-
علامہ عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرات کا تحریری سلسلہ (پہلی قسط) شیخ الاسلام اما م ابن تیمیہ کی تصنیفی خدمات اور ان کا منہج
اما م ابن تیمیہ کی شخصیت اور ان کی علمی خدمات اور جو ہمہ جہتی اصلاحی کام انہوں نے کیاہے،ان سے ہم میں سے بہت سے لوگ واقف ہوں گے ،انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں گزاری اور جو بہت سے افکار وخیالات اسلام میں داخل کردئے گئے تھے ،ان کی صفائ میں اور حقیقت بیان کرنے کے سلسلہ میں جو ان کی خدمات ہیں اورپھر زبان و قلم وسنان ،ان تینوں کے ذریعہ جو انہوں نے کام کیا ،تاریخ اسلام میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہوں نے تینوں میدانوں میں کام کیاہے، علامہ شبلی نعمانی نے ابن تیمیہ پر بڑا ہی شاندارمضمون لکھا ہے(1) او روہ ان سے بے حد متاثر بھی تھے ،انہوں نے صاف طور پر لکھا ہے کہ مجددیت کی شرطوں میں اگر ایک شرط میدان میں اتر کر دشمن سے مقابلہ کو بھی لازم قرار دیا جائے ،تو مجددین کی تعداد بہت کم ہوجائے گی ،لیکن علامہ ابن تیمیہ ان میں شامل رہیں گے ۔
میں اس مجلس میںامام ابن تیمیہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بجائے ان کی تصانیف ،ان تصانیف میں ان کا طریقہ کار کیا ہے(2)اور ان تصانیف کی تعدادکیاہے،ان میں سےکتنی چھپی ہیں او رکتنی غائب ہوگئ ہیں ،کتنی ابھی نہیں چھپی ہیں اور کتنی ابھی چھپنے کا انتظار کررہی ہیں ۔موجود ہ دور کے اندران کی کیا خدمت کی گئ ہے،اسی طرح ان تصانیف کی جو مختلف شکلیں ہیں وہ کیا ہیںاور پھر کیاان کی تاریخی ترتیب کوئ بنائ جاسکتی ہے یا نہیں؟ان کی ان تصانیف کے جو ترجمےہوئے ہیں ،خاص طور پر اردو اور انگریزی میں ان کا کیاحال ہے اور کہاں تک وہ ترجمےان کے اصل فکر کی ترجمانی کرتے ہیں ۔اور پھر جو اما م ابن تیمیہ کی تصانیف سے استفادہ کرنا چاہتا ہے اسے کیا طریقہ کا ر اپنانا چاہئے بطو ر خاص ایک طالب علم کو(3)۔
کوشش ہوگی بنیادی طور پرسب معلومات دے دوں ، میرے پاس ایک فہرست ہے ان کتابوں کی جو مجموعہ الفتاوی سے باہر چھپی ہیں ، تاکہ پتا چل جائے کہ مجموعہ الفتاوی جو 37جلدوں میں(4) اور اتفاق سے جو مجموعہ الفتاوی سے باہر چھپی ہیں ان کی بھی تعداد 37 ہےجو کئ جلدوں میں ہے(5)، اب اگر کسی کے پاس یہ دونوں موجود ہیں تواسے یہ اطمینا ن رکھنا چاہئے کہ امام ابن تیمیہ کی جتنی مطبوعہ چیزیں ہیں وہ تقریبا اس کے پاس ہیں ،اب پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا اس کی ذمہ داری ہے۔
سب سے پہلے تو ہم یہ گفتگو کریں کہ امام ابن تیمیہ نے کل زندگی 67 سال پائ تھی.سنہ 661ھ میں پیداہوئےاور سنہ 728ھ میںانتقال کرگئے ،ان کی زندگی کو ہم چار مرحلوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔
پہلا مرحلہ: ان کی طالب علمی کی زندگی کا ہے ،وہ تقریبا 17،18 سال تک ہے ،انہوں نے کئ سارے علماءمشائخ سے حدیث، فقہ وغیرہ کی کتابیں پڑھیں (6)،پھر انہوں نے 18 سال کے بعد اپنے طور پر مطالعہ شروع کیا،اکثر آپ مجددین اور مصلحین کو دیکھیں گے یا جو کسی بھی میدان میں نمایاں ہیں ،انہوںنے اپنے طورپر کچھ نہ کچھ مطالعہ ضرور کیاہے ،ورنہ جو شخص صرف مشائخ کے دروس اور درسی کتابوں پر ہی اکتفاء کرلیتا ہے ان میں بہت کم ایسے ہوتے ہیں کہ اسے نئے نئے رجحانات اور نئے نئے موضوعات پر لکھنے کی توفیق اس کو بہت کم ملتی ہے،علامہ ابن تیمیہ نے وسیع مطالعہ کرنا شروع کردیا اور ہر فن میں مطالعہ کیا حتی کہ علم منطق اور فلسفہ تک میں انہوں نے مطالعہ کیا،اس کے بعد حدیث کی جتنی امھات کتب تھیں وہ سب پڑھ گئے(7) اور حافظہ اتنا قوی تھا جو چیز ایک دو بار پڑھ لیتے تھے وہ ذہن میں نقش ہوجاتا تھی،اکثر وہ جو تصانیف لکھتے ہیں ،بس کاغذاور قلم لیا اور لکھنا شروع کردیا،ساری حدیثیں وہ زبانی لکھ رہے ہیں ،ذہن میں جو چیزیں مخزون ہیں انہیں کے ذریعہ اقوال زبانی منسوب کررہے ہیں ،پھر دوسری چیز یہ کہ وہ بہت سریع الکتابہ تھے ، ان کے یہاں افکا رکی آمد ہی آمد تھی،اتنا تیز لکھتے تھے کہ ایک ایک مجلس میں بیٹھ کرپوری پوری کتاب تصنیف کردیتے تھے ،یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں الحمویہ ،العقیدہ الواسطیہ ،واسطیہ انہوں نے عصر کےبعد بیٹھ کرتھوڑی دیر میں لکھ دیا،حمویہ جو ہے وہ ظہر اور عصر کے بیچ میں انہوں نے لکھ دیا،السیاسہ الشرعیہ انہوںنے ایک رات میں کسی امیرکے طلب پر لکھ کر دے دیا،(8)امام ذہبی اور ابن ہادی وغیرہ بیان کرتے ہیں کہ ان کا عجیب حال تھا ، کتابیں بھی ان کے پاس نہیں ہیں پھر بھی وہ کتابیں لکھتے چلے جارہے ہیں،مصر اور دمشق دونوں جگہوں کو ملاکرکے ان کی زندگی کا بہت سا حصہ جیل میں گز را۔ ،لیکن وہاں پر بھی تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رہا ،بلکہ بہت سی اہم کتابیں انہوں نے جیل کے اندر ہی لکھیں،اللہ نے ان کو اتنی مقبولیت دی تھی کہ اس زمانہ میں بڑے بڑ ے علماء اور فقہاء موجود تھے ،لیکن جب بھی کسی کو اشکال ہوتاتھا وہ سیدھے شیخ الاسلام کے پاس ہی آتا تھا ،لوگوں نے جب دیکھا کہ قاہرہ میںمناظرہ وغیرہ کے ذریعہ ان کو مغلوب نہیں کیاجاسکتا ہے تو ان کو اسکندریہ بھیج دیا گیا،لیکن جب اسکندریہ گئے تو اس کے برعکس معاملہ ہوا ،بھیجا اس لئے گیاتھا کہ وہاں وہ گمنام ہوجائیں گےیا ان سے گلو خلاصی مل جائے گی ،وہاں اس کےبرعکس معاملہ ہوگیا،بہر حال ان کی زندگی کے بارے میں اگرپڑھنا چاہتے ہیں تو اردومیں ایک دو کتابوں کے نام جان لیں ، ایک ہیں محمد یوسف کوکن عمری ،انہوں نے ان کی بنیادی افکار و موضوعات انہیں کے افکار میں بیان کیاہے ،محمد یوسف کوکن عمری نے یہ کتاب سید سلمیان ندوی کی ماتحتی میں 1937ءمیں لکھا تھا(9)،اور پہلی باریہ کتاب 1960یا 61 کے اندر چھپی ہے ،یہ کتاب اس اعتبارسے بہتر ہے کہ اس میں ابن تیمیہ کے افکار خود انہیں کے الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں ،اس جیسی باتیں دوسری کتابوں آپ کو نہیں ملیں گی ،بلکہ ان کے افکارمیں بھی لوگوں نے تحریف کردیاہے۔بہرحال بیا ن کرنا یہ مقصودہ ہے کہ بیس سال تک وہ پڑھتے رہے اس کے بعد خودمطالعہ کرنا شروع کیا،اور جب تاریخ ،منطق، سیرت ،فلسفہ علم کلام وغیرہ پر بہت کچھ پڑھ لیا ،اس کے بعد تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ ہوئے ،یہاں سے یہ ان کی زندگی کادوسرا مرحلہ شروع ہوتاہےپھر تدریس ان کے ذمہ ہوگئ ،جمعہ کے بعد دروس تھے اور یہ دروس بالکل نئے انداز کے تھے لوگ کاپی قلم لیکر بیٹھتے تھے ،اور ان کے دروس سے حاصل ہونے والے فوائد قلم بند کرتے تھے۔
اضافات و حواشی:(آفا ق احمد)
1-علامہ شبلی نعمانی نے یہ مضمون جولائ 1908ء کے “الندوہ”میں علامہ ابن تیمیہ کے متعلق لکھاتھا۔ ابھی حال ہی میں ایک کتاب چھپی ہے؛۔” امام ابن تیمیہ اور ان کے تجدیدی کارنامے” ،مرتب ،حافظ شاہد رفیق ۔ اس میں بھی علامہ شبلی کاابن تیمیہ پر لکھا ہوا مضمون مل جائے گا اس کے ساتھ ساتھ غلام رسول مہر ،عطاء اللہ حنیف بھوجیانوی ،پروفیسر خلیق احمد نظامی اور علامہ عزیر شمس کا بھی مضمو ن اس میں شامل اشاعت ہے ۔
2-منهج شيخ الإسلام ابن تيمية فى التأليف ومراحله المتعددة مع فهرس معجمي لأشهر مؤلفاته۔تاليف: عبد الله بن محمد بن سعد الحجيلي۔
ایک دوسری کتاب ہے”منهج شيخ الاسلام ابن تيميه فى تقريرعقيده التوحيد ۔ اعداد:ابراہیم بن محمد بن عبد اللہ البریکان۔
3-كيف تقرأ كتب شيخ الإسلام ابن تيمية : مؤلف: الشيخ صالح ال الشيخ۔دراصل اسے شیخ کے محاضرات سے مرتب کیا گیا ہے۔شیخ کا پورا محاضرہ یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔
4-یہ مجموعہ ” عبد الرحمن بن محمد بن قاسم رحمه الله(1312ھ-1392ھ)” کا ترتیب دیا ہواہے۔ ان کی سیرت پر تفصیلی مطالعہ کے لئے اور مجموع الفتاوی کی کس جلد میں کونسی بحث ہے اور کو ن سی جلد کتنے صفحات ت پر ہے وہ بھی اس میں تفصیلا درج ہے ۔ دیکھیں۔(الشيخ عبد الرحمن بن محمد بن قاسم رحمه اللہ حياته و سيرته و مؤلفاته : اعداد عبد الملك القاسم،دار القاسم۔
5-ابن تیمیہ کی مطبوع کتابیں عموما آپ کو دو جگہوں پر ملیں گی ،1- مجموع الفتاوی میں ۔2- مجموع الفتاوی سے جو باہر چھپی ہیں ۔مجموع الفتاوی سے جو باہر چھپی ہیں انہیں بھی تین مختلف لوگوں نے مرتب کیاہے۔جن کی ترتیب یہ ہے۔
1-جامع الرسائل-بتحقيق الدكتور محمد رشاد سالم رحمه الله-یہ دو جلدوں میں ہے،جس میں پہلا مجموعہ 16 رسالوں پر اور دوسرا مجموعہ3 رسالوں پر مشتمل ہے۔
2-جامع المسائل-یہ مجموعہ 6 جلدوں پر مشتمل ہے۔اسے علامہ عزیر شمس اور ان کی ٹیم نے مرتب کیا ہے۔
3-مجموعة الرسائل والمسائل-اسے جمال الدین القاسمی نے مرتب کیاہے اور اس پر تعلیق رشید رضا “صاحب المنار”نے چڑھائ ہے۔ پانچ اجزاء اور دو جلدوں میں مطبوع ہے۔
6- محمد بن عبد الھادی کہتے ہیں ابن تیمیہ کے شیوخ کی تعداد دو سو (200)کے قریب ہے ۔(العقود الدرية، لابن عبدالهادي، صـ:19). شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے اساتذہ کے اسماء جاننے کےلئے رجوع کریں۔ (البداية والنهاية، لابن كثير، جـ14 صـ:142).
7-شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے سب سے پہلے حدیث کی کتاب جو حفظ کیا وہ “الجَمْعُ بين الصحيحين للإمام الحميدي” ہے ۔مختلف علوم و فنون کی کتابوں سے عموما ان کی واقفیت تھی ۔ (الأعلام العلية في مناقب ابن تيمية، للبزار، صـ:18-17).
8-د/بکر بن عبد اللہ ابو زید رحمہ اللہ نے “المداخل إلى آثار شيخ الإسلام ابن تيمية” کے اندر ایک عنوان قائم کیاہے۔”ما أَلَّفه في قَعْدة واحدة” اس کے اندر انہوںنے ان کتابوں کا نام ذکر کیا ہے جسے ابن تیمیہ نے رحمہ اللہ نے ایک ہی مجلس میںلکھ کر مکمل کردیا۔ دیکھیں۔(المداخل إلى آثار شيخ الإسلام ابن تيمية : ص:70)اسی طرح اس کے اندر ابن تیمیہ کی مطبوع اور غیرمطبوع اور جن کتابوں کے سبب انہیں تکلیفیں اٹھانی پڑھیں ان تما م کابھی ذکرہے۔
9-امام ابن تیمیہ مقدمہ یوسف کوکن عمری- ص :26.