-
گناہوں کی راہوں میں بھٹکا ہوا انسان گناہ کا لغوی معنیٰ:
خلافِ شریعت کام، خطا، برائی۔
انسان جب نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں میں الجھ جاتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کے دل میں غفلت کی تہہ چڑھ جاتی ہے اور جب انسان گناہوں کی راہوں میں ملوث ہو جاتا ہے تو وہ حق و باطل میں فرق کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِن تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا﴾ [سورۃ الأنفال :29]
’’اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت دے گا‘‘۔
شیخ عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’فرقان‘‘ میں علمِ نافع، صحیح فہم، نورِ ایمان اور ایسے فیصلوں کی توفیق شامل ہے جن سے بندہ ہر معاملے میں حق کو پہچان لیتا ہے‘‘۔ [مذکورہ آیت کی تفسیر]
اسی طرح سے آپ ﷺ نے فرمایا :
’’إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَذْنَبَ ذَنْبًا نُكِتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ‘‘۔[سنن ابن ماجۃ: كتاب الزهد صحیح او حسن:4244]
’’جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے‘‘۔
اس حدیث کے فوائد:
۱۔ گناہ ہو جائے تو جلد سے جلد توبہ کرنی چاہیے۔
۲۔ گناہوں کی وجہ سے دل کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ نیکی سے محبت اور گناہ سے نفرت ختم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے توبہ کی توفیق نہیں ملتی۔
۳۔گناہ کا سب سے پہلا اثر دل پر پڑتا ہے کہ اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے ۔
گناہوں کی سزائیں اور اس کے اثرات :
۱۔ علم سے محرومی ۲ ۔ رزق میں تنگی ۳۔ مشکلات کا چلے آنا ۴۔ اطاعت الٰہی سے محرومی
(۱) علم سے محرومی :
گناہوں کے اثرات بہت ہیں جن میں سے ایک یہ کہ علم سے انسان محروم ہو جاتا ہے کیونکہ علم ایک نور ہے یہ سیاہ قلب میں داخل نہیں ہوگا، گناہوں سے بھرے دل کوعلم پر عمل کرنے کی حلاوت بھی نہیں ملتی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ﴾ [سورۃ البقرۃ: 282]
’’اللہ سے ڈرو، اللہ تمہیں علم عطا کرے گا‘‘۔
گویا کہ تقویٰ کی بنیاد پر انسان کو اس کا رب علم عطا کرتا ہے اور انسان پھر اسی علم کی روشنی میں اپنی زندگی آسان بنا لیتا ہے ۔
(۲) رزق میں تنگی :
نبی ﷺنے فرمایا :
’’إِنَّ العَبدَ لَيُحرَمُ الرِّزقَ بِالذَّنبِ يُصيبُه‘‘۔[سنن ابن ماجۃ :4022،حسن]
’’بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے رزق میں کمی کردی جاتی ہے‘‘۔
رزق میں تنگی صرف مال کا کم ہونا نہیں بلکہ اس مال سے برکت کا ختم ہو جانا ہے، آج مسلمانوں کی اکثریت اسی رزق کے پیچھے پڑی ہے، وہ رزق کو حاصل کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ اسے اگر حرام راہ اختیار کرنی پڑے تو وہ بھی کرنے پر تیار ہو جاتا ہے، حالانکہ رازق صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں جو رزق عطا کرے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [سورة الطلاق : 3]
’’اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اُسے گمان نہیں ہوتا‘‘۔
آج مسلمانوں کو احساس نہیں کہ ان کے رزق میں کمی کی سب سے بڑی وجہ گناہوں کی کثرت کا ہونا ہے، اس لیے ہم تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ گناہ سے دور رہیں۔
(۳) مشکلات کا چلے آنا :
﴿وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ﴾ [سورة الشورى :30]
ترجمہ: ’’اور تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کیے (اعمال) کی وجہ سے ہے، اور وہ بہت کچھ معاف بھی کر دیتا ہے‘‘۔
دوسری جگہ اللہ نے فرمایا:
﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ﴾ [سورة الروم :41]
’’خشکی اور تری میں لوگوں کے برے اعمال کے باعث فساد پھیل گیا‘‘۔
اس بارے میں ابن کثیر رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ : اگر اللہ تمہارے اعمال پر تمہیں فوراً پکڑ لے تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہے لیکن اللہ اپنے فضل و کرم سے ويعفو عن كثيریعنی بہت سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے سزا نہیں دیتا، اور مزید فرمایا: اللہ بندوں پر ان کے گناہوں کے سبب کچھ آزمائشیں اور مصیبتیں نازل فرماتا ہے تاکہ وہ توبہ کریں رجوع کریں اور گناہوں سے باز آجائیں‘‘۔(جلد چہارم، ص602)
(۴)اطاعت الٰہی سے محرومی :
گناہوں کے اثرات میں سے ایک اثر یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ کی اطاعت فرمانبرداری سے محروم ہو جاتا ہے، یعنی وہ اللہ کے احکام کو بجا لانے میں کمزور پڑ جاتا ہے اللہ اس سے اطاعت کی توفیق چھین لیتا ہے، جب انسان گناہوں میں دن رات ملوث رہے تو عبادت میں سستی ،کاہلی اور ذکر و اذکار سے بیزاری ہونے لگتی ہے، دل عبادت کی طرف مائل نہیں ہوتا بلکہ سخت بن جاتا ہے، اور عبادت میں لذت نہیں ملتی اسی طرح اس کے دل میں نفاق بھی پیدا ہو جاتا ہے، اور جب معاصی اور گناہ اسے بیمار کر دیتے ہیں تو قلب کمزور ہو جاتا ہے، اور اس کی قوتِ اقدام اور طاقت سے بھی کمزور ہو جاتی ہے، اگر اللہ نہ کرے قلب کی یہ قوت و طاقت بالکلیہ ختم ہو گئی تو سمجھ لو وہ اللہ سے بالکل ہی منقطع ہو جاتا ہے اور اس کا تدارک ناممکن ہو جاتا ہے۔(دوائے شافعی، امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ، ص:179)
آج مسلمانوں کی اکثریت گناہ کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتی حالانکہ گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے وہ انسان کے قلب کو دھیرے دھیرے مردہ بنا دیتے ہیں، صبح شام ہم گناہ میں پڑے ہوتے ہیں ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا، گناہوں سے بچنے کا سب سے بہترین سبب یہ ہے کہ ہم دن اور رات اللہ کا ذکر کریں اور اپنے ذہن میں رکھیں کہ اللہ ہر حال میں دیکھ رہا ہے، ہم سے سرزد ہوئے حرام کا حساب لے گا، چاہے وہ چھوٹا عمل ہو یا بڑا، ہر ایک کا حساب لے گا، لیکن انسان ایسا بھٹکا ہوا ہے ،ایسا گناہ ہمیں ڈوبا ہوا ہے کہ اسے کسی چیز کا احساس نہیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم تمام کو گناہوں سے بچنے اور اس کے قریب بھی جانے سے ہماری حفاظت فرمائے، اور زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین یا رب العالمین