Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • استقبال رمضان

    رمضان کی عبادت کا جو خصوصی وژن ہے وہ پرہیز گاری اور زہد ہے ۔ یعنی زندگی کی مسرفانہ سرگرمیوں اور غیر معتدل انداز زندگی کو میانہ رو مزاج حاصل ہو جائے ،روزوں کے لیے ایک واضح ترین علامت بھی متعین کر دی گئی ہے کہ صبح تا شام انسان کھانے پینے اور جماع سے گریز کرے ۔کھانے پینے سے گریز جہاں اللہ کی منع کردہ چیزوں سے بچنے کی اعلیٰ ترین علامت ہے وہیں خود کھانے پینے کے باب میں انسانی طمع اور لذت کام ودہن کے بے نکیل اونٹ کو لگام دینا بھی خاص مقصد ہے ۔ یہ ضروری بات بھی پتہ رہے کہ کھانے پینے سے پرہیز کی علامت بہت با معنیٰ اور اہم ہے اس کے بغیر روزہ کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ فکری شذوذ،کھڈ اور کھائیوں میں جاپہنچنے والے تدبر کے اس دور میں کوئی صاحب کب کیا فرما دیں کچھ کہا نہیں جا سکتا ،مغزیات کا کوئی دلدادہ اگر کج بحثی پر اتر آئے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ روزہ میں اصل تقویٰ ہے اس لیے اگر تقویٰ کھانے پینے سے رکے بغیر حاصل ہو جائے تو حرج ہی کیا ہے؟
    زیر بحث علامت کی معنوی آفاقیت کا ایک قابل ذکر گوشہ یہ ہے کہ بسیار خوری اور انواع و اقسام کی لذتوں کی ہر لحظہ تلاش اپنے ساتھ بہت سارے مفاسد جمع رکھتی ہے ،ایک تو انسان لذتوں کے پیچھے بہت سارے فرائض و واجبات کا تارک ہو جا تا ہے دوسرے اس کے اندر کسل اور سستی کی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں ۔ایک بہت بڑا فساد نفس یہ جنم لیتا ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کے سلسلے میں اپنا رویّہ بدل دیتا ہے وہ اکثر ناشکری اور کافرانہ ذہنیت کے ساتھ اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ عاجزی ،فروتنی اور شکر گزاری کے مقام پر ناشکری کی جرأت طبیعت کا حصہ کچھ اس طرح سے بن جاتی ہے کہ یہ بھی احساس نہیں رہتا کہ وہ کسی قسم کی ناشکری کا مرتکب ہو رہا ہے۔محض ذائقہ کے معمولی فرق پر یا ذوق سے بے میل ہونے پر کھانے کو برا کہنے کی عمومی نفسیات اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے ۔رواج عام اور عادات کی بنا پر یہ چیز لگتی تو بہت معمولی ہے لیکن اپنے سوابق ولواحق کے ساتھ یہ بہت خطرناک بات ہے ۔
    بسیارخوری،ذائقہ نوازی اور چٹورپن کے تعلق سے مذکورہ بالا حقائق کے باوجود عام مشاہدے کی بات یہ ہے کہ رمضان مسلم سوسائٹیوں میں کھانے پینے کا موسم بہار بن کر آتاہے ۔ رمضان کا خاص بجٹ ہوتا ہے اور اس کی الگ سے تیاری کرنی پڑتی ہے ۔ورنہ افطاری کیا اور افطاری کا مزہ کیا ؟کام کا جی خواتین دوپہر سے ہی کاٹنے، دھلنے اور تلنے بھوننے میں خود ہی تلی بھنی ہو جاتی ہیں اس کے باوجود افطار بازار کی کشا کش اور تنگ دامنی کسی طور کم نہیں ہوتی۔ بہت سے گھروں میں افطاری پوری کی پوری خرید کر آتی ہے مطلب بازاری ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ ایسے گھروں میں ذکرو نوافل کا اہتمام زیادہ ہے بلکہ بد نصیبی سے ایسے گھروں میں بھی فرصت کے باوجودفرصت نہیں ہوتی اور فرصت کیوں نہیں ہوتی وہ ناقابل بیان ہے ۔
    ہم رمضان کے افطاروسحر اور رات رات بھر چٹور گلیوں اور نکڑوں کی آبادی اور ذکر وفکر کی خانہ ویرانی پر کوئی فتویٰ تو نہیں دے سکتے لیکن کیا یہ مقام افسوس نہیں ہے کہ رمضان جیسے پر بہار موقعے کو خمار نیند اور ذوق وشوق افطار کے نذر کر ڈالیں ۔
    قارئین کرام!
    رمضان کا جو وژن ابتداء میں ذکر کیا گیا ہے اس کے لیے شرع شریف نے ایک جامع اصطلاح مقرر فرمائی ہے تقویٰ! تقویٰ کا اصل معنیٰ خوف اوربچاؤہوتا ہے ،خوف کی طرح احتراز،بچاؤاور پرہیز گاری انسانی نفس کی ایک اہم ترین صلاحیت ہے ،یہ صلاحیت جب کمزور ہو جاتی ہے تو انسان کا حلال اشیاء کے ساتھ برتاؤ مسرفانہ اور مبذّرانہ ہو جاتا ہے،حرام کردہ چیزوں اور اللہ کے متعین کردہ حدود کو توڑنے کا ارتکاب کرتا ہے ۔اس لیے اگر ہم کھانے پینے کی چیزوں کو قوت صیام کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے نفس کی آکلا نہ خواہشات کے پیچھے لگا دیں گے تو نہ صرف یہ کہ روزے کے مقاصد حاصل نہ ہوں گے بلکہ روزے کے فاسد اور کمزور ہو جانے کا اندیشہ ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول ﷺ یہ دعا بھی کیا کرتے تھے’’ اللّهم انّي اعوذبك من نفس لا تشبع‘‘۔’’الہٰی میں ایسے نفس سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں جو آسودہ نہ ہو‘‘ ۔
    یہ بات اپنی جگہ غلط نہیں ہے کہ روزہ کھانے پینے کی خواہشات کو تیز کر دیتا ہے لیکن ان خواہشات کے پیچھے دوڑپڑنا اور ہے اور اعتدال کے دائرے میں ان کا بھی لحاظ کر لینا اور ہے۔ ثانی الذکر سے روزے دار کو عابدانہ سرگرمیوں میں تعاون ملتا ہے اور وہ روزہ کا فرض بحسن و خوبی انجام دینے میں طاقت محسوس کرتا ہے ۔ اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ روزہ یبوست اور راہبانہ تصور صیا م سے الگ ہو جاتاہے جبکہ اول الذکرشئی روزے کے مقاصد کو اکثر فنا کر دیتی ہے ۔
    الغرض روزہ دار اپنے روزے کی تمام سر گرمیوں پر نظر رکھے حتیٰ کہ کھانے پینے کی مصروفیات پر بھی نظر رکھے اور ناقدانہ نگاہ سے جائزہ لیتا رہے کہ اس نے لغویات اور لایعنی باتوں سے تو پرہیز کیا ، زبان اور آنکھ کو ہر فتنے سے بچائے رکھا نوافل ،اذکار ،عبادات ،اور تلاوتوں میں زیادہ سے زیادہ وقت لگاتا رہالیکن اس دوران کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ حلال کے فریب میں نفس نے اسے کھانے پینے کے پیچھے لگا دیا ہو اور وہ اعتدال کے راستے سے بالکل کٹ گیا ہو ۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings