Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • حجاب:قرآن و حدیث کی روشنی میں

    حجاب کی لغوی تعریف :
    لفظ ’’حجاب‘‘مصدر ہے فعل حجب يحجب کا جس کا معنیٰ ہے’’الشيء الذي يحجب به‘‘ وہ چیز جس کے ذریعہ پردہ کیا جائے ۔[عمدة الحفاظ في تفسير أشرف الألفاظ: ١/‏٣٧٣ — السمين الحلبي:ت ٧٥٦]
    اسی سے کہا جاتا ہے’’امرأة محجوبة ‘‘ ایسی عورت جس کو پردے سے ڈھک دیا گیا ہو ۔
    لغت میں لفظ حجاب کی حقیقت میں’’ المنع‘‘ اور’’الحاجز‘‘ داخل ہے چونکہ حجاب باحجاب عورت کے درمیان میں دوسروں کی نظروں کے لیے حائل ہوتا ہے،اس لیے اسے ’’حجاب‘‘ کہاجاتاہے۔
    لفظ ’’حجاب ‘‘ پورے قران میں سات مرتبہ آیا ہے :
    (۱)﴿وَبَیۡنَهُمَا حِجَابٌ ..﴾ [الأعراف:٤٦]
    (۲)﴿وَإِذَا قَرَأۡتَ ٱلۡقُرۡءَانَ جَعَلۡنَا بَیۡنَكَ وَبَیۡنَ ٱلَّذِینَ لَا یُؤۡمِنُونَ بِٱلۡـَٔاخِرَةِ حِجَابࣰا مَّسۡتُورࣰا﴾ [الإسراء:٤٥]
    (۳) ﴿فَٱتَّخَذَتۡ مِن دُونِهِمۡ حِجَابࣰا فَأَرۡسَلۡنَاۤ إِلَیۡهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرࣰا سَوِیࣰّا﴾ [مريم:١٧]
    (۴) ﴿….وَإِذَا سَأَلۡتُمُوهُنَّ مَتَـٰعࣰا فَسۡـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَاۤءِ حِجَابࣲۚ ذَ الِكُمۡ أَطۡهَرُ لِقُلُوبِكُمۡ وَقُلُوبِهِنَّۚ..﴾ [الأحزاب:٥٣]
    (۵) ﴿فَقَالَ إِنِّیۤ أَحۡبَبۡتُ حُبَّ ٱلۡخَیۡرِ عَن ذِكۡرِ رَبِّی حَتَّىٰ تَوَارَتۡ بِٱلۡحِجَابِ﴾[ص:٣٢]
    (۶)﴿وَقَالُوا۟ قُلُوبُنَا فِیۤ أَكِنَّةࣲ مِّمَّا تَدۡعُونَاۤ إِلَیۡهِ وَفِیۤ ءَاذَانِنَا وَقۡرࣱ وَمِنۢ بَیۡنِنَا وَبَیۡنِكَ حِجَابࣱ فَٱعۡمَلۡ إِنَّنَا عَـٰمِلُونَ﴾[فصلت:٥]
    (۷)﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن یُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحۡیًا أَوۡ مِن وَرَاۤىِٕ حِجَابٍ أَوۡ یُرۡسِلَ رَسُولࣰا فَیُوحِیَ بِإِذۡنِهِۦ مَا یَشَاۤءُۚ إِنَّهُۥ عَلِیٌّ حَكِیمࣱ﴾[الشورىٰ:٥١]
    حجاب کی اصطلاحی تعریف :
    حجاب کی اہل علم نے کئی ایک تعریفات کی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں :
    (۱) محمد رواس قلعجي کہتے ہیں کہ :
    ’’ما تلبسه المرأة من الثياب لسترالعورة عن الاجانب‘‘۔
    ’’ ایسا لباس جس کو عورت اجنبی لوگوں سے پردہ اور قابل ستر چیزوں کو چھپانے کے لیے پہنتی ہے ‘‘۔
    [معجم لغة الفقهاء:١/‏١٧٤ — محمد رواس قلعجي :ت ١٤٣٥]
    (۲)’’ھو ستر المرأة جميع بدنها وزينتها بما يمنع الأجانب عنها من رؤية شيء من بدنها أو زينتها التي تتزين بها ويكون استتارها باللباس وبالبيوت ‘‘۔
    ’’عورت کا اپنے پورے جسم اور اس زینت کو چھپانا جس کا دیکھنا اجنبی لوگوں کے لیے منع ہے چاہے اس کا تعلق بدن سے ہو یا زینت سے اور یہ پردہ لباس اور گھر سے ہوتا ہے‘‘۔
    [حراسة الفضيلة:١/‏٢٦ — بكر أبو زيد: ت ١٤٢٩]
    (۳)’’ھو ساتر يستر الجسم فلا يشف ولا يصف‘‘۔
    ’’ایسا لباس جو جسم کو چھپانے والا ہو، باریک اور ( جسمانی ) کیفیت کو بیان کرنے والا نہ ہو ‘‘۔
    [إظهار الحق والصواب في حكم الحجاب:١/‏٧—سعيد بن وهف القحطاني ،ت: ١٤٤٠]
    حجاب کی مشروعیت :
    قرآن و سنت اور اجماع امت سے حجاب کی مشروعیت کا ثبوت ملتا ہے۔
    حجاب کی مشروعیت قرآن کی روشنی میں :
    اللہ تعالیٰ نبی ﷺکو حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:
    ﴿یَـٰۤأَیُّهَاٱلنَّبِیُّ قُل لِّأَزۡوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاۤءِٱلۡمُؤۡمِنِینَ یُدۡنِینَ عَلَیۡهِنَّ مِن جَلَـٰبِیبِهِنَّۚ ذَالِكَ أَدۡنَىٰۤ أَن یُعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورࣰا رَّحِیمࣰا﴾
    [الأحزاب:٥٩]
    ’’اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ بخشنے والا، نہایت رحم والاہے۔
    عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ:
    ’’أَمَرَ اللَّهُ نِسَاءَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا خَرَجْنَ مِنْ بُيُوتِهِنَّ فِي حَاجَةٍ أَنْ يُغَطِّينَ وجوههن من فوق رؤوسهن بِالْجَلابِيبِ، يُبْدِينَ عَيْنًا وَاحِدَةً‘‘۔
    ’’اللہ تعالیٰ نے ایمان والی عورتوں کو اس بات کا حکم دیا کہ جب وہ اپنے گھروں سے کسی ضرورت کے تحت نکلیں تو جلباب سے سر کے اوپر سے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیں صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں‘‘۔
    [تفسير ابن أبي حاتم:٠/‏٣١٥٤ —ابن أبي حاتم:ت ٣٢٧]
    محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:’’ صحابی کی تفسیر حجت ہے بلکہ بعض اہل علم نے تو مرفوع کے حکم میں تسلیم کیا ہے‘‘۔
    [رسالة الحجاب ١/‏١٥ — ابن عثيمين:ت:١٤٢١]
    ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
    ﴿وَٱلۡقَوَاعِدُ مِنَ ٱلنِّسَاۤءِ ٱلَّـٰتِی لَا یَرۡجُونَ نِكَاحࣰا فَلَیۡسَ عَلَیۡهِنَّ جُنَاحٌ أَن یَضَعۡنَ ثِیَابَهُنَّ غَیۡرَ مُتَبَرِّجَـٰتِۭ بِزِینَةࣲۖ وَأَن یَسۡتَعۡفِفۡنَ خَیۡرࣱ لَّهُنَّۗ وَٱللَّهُ سَمِیعٌ عَلِیمࣱ﴾
    [النور:٦٠]
    ’’اور عورتوں میں سے بیٹھ رہنے والیاں، جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں سو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتار دیں، جب کہ وہ کسی قسم کی زینت ظاہر کرنے والی نہ ہوں اور یہ بات کہ (اس سے بھی) بچیں ان کے لیے زیادہ اچھی ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے‘‘۔
    عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿فليس عليهن جناح ان يضعن ثيابهن﴾  کی تفسیر میں کہتے ہیں: ’’الجلباب، والرداء‘‘۔’’حجاب اور چادر‘‘ ۔[تفسير الطبري جامع البيان – ط دار التربية والتراث ١٩/‏٢١٧ — ابن جرير الطبري:ت ٣١٠]
    حجاب کی مشروعیت حدیث کی روشنی میں :
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:
    ’’لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُصَلِّي الْفَجْرَ فَيَشْهَدُ مَعَهُ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ مُتَلَفِّعَاتٍ فِي مُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ مَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ “۔
    ’’نبی ﷺفجر کی نماز پڑھاتے تھے توآپ کے ساتھ ایمان والی عورتیں اپنے کپڑے میں لپٹی ہوئی شریک ہوتیں پھر نماز بعد اپنے گھروں کو لوٹتیں ، انہیں کوئی نہ پہچان پاتا‘‘ ۔
    [صحيح البخاري – ط السلطانية:١/‏٨٤ — البخاري:ت ٢٥٦]
    اور اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:’
    كُنَّا نُغَطِّي وُجُوهَنَا مِنَ الرِّجَالِ وَكُنَّا نَمْتَشِطُ قَبْلَ ذَلِكَ ‘‘۔
    ’’ ہم اپنے چہروں کو مردوں سے چھپا لیا کرتے تھے حالانکہ اس سے پہلے کنگھی کر کے نکلا کرتے تھے۔
    [صحيح ابن خزيمة ٤/‏٢٠٣ — ابن خزيمة (ت ٣١١) جلباب المرأة (١٠٨) على شرط مسلم ، إرواء الغليل (٤/٢١ ٢) صحيح على شرط الشيخين]
    حجاب کی مشروعیت کی حکمت :
    دکتور سعید بن وہب قحطانی حجاب کی مشروعیت کی حکمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حجاب کی مشروعیت کی کئی ساری حکمتیں ہیں :
    (۱) دلوں کو شیطانی فکر و خیال سے پاک کرنا۔(۲) فاسق و فاجر لوگوں سے عورتوں کی حفاظت کرنا۔(۳) ظاہری اصلاح کرنا ۔(۴) حجاب عورت کی حیا کی پختگی اور اعلی اخلاق کی دلیل ہے۔ (۵)حجاب عورت کی فطرت کے مناسب ہے ۔[إظهار الحق والصواب في حكم الحجاب:١/‏٢١١ — سعيد بن وهف القحطاني(ت ١٤٤٠]
    شرعی حجاب کے شروط:
    (۱)حجاب پورے جسم کو چھپانے والا ہو ۔ (۲)حجاب میں ظاہری زیب و زینت نہ ہو۔(۳)حجاب اتنا موٹا ہو کہ باطن کو ظاہر نہ کرے۔(۴) حجاب کشادہ ہو تنگ نہ ہو۔(۵)حجاب خوشبو سے معطر نہ ہو ۔(۶) حجاب مردوں کے لباس سے مشابہت نہ رکھتا ہو۔ (۷)حجاب اہل کفر کی عورتوں کے لباس کے مشابہ نہ ہو۔(۸)حجاب میں اہل کفر کی نشانی اور دیگر تصاویر نہ ہوں۔[إظهار الحق والصواب في حكم الحجاب ١/‏٢٢٣ — سعيد بن وهف القحطاني (ت ١٤٤٠]
    حجاب کے فوائد :
    حجاب کی مشروعیت بہت سارے فوائد کو شامل ہے ،ان میں سے چند یہ ہیں :
    (۱)دلوں کی پاکیزگی : حجاب مرد اور عورت دونوں کے دلوں کو برے خیالات سے پاک رکھتا ہے ۔
    (۲)اذیت سے بچاؤ : حجاب عورت کو لوگوں کی چھیڑ چھاڑ اور تکلیف دہ رویوں سے بچاتا ہے، چاہے وہ ارادتاً ہو یا نہ ہو۔
    (۳)اللہ کی فرمانبرداری: حجاب پہننا دراصل اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی شریعت پر چلنا ہے۔
    (۴)حجاب باحیا اور آزاد خواتین کی علامت ہے، جبکہ نمائش کرنا پرانے وقتوں میں باندیوں (غلام عورتوں) کا طریقہ تھا۔
    (۵)اللہ کی رضا: حجاب اللہ کو راضی اور شیطان کو ناراض کرتا ہے، اور یہ انسانوں اور جنوں کے شر سے بچنے کی ڈھال ہے۔
    (۶) حجاب وہ حفاظتی راستہ ہے جو اللہ نے مسلمانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے بنایا ہے۔ وغیرہ ۔ [نضرة النعيم في مكارم أخلاق الرسول الكريم ٤/‏١٥٢٨ — مجموعة من المؤلفين]
    حجاب کے موضوع پر لکھی گئی چند اردو اور عربی تالیفات :
    اردو کتابیں :
    (۱) احکام ستر و حجاب از عبد الرحمن کیلانی
    (۲)پردے کی شرعی حیثیت از ابو الحسن مبشر احمد ربانی
    (۳) وجوب نقاب و حجاب ،ابوعدنان محمد منیر قمر
    (۴)مسلمان عورت کا حجاب ،اصلاً یہ ڈاکٹر عبد الرزاق البدر کی تحریر ہے ۔ترجمہ صدیق سلفی
    (۵) لباس اور پردہ،حافظ صلاح الدین یوسف
    عربی کتابیں :
    (۱)حجاب المرأة ولباسها في الصلاة تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم ابن تيمية الحراني الحنبلي الدمشقي (ت ٧٢٨هـ)
    (۲)إظهار الحق والصواب في حكم الحجاب : د. سعيد بن على بن وهف القحطاني
    (۳) مختصر كشف الغمة عن أدلة الحجاب في الكتاب والسنة — أمل آل خميسة
    (۴) رسالة الحجاب : محمد بن صالح بن محمد العثيمين (ت ١٤٢١هـ)
    خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حجاب اسلام کی ایک خوبصورت تعلیم ہے جو سراپا خواتین کے لیے عزت و آبرو کی حفاظت اور بدنگاہی سے بچاؤ کا بہترین سبب ہے ،جس کو اختیار کرنا ہر مسلمان عورت کے لیے واجب اور ضروری ہے مخالفت کی صورت میں دنیاوی ذلت و رسوائی اور اخروی عذاب ہے ۔
    اللہ تعالی ٰہم سب کو اسلامی تعلیمات کی صحیح تصویر کو عام کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings