-
فقہ اہل الحدیث، اصول وقواعد ،مراجع و مصادر(دوسری قسط) صحابہ اور تابعین کی فقہ کو الگ الگ مدون کرنے کے بعد دوسری کو شش یہ ہوئی کہ جو مرفوع حدیث کی کتابیں ہیں ، ان کی تصحیح و تضعیف کے بعد محدثین جیسے امام بخاری وغیرہ نے ایک کا م یہ بھی کیاکہ اپنی حدیث کی کتاب میںحدیث جمع کرنے کے ساتھ ساتھ ترجمۃ الباب بھی قائم کیاہے، جو اسی حدیث سے مستنبط کیا ہوا ایک مسئلہ ہوتا ہے،امام مسلم کا بھی یہی طریقہ ہے ، بس فرق یہ ہے کہ صحیح مسلم میںقائم کردہ ابواب امام مسلم کے نہی ںہیں بلکہ بعد کے لوگوں میں امام نووی وغیرہم کے ہیں،اسی طرح امام مسلم نے ایک مسئلہ سے متعلق کئی حدیثیں یکجاکردیاہے ، جسے ایک قاری پڑھ کراندازہ لگا سکتا ہے کہ ابھی کس مسئلہ سے متعلق حدیثیں ذکر کی جارہی ہیں۔تیسرے نمبر پرامام ابو داؤ د ہیں ،انہوں نے یہ کیا ہے کہ وہ ساری حدیثیں جمع کردی ہیں جن سے مختلف ائمہ کرام استدلال کرتے ہیں اور کس مسئلہ میںکس کی کیا رائے ہے اوران کی کیا دلیل ہے،انہوںنے وہ ساری دلیلیں بھی جمع کردی ہیں ۔اسی لیے کہا جاتاہے کہ ابوداؤد کسی فقیہ کے لیے کافی ہیں(۱)کیونکہ اس میں موافق ومخالف ساری دلیلیں مل جاتی ہیں ،اس پر مستزاد یہ کہ انہوں نے تحقیق کرکے یہ بھی بتایا ہے کہ کونسی حدیثیں صحیح ہیںاو رکونسی ضعیف ۔ فقہاء میںامام اوزاعی ،لیث بن سعد ،ثوری ،امام ابوحنیفہ وغیر ہم کے آراء مذکورہ ہیں۔ اسی طرح اس میں اصول الادلہ بھی مل جائیں گے ، چوتھے نمبر پرامام ترمذی ہیں،انہوں نے یہ کیا کہ تصحیح وتضعیف کے ساتھ ساتھ ایک موضوع سے متعلق ساری حدیثوں کی طرف اشارہ بھی کردیاہے ۔وہ حدیث ذکرکرنے کے بعد کہتے ہیں’’وفی الباب عن فلاں عن فلا ں‘‘اس کے ساتھ پھر انہوں نے صحابہ ،تابعین و ائمہ دین کے مذاہب کو بھی ذکر کیاہے،تویہ چار کتابیں بطور مثال میں نے ذکر کی ہیں(۲) ،اس پر اضافہ کرلیجئے اما م ابن خزیمہ(ت ۳۱۱ھ)کی کتاب’’صحیح ابن خزیمۃ‘‘کا جس کا صرف عبادات کا ہی حصہ ہم تک پہنچاہے،انہوں نے ہر ہر حدیث سے تفصیلی طور پرمسئلہ مستنبط کیا ہے ،بلکہ ایک ایک حدیث کو کئی کئی جگہ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ لائے ہیں، امام ابن خزیمہ امام بخاری کے شاگرد تھے اوراما م ابن حبان ،ابن خزیمہ کے شاگرد ہیں ،ابن حبان کی اصل کتاب ’’التقاسیم و الانواع‘‘کے نام سے ہے ۔انہوں نے اپنی اس کتاب کو پانچ قسموں میں تقسیم کیا ہے(۳)۔یہ پوری کتاب اصولی تقسیم پر ہے ۔ اسے ترتیب ابن بلبان فارسی (المتوفی۷۳ھـ)نے دیا ہے(۴)۔بڑے لمبے لمبے باب باندھتے ہیں اور تفصیلی بات بھی کرتے ہیں۔میرے کہنے کا مطلب ہے کہ آثا رکے بعد یہ دوسری طرح کی کتابیں ہیں جو مرفوع احادیث پرمشتمل ہیں ،اس کے علاوہ دوسرے محدثین نے بھی کام کیاہے ،تیسرے نمبر پر وہ کتابیں ہیں جو فقہ مقارن پر لکھی گئی ہیںجس میں مختلف مذاہب کے جو علماء ہیں چاہے وہ ائمہ اربعہ ہوں یا دیگر علماء ہوں جیسے امام اوزاعی ، لیث بن سعد وغیرہم۔ ان کے دلائل کے ساتھ ان سب کے مسائل بھی جمع کیے ہیں،یعنی فقہی مسائل پہلے ذکر کرتے ہیں ، اس کے بعد پھر رائے ذکر کرتے ہیں ،اس طریقہ کے برعکس جو محدثین کاطریقہ تھا کہ وہ پہلے باب باندھتے ہیں ، پھر حدیث اس کے بعد مسائل ذکر کرتے ہیں ،اس سلسلہ پرجو کتابیںلکھی گئی ہیں ان میں سے بعض کتابیں ذکر کرتاہوں ۔
امام ابن المنذر (المتوفی۳۱۹ھـ)ا ن کی کتاب ’’الاوسط‘‘ہے،ان کی کئی ایک اور بھی کتابیں ہیں جومفقود ہیں ،ایک چوتھائی کا پتا نہیں چلتا ہے ۔اوسط میں تمام فقہی ابواب اور دوسرے ابواب انہوں نے ذکر کیا ہے ،مسئلہ میں ائمہ کا جو بھی اختلاف ہے اسے دلائل کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔پہلے مسئلہ بیان کرتے ہیں ،پھر اس مسئلہ میں پہلی رائے کیاہے ، دوسری رائے کیا ہے ،تیسری رائے کیا ہے ، اس کے بعد حدیث ذکر کرتے ہیں۔آپ بعد میں دیکھیں گے کہ جتنی فقہ کی کتابیں لکھی گئی ہیں ،چاہے المحلی ابن حزم کی ،المجموع امام نووی کی ، المغنی ابن قدامہ کی ہو،یہ سب کتابیں تقریباً اسی سے خوشہ چینی کرکے مذہب صحابہ و تابعین وغیرہ کے بیان پر مشتمل ہیں۔
کتب فقہ مقارن کے بعد انہوں نے یہ کا م کیاکہ اس طرح کے اصول وقواعد مرتب کردیئے جن کے ذریعہ کتب حدیث سے استفادہ یا استنباط میں آسانی ہو،آپ جانتے ہیں دوسری صدی ہجری یا تیسری صدی ہجری میں دو مکتب فکر موجود تھے ،ایک اہل الرائے کا مکتب فکر دوسر ے اہل الحدیث کا مکتب فکر ، ان دونوں کے درمیا ن بڑی لڑائیاں ہوتی تھیں،اس وجہ سے کچھ تو اس طرح کے کچھ اصول وقواعد ہونے چاہئے کہ جن کی طرف ہر کسی کو رجوع کرنا پڑے چاہے وہ اہل الحدیث مکتب فکر سے ہویا اہل الرائے سے ہو،اور حدیث سے صحیح طریقہ سے استنباط ہوسکے ،مثلاً حدیثوں میں ناسخ منسوخ ہیں ،آپس میں متعارض حدیثیں ہیں ،متواتر اور اس کے مقابلہ میں خبر آحاد ہے ،تعارض کی شکل میں مسئلہ مستنبط کیاجاسکتا ہے یا نہیں ،دلیلیں کس طریقہ سے درجہ بندی کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہیں ،ان پر سب سے پہلے جس نے کتاب لکھی وہ امام شافعی(ت۲۰۴ھ)رحمہ اللہ ہیں ان کی کتاب’’الرسالۃ‘‘ہے(۵)۔ فن اصول فقہ پر سب سے پہلے انہوںنے ہی کتاب لکھا ہے ، ان کے کتاب لکھنے کے بعد پھراصول فقہ پر کتاب لکھنے کا ایک سلسلہ چل پڑا ۔ لیکن ہوا یہ کہ اصول فقہ کے سلسلہ میں بعد میں لوگ امام شافعی کے طریقہ پر کاربند نہ رہے۔
اس فن کو دوطرح کے لوگوں نے آگے بڑھایا، ایک معتزلہ جو صاف عقلیت پسند تھے اور دوسرے فقہاء اہل الرائے جنہوں نے اپنے انداز میںاصول کی کتابیں مرتب کیں ،لیکن ان کی اصول کی کتابیں بجائے اصول شریعت کے ہوں ، بلکہ وہ اصول مذہب پر ہیں ،(یعنی اپنے مذہب کے اصول وقواعد ہیں )۔ اصول فقہ کی کتاب مرتب کرنے میں یہ دونوں مذہب کے لوگ بالکل الگ طریقہ پر چلے گئے۔
امام شافعی کی اتبا ع کرنے والوں میں ایک مشہور عالم ابو المظفرالسمعانی (ت۴۸۹ھ)ہیں،ان کی ایک کتاب ہے’’قواطع الادلۃ فی الاصول‘‘(۶)اس میں انہوں نے کتاب وسنت،اجماع اورقیاس وغیرہ پر بات کیاہے ،اس سلسلہ میں جوآثار واقوال منقول ہیں ،وہ سب نقل کئے ہیں ۔اسی طرح سے پانچویں صدی ہجری میں چاربڑے مؤلفین تھے ،دو مشرق میں اور دو مغرب میں ،انہو ںنے کتابیں ایسی مرتب کردی ہیں جن سے اہل الحدیث کے سارے اصول سمجھ میں آسکتے ہیں ،مغرب میں دو عالم تھے ایک ابن حز م جو قیاس کے گرچہ منکر تھے ،لیکن قیاس کے علاوہ جو دیگر مباحث ہیں وہ مفید ہیں ،علام ابن حزم کی کتاب ہے’’الإحکام فی اصول الاحکام ‘‘جسے علامہ محمد شاکر اور دیگر لوگوں نے تحقیق کرکے چھاپا ہے۔ دوسر ے عالم تھے ابن عبد البر رحمہ اللہ(المتوفی۴۶۳ھـ)جن کی کتاب’’جامع بیان العلم وفضلہ‘‘ہے،اصلاً اس کتاب کا تعلق علم کی فضیلت سے ہے لیکن اس کے اندر بہت سے اصولی مباحث آگئے ہیں اور طریقہ استنباط وہی ہے ،مشرق میں دو عالم تھے ،ایک خطیب بغدادی (المتوفی:۴۶۳ھـ)اور دوسرے امام بیہقی ، خطیب بغدادی نے ایک کتاب لکھی ہے’’الفقیہ والمتفقہ‘‘کے نام سے، اس کے اندر انہوں نے ایک فقیہ کے لیے، ایک محدث کے لیے کیا کیاضروری ہے ،وہ تمام چیزیںنقل کردی ہیں، امام شافعی کے زمانہ سے لے کرکے اپنے زمانہ تک کے۔ دوسرے اما م ہیں اما م بیہقی(ت۴۵۸ھ) انہوں نے ’’السنن الکبریٰ‘‘ لکھی(۷)احادیث احکام کے سلسلہ میں اس سے بڑی کوئی کتاب نہیں ہے،پہلے یہ کتاب دس جلدوں میں چھپتی تھی ،اب تو پجیس تیس جلدوں میں چھپ گئی ہے۔انہوں نے یہ سوچاکہ اس پر ایک مقدمہ لکھ دیا جائے ،جو ہر فقیہ او رمحدث کے کا م آئے ، چنانچہ اس کے لیے انہوں نے ایک کتاب لکھی جو’’المدخل الی السنن الکبریٰ‘‘کے نام سے مشہور ہے، یہ کتاب پہلے ناقص چھپی تھی ، ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ نے تحقیق کی ہے ، یہ کتاب پہلی بارکویت سے چھپی تھی ،لیکن اس کا نصف حصہ ہی چھپا تھا، ابھی یہ کتاب دو جلدوں میں مکمل چھپ گئی ہے،قیاس ،اجتہاد ،دو حدیثوں کے مابین تعارض اور اصطلاحات شرعیہ سے متعلق اس کے اندر گفتگو کی گئی ہے،امام بیہقی گرچہ شافعی ہیں ،لیکن ان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اپنی مخالف چیزیں بھی نقل کرتے ہیں ،اس وجہ سے وہ بالکل مقلد شافعی نہیں ہیں جس طر ح سے متأخرین شافعیہ رہے ہیں ،اوریہ یاد رکھیں کہ پہلے مذاہب کی تقلیدمیں اتنی شدت نہیںبرتی جاتی تھی جتنی آج برتی جاتی ہے ،بلکہ توسع تھا،پانچویں اور چھٹی صدی ہجری سے یہ تقلیدی ذہن عام ہوا ہے اور انہوں نے ایک مذہب کو لازم پکڑ نے کے لیے ہر ہر مذہب کا ایک ایک متن مقرر کردیا ۔پھر اس متن کی شرح اور اس کا حاشیہ لکھ کر کے انہوں نے مذہب کی تدوین کی ،اب مان لیجئے کوئی شافعی ہے اور اسے’’کتاب الام‘‘میں امام شافعی نے جو لکھا ہے اس کی طرف دعوت دیں گے تو وہ نہیں مانے گا،وہ کہے گا کہ ساتوں صدی کے امام نووی نے’’منہاج الطالبین‘‘میں میں جو لکھا ہے وہ ہمارا مذہب ہے ۔اب آپ فقہ حنفی کے متون دیکھ لیجئے ۔ہدایہ جو چھٹی صدی ہجری میں لکھی گئی ،اس سے مختصر کرکے وقایہ لکھی گئی ،اب اس کے بعد جو کتابیں لکھی گئیں وہ تو اور زیادہ چوں چوں کا مربہ بنی ہوئی ہیں ،جیسے ’’المختار ابن مودود‘‘ الموصلی کی (ت ۶۸۳ھ)یہ بہت مختصر متن تھا اس لیے اس کے شرح کی ضرورت پڑی لہٰذا خود صاحب متن نے اس کی شرح بھی ’’ا لاختیار لتعلیل المختار‘‘نام سے لکھی ۔پھر سب کتابوں کو نچوڑ کرکے ایک نسفی صاحب(ت۷۱۰ ھ) تھے،انہوں نے’’کنز الدقائق‘‘لکھی،یہ ایسی کتاب ہے جو بلا شرح کے سمجھ میں ہی نہیں آسکتی ہے ،اسی طرح سے در مختار بھی ہے ،یہ سارے متون آپ دیکھیں گے ،پھر حاشیہ پھر شرح ،پھر تعلیقات ،یہ مرض بہت پرانا ہے ،قاضی ابو بکرابن العربی (ت ۵۴۳ھ) انہوں نے اپنی کتا ب میں تبصرہ کیاہے ،ابن خلدون نے بھی اپنی کتاب میں تبصرہ کیا ہے۔(۸)،کہ جو بڑی بڑی کتابوں کو نچوڑ کرکے چھوٹی چھوٹی کتابیں بنائی ہیں ،یہ عائقہ عن التحصیل ہیں ،ان کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے ۔ لیکن لوگ جو اسی منہج پر چل پڑ ے تو چل پڑ ے ،اس کے مقابلہ میں یہ جو کتابیں اصول فقہ وغیرہ پر لکھی گئی ہیں وہ بالکل اس بیماری سے دو ر ہیں ،یاد رہے مذہبی کتابیں بالکل اہل الرائے کے طریقہ پر ہیں ، انہوں نے مذہب سے انحراف پسند نہیں کیا ہے،جبکہ اہل الحدیث کا ہمیشہ سے یہ مذہب رہا ہے کہ وہ اصول وقواعد کو سامنے رکھیں ،دلائل سامنے رکھیں ، مسائل کا استنباط کریں او رجس کو جو چیز راجح لگے اسے وہ بیان کرتے ہیں ۔
ہم جب دو یا تین صدی ہجری تک یہ پاتے ہیں کہ ان کے یہاں تقلید نہیں تھا کہ کسی کو لازم پکڑ لیں اور پوری زندگی اسی کی رائے پر عمل کریں،مثلاً ابن مسعود ،حضرت علی ،عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہم میں سے کسی ایک کی رائے پر ز ندگی بھر عمل کرتے رہیں۔
حالانکہ یہ لوگ مدینہ ،مکہ اور حجاز کے عالم تھے ۔اس کے بعد چھٹی اور ساتویں صدی ہجری میں ایسے فقہ کے متون مقرر کر دیئے جائیں کہ ان کا پڑھنا پڑھانا ضروری قرارد ے دیا جائے ،باقی جتنی اصول کی کتابیں ہیں وہ سب بھول گئے اور لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ،فقہ حنفی کی بھی کتابیں جو اصل تھیں وہ چھوڑ دی گئیں ،کتاب الاصل ہے امام مالک کی ،امام ابوحنیفہ کے اصل آراء جو ان سے سن سن کر مدون کئے گئے ہیں،ان کی طرف ذرا بھی توجہ آج کے احناف نہیںدیتے ہیں۔یہ جو اما م ا بو حنیفہ کی جانب آج بہت سارے مسائل منسوب کئے گئے ہیں،یہ سب ان کے اصول وقواعد پر مخرج مسائل ہیں ،اس چیز کو شاہ ولی اللہ نے برابر وضاحت کے ساتھ حجہ اللہ البالغہ میں بیا ن کیا ہے۔ جاری……
اضافات (آفاق احمد سنابلی مدنی)
۱۔ سنن ابو داؤد کا کتب احادیث میںبیان احکام کے اعتبار سے ایک منفرد مقام ہے ۔ اس کتاب کی مشہور شروحات میں ’’عون المعبود شرح سنن ابی داؤد۔شمس الحق العظیم ابادی‘‘ہے ۔علماء کے چند اقوال اس کتاب کے مقام و مرتبہ کے حوالہ سے نقل کررہا ہوں۔
النسخة وهى بين يديه:لو ان رجلا لم يكن عنده من العلم إلا المصحف الذى فيه كتاب اللّٰه، ثم هذا الكتاب، لم يحتج معهما إلى شيء من العلم بتة۔
امام خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں میںنے ابن اعرابی کو کہتے ہوئے سنا ہے :’’اگر کسی شخص کے پاس قرآن اور ابوداؤد ہے تو اسے اب کسی دوسری کتاب کی ضرورت نہیںہے‘‘۔
[تاریخ الإسلام ت بشار:۸؍۶۳۳ ]
قال الإمام النووي رحمه اللّٰه: ينبغي للمشتغل بالفقه ولغيره الاعتناء بـ’’سنن ابي داؤد‘‘، وبمعرفته التامة، فإن معظم احاديث الاحكام التى يحتجُّ بها فيه، مع سهولة متناوله، وتلخيص احاديثه، وبراعة مُصَنَّفِهِ، واعتنائه بتهذيبه۔
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں’’جو علم فقہ وغیرہ میں مشغول ہو اسے سنن ابی داؤد کی طرف توجہ دینا چاہئے ،احکام کی اکثر احادیث اس میںموجود ہیں،مؤلف نے اپنی مہارت کے ذریعہ کمال ترتیب اور اختصار کے ساتھ احادیث احکام کو درج کردیاہے اور آسانی کے ساتھ یہ سب حدیثیں مل بھی سکتی ہیں۔
[الإیجاز فی شرح سنن ابی داؤد للنووی:ص۵۶]
قال الخطابي:’’وقد جمع ابو داؤد فى كتابه هذا من الحديث فى اصول العلم وامهات السنن واحكام الفقه ما لا نعلم متقدما سبقه إليه ولا متاخرا لحقه فيه‘‘۔
امام خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اپنی اس حدیث میں اصول علم ،سنت کی اساسی احادیث اورفقہی احکامات سے متعلق احادیث جمع کردی ہیں،ایسا کام نہ تو پہلے کسی نے کیا اورنہ ہی بعد میں کسی نے ‘‘۔
[معالم السنن:۱؍۸]
قال ابو حامد الغزالی عنہ: ( إنها تكفي المجتهد فى احاديث الاحكام) [المستصفی:۲؍۳۵۱]
[کتاب المدخل فی تاریخ السنۃ:ص:۱۱۴]
امام ابو داؤد کی کتاب سے متعلق امام غزالی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’ایک مجتہد کے لیے امام ابوداؤد کی یہ کتاب کافی ہے‘‘۔
امام ذہبی کے بقول سنن ابو داؤد میں حکم کے اعتبار سے چھ طرح کی احادیث ہیں۔
تصنيف الذهبي للكتاب:في ان الاحاديث في(سنن ابي داؤد) ستة انواع فقال:
۱۔ إنَّ اعلي ما فى كتاب ابي داؤد من الثابت ما اخرجه الشيخان وذلك نحو شطر الكتاب۔
۲ ۔ ثم يليه ما اخرجه احد الشيخين ورغب عنه الآخر۔
۳۔ ثم يليه ما رغبا عنه وكان إسناده جيداً سالماً من علة شذوذ۔
۴ ۔ ثم يليه ما كان إسناده صالحاً وقبله العلماء لمجيئه من وجهين لينين فصاعداً۔
۵۔ ثم يليه ما ضعف إسناده لنقص حفظ راويه، فمثل هذا يسكت عنه ابو داود غالباً۔
۶ ۔ ثم يليه ما كان بيّن الضعف من جهة راويه، فهذا لا يسكت عنه بل يوهنه غالباً، وقد يسكت عنه بحسب شهرته ونكارته۔[سير اعلام النبلاء ط الرسالة:۱۳؍۲۱۴]
۲۔ كتب سته اور اس ميںان مؤلفين كا منهج ،اسي طرح كئي ساري مفيد معلو مات كے ليے ان دونوںكتابوںكي طرف رجوع كريں۔
الف: الكتب الستة واشهر شروحها وحواشيها۔ إعداد۔د؍عبدالعزيز بن عبداللّٰه الشايع۔
ب : مناهج اصحاب الكتب الستة ومالك واحمد والدارمي لوليد عثمان الرشودي۔
۳۔ صحيح ابن حبان: المسند الصحيح على التقاسيم والانواع من غير وجود قطع فى سندها ولا ثبوت جرح فى ناقليها۔المولف: ابو حاتم محمد بن حبان بن احمد التميمي البُستي (ت ۳۵۴ هـ)المحقق: محمد على سونمز، خالص آي دمير،الناشر: دار ابن حزم۔ بيروت،الطبعة: الاولي،۱۴۳۳ هـ ۲۰۱۲ م،عدد الاجزاء: ۸ (الاخير فهارس)
اس کتاب کو انہوں نے پانچ حصوں میں تقسیم کیاہے،اوامر،نواہی ،اخبار،افعال ،اباحات۔پھر انہوں نے ہر قسم کی کئی قسمیں بیان کی ہیں،جیسے اوامر کی انہوں نے ایک سو دس قسمیں بیان کی ہیں،نواہی کی بھی ایک سو دس قسمیں بیان کی ہیں،اخبار کی اسی قسمیں،افعال کی پچاس قسمیں ،اباحات کی پچاس قسمیں۔
۴۔ ابن بلبان فارسی کی سیرت کے لیے رجوع کریں ۔[الفوائد البہیۃ فی تراجم الحنفیۃ۔ومعہ التعلیقات السنیۃ: ص:۱۱۸]
۵۔ الرسالہ فن اصول فقہ کی پہل ترین کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔اس حوالہ سے مزید باتیں پیش خدمت ہے :
قال صاحب كشف الظنون، اول من صنف فيه۔ اي فى علم اصول الفقه الإمام الشافعي، ذكره الإسنوي فى التمهيد، وحكي الإجماع فيه۔[تاريخ التشريع الإسلامي:ص:۳۶۹]
وقد حقق’’الرسالة‘‘احمد محمد شاكر عن اصل بخط الربيع بن سليمان كتبه فى حياة الشافعي، ولم يدخله فى كتاب ’’الام‘‘۔
ويروي الشيخ احمد شاكر ان:كتاب ’’الرسالة‘‘الفه الشافعي مرتين، ولذلك يعده العلماء فى فهرسه مولفاته كتابين: الرسالة القديمة، والرسالة الجديدة۔
قال الشيخ احمد شاكر:اياما كان فقد ذهبت الرسالة القديمة، وليس فى ايدي الناس الآن إلا الرسالة الجديدة، وهى هذا الكتاب…والظاهر عندي انه اعاد تاليف كتاب ’’الرسالة‘‘بعد تاليفه اكثر كتبه التى فى ’’الام‘‘لانه يشير كثيرا فى الرسالة إلى مواضع مما كتب هناك۔والراجع انه املي كتاب ’’الرسالة على الربيع إملاء ‘‘۔[الرسالة للشافعي :المقدمة:۱۱]
’’ الرسالۃ ‘‘ کی اہم شروحات :
كئي علماء نے رساله كي شرح كي هے ، ان ميںسے بعض مطبوع هيںاور بعض غير مطبوع هيں۔
عني كثير من اهل العلم بشرح كتاب الرسالة للشافعي، و قد ذكرمنها تسعة شروح، و هي:
۱۔ دلائل الاعلام فى شرح رسالة الإمام، لابي بكر محمد بن عبد الله بن احمد بن يزيد الصيرفي المطيري (المتوفي :سنة۳۳۰ه)
۲۔ ـ شرح رسالة الإمام الشافعي، لابي الوليد حسان بن محمد بن احمد بن هارون القرشي۔ (المتوفي :سنة:۳۴۹ه)
۳۔ شرح رسالة الإمام الشافعي، لابي بكر محمد بن على بن إسماعيل۔ (المتوفي سنة:۳۶۵)
۴۔ شرح رسالة الإمام الشافعي، لابي بكر بن محمد بن عبد اللّٰه الشيباني الجوزقي النيسابوري۔ (المتوفي سنة:۳۸۸هـ)
۵۔ شرح الرسالة، لابي محمد عبد اللّٰه بن يوسف، الجويني، والد إمام الحرمين (المتوفي:سنة:۴۳۸هـ)
۶۔ شرح الرسالة، لابي زيد عبد الرحمن الجزولي ۔
۷۔ شرح رسالة الإمام الشافعي، لجمال الدين…الافقهسي۔
۸۔ شرح الرسالة، لابن الفاكهني۔
۹۔ ـ شرح الرسالة، لابي القاسم عيسي بن ناجي ۔(عبد الله محمد الحبشي فى جامع الشروح و الحواش۔(۲؍۹۵۰۔۹۵۱)
۱۰۔ سبك المقالة فى شرح الرسالة، و هو شرح للرسالة لبعض المعاصرين، و هو: ا.د۔ محمد بن عبد العزيز المبارك، الاستاذ فى كلية الشريعة ـ جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية، عام::۱۴۳۷هـ(و يوجد منه نسخة pdf على الشبكة العنكبوتية )
و قد خر ج احاديث الرسالة، جمال الدين يوسف بن شاهين سبط ابن حجر العسقلاني (المتوفي سنة:۸۹۹هـ) فى كتاب سماه: ري الظما من صافي الزلالة بتخريج احاديث الرسالة۔
۶۔ امام ابو مظفر السمعانی کا شمار مذہب شافعی کے بڑے علماء میں ہوتا ہے ، یہ خراسان کے مفتی رہ چکے ہیں ۔ ان کے تعلق سے ابو القاسم ابن امام الحرمین کہتے ہیں :’’ابو المظفربن السمعاني شافعي وقته.(قواطع الادلة فى الاصول ،تحقيق؍دكتور محمد حسن هيتو :ص:۱۶) ان كي كتاب’’قواطع الادلة فى الاصول‘‘ کی کئی علماء نے تعریف کی ہے ۔ بطور مثال چند علماء کے اقوال :
قال الدكتور محمد حسن هيتو: يعتبر كتاب القواطع لابن السمعاني من اهم الكتب التى صنفت فى اصول الفقه ،بدون
ريبة او شك۔(قواطع الادلة فى الاصول ،تحقيق؍دكتور محمد حسن هيتو:ص:۱۹)
دكتور محمد هيتو كهتے هيں:’’قواطع الادله‘‘ كا شمار اصول فقه كي اهم ترين كتابوںميںهوتا هے۔
وقال ابن السبكي:’’ولا اعرف فى اصول الفقه احسن من كتاب ’’القواطع‘‘و لا اجمع ‘‘۔ [الطبقات:۵؍۳۴۳]
علامه سبكي كهتے هيں:’’ميںاصول فقه ميں قواطع سے عمده كوئي كتاب نهيںجانتا هوں‘‘۔
۷۔ مصنف : ميمونه اسلام ،السنن الكبريٰ كي تدوين ميں امام بيهقي كا منهج ايك تحقيق جائزه (مقاله ايم فل )
۸۔ الفصل الرابع والثلاثون فى ان كثرة التآليف فى العلوم عائقة عن التحصيل۔(تاريخ ابن خلدون:۱؍۷۲۷)