنن ابن ماجہ :۱۷۴۶، صحیح الإسناد]
’’جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی‘‘۔
(۸) افطاری (روزہ کھولنے) میں جلدی کرنا :
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ‘‘۔
[متفق علیہ، واللفظ للبخاری :۱۹۵۷]
’’میری امت کے لوگوں میں اس وقت تک خیر باقی رہے گی، جب تک وہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے‘‘۔
(۹) رمضان میں عمرہ کی ادائیگی :
صاحبِ استطاعت کو چاہئے کہ وہ رمضان میں عمرہ کرنے کی کوشش کرے، کیوں کہ رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے، نبی کریم ﷺنے ایک انصاریہ عورت (ام سنان)سے فرمایا :
’’فعمرة فى رمضان تقضي حجة أو حجة معي‘‘۔
[متفق علیہ، واللفظ لمسلم:۳۰۳۹]
’’رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج (کی کمی)کو پورا کردیتا ہے‘‘۔
(۱۰) ذکرِ الٰہی کی کثرت :
ماہِ رمضان میں سب سے زیادہ اجر وہ لوگ پاتے ہیں جو ذکر الہٰی میں زیادہ مشغول رہتے ہیں، اور سب سے بہترین ذکر تلاوتِ قرآن ہے، امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’جان لو کہ قرآن مجید کی تلاوت اہم ترین ذکر ہے‘‘۔ [الأذکار للنووی رحمہ اللہ:۱۶۲ ]
نیز قرآنِ مجید کی تلاوت، نماز قائم کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ایک ایسی تجارت ہے جس میں کسی قسم کا گھاٹا نہیں!اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللّٰهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ۔ لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ}
[فاطر:۲۹۔۳۰]
’’بے شک جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کریں، نماز قائم کریں، اور ہمارے دیئے ہوئے سے خفیہ و اعلانیہ خرچ کریں وہی ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی گھاٹے کی نہیں ہوگی، تا کہ اللہ ان کا اجر انہیں پورا دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی دے‘‘۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے، میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے ‘‘۔
[سنن ترمذی :۲۹۱۰، حسن]
کتاب اللہ کو مکمل توجہ کے ساتھ سمجھ کر پڑھنا بہت بڑی کامیابی ہے، قرآنی آیات پر غور و فکر کرنا اور پھر اس پر عمل کرنا انتہائی عظیم عمل ہے۔
(۱۱) کثرت سے دعاؤں کا اہتمام :
’’دعا‘‘بندۂ مومن کا ہتھیار ہے، دعا حقیقت میں اللہ اور بندے کے درمیان براہِ راست تعلق ہے، دعا کرتے ہوئے اللہ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ یا رکاوٹ حائل نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
{وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَإِنِّيْ قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوا بِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ}
[سورۃ البقرۃ :۱۸۶]
’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہی ہو، میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں، اس لیے وہ میری بات مانیں اور مجھ پر بھروسہ رکھیں، تا کہ وہ رہنمائی پائیں‘‘۔
روزے دار کی دعا رد نہیں ہوتی، لہٰذا اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہمیں سب سے زیادہ دعائیں قبول ہونے والے اوقات میں دیگر مشغولیات کو چھوڑ کر دعاؤں کا خاص طور پر اہتمام کرنا چاہیے، خصوصاً رات کے آخری حصے میں، افطاری سے قبل، اور فرض نمازوں کے آخر میں وغیرہ۔
(۱۲) اعتکاف کرنا :
اعتکاف کرنا ایک عظیم عبادت اور سنت ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :’’نبی کریم ﷺرمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی، آپ کے بعد آپ کی ازواج اعتکاف بیٹھتی تھی‘‘۔(متفق علیہ)
(۱۳) وقت کے ضیاع سے اجتناب :
اس ماہ کے عظیم و بابرکت نیز کئی فضائل ہونے کے باوجود اکثر لوگ وقت کو فضول چیزوں میں ضائع کر دیتے ہیں، خصوصاً خواتین کے وقت کا اکثر حصہ کچن میں گزر جاتا ہے، اور موبائل اور انٹرنیٹ کا فضول استعمال گویا انسان کے وقت کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے، ایک مسلمان و مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے ہدف پر نظر رکھے، وقت کی قدر کرے، اور اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اس ماہ کے فضائل و برکات سے خوب فائدہ اٹھائے۔
یہ کچھ اہم نکات ہیں، ان کے علاوہ بھی کئی ایک نکات ہیں جو کہ اہم ہیں۔ مثلاً :امر بالمعروف والنہی عن المنکر کا اہتمام، کثرت سے استغفار، اپنی زبان کی حفاظت کرنا وغیرہ۔ ان پر عمل کرتے ہوئے ہم اس ماہِ مبارک کو اپنے حق میں باذن اللہ مفید و نجات کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔
اللہ رب العالمین اس ماہ مبارک کو ہمارے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بنائے، سارے عبادات کو قبول فرمائے، ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے، تمام کو تقویٰ والی زندگی عطا کرے، اگلے رمضان کو ہمارا مقدر بنا دے، رب العالمین ہم تمام سے راضی ہوجائے، آمین یارب العالمین۔
٭٭٭