Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • کتاب التوحید سے متعلق ایک واقعہ

    نجد کے ایک تاجر عبدالرحمٰن البکری تجارت کی غرض سے ہندوستا ن کا سفر کرتے ہیں، تقریباً نصف سال تک ہندوستان میں ان کا قیام رہتا ہے ۔شیخ عبدالرحمٰن البکری کہتے ہیں کہ جس جگہ میں ٹھہرا تھا وہاں بغل میں ایک مسجد تھی اور اس مسجد میں ایک شیخ درس دیتے تھے ،جب وہ اپنے درس سے فارغ ہوتے تو شیخ اور تلامذہ ایک ساتھ مل کر’’شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب‘‘پر لعنت بھیجتے تھے ۔
    عبد الرحمٰن البکری کہتے ہیں کہ شیخ جب مسجد سے نکلتے تو ان کا گزر میرے پاس سے ہوتا اور وہ مجھ سے گویا ہوتے کہ مجھے عربی اچھے سے آتی ہے لیکن میں عربی اہل زبان سے سننا چاہتاہوں،پھر وہ میرے پاس بیٹھ کر ٹھنڈ ا پانی پیتے ۔
    عبد الرحمٰن البکری کہتے ہیں کہ ’’شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب‘‘ کے ساتھ ان کے اس سلوک کے سبب میں مغموم وبے چین تھا ۔چنانچہ میں نےایک حیلہ کے ذریعہ انہیں بلایا اور’’کتاب التوحید‘‘ کا غلاف پھاڑ کر ان کے آنے سے پہلے اپنے گھر کی الماری میں رکھ دیا ۔پھر جب وہ حاضر ہوئے تو میں نے ان سے کہا کہ مجھے ذرا اجاز ت دیں میں آپ کے لیے تربوزلے کر آتا ہوں۔جب میں تربوز لے کر واپس آیا تو کیا دیکھتاہوں کہ وہ’’ کتاب التوحید‘‘ کا مطالعہ کر رہے ہیں اور سر دھن رہے ہیں ۔اس کےبعد وہ سوالیہ اندازمیں مخاطب ہوکرپوچھتے ہیں کہ یہ کس کی کتاب ہے ؟ اس کتاب کے تراجم تو صحیح بخاری میں موجود کتاب التوحید کے تراجم کے مشابہ ہیں ۔عبدالرحمٰن البکری جواباً کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم ہے۔ پھر عرض کرتے ہیں کہ کیوں نہ ہم شیخ غزوی کے پاس چلیں جن کے پاس لائبریری ہے اور انہوں نے جامع البیان پر رد بھی لکھا ہے۔چنانچہ ہم غزوی کے پاس گئے اور ہمارے پاس جو اوراق تھے اسے ہم نے انہیں دکھایا اور ان سے کہا کہ یہ شیخ اس کتاب کے مؤلف کو جاننا چاہتے ہیں ؟عبد الرحمٰن البکری کہتے ہیں کہ غزوی میری مراد خوب سمجھ رہے تھے چنانچہ غزوی ’’ کتاب التوحید‘‘منگواتے ہیں اور دونوں کو ملانے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ تو’’شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ‘‘کی کتاب ’’ کتاب التوحید‘‘ ہے ۔یہ سنتے ہی وہ شیخ چراغ پا ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’کافر‘‘۔ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ اتنی عمدہ کتاب اس کافر شخص نے لکھی ہے۔
    عبدالرحمٰن البکری بیان کرتے ہیں کہ ہم ان کے اس رویہ پر خاموش رہے اور وہ بھی تھوڑی دیر بعد غصہ ٹھنڈا ہوجانے کے بعد خاموش ہوجاتے ہیں۔ پھرکہتے ہیں ’’ اگر واقعتاً یہ کتاب انہی کی لکھی ہوئی ہے تو میں نے ان پر ظلم کیا ہے ۔پھر اس دن کے بعد سے وہ اور ان کے تلامذہ ایک ساتھ روز انہ درس سے فراغت کے بعد شیخ الاسلام کے لیے دعا کا اہتمام کرتے تھے۔(فتاوى ورسائل سماحة الشيخ محمد بن إبراهيم بن عبد اللطيف آل الشيخ/ج 1/ص 75-76)

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings