-
خاتونِ اسلام کی صفات عورت اعلیٰ شرافتوں کا مجسمہ ہے، اگر عورت نہ ہوتی تو اس عالمِ رنگ و بو کی تصویر بے رنگ اور بے نور نظر آتی، یہاں انسانیت ہوتی نہ شرافت، ادب ہوتا نہ تہذیب، یقیناً سورج نکلتا، چاند جھانکتا، پھول مہکتے اور آبشاروں کے نغمے بھی سنائی دیتے، مگر ان سب میں وہ دلکشی نہ ہوتی جو عورت کی موجودگی سے ہے، اللہ تعالیٰ نے عورت کو پیدا کر کے بزمِ زندگی کو حسن و زیبائی عطا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو بلند مقام عطا فرمایا، لیکن جاہل انسانوں نے اسے لہو و لعب کا ذریعہ بنا دیا، اسلام سے پہلے بعض معاشروں میں عورت نہایت کٹھن حالات کا شکار رہی، کہیں اس کی پیدائش باعثِ عار سمجھی جاتی، کہیں اسے زندہ درگور کر دیا جاتا، اور کہیں اسے ذلت و توہین کے ساتھ زندہ رکھا جاتا تھا، لیکن جب اسلام آیا تو اس نے ان تمام مظالم کا خاتمہ کیا اور عورت کو اس کا حقیقی مقام عطا کیا، بلکہ نیک عورت کو دنیا کی سب سے قیمتی متاع قرار دیا گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ‘‘۔
’’دنیا متاع (کچھ وقت تک کے لیے فائدہ اٹھانے کی چیز) ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے‘‘۔
[صحیح مسلم : 3649]
مسلمان عورت کے لیے حاصل شدہ نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت اسلام ہے، چنانچہ ایک مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی گئی اس نعمت پر شکر گزار ہو، اور اپنے آپ کو ان اخلاق و صفات سے مزین کرے، جس سے اللہ راضی ہو۔
لہٰذا آئیں ہم خاتون اسلام کی بعض صفات بھی جان لیتے ہیں :
(۱) پہلی صفت:
یہ کہ وہ اللہ سے ڈرنے والی ہوتی ہے، وہ اپنے دل میں اسی قدر اللہ کا خوف رکھتی ہے جتنا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اللہ کا فرمان ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾ [آل عمران: 102]
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے‘‘۔
اللہ کا ڈر ان مومن عورتوں کی صفت ہے جن کے دل اللہ کے ذکر سے نرم ہو جاتے ہیں، اور وہ اپنے گناہوں کو یاد کر کے رونے لگتی ہیں۔
(۲) دوسری صفت:
یہ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت گزار ہوتی ہے، وہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتی ہے، اطاعت گزار عورت کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر فیصلے کو قولِ فیصل اور حرفِ آخر سمجھتی ہے، اور اس کی خلاف ورزی کی ذرہ بھر بھی جرأت نہیں کرتی، اللہ کا فرمان ہے:
﴿وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ﴾[سورۃ النور: 52]
’’جو بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، اور اللہ کا خوف رکھیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہیں، وہی نجات پانے والے ہیں‘‘۔
اور دوسری جگہ ارشاد ہے:
﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا﴾
[سورۃ الأحزاب: 36]
’’اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد اپنے کسی معاملے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، وہ صریح گمراہی میں پڑ جائے گا‘‘۔
(۳) تیسری صفت:
یہ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرنے والی ہوتی ہے۔
وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوتی ہے کہ اللہ کی محبت اصل عبادت، توحید کا مرکز اور اسلام کی روح ہے، اور ایمان کی مٹھاس حاصل کرنے کا یہی ایک واحد ذریعہ ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’ ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ المَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ‘‘
’’ تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے‘‘۔
[صحیح بخاری، ح:16]
اور دوسری اصل یہ ہے کہ وہ رسول ﷺ کی محبت کو اپنے جان، مال، اولاد اور والدین کی محبت پر مقدم رکھتی ہے، وہ رسول ﷺ کا یہ فرمان ہمیشہ پیشِ نظر رکھتی ہے:
’’لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ‘‘۔
’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں‘‘۔
[صحیح بخاری، ح: 15]
(۴) چوتھی صفت:
خاتونِ اسلام شعائر اللہ کی تعظیم کرنے والی ہوتی ہے، وہ اسلام کے تمام ارکان و واجبات کو بحسن و خوبی انجام دیتی ہے، اس معاملے میں وہ کسی قسم کا تساہل نہیں برتتی، وہ شعائرِ الٰہی کی حدود میں رہ کر ان کی تعظیم کرتی ہے، اور یہی تعظیم اس کے تقویٰ اور صحتِ ایمان کی علامت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾[الحج:32]
’’اور جو اللہ کی نشانیوں کی عزت و تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ کی علامت ہے‘‘۔
﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ﴾[الحج:30]
’’اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک اس کے لیے بہتر ہے‘‘۔
(۵) پانچویں صفت:
ایک مسلمان خاتون کی سب سے نمایاں پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہتی ہے۔
نعمت ملتی ہے تو اس کی زبان شکوہ کے بجائے شکر سے تر رہتی ہے، اور جب آزمائش آتی ہے تو وہ گھبراہٹ کے بجائے صبر کا دامن تھام لیتی ہے، وہ جانتی ہے کہ خوشی ہو یا تکلیف، دونوں اللہ کی طرف سے ہیں، اور دونوں ہی بندے کو اس کے رب کے قریب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ﴾[سورۃ التغابن:11]
’’کوئی مصیبت اللہ کے بغیر نہیں پہنچ سکتی‘‘۔
یعنی جو کچھ پیش آتا ہے وہ اللہ کے حکم سے ہی آتا ہے، اور یہی یقین مومنہ عورت کو راضی برضا بنا دیتا ہے۔
حدیث نبوی ﷺہے:
عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ، صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ‘‘۔
صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے، اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں، اسے خوشی اور خوشحالی ملے تو شکر کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو(اللہ کی رضا کے لیے) صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے‘‘۔
[صحیح مسلم ح: 2999]
اسی یقین اور رضا کے ساتھ جینے والی خاتون نہ نعمت پر اتراتی ہے اور نہ مصیبت میں ٹوٹتی ہے، بلکہ شکر میں عاجزی اور صبر میں وقار اختیار کرتی ہے، اور یہی طرزِ عمل اس کے ایمان کی پختگی اور اللہ پر کامل بھروسے کی روشن دلیل ہے۔
(۶) چھٹی صفت:
اپنی آخرت کی ہر وقت فکر مند رہتی ہے۔
اسلامی عورت کی ایک نہایت نمایاں اور روشن صفت یہ ہے کہ وہ اپنی آخرت کے بارے میں ہر وقت فکرمند رہتی ہے، وہ اللہ کے اس فرمان کو اپنے دل میں بسا لیتی ہے:
﴿اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ﴾ [الحدید: 20]
’’جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں‘‘۔
اسی یقین کے باعث اس کی نگاہ ہمیشہ ابدی زندگی پر جمی رہتی ہے، اور وہ ہر لمحہ اپنے رب کو راضی کرنے کی فکر میں لگی رہتی ہے۔
مختصراً یہ کہ خاتونِ اسلام کثرت سے توبہ و استغفار کرنے والی ہوتی ہے، وہ احسان کو اپنی زندگی کا اصول بناتی ہے، شوہر کی فرمانبرداری کو وقار سمجھتی ہے اور والدین کی اطاعت کو اپنی نجات کا ذریعہ جانتی ہے، اسلام نے اس کے لیے جو احکام مقرر کیے ہیں، وہ انہیں مجبوری نہیں بلکہ شرف و عزت سمجھ کر اپناتی ہے۔ ہر حکم میں وہ اپنے رب کی رضا تلاش کرتی ہے اور اپنے کردار سے گھر اور معاشرے دونوں کو سنوارتی ہے، یہی ہے خاتونِ اسلام، جو خاموشی سے نسلیں سنوارتی ہے اور اقدار کو زندہ رکھتی ہے۔
خاتونِ اسلام کی یہ چند صفات تھیں جو کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کی گئیں، اگر یہ صفات ہمارے اور ہماری ماؤں اور بہنوں کے اندر موجود ہیں تو یہ بہت خوشی کی بات ہے، اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ان کو مزید اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے، اور جو ان سے دور ہیں انہیں چاہیے کہ اپنے دامن کو ان صفات کی موتیوں سے بھر لیں، تاکہ ہماری دنیا اور آخرت سنور جائے۔
ایسی چیزوں میں انتظار کرنا مناسب نہیں، ایسا نہ ہو کہ ہماری زندگی کا ورق پلٹ جائے اور ہم خالی ہاتھ رہ جائیں، لہٰذا ہمیں فرصت کے ہر لمحے کو غنیمت جانتے ہوئے اسلام کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہیے، اور اپنی آخرت کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
اللہ ہم سب کو توفیق دے اور سیدھے راستے پر چلائے۔ آمین یا رب العالمین