Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ قسط :(23)

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی مقبول ترین کتاب’’بيان تلبيس الجهمية في تأسيس بدعهم الكلامية‘‘ کا تعارف پیش خدمت ہے۔ اسے’’نقض التأسيس‘‘کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔
    اس کتاب کا شمار شیخ الاسلام کی اہم اور ضخیم ترین کتابوں میں ہوتا ہے، اس میں شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے خاص طور پر اشاعرہ کی بڑی کتابوں پر رد کیا ہے،اپنے باب میں یہ کتاب منفر د مانی جاتی ہے،بعد میں جس نے بھی اشاعرہ اور دیگر علم کلام کے سہارے دین کو سمجھنے والوں پر رد کیا ہے ان تمام نے شیخ الاسلام کی اس کتاب سے بھر پور فائدہ اٹھایا ۔
    کتاب کے نام کا صحیح ضبط: جامعۃ الملک سعود ریاض میں اس کا جو مخطوطہ ہے ،اس میں اس کتاب کانام’’نقض أساس التقديس‘‘ ہے ۔مکتبہ ظاہریہ میں اس کتاب کا جو قلمی نسخہ ہے اس میں اس کتاب کا نام’’ بيان تلبيس الجهمية في تأسيس بدعهم الكلامية‘‘ ہے ۔ہولندا کی لائبریری لیدن میں اس کتاب کا جو مخطوطہ ہے اس میں اس کا نام’’ نقض تأسيس الجهمية‘‘۔ہے۔
    خلاصۂ گفتگو یہ کہ اس کتاب کے نام کے صحیح ضبط میں جو بات راجح معلوم ہوتی ہے اور جس نام کا ذکر مؤلف نے اپنی چند ایک کتابوں میں کیا ہے وہ یہی نام ہے’’ بيان تلبيس الجهمية في تأسيس بدعهم الكلامية‘‘۔
    نسبت ِکتاب :یہ کتاب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ہے ،جیسا کہ ابن عبد الہادی اور علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے ۔ ذیل طبقات الحنابلہ ،الوافی بالوفیات جیسی کتابوں میں بھی مؤلف کے نام کے ساتھ اس کتاب کا تذکرہ موجود ہے۔تفصیل نیچے موجود ہے۔
    وذكر في الذيل على طبقات الحنابلة ضمن مصنفات شیخ الإسلام ابن تيمية هكذا: كتاب تلبيس الجهمية في تأسيس بدعهم الكلامية في ست مجلدات كبار۔
    [انظر الذيل على طبقات الحنابلة لابن رجب2/403]
    وفي الوافي بالوفيات عد ضمن مصنفات شيخ الإسلام ابن تيمية وذكر له اسمين فقيل فيه: رد على تأسيس التقديس سماه: بيان تلبيس الجهمية في تأسيس بدعھم الكلامية وربما سماه تخليص التلبيس من تأسيس التقديس.
    [انظر الوافي بالوفيات:ج:7/15-33]
    شیخ الاسلام نے اپنے رسالہ تسعینیہ میں بھی ذکر کیا ہے۔
    ’’كما قد أوضحنا ذلك في بيان تلبيس الجهمية في تأسيس بدعهم الكلامية،ويسمى-أيضًا-تخليص التلبيس من كتاب التأسيس‘‘۔ ’’التسعينية‘‘
    (2/ 389).
    ’’وقد بسطنا الكلام على هذا بسطا كثيرا في المباحث العقلية والسمعية التي يذكرها نفاة الصفات من الجهمية وأتباعهم في كتابنا المسمى (بيان تلبيس الجهمية في تأسيس بدعهم الكلامية)‘‘
    [مجموع الفتاوى(17/ 450].
    وقال البزار عن هذا الكتاب عند ذكره لمؤلفات ابن تيمية: فمنها ما يبلغ اثنا عشر مجلداً، كتلخيص التلبيس على أساس التقديس.
    [انظر الأعلام العلية للبزار:ص:25،تحقيق زهير الشاويش، طبع المكتب الإسلامي، الطبعة الثانية سنة ١٣٩٦هـ .]
    تاریخِ تالیف : بالضبط تاریخِ تالیف کی تعیین بہت مشکل ہے ،پھر بھی ایک دراسہ کےبعد اور مختلف قرائن کو سامنے رکھ کرکے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ یہ کتاب مصر میں قید کے دوران سن ٧٠٥/٩/٢٦ هـ إلى ٧٠٧/٣/٢٣هـ . کے درمیان ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے۔ والله تعالی اعلم۔تفصیل کے لیے دیکھیں :[بيان تلبيس الجهمية، لابن تيمية، تحقيق مجموعة من الباحثين، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف.۔جلد نمبر :9]
    سببِ تالیف : سببِ تالیف خود شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی اس کتاب کے اندر بیان کیاہے۔وہ یہ کہ جب انہوں نے ’’الفتوی الحمویہ‘‘ صفات کی نفی کرنے والوں کے رد میں لکھا ،تو صفات کی نفی کرنے والوں نے بعض اعتراضات حمویہ پر کئے ، جس کا جواب پھر شیخ الاسلام نے ’’جواب الاعتراضات علی الفتیا الحمویہ‘‘ کے نام سے دیا ، اس کے بعد پھر معطلہ نے بعض شبہات پیدا کئے اور ان کے وہ شبہات رازی کی کتاب’’ تاسیس التقدیس ‘‘سے ماخوذ تھے ۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہ کتاب لکھ کرکے رازی کی کتاب کا تفصیلاً جواب دیا ۔ راز ی نے جو کتاب تاسیس التقدیس کے نام سے لکھی تھی وہ اصلاً علامہ ابن خزیمہ کی کتاب ’’کتاب التوحید ‘‘پر رد ہے ۔
    کتاب کی علمی اہمیت و افادیت: (۱) یہ کتاب مصادر عقیدہ کے باب میں موسوعہ کی حیثیت رکھنے والی کتابوں میں سے ایک نفع بخش کتاب ہے۔
    (۲)سلفی منہج پر پوری طرح کاربند رہ کرکے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے رازی اور ان کے ہم خیال لوگوں پر رد کیا ہے۔
    (۳)جہمیہ بطور خاص امام رازی نے جہاں جہاں حق و باطل کو اپنے باطل اصولوں کے سبب خلط ملط کردیاتھا ،شیخ الاسلام نے مکمل طریقہ سے اس کی وضاحت کی ہے۔
    (۴)حلولیہ ، جہمیہ ، فلاسفہ ،ملحدین و کفار کی ایک ایک دلیل کے بطلان کو شیخ الاسلام نے بیان کیا ہے۔
    (۵)مبتدعہ اور اہل کلام کا خود اپنی مختلف کتابوں میں آپسی تضاد کو بیان کیا ہے۔
    (۶)اس کتاب کے اندر شیخ الاسلام نے سلف صالحین اورائمہ و مجتہدین سے بہت سارے نقول بڑی باریکی اور احتیاط کے ساتھ نسبت کا خیال رکھ کرکے بیان کیا ہے۔
    (۷)نصوص کی فاسد تاویل اور اس کے اصل معنیٰ سے پھیر کرکے کوئی دوسرا معنیٰ بیان کرنے والوں کی بھی وضاحت کی ہے۔
    اہل علم کی نظر میں : علامہ ابن القیم رحمہ اللہ اس کتاب کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
    ’’وَكَذلِكَ التَّأسِيسُ أصْبَحَ نَقْضُهُ… أُعْجُوبَةً لِلْعَالِمِ الرَّبَّانِي‘‘ ’’نونية ابن القيم الكافية الشافية – ط عطاءات العلم‘‘
    [المتن:197]
    تأسيس (التقديس) کا رد ایسا ہو گیا ہے کہ وہ ربانی علما کے لیے ایک عجوبہ بن چکا ہے۔
    ابن عبد الہادی رحمہ اللہ اس کتاب کے تعلق سے کہتے ہیں :
    ’’وَمن مصنفاته كتاب بَيَان تلبيس الْجَهْمِية فِي تأسيس بدعهم الكلامية فِي سِتّ مجلات وَبَعض النّسخ مِنْهُ فِي أَكثر من ذَلِك وَهُوَ كتاب جليل الْمِقْدَار مَعْدُوم النظير كشف الشَّيْخ فِيهِ أسرار الْجَهْمِية وهتك أستارهم وَلَو رَحل طَالب الْعلم لأجل تَحْصِيله إِلَى الصين مَا ضَاعَت رحلته‘‘۔
    [العقود الدرية في مناقب ابن تيمية (ص44 ت الفقي)]
    ’’اور ان کی تصانیف میں سے ایک کتاب ’’بَيَان تلبيس الْجَهْمِية فِي تأسيس بدعهم الكلامية‘‘ ہے جو کہ چھ جلدوں پر مشتمل ہے، اور بعض نسخوں میں اس سے بھی زیادہ جلدیں ہیں۔ یہ انتہائی عظیم اور بے نظیر کتاب ہے۔ شیخ الاسلام نے اس کتاب میں جہمیہ کے چھپے ہوئے اسرار و رموز کو بے نقاب کیا ہے اور ان کے پردے چاک کیے ہیں۔ اگر کوئی طالب علم اس کتاب کو حاصل کرنے کے لیے چین تک کا سفر بھی کرے، تو اس کا یہ سفر ہرگز ضائع نہیں جائے گا‘‘۔
    قال الشيخ محمد بن عبد الرحمن بن قاسم – حفظه الله – مبيناً
    منزلة هذا الكتاب، وقيمته العلمية بين كتب شيخ الإسلام ابن تيمية – رحمه الله تعالى – ما نصه: وإن أجل وأعظم ما تكلم فيه في الأصول؛ هو «مسألة الصفات والقدر إذ الحاجة إليهما أعم، ومعرفة الحق فيهما أنفع من غيرهما، وإن أعظم كتاب ألفه ابن تيمية ـ قدس الله روحه- في موضوع الصفات والرد على الأشاعرة، هو كتاب «نقض التأسيس فهو عمدة، ومرجع كبير، في دحض شبههم العقلية، وإبطال تأويلاتهم للأدلة السمعية وإنه ليعادل – في نظري ـ كتاب «بيان موافقة صريح المعقول لصحيح «المنقول في موضوعه، وكتاب منهاج السنة النبوية في الرد على الرافضة وكتاب الرد على المنطقيين وكتاب الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح ۔(انظر مقدمة بيان تلبيس الجهمية في تأسيس بدعهم الكلامية لشيخ الإسلام ابن تيمية ٢٥/١ تصحيح وتكميل وتعليق محمد بن عبدالرحمن بن قاسم الطبعة الأولى سنة ١٣٩١هـ.)
    یقیناً شیخ الاسلام ابن تيمیہ نے علمِ اصول (عقائد) میں جن مسائل پر گفتگو کی ہے، ان میں سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ صفات اور مسئلہ تقدیر ہے ۔ کیونکہ ان دونوں کی ضرورت سب سے زیادہ عام ہے اور ان کے بارے میں حق کی معرفت دیگر مسائل کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہے۔ اور ابن تيمیہ نے صفات کے موضوع پر اور اشاعرہ کے رد میں جو سب سے عظیم کتاب لکھی ہے، وہ کتاب ’’نقض التأسيس‘‘ (بیان تلبیس الجہمیہ) ہے۔ یہ کتاب ان کے عقلی شبہات کو پامال کرنے اور سمعی دلائل کی من مانی تاویلوں کو باطل کرنے میں ایک بنیادی ستون اور بہت بڑا مرجع ہے۔ یہ کتاب میری نظر میں اپنے موضوع پر لکھی گئی کتاب’’بيان موافقة صريح المعقول لصحيح المنقول‘‘(درء تعارض العقل والنقل)،رافضہ کے رد میں لکھی گئی کتاب’’منهاج السنة النبوية‘‘،’’الرد على المنطقيين‘‘ اور عیسائیوں کے رد میں لکھی گئی کتاب’’الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح‘‘ کے ہم پلہ ہے۔
    فوائد علمیہ : (۱) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کئی اہل علم کے اقوال اور اللہ کے عرش پر مستوی ہونے پر اجماع نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ’’ اور یہ ایک بہت وسیع باب ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ لوگ جنہوں نے اہل سنت کے اجماع یا صحابہ اور تابعین کے اس بات پر اجماع کو نقل کیا ہے کہ اللہ تعالی عرش کے اوپر ہے اور اپنی مخلوق سے جدا (بائن) ہے، ان کی تعداد اللہ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا‘‘۔
    (۲) ’’یہ بات سنتِ متواترہ اور اسلاف امت نیز صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے ان ائمہ اسلام -جن کی دین میں اقتدا کی جاتی ہے- کے اتفاق سے ثابت ہے کہ: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو آخرت میں آنکھوں سے برائے راست دیکھا جائے گا۔
    قرآن مجید نے بھی متعدد مقامات پر اس کا ذکر کیاہے، اس سلسلے میں صحیح اور متواتر احادیث، صحاح، سنن اور مسانید کی کتابوں میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ صحیحین (بخاری ومسلم) میں ہی اس مضمون کی تقریباً دس احادیث ہیں، جن میں یہ صراحت ہے کہ آخرت میں دیدار الٰہی محال یا ناممکن نہیں ہے۔آخرت میں دیدار الٰہی سے متعلق احادیث کو جمع کرنے کا اہتمام متعدد ائمہ نے کیا ہے، جیسے امام دارقطنی (اپنی کتاب’’الرؤية‘‘ میں)، امام ابو بکر الآجری، امام ابو نعیم الاصبہانی اور ان کے علاوہ دیگر جلیل القدر ائمہ نے ۔
    (۳)اس کتاب کے اندر شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے حدیث’’خلق الله آدم على صورته‘‘ پر گفتگو کیا ہے ،حدیث کے الفاظ اوراس کے طرق کو بھی ذکر کیا ہے،جن لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ان کا بھی مناقشہ کیاہے،یہ واضح کیا ہے کہ اس حدیث کو کئی ائمہ نے روایت کیاہے جیسے امام احمد ،امام ترمذی ،ابن خزیمہ ،دارقطنی وغیرہم ۔جو لوگ اس حدیث کو اور رؤیت باری تعالیٰ سےمتعلق دیگر احادیث کو جھٹلاتے ہیں ان کی بھی حقیقت بیان کیاہے۔تقریباً 305صفحات پر مشتمل اسی حدیث سےمتعلق گفتگو ہے۔
    (۴)شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صفات کی تاویل اور صفات کا انکا ر کرنے والوں پر بڑی تفصیلی بحث اس کتاب میں کی ہے۔
    (۵)اس کتاب کو پڑھنے والے کے سامنے یہ بات بہت واضح ہوجائے گی کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو متکلمین کی کتابوں ، ان کے پھسپھسے اصول نیز ان کی قد آور اور سرکردہ شخصیات جیسے ابو الحسن الاشعری، قاضی ابی بکر الباقلانی، ابن فورک، امام الحرمين الجوینی، غزالی اور رازی وغیرہم کے عقائد سے کس قدر واقف تھے ۔
    تحقیقات : اس کتاب کا پہلا حصہ دو جلدوں میں محمد بن عبد الرحمٰن بن قاسم کی تصحیح ،تکمیل اور تعلیق کے ساتھ شائع ہواتھا ، اس کے بعد جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ سے آٹھ جلدوں میں دکتورہ کے رسائل کی شکل میں مکمل ہوا ہے۔
    (۱)بيان تلبيس الجهمية،لابن تيمية، تحقيق مجموعة من الباحثين،مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف ۔
    (۲)نقض تأسيس الجهمية (بيان تلبيس الجهمية)، لابن تيمية، ت: محمد بن قاسم، ط 1، 1391 هـ، مطبعة الحكومة، مكة.
    (۳)بيان تلبيس الجهمية: لابن تيمية، ت: عبد الرحمن اليحيى، رسالة دكتوراه في جامعة الامام محمد بن سعود الإسلامية۔
    (۴)مختصر بيان تلبيس الجهمية لابن تيمية: المؤلف: عبدالله بن سلمان الفيفي۔
    (۵)إثبات الصورة لله تعالى ملخص من بيان تلبيس الجهمية و،تلخيص عبد العزيز بن عبد الله الراجحي۔
    جاری ………

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings