مکاتب اسلامیہ کے تعلیمی و تربیتی زوال کے بیس اسباب اور ان کا حل ایک تجزیاتی و اصلاحی مطالعہ
چمن کے مالی اگر بنا لیں موافق اپنا شِعار اب بھی
چمن میں آ سکتی ہے پلٹ کرچمن سے روٹھی بہار اب بھی
(جگرؔ مرادآبادی)
مکاتبِ اسلامیہ کسی بھی اسلامی معاشرے کی پہلی دینی درسگاہ اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کی نہایت ہی اہم بنیاد ہیں۔ یہیں بچوں کے دلوں میں قرآنِ مجید، سنتِ نبوی ﷺ، اسلامی عقائد، عبادات اور حسنِ اخلاق کی ابتدائی تعلیم راسخ ہوتی ہے۔ اگر یہ بنیاد مضبوط ہو تو آنے والی زندگی سنور جاتی ہے، اور اگر اسی مرحلے میں کمزوری رہ جائے تو اس کے اثرات پوری زندگی نمایاں ہوتے ہیں۔
دور حاضر میں بہت سارے مکاتب اسلامیہ، باوجود مخلص اساتذہ اور محدود وسائل کے، تعلیمی و تربیتی اعتبار سے مطلوبہ نتائج پیش نہیں کر پا رہے ہیں۔ اس صورتِ حال کے اسباب صرف اساتذہ یا طلبہ تک محدود نہیں، بلکہ والدین، اساتذہ، انتظامیہ، بچوں کی نفسیات اور موجودہ تعلیمی نظام سے متعلق کئی عوامل اس کے ذمہ دار ہیں۔
زیرِ نظر تحریر میں اس اہم موضوع کا جائزہ درجِ ذیل ذیلی عناوین کے تحت پیش کیا گیا ہے:
(۱) موضوع کی اہمیت اور ضرورت
(۲) والدین سے متعلق چند اہم اسباب
(۳) اساتذہ سے متعلق چند اہم اسباب
(۴) انتظامیہ سے متعلق چند اہم اسباب
(۵) بچوں کی نفسیات سے متعلق چند اہم اسباب۔
اس تحریر کا مقصد کسی فرد، استاد، والدین یا ادارے پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ خیر خواہی، اصلاحِ احوال اور مکاتبِ اسلامیہ کے تعلیمی و تربیتی معیار کو بہتر بنانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ اس میں بیان کیے گئے نکات کا مقصد تعلیم و تربیت سے وابستہ تمام افراد کو اپنی ذمہ داریوں پر غور کرنے، خامیوں کی اصلاح کرنے اور بچوں کے لیے ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی طرف متوجہ کرنا ہے، جہاں محبت، حکمت، عدل اور حسنِ اخلاق کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیا جا سکے۔
والدین سے متعلق چند اہم اسباب :
والدین بچے کی پہلی درسگاہ اور اس کے سب سے پہلے مربی ہوتے ہیں۔ مکتب میں استاد روزانہ چند گھنٹے بچے کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ والدین شب و روز اس کی نگرانی کرتے ہیں۔ اسی لیے اگر گھر کا ماحول دینی، اخلاقی اور تربیتی اعتبار سے سازگار ہو تو مکتب کی تعلیم جلد اثر کرتی ہے، لیکن اگر گھر ہی میں غفلت اور غلط ترجیحات ہوں تو بہترین استاد بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔
ذیل میں والدین سے متعلق چند اہم اسباب پیش ہیں :
(۱)والدین کی نیتوں کا خالص نہ ہونا:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾
’’انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے‘‘۔
[سورۃ البینہ: 5]
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ‘‘۔
’’تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔
[صحیح البخاری: 1،صحیح مسلم: 1907]
مگر اس کے برخلاف اکثر والدین بچوں کو خالص رضائے الٰہی اور دینی تربیت کی نیت سے مکتب نہیں بھیجتے، بلکہ محض رسم پوری کرنے، معاشرتی دباؤ یا مستقبل کے دنیاوی مفادات کے پیشِ نظر بھیجتے ہیں۔ ان کی اصل توجہ عصری تعلیم، انگلش میڈیم اور کوچنگ کلاسوں پر ہوتی ہے، جبکہ دینی تعلیم کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب نیت کمزور ہوگی تو اس کے اثرات بھی کمزور ہی ہوں گے۔
(۲)دینی تربیت میں تاخیر:
بعض والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کی دینی تعلیم اور تربیت کی فکردس بارہ سال کی عمر کے بعد بھی کی جا سکتی ہے، حالانکہ شخصیت سازی کا سب سے اہم دور بچپن ہی ہوتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ‘‘۔
’’ہر بچہ فطرتِ سلیم (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے،پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں‘‘۔
[صحیح البخاری: 1385، صحیح مسلم: 2658]
بچوں کا ذہن ایک صاف و شفاف گلاس کی مانند ہوتا ہے، اس میں جس رنگ کا پانی ڈال دیا جائے، وہی رنگ نمایاں ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بچپن میں دی جانے والی تعلیم و تربیت کے اثرات پوری زندگی انسان کی شخصیت پر نمایاں رہتے ہیں۔بقول شاعر
جورنگ بھردو اسی رنگ میں نظر آ ئے
یہ زندگی نہ ہوئی کانچ کا گلاس ہوا
عربی کا مشہور مقولہ ہے:
’’التَّعْلِيمُ فِي الصِّغَرِ كَالنَّقْشِ عَلَى الْحَجَر،وَالتَّعْلِيمُ فِي الْكِبَرِ كَالْكِتَابَةِ عَلَى الْمَاءِ‘‘۔
’’بچپن کی تعلیم پتھر پر نقش کی طرح ہوتی ہے،جبکہ بڑی عمر میں تعلیم حاصل کرنا پانی پر لکھنے کے مانند ہے۔اس لیے جتنی جلدی بچے کی دینی تعلیم و تربیت شروع ہوگی، اتنے ہی بہتر اور دیرپا نتائج سامنے آئیں گے‘‘۔
(۳)عصری تعلیم کو دینی تعلیم پر ترجیح دینا:
دورِ حاضر میں والدین بچپن ہی سے بچوں کے ذہن میں یہ تصور بٹھا دیتے ہیں کہ اصل کامیابی صرف عصری تعلیم، اعلیٰ ڈگری اور اچھی ملازمت حاصل کرنے میں ہے، جبکہ دینی تعلیم محض ایک رسمی ضرورت ہے۔ چنانچہ بچہ بھی رفتہ رفتہ دینی علوم کو کم اہم سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی علمِ دین اور صالح تربیت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
راقم کوتقریباً پندرہ سال پہلے اس حقیقت کا عملی مشاہدہ بھی ہوا۔ گجرات کے ایک مکتب میں تدریس کے دوران ایک ذہین طالب علم بار بار غیر حاضر رہتا، خصوصاً مکتب کے امتحانات کے دنوں میں۔ بار بار تنبیہ کے باوجود جب اس کی یہ روش برقرار رہی تو راقم نے سختی سے بازپرس کی۔ اس نے نہایت معصومیت سے عرض کیا:
استاذ محترم ! پہلے میری بات سن لیجیے۔ میرے والد مدرسہ کی فیس تو ایک پیسہ بھی نہیں دیتے، لیکن اسکول کی ہر ماہ ایک ہزار روپے فیس ادا کرتے ہیں۔ اگر مدرسہ کے امتحان میں ناکام ہو جاؤں تو انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوگی، لیکن اگر اسکول کے امتحان میں فیل ہوگیا تو سخت سزا ملے گی۔ اسی لیے جب دونوں امتحانات ایک ساتھ آجاتے ہیں تو مجھے اسکول کے امتحان کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔
اس معصوم بچے کے یہ الفاظ دراصل ہمارے معاشرے کے ایک بڑے المیے کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب والدین خود اپنے طرزِ عمل سے دینی تعلیم کو ثانوی حیثیت دیں گے تو بچوں کے دلوں میں اس کی عظمت اور اہمیت کیسے پیدا ہوگی؟
اعتدال کا تقاضا یہ ہے کہ عصری تعلیم ضرور حاصل کی جائے، بلکہ بہترین انداز میں حاصل کی جائے، لیکن اس کے ساتھ دینی تعلیم، اسلامی تربیت اور اخلاقی کردار سازی کو ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے، کیونکہ یہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کی بنیاد ہے۔
(۴) بچوں کو پابندی سے مدرسہ نہ بھیجنا :
تعلیم میں کامیابی کا راز صرف ذہانت نہیں بلکہ جہدِ مسلسل، پابندی اور استقامت ہے۔ افسوس کہ بعض والدین معمولی مصروفیات، تقریبات، سفر یا غیر ضروری بہانوں کی وجہ سے بچوں کی حاضری کا اہتمام نہیں کرتے، جس سے سبق کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور تعلیمی و تربیتی مقاصد حاصل نہیں ہو پاتے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ [النجم: 39]
یعنی انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ مسلسل کوشش کرتا ہے۔ یہی اصول دینی تعلیم پر بھی صادق آتا ہے۔
(۵)بچوں کے ذہن میںاساتذہ کا احترام کم کرنا:
استاد کا ادب، علم کی کنجی اور تعلیم کی برکت کا اہم ذریعہ ہے۔ افسوس کہ بعض والدین بچوں کے سامنے اساتذہ پر تنقید کرتے یا ان کی بے جا مخالفت کرتے ہیں، جس سے بچوں کے دل سے استاد کا احترام ختم ہو جاتا ہے اور پھر علم کا فائدہ بھی کم ہو جاتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ليْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا‘‘۔
’’وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے‘‘۔
[سنن الترمذی:1921،مسند أحمد: 6753،وصححه الألباني صحیح الجامع :5445]
جب اسلام عمومی طور سے بڑوں کے احترام کی تعلیم دیتا ہے تو استاد، جو روحانی مربی اور معلم ہوتا ہے، اس کے احترام کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے دلوں میں اساتذہ کی محبت، عزت اور اعتماد پیدا کریں، کیونکہ جہاں ادب ہوتا ہے، وہیں علم کی برکت بھی ہوتی ہے۔
اساتذہ سے متعلق چند اسباب :
مکتب کی کامیابی کا سب سے اہم ستون اس کا استاد ہوتا ہے۔ اگر استاد بااخلاص، باعمل، باصلاحیت اور بچوں کی نفسیات سے واقف ہو تو محدود وسائل میں بھی بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اگر استاد اپنی ذمہ داری کو محض ملازمت سمجھنے لگے تو تعلیمی و تربیتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔
(۶)تدریس کو مشن سمجھنے کے بجائے محض رسمی ذمہ داری سمجھنا:
بعض اساتذہ بچوں کو پڑھانے کو معمولی یا کم درجے کا کام سمجھتے ہیں، حالانکہ انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت ہی تعلیم و تربیت کے لیے ہوئی تھی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ‘‘۔
[سنن ابن ماجہ: 224۔صححہ الالبانی ،صحیح الجامع :3914]
’’علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ‘‘۔’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے‘‘۔
[صحیح البخاری: 5027]
لہٰذا مکتب میں بچوں کو پڑھانا کوئی معمولی خدمت نہیں بلکہ ایک عظیم دینی ذمہ داری اور صدقۂ جاریہ ہے۔
(۷) صرف ریڈنگ پر اکتفا کرنابچوں سے نقل واملا نہ لکھوانا :
بعض اساتذہ وقت یا محنت سے بچنے کے لیے صرف بچوں سے سبق سن لیتے ہیں، لیکن لکھائی، کتابت اور مشق پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے، حالانکہ اچھی تعلیم پڑھنے اور لکھنے دونوں سے مکمل ہوتی ہے۔
ارشاد ربانی ہے :﴿ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴾’’جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی‘‘۔[ العلق: 4]
مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کے تحت صاحب التفسير الوسيط الشیخ محمد سید طنطاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ نے انسان کو قلم کے ذریعے لکھنا سکھایا۔ اسی قلم کی بدولت انسان اپنے خیالات دوسروں تک پہنچاتا ہے، علوم و معارف کو محفوظ کرتا ہے، گزشتہ اقوام کے حالات سے واقف ہوتا ہے اور دور دراز رہنے والوں سے بھی رابطہ قائم کرتا ہے۔ (التفسير الوسيط للطنطاوی رحمہ اللہ )
لکھنے کی مسلسل مشق بچوں کی یادداشت مضبوط کرتی ہے، ان کی لکھائی سنوارتی ہے اور سبق کو اچھی طرح سمجھنے اور یاد رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
(۸) فوری نتائج کی خواہش:
بعض اساتذہ چند ہفتوں یا ایک دو مہینوں میں بچوں سے غیر معمولی نتائج چاہتے ہیں۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ بچوں پر ناراض ہوتے ہیں یا ان سے دلچسپی کم کر دیتے ہیں، حالانکہ تعلیم و تربیت ایک تدریجی عمل ہے۔ ہر بچہ اپنی ذہنی صلاحیت اور سیکھنے کی رفتار کے مطابق آگے بڑھتا ہے، اس لیے جلد بازی کے بجائے صبر، حکمت اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾
[البقرۃ: 286]
’’اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘‘۔
جب اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا تو ایک استاد کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں سے ان کی صلاحیت کے مطابق کام لے، ان کی معمولی پیش رفت کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے اور صبر کے ساتھ انہیں آگے بڑھائے۔
(۹) بے جا سختی کو اصلاح کا واحد ذریعہ سمجھنا:
تادیب بلاشبہ تربیت کا ایک حصہ ہے، لیکن سختی، ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ کو تعلیم کا مستقل طریقہ بنا لینا درست نہیں۔ اس سے بچے استاد سے متنفر ہو جاتے ہیں اور علم سے بھی دور ہونے لگتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ‘‘۔
’’نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اسے خوبصورت بنا دیتی ہے‘‘۔
[صحیح مسلم: 2594]
نیزرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا‘‘۔
’’آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، خوش خبری دو اور نفرت نہ دلاؤ‘‘۔
[صحیح البخاری:3038، صحیح مسلم: 1733]
(۱۰) بچوں کی عمر اور زمانے کے مطابق نصاب نہ ہونا:
تعلیم ہمیشہ تدریج کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اگر ابتدا ہی میں بچوں کی عمر اور ذہنی استعداد سے بڑھ کر مشکل کتابیں اور بھاری اصطلاحات پڑھائی جائیں تو وہ تعلیم سے اکتا جاتے ہیں اور ان کی دلچسپی ختم ہونے لگتی ہے۔ اس لیے نصاب ایسا ہونا چاہیے جو بچوں کی عمر، ذہنی صلاحیت اور تدریجی تربیت کے مطابق ہو۔
(۱۱) نصاب اور زبان کا زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونا:
ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، اس لیے نصاب، زبان اور تدریسی انداز میں بھی وقت کے مطابق مناسب تبدیلی ضروری ہے۔ اگر زبان حد سے زیادہ مشکل، قدیم اور غیر مانوس ہو یا مثالیں بچوں کی روزمرہ زندگی سے تعلق نہ رکھتی ہوں تو سبق بوجھ بن جاتا ہے۔اس لیے نصاب کی زبان سادہ، عام فہم اور دل نشین ہو، مثالیں بچوں کے ماحول سے لی جائیں اور تدریسی انداز ایسا اختیار کیا جائے کہ بچے آسانی سے سبق سمجھ سکیں اور پوری دلچسپی کے ساتھ سیکھتے رہیں۔
استاد مکتب کی روح کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس لئےجب وہ تدریس کو عبادت سمجھے، محبت اور حکمت کے ساتھ پڑھائے، بچوں کی ذہنی استعداد کا خیال رکھے اور مسلسل اپنی علمی و تدریسی صلاحیتوں کو بہتر بناتا رہے، تو مکتب یقیناً اپنے اصل مقصد میں کامیاب ہوگا۔
انتظامیہ سے متعلق چنداہم اسباب :
مکتب کی کامیابی صرف اچھے اساتذہ پر موقوف نہیں، بلکہ ایک دیانت دار، دور اندیش اور باصلاحیت انتظامیہ بھی اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر انتظامی امور کمزور ہوں تو اچھے اساتذہ بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے۔
(۱۲) صلاحیت کے بجائے اقرباء پروری اور چاپلوسی کی بنیاد پر نا اہل و بے ذوق اساتذہ کا تقرر کرنا :
اگر اساتذہ کا تقرر صلاحیت، اخلاص اور تجربے کے بجائے رشتہ داری، سفارش یا خوشامد کی بنیاد پر کیا جائے تو تعلیمی معیار خود بخود گر جاتا ہے۔ اس لیے ہر تقرری میں تقویٰ، قابلیت اور میرٹ کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔
(۱۳)اساتذہ کی مناسب حوصلہ افزائی نہ کرنا:
کم تنخواہ اور بنیادی ضروریات کا خیال نہ رکھنے سے اساتذہ ذہنی یکسوئی کے ساتھ تدریسی خدمات انجام نہیں دے پاتے۔ ایک مطمئن استاد ہی بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کر سکتا ہے۔
(۱۴) طلبہ کی تعداد زیادہ اور وسائل کم ہونا:
جب ایک استاد کے ذمہ ضرورت سے زیادہ بچے ہوں یا تعلیمی وسائل ناکافی ہوں تو ہر بچے پر انفرادی توجہ ممکن نہیں رہتی، جس سے تعلیم اور تربیت دونوں متأثر ہوتے ہیں۔
یقینا اگر انتظامیہ تقرری، نگرانی اور تعلیمی منصوبہ بندی میں میرٹ، دیانت اور حسنِ انتظام کو پیشِ نظر رکھے، اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرے اور ضروری وسائل مہیا کرے تو مکتب کی نصف مشکلات خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ مضبوط انتظامیہ ہی مضبوط مکتب کی ضامن ہوتی ہے۔
بچوں کی نفسیات سےمتعلق چند اہم اسباب:
بچے نرم مٹی کی مانند ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت میں ان کی عمر، ذہنی استعداد، دلچسپی اور نفسیات کو ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اگر ان کی فطرت کے خلاف تعلیم دی جائے تو وہ علم سے اکتا جاتے ہیں اور مکتب ان کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔
(۱۵)بچوں کو مسلسل ایک ہی حالت میں بیٹھے رہنے پر مجبور کرنا:
بعض اساتذہ بچوں کو طویل وقت تک ایک ہی جگہ بٹھا کر مسلسل پڑھاتے رہتے ہیں، حالانکہ بچے فطری طور پر چست، متحرک اور کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں۔ ان کی جسمانی حرکت ان کی فطری ضرورت ہے۔ جب اس ضرورت کو مسلسل روکا جاتا ہے تو ان کی توجہ بٹنے لگتی ہے، طبیعت اکتا جاتی ہے اور سبق میں دلچسپی کم ہونے لگتی ہے۔ اس لیے مناسب وقفہ، ہلکی پھلکی سرگرمی اور تدریس میں تنوع ان کی دلچسپی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس کا عملی تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ جب بچوں کو مسلسل چالیس یا پینتالیس منٹ تک ایک ہی انداز میں بٹھا کر پڑھایا جائے تو وہ بے چین ہونے لگتے ہیں، لیکن اگر درمیان میں صرف دو تین منٹ کے لیے سبق سے متعلق کوئی مختصر سرگرمی، سوال و جواب، کھڑے ہو کر سبق دہرانا یا نشست تبدیل کروا دی جائے تو ان کی توجہ دوبارہ تازہ ہوجاتی ہے اور وہ پہلے سے زیادہ شوق کے ساتھ سبق میں شریک ہوتے ہیں۔ یہی بچوں کی نفسیات کا تقاضا ہے کہ ان کی فطری ضروریات کو ملحوظ رکھ کر تعلیم دی جائے۔
(۱۶) سبق میں دلچسپی پیدا نہ کرنا:
تعلیم صرف پڑھانے کا نام نہیں بلکہ بچوں کے دل میں سیکھنے کا شوق پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ مناسب موقع پر ہلکا پھلکا مزاح، سبق سے متعلق دلچسپ واقعات اور سبق آموز مثالیں بچوں کی توجہ بڑھاتی ہیں اور سبق دیر تک یاد رہتا ہے۔
(۱۷) بچوں کی حوصلہ افزائی سے غفلت برتنا:
بچوں کی نفسیات کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی اچھی کوشش پر انہیں سراہا جائے، حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ افسوس کہ بعض اساتذہ کی توجہ صرف غلطیوں کی نشاندہی اور ڈانٹ ڈپٹ تک محدود رہتی ہے، جبکہ بچے کی معمولی کامیابی یا اچھی کارکردگی پر بھی اسے شاباشی نہیں دی جاتی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، شوقِ تعلیم ماند پڑ جاتا ہے اور مکتب سے اس کی وابستگی متاثر ہوتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کا طرزِ عمل اس کے بالکل برعکس تھا۔ آپ ﷺ بچوں کی اچھی صفات کی قدر فرماتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان کے حق میں خیر کی دعائیں دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا تو آپ ﷺ نے ان کی اس معمولی خدمت کی قدر کرتے ہوئے دعا فرمائی:
’’اَللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ‘‘۔
’’اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور اسے قرآن کی صحیح تفسیر و تاویل کا علم عطا فرما‘‘۔
[صحیح البخاری، حدیث: 143]
یہ نبوی اسلوب بالخصوص والدین اور اساتذہ کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ وہ بچوں کی اچھی کوشش کی قدر کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کے حق میں خیر کی دعائیں دیں۔ یہی طرزِ عمل ان کے اندر اعتماد، شوقِ تعلم اور حسنِ کردار کو پروان چڑھاتا ہے۔
(۱۸) تمام بچوں کو یکساں سبق دینا:
ہر بچہ اپنی ذہنی صلاحیت، یادداشت، سمجھنے اور سیکھنے کی رفتار کے اعتبار سے دوسرے بچے سے مختلف ہوتا ہے۔ کوئی جلدی سبق یاد کر لیتا ہے، کوئی بار بار دہرانے کے بعد سیکھتا ہے، اور کسی کو زیادہ رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے استاد کو چاہیے کہ سبق، سوالات، مشق اور تادیب میں ہر بچے کی استعداد کو سامنے رکھے۔ سب بچوں کو ایک ہی معیار پر پرکھنا یا ان سے ایک جیسی کارکردگی چاہنا درست نہیں۔ کامیاب معلم وہ ہے جو ہر بچے کی صلاحیت کو پہچان کر اسی کے مطابق اس کی رہنمائی کرے، تاکہ ہر طالب علم اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔
اسی اصول کی طرف قرآنِ کریم بھی رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾
’’اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘‘۔
[البقرۃ: 286]
جب اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی وسعت اور طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا تو ایک معلم کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی ذہنی استعداد اور سیکھنے کی صلاحیت کا لحاظ رکھتے ہوئے ان سے ان کی طاقت کے مطابق مطالبہ کرے۔
(۱۹) استاد اور بچے کے درمیان اعتماد کا فقدان:
جب بچہ استاد کو اپنا خیر خواہ، ہمدرد اور رہنما سمجھتا ہے تو وہ استاد سے قریب رہتا ہے، بے جھجھک سوال کرتا ہے، اپنی غلطی بتاتا ہے اور کھل کر اپنے دل کی بات بھی کہہ دیتا ہے۔ لیکن اگر استاد اور طلبہ کے درمیان خوف اور فاصلے ہوں تو بچے نہ سوال کرنے کی ہمت کرتے ہیں، نہ اپنی الجھن بیان کر پاتے ہیں، جس سے ان کی تعلیم اور شخصیت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔
مثال: بعض اساتذہ کی کلاس میں غیر ضروری رعب اور سختی کی وجہ سے استاد اور طلبہ کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ بچے سبق سمجھ نہ آنے کے باوجود خاموش رہتے ہیں۔ نہ سوال کرتے ہیں، نہ اپنی مشکل بتاتے ہیں، اور نہ ہی کھل کر بات کر پاتے ہیں۔ اس کے برعکس جس استاد کے ساتھ اعتماد اور محبت کا تعلق ہو، وہاں بچے بلا جھجھک سوال کرتے ہیں، اپنی کمزوریاں بتاتے ہیں اور خوشی سے سیکھتے ہیں۔
(۲۰)بچوں کے درمیان عدل و انصاف نہ کرنا:
استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام بچوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرے۔ کسی بچے کو بلا وجہ زیادہ اہمیت دینا یا کسی کے ساتھ بے جا سختی کرنا دوسرے بچوں کے دلوں میں احساسِ محرومی، حسد اور نفرت پیدا کر دیتا ہے، جس سے تعلیمی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’فاتَّقوا اللهَ واعدِلوا بينَ أولادِكُم‘‘۔’’پس اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو‘‘۔
[صحیح البخاری: 2587، صحیح مسلم: 1623]
یہ حدیث گر چہ والدین کے بارے میں ہے، لیکن اس کا یہ عظیم اصول تعلیم و تربیت میں بھی پوری طرح رہنمائی کرتا ہے کہ بچوں کے ساتھ انصاف، اعتدال اور غیر جانب داری کا برتاؤ کیا جائے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ بچوں کی نفسیات کو سمجھے بغیر ان کی کامیاب تعلیم و تربیت ممکن نہیں۔ جب والدین، اساتذہ اور مکتب کی انتظامیہ سب مل کر بچوں کی عمر، صلاحیت، مزاج اور فطری ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے محبت، حکمت، عدل اور حسنِ اخلاق کے ساتھ ان کی تربیت کریں گے تو مکتب بچوں کے لیے علم، ایمان اور کردار سازی کا بہترین مرکز بن جائے گا۔ اس کے نتیجے میں بچے شوق سے سیکھیں گے، مکتب سے محبت کریں گے اور دینی تعلیم ان کے علم، عمل اور کردار کا مستقل حصہ بن کر انہیں ایک باعمل، بااخلاق اور معاشرے کے لیے مفید مسلمان بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ والدین، اساتذہ اور منتظمین کو اپنی ذمہ داریاں اخلاص، حکمت اور حسنِ تدبیر کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے مکاتب اسلامیہ کو علمِ نافع، عملِ صالح اور بہترین اخلاق کے مراکز بنائے، بچوں کو دین کا صحیح فہم، اس پر عمل کی توفیق اور امت کا صالح سرمایہ بنائے، اور اس معمولی کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرما کر اسے امتِ مسلمہ کے لیے نافع اور ذریعۂ اصلاح بنائے۔آمین یارب العالمین
Articles Views: 2