Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • موسمِ گرما: رحمت یا زحمت؟

    اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق میں حکمت پوشیدہ ہے، کوئی موسم، کوئی لمحہ، کوئی کیفیت حکمت سے خالی نہیں، موسمِ گرما کو دیکھ کر بعض لوگ شکوہ کرتے ہیں، اور بعض شکر، سوال یہ ہے کہ گرمی درحقیقت رحمت ہے یا زحمت؟
    قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بظاہر زحمت نظر آنے والا موسم اپنے اندر بے شمار رحمتوں کا خزینہ لیے ہوئے ہے، قرآن کا اصول ہے:
    ﴿وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾ [البقرہ:216]
    ’’ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو‘‘۔
    معزز قارئین! جب گرمی زحمت معلوم ہوتی ہے :
    اس میں شک نہیں کہ گرمی کی شدت آزمائش ہے، اس موسم میں لُو کے تھپیڑے، پسینے سے شرابور جسم، کسان کی مشقت، پانی کی قلت اور پیاس کی شدت ہوتی ہے، ندیوں اور تالابوں میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے، اسی طرح مزدور، کسان اور ریڑھی والا تپتی دھوپ میں روزی کماتے ہیں۔
    پانی کی قلت: شدید گرمی کے باعث ندی، نالے اور زیرِ زمین پانی کی سطح نیچے چلی جاتی ہے، جس سے پینے کے پانی کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔
    عبادات میں آزمائش: گرمی میں روزے لمبے اور پیاس کی شدت ہوتی ہے، نمازِ ظہر و عصر کے لیے مسجد تک جانا بھی امتحان بن جاتا ہے، اسی لیے انسان بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے کہ گرمی زحمت ہے، مگر مومن کی نظر ظاہر پر نہیں رکتی، وہ باطن میں جھانکتا ہے۔
    جب گرمی رحمت بن جاتی ہے :
    معاشی سرگرمیاں: زراعت سے وابستہ لاکھوں کسانوں کی روزی روٹی کا دارومدار اسی موسم پر ہے، گرمی نہ ہو تو فصلیں تیار نہیں ہو سکتیں۔
    اگر ذرا غور کریں تو موسمِ گرما ہماری زندگی کے لیے ناگزیر ہے، یہی گرمی ہے جو سمندر کے پانی کو بخارات بنا کر بادلوں کی صورت دیتی ہے اور پھر یہی بادل برسات کا سبب بنتے ہیں، اگر گرمی نہ ہو تو بارش کا نظام ہی رک جائےاور خشک سالی آجائے۔
    قرآن اس سلسلے کو یوں جوڑتا ہے: ﴿وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ﴾ [سورۃ فاطر:9 ]’’اور اللہ ہی ہوائیں چلاتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں۔ پھر ہم بادلوں کو خشک زمین کی طرف لے جاتے ہیںاور اس سے اس زمین کو اس کی موت کے بعدزندہ کردیتے ہیں،اسی طرح دوبارہ جی اٹھنا(بھی) ہے‘‘۔
    اگر یہ آفتاب کی شدت نہ ہو تو سمندر کا آب بخارات کا پیرہن پہن کر بادل کیسے بنے؟ اور اگر بادل نہ بنیں تو’’ماءً ثجاجاً‘‘کہاں سے نازل ہو؟ ربِ کریم کا ارشاد ہے: ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ﴾ [سورۃ النور: 43]’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادل کو چلاتا ہے پھر اسے باہم ملاتا ہے پھر اسے تہ بہ تہ کر دیتا ہے تو تم بارش کو اس کے درمیان سے نکلتے دیکھتے ہو‘‘۔
    محترم قارئین! اگر گرمی نہ ہو تو آم کا رس، خربوزے کی مٹھاس، تربوز کی لالی اور انگور کی شیرینی کہاں سے آئے؟ اللہ نے سورج کی تپش سے پھلوں میں مٹھاس بھری ہے، کسان کی محنت اسی دھوپ میں رنگ لاتی ہے، گندم کی فصل اسی گرمی میں پکتی ہے۔
    جہنم کی یاد: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جہنم کی آگ نے اپنے رب سے شکایت کی اور عرض کیا: اے میرے رب! میرے بعض حصوں نے بعض کو کھا لیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانسیں لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں، پس یہی وہ سخت ترین گرمی ہے جو تم محسوس کرتے ہو، اور یہی وہ سخت ترین سردی (زمہریر) ہے جو تم محسوس کرتے ہو‘‘۔ [بخاری:3260]
    اسی لیے آپ ﷺ نے حکم دیا: ’’إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ‘‘۔’’جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو‘‘۔ [صحیح بخاری: 536]
    ان احادیث سے ثابت ہوا کہ گرمی کی شدت تکلیف دہ ہے خاص طور پر مزدور، کسان اور مسافر کے لیے۔
    گرمی جہنم کی بھاپ ہے، یہ ہمیں گناہوں سے توبہ کی طرف بلاتی ہے۔
    گرمی میں روزہ، نماز یہ سب صبر ہے۔
    اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾[الزمر:10]
    ’’بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے شمار (اور بے حساب) دیا جائے گا‘‘۔
    قارئین کرام! جب ٹھنڈے پانی کا گھونٹ حلق سے اترتا ہے، پنکھے کی ٹھنڈی ہوا جسم سے ٹکراتی ہے، تو دل سے ’’الحمد للہ‘‘ نکلتا ہے، گرمی نہ ہو تو ٹھنڈک کی قدر کون کرے؟
    گرمی ہی کے موسم میں پیاسے کو پانی پلانے، سایہ فراہم کرنے، جانوروں اور پرندوں کے لیے پانی کا انتظام کرنے، مساجد و مدارس میں کولر نصب کروانے اور غریب کی مدد کرنے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔
    پانی پلانے کے اجر کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے کہ :
    حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ’’پانی پلانا‘‘۔[سنن ابن ماجہ:3684،حسن]
    اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوا کہ سب سے افضل صدقہ پانی پلانا ہے، اور اس کا موقع گرمی میں ہی زیادہ ملتا ہے۔
    خلاصہ یہ کہ پیاسوں کو پانی پلانا، تشنہ لبوں کی سیرابی کاسامان کرنااور انسانوں کے لیے پانی کی ضروریات کی تکمیل یہ نہایت اجر وثواب اور درجات کی بلندی کا باعث ہے، نہ صرف انسانوں کو پانی پلانا ، بلکہ پیاسے جانوروں کے لیے پانی کا نظم کرنا بھی ثواب اور اجرِ آخرت کا باعث ہے۔
    اب فیصلہ کریں کہ گرمی رحمت ہے یا زحمت؟
    حقیقت یہ ہے کہ موسمِ گرما نہ خالص رحمت ہے نہ خالص زحمت، بلکہ’’آزمائش میں لپٹی ہوئی رحمت‘‘ہے، جو شخص شکوہ کرے، اس کے لیے زحمت ہے، جو شخص غور کرے، صبر کرے، شکر کرے، اس کے لیے سراپا رحمت ہے۔
    گرمی کے موسم کو برا بھلا کہنا یا اس کی شکایت کرنا درست نہیں، کیونکہ ہر موسم اللہ کی حکمت اور رحمت کی نشانی ہے۔
    موسم گرما ہمیں صرف پیاس، گرمی اور پسینے کی شدت کا احساس نہیں دلاتا، بلکہ یہ ہمارے لیے ایک روحانی بیداری کا پیغام بھی ہے، دنیا کی گرمی ہمیں آخرت کی آگ سے ڈرنے، نیک اعمال کی طرف رجوع کرنے اور اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
    گرمی کا موسم ہمیں جہنم کی یاد دلاتا ہے تاکہ ہم جنت کے طلب گار بن جائیں، گرمی صبر سکھاتی ہے تاکہ ہمارا اجر بے حساب ہو اور یہ موسم ہمیں شکر سکھاتا ہے تاکہ ہم نعمتوں کے قدردان بن جائیں۔
    لہٰذا جب سورج شعلہ بار ہو تو زبان سے شکوہ نہیں، شکر نکالئے، جب پیاس کی شدت ہو پانی پی کر الحمد للہ کہیے اور دوسرے پیاسے کو یاد رکھیے اور جہنم سے اللہ کی پناہ مانگیے۔ اللھم اجرنی من النار.
    اللہ تعالیٰ ہمیں ہر موسم میں اپنی رضا پر راضی رہنے والا بنائے اور دنیا کی گرمی کو آخرت کی ٹھنڈک کا ذریعہ بنا دے۔آمین یا رب العالمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings