-
علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرات کا تحریری سلسلہ ۔محاضرہ نمبر(۵) معارف ابن تیمیہ کی عصری معنویت اور استفادے کے طریقے:(پانچویں قسط)
کیا ابن تیمیہ کے نظریا ت کو صرف مجموع الفتاویٰ سےحاصل کیا جاسکتا ہے؟
صرف مجموع الفتاویٰ سے نہیں لیکن مجموعی اوراجمالی طور پر اس میں بھی بعض چیزیں ہیں ۔لیکن ان کے علاوہ اور جو 35 یا 37 کتابیں ہیں جن کی تقریباً پچاس جلدیں بنیں گی ،تو ان پچاس جلدوں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔لیکن ایک با ت کا خیال رکھنا چا ہیے کہ مجموع الفتاویٰ کے اندر بعض چیزیں ایسی ہیں جو ابن تیمیہ کی نہیں ہیں اور غلط طریقہ سے ان کی جانب منسوب ہیں(1) ۔ مثلا ً اس میں جو ایک فتویٰ ہے خضر سےمتعلق’’اماحياته فھوحي‘‘یہ بالکل ہی ابن تیمیہ کا فتوی نہیں ہے ، یہ فتویٰ ان کی دوسری تحریروں کے خلاف ہے ،یہ فتویٰ ابن تیمیہ کا ہےہی نہیں ،اسی زمانہ میں باقاعدہ لوگوں نے رد کیا تھا ،اور بتایاتھا کہ یہ ابن تیمیہ کی تحریر ہے ہی نہیں ،اس میں ایک تھے قطب الدین خیضری،ان کا فتویٰ مل بھی گیا تو اس کو جامع المسائل میں میں نے چھاپا بھی،(2)الر دعلی المنطقیین اٹھا کرکے دیکھئے اس میں بتایا ہےکہ خضر علیہ السلام کا انتقال ہوگیا ہے،اور مرنے کے کئی وجوہ و اسباب بیان کئے ہیں(3) ،ابن قیم نے ابن تیمیہ سے المنار المنیف میں نقل کیا ہے ،اوربہت سے دوسرے لوگوں نے بیان کیاہے، جنہوں نے یہ فتویٰ جمع کیا ہے یعنی عبدالرحمٰن القاسم ، انہوں نے فتویٰ کے اخیر میں سوالیہ نشان لگا دیا ہےکہ ہمیں یہ فتویٰ ایسے ہی ملا ہے،لیکن لگتا ہےکہ یہ مشکوک ہے(4)۔ایسے ہی ابن قیم کی کوئی تحریر ہے وہ ابن تیمیہ کے نام سے مجموع الفتاویٰ کے اندر شامل ہوگئی ،ایسے کسی کتاب کا کوئی حصہ کہیں سے کہیں چلا گیا ہے۔لیکن پھر بھی میں کہوں گا کہ مجموع الفتاویٰ دیگر مجموعا ت کے مقابلہ میں بے انتہا اہم ہے ۔بقیہ تھوڑی بہت کمیاں تو رہ ہی جاتی ہیں ، 36ویں یا 37ویں جلد میں ایک فہرست بنادی گئی لیکن وہ بہت تفصیلی فہرست ہے ۔اس کی بھی ایک مختصر فہرست ہونی چاہیے ۔ اس میں ایک جگہ اور غلطی ہے مثلاً صوفی کی نسبت ،دسویں یا گیارہوں جلد میں ہے۔صوفی کی نسبت کس طرف ہے ، صوف کی طرف ہے یا صفہ کی طرف ہے یا صفا کی طرف ہے۔ الصفاء۔۔۔۔۔فھو یکفرالیھود والنصاریٰ ۔ اب یہیکفر والی عبارت اصلاً وحدۃالوجو د سے متلق جوعقیدہ رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہے ، تو صوفی نسبت کرنے والوں پر کفر کی بات نہیں کررہے ہیں۔یہ تو ایک لغوی بحث ہے اس سے کفر واسلام کہاں لازم آتاہے، ایک کتا ب چھپی ہے ’’صیانہ مجموع الفتاویٰ من الا سقط والسقط ‘‘کے نام سے ۔ناصر الفہدکی یہ کتاب ہے، تو اس سے مجموع الفتاویٰ میں واقع بعض غلطیوں کی تصیح ہوجاتی ہے،لیکن ساری غلطیوں کا احصاء اس میں بھی نہیں ہوسکا ہے۔(5)ابن تیمیہ کی تقریباً 59 یا 60 کتابوں کے ترجمہ ہوئے ہیں ۔لیکن سارے ترجمے یکساں نہیں ہیں ،بعض بالکل غلط ہیں ۔ بلکہ بعض ترجمہ میں اختصار کردیا گیا ہے اوراس میں اپنی رائے داخل کردی گئی ۔جیسے ان کی بہت مشہور کتاب ہے اقتضاء الصراط المستقیم ہے۔اسلامی تہذیب کیاہے ، غیر اسلامی تہذیب سے اس کا اختلاف کیاہے ؟ان سب کابیان اس میں موجود ہے ،اس کا ایک مختصر سا ترجمہ چھپا ہے ندوۃالعلماء سے ،اس میں مترجم نے اپنی رائے داخل کردی ہے، شدرحال کے مسئلہ اور دوسرے مسائل میں ، تو وہ بالکل ہی غیر معتمد ہے ،اسلام اور غیر اسلامی تہذیب کے نام سے یہ کتاب چھپی ہے،شمس تبریزخاں صاحب نے تر جمہ کیاہے،اسی لیے اس کتاب کا اختصار ہمارے دوست ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی صاحب نے بھی کیاہے اور اس کا ترجمہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری صاحب نے صراط مستقیم کے تقاضے کے نام سے کیاہے،اس میں صحیح ان کی جو رائے ہے وہ پیش کی گئی ہے ۔ابن تیمیہ کی کی کتابوں کا اردو میں سب سے اچھا ترجمہ عبد الرزاق ملیح آبادی نے کیا ہے۔
حواشی و اضافات ۔آفا ق احمد السنابلی المدنی
(۱) مجموع الفتاویٰ کے مطالعہ سے پہلے یا بعد میں ایک بار یہ کتاب ضرور پڑھ لینا چاہیے ۔
’’صيانة مجموع الفتاوى من السقط والتصحيف الشيخ ناصر بن حمد الفھد‘‘.تقریباً 276 صفحات کی یہ کتاب ہے۔ مجمع ملک فہد سے جو نسخہ سنہ 2004 ء میں شائع ہوا ہے ،اس میں بہت ساری غلطیوں کی نشان دہی بھی کردی گئی ہے اور اخیر میں اس کتاب کو بھی شامل کردیا گیا ہے۔
(۲) قطب الدین الخیضری نے اپنی کتاب ’’افتراض دفع الاعتراض‘‘ میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی جانب منسوب اس فتویٰ کی تردید کی ہے۔ دیکھیں:جامع المسائل-ابن تيمية – ط عطاءات العلم(5/ 9)
(۳)دیکھیں۔ الرد على المنطقيين (ص 184 – 185)۔ اس کتاب میں بھی دیکھ سکتے ہیں ۔مختصر الفتاوى المصرية (ص 198)۔
(۴) پوری تفصیل اور تصحیح اس فتویٰ کی دیکھیں۔(مجموع الفتاوىٰ (4/ 338)۔
(۵) مجموع الفتاویٰ پر علماء نے کئی جہات سے کئی کام کیا ہے ، مختصراً یہاں ذکر کردیتا ہوں ۔
1-المستدرك على مجموع الفتاوى،جمعه الشيخ محمد بن عبد الرحمن بن قاسم في خمسة مجلدات.
2-مجموعة فتاوىٰ ابن تيمية جمعه فرج الله الكردي، وعنها الفتاوى الكبرى تحقيق أبناء عبدالقادر عطا .
3-الفتاوى العراقية، تحقيق: عبد الله عبد الصمد المفتي .
4-أضواء من فتاوى شيخ الإسلام ابن تيمية- قسم العقيدة- للشيخ صالح بن فوزان الفوزان، طبع في مجلدين، نشر دار ابن الجوزي بالدمام.
5-الحاوي في تخريج أحاديث مجموع الفتاوى،خرجها مجدي بن منصور بن سيد الشورى، نشر دار الكتب العلمية ببيروت في مجلد.
6-تخريج أحاديث مجموعة فتاوى ابن تيمية، بعناية مروان كوجك، ومراجعة فتحي الجندي ، نشر دار ابن حزم ببيروت في ستة مجلدات .
7-صيانة مجموع الفتاوى من السقط والتصحيف للشيخ ناصر الفهد، نشر دار أضواء السلف بالرياض.
8-مجموع أسئلة شيخ الإسلام ابن تيمية في كتابيه مجموع الفتاوى والفتاوى الكبرى مرتبة على أبواب الفقه جمعه عبد الكريم الغانم، نشر دار المنار.
9- التعليق على مجموع الفتاوى لابن تيمية. الشيخ صالح بن عبد الله العبود،یہ آڈیو میں ہے۔
10- شرح «مجموع الفتاوى» محمد سعيد رسلان . یہ آڈیو میں ہے۔
11-القواعد الأصولية و القواعد و الضوابط و الفوائد الفقهية من مجموع فتاوى شيخ الاسلام ابن تيميةز. تأليف د. سعود بن عبد الله الغديان. بقية العنوان : القواعد والضوابط والفوائد الفقهية. ثلاثة مجلدات شروح ، والمجلد الرابع لمتن القواعد جمعا وتوثيقا.
12-التهذيب والتذهيب لمجموع فتاوى ابن تيمية۔ تأليف: عاصم اللحيدان۔ من إصدار دار ابن الجوزي في خمسة مجلدات كبيرة بتجليد جميل على ورق أصفر شامواه وكتابة واضحة باللونين الأسود والأحمر۔
13- الأولويات الفقهية لابن تيمية في كتابه مجموع الفتاوى في الأحوال الشخصية
جاری……..