-
”سلف صالحین“ کون؟ کچھ لوگ ”اقوالِ خلف“ کو ”اقوالِ سلف“ بتا کر پیش کرتے ہیں، ایسے بہروپیوں سے ہوشیار رہیں۔
”سلف صالحین“ صرف صحابہ، تابعین اور اتباعِ تابعین ہیں، بس۔دلائل ملاحظہ ہوں:
صحابہ سے متعلق:
﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا ﴾
”اگر وہ اُسی طرح ایمان لے آئیں، جس طرح تم (صحابہ) لائے ہو، تو وہ ہدایت پا جائیں گے“ ۔
[البقرة: 137]
ابوبردہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا:
’’اَلنُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ‘‘۔
”ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات (قیامت)کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی ۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتن وحروب) ۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ)۔
[صحيح مسلم، رقم2531]
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:
’’قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا، لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ، مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ‘‘۔
”میں نے تم کو ایک ایسے صاف اور روشن راستہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اس راستہ سے میرے بعد صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرے گا، تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا، لہٰذا میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت سے جو کچھ تمہیں معلوم ہے اس کی پابندی کرنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رکھنا“ ۔
[سنن ابن ماجه رقم43 والحدیث صحیح]
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’ تَفْتَرِقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلا فِرْقَةً وَاحِدَةً، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا تِلْكَ الْفِرْقَةُ؟ قَالَ: مَا كَانَ عَلَى مَا أَنَا عليه اليوم وأصحابي‘‘۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے ایک فرقے کے سوا سب جہنم میں ہوں گے۔‘‘صحابہ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! وہ ایک فرقہ کون سا ہے؟‘‘آپ ﷺ نے فرمایا:’’وہ لوگ جو اس راستے پر ہوں گے جس پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں‘‘۔
[تاريخ واسط ص: 196 وإسناده صحيح]
تابعین واتباع تابعین سے متعلق:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:’’خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ‘‘۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: ”سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا جو اس کے بعد ہوں گے پھر جو ان کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اورکبھی گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے‘‘۔
[صحيح البخاري رقم 6429]
قرآن وحدیث کے ان دلائل سے معلوم ہوا کہ صحابہ کا فہم حجت ہے ، ان کے ساتھ تابعین اور اتباع تابعین بھی شامل ہیں ،کیونکہ ”خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي“ والی حدیث میں ان کی ”خیریت“ بیان کی گئی ہے ۔
تاہم ان میں اصل سلف صحابہ ہی ہیں؛کیونکہ صحابہ کے فہم کی حجیت قرآن و حدیث کے متعدد نصوص سے ثابت ہے اور ان کے فہم و منہج کی پیروی کا حکم بھی قرآن و حدیث میں ہے۔
لہٰذا اگر تابعین و اتباعِ تابعین کا فہم و عمل بھی صحابہ کے خلاف ملے، تو ترجیح صحابہ ہی کو دی جائے گی۔
رہے صحابہ، تابعین اور اتباعِ تابعین کے بعد کے لوگ، تو یہ سب کے سب حقیقت میں خلف ہیں اور ان پر بھی سلف صالحین کے منہج و فہم کی پابندی لازم ہے۔ ان متاخرین کو سلف اس اعتبار سے کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بھی سلف کی پیروی کرنے والے ہیں، نہ کہ اس اعتبار سے کہ ان کا اپنا فہم و تفقہ حجت ہے۔ اور اس اعتبار سے آج کے پیروکارانِ سلف بھی سلف ہیں، مگرکیا ان کا فہم و شعور بھی حجت ہے ؟
نیز متاخرین کو لغوی اعتبار سے بھی سلف کہہ دیا جاتا ہے، اور لغوی اعتبار سے تو ہر دور کے لوگ بعد میں آنے والے ادوار کے لیے سلف ہوں گے۔ بلکہ آج کے زندہ حضرات آئندہ صدیوں کے لیے سلف ہوں گے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آئندہ صدیوں کے لیے آج کے لوگوں کا فہم و ادراک حجت ہوگا۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ اپنے استاد امام احمد رحمہ اللہ(المتوفی241ھ) سے نقل کرتے ہیں:
’’قال أحمد بن حنبل ما أحببت في مسألة إلا بحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا وجدت في ذلك السبيل إليه أو عن الصحابة أو عن التابعين فاذا وجدت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم أعدل إلى غيره فاذا لم أجد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعن الخلفاء الاربعة الراشدين المهديين فاذا لم أجد عن الخلفاء فعن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم الأكابر فالاكابر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا لم أجد فعن التابعين وعن تابعى التابعين وما بلغنى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديث بعمل له ثواب إلا عملت به رجاء ذلك الثواب ولو مرة واحدة‘‘۔
” امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے کسی بھی مسئلے میں فتویٰ دینا پسند نہیں کیا مگر رسول اللہ ﷺ کی حدیث کی روشنی میں، بشرطیکہ مجھے اس مسئلے میں حدیث تک پہنچنے کا کوئی راستہ مل گیا ہو۔ یا پھر (میں نے) صحابہ یا تابعین کے آثار سے رہنمائی لی ہے۔پس جب مجھے رسول اللہ ﷺ سے کوئی حکم مل جاتا ہے، تو میں اسے چھوڑ کر کسی دوسرے کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ اور اگر مجھے رسول اللہ ﷺ سے کوئی (صریح)حکم نہ ملے، تو پھر میں چاروں خلفائے راشدین مہدیین کے فیصلے پر عمل کرتا ہوں۔ اور اگر خلفاء سے بھی نہ ملے، تو پھر رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے جو اکابر ہیں، ان کے اقوال لیتا ہوں اور پھر درجہ بدرجہ دوسرے صحابہ کے۔پھر اگر مجھے (صحابہ سے بھی) کچھ نہ ملے، تو پھر تابعین اور تبع تابعین کے اقوال کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی کوئی بھی ایسی حدیث جس میں کسی عمل پر ثواب کی بشارت ہو، مجھ تک نہیں پہنچی مگر یہ کہ میں نے اس ثواب کی امید پر اس عمل کو کم از کم ایک بار ضرور کیا ہے‘‘۔
[ المسودة في أصول الفقۃ،ص336]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (المتوفی728ھ)فرماتے ہیں:
وَمِنْ الْمَعْلُومِ بِالضَّرُورَةِ لِمَنْ تَدَبَّرَ الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ وَمَا اتَّفَقَ عَلَيْهِ أَهْلُ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ مِنْ جَمِيعِ الطَّوَائِفِ: أَنَّ خَيْرَ قُرُونِ هَذِهِ الْأُمَّةِ – فِي الْأَعْمَالِ وَالْأَقْوَالِ وَالِاعْتِقَادِ وَغَيْرِهَا مِنْ كُلِّ فَضِيلَةٍ أَنَّ خَيْرَهَا -: الْقَرْنُ الْأَوَّلُ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَمَا ثَبَتَ ذَلِكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَأَنَّهُمْ أَفْضَلُ مِنْ الْخَلَفِ فِي كُلِّ فَضِيلَةٍ: مِنْ عِلْمٍ وَعَمَلٍ وَإِيمَانٍ وَعَقْلٍ وَدِينٍ وَبَيَانٍ وَعِبَادَةٍ وَأَنَّهُمْ أَوْلَى بِالْبَيَانِ لِكُلِّ مُشْكِلٍ. هَذَا لَا يَدْفَعُهُ إلَّا مَنْ كَابَرَ الْمَعْلُومَ بِالضَّرُورَةِ مِنْ دِينِ الْإِسْلَامِ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ۔
’’اور یہ بات اس شخص کے لیے بالکل واضح اور بدیہی ہے جس نے کتاب و سنت اور تمام گروہوں سے تعلق رکھنے والے اہلِ سنت و الجماعت کے متفقہ فیصلوں میں غور و فکر کیا ہو: کہ اس امت کے بہترین زمانے اعمال، اقوال، عقیدے اور ہر دوسری فضیلت کے اعتبار سے سب سے پہلے (صحابہ کا) زمانہ ہے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئے (تابعین)، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئے (تبع تابعین)، جیسا کہ یہ بات نبی کریم ﷺسے متعدد طرق سے ثابت ہے۔ اور یہ کہ وہ (سلف) ہر فضیلت میں خلف ( اپنے بعد آنے والوں) سے افضل تھے، خواہ وہ علم ہو، عمل ہو، ایمان ہو، عقل ہو، دین ہو، بیان ہو یا عبادت۔ اور یہ کہ کسی بھی مشکل مسئلے کی وضاحت کے لیے وہی سب سے زیادہ موزوں اور حقدار ہیں۔ اس بات کا انکار وہی شخص کر سکتا ہے جو دینِ اسلام کی ان باتوں کا جان بوجھ کر انکار کرے جو واضح طور پر ثابت ہیں، اور جسے اللہ نے علم کے باوجود گمراہی میں ڈال دیا ہو‘‘۔
[مجموع الفتاوىٰ،ت ابن قاسم: 4/ 158]
شیخ ابن العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فإن قيل: ما الحد الفاصل بين السلف والخلف؟ نقول: أولاً: اعلم أن السلف قد يراد به المذهب، وهذا يشمل من أخذ بهذا المذهب إلى يوم القيامة، وليس له حد زمني، فكل من قال بما دل عليه الكتاب والسنة فهو من السلف، وعلى هذا فلا حد له.وأما الحد الزمني: فإن المراد بالسلف هم القرون الثلاثة المفضلة، الصحابة والتابعون وتابعوهم، فهؤلاء هم السلف، ومن بعدهم فهم خلف۔
”اگر یہ سوال کیا جائے کہ: سلف اور خلف کے درمیان حدِ فاصل کیا ہے؟ تو ہم کہیں گے: سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ ”سلف“ سے کبھی مذہب اور منہج مراد لیا جاتا ہے، اور یہ (مفہوم) ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو قیامت کے دن تک اس منہج کو اختیار کریں گے، اس کی کوئی زمانی حد نہیں ہے۔ چنانچہ، ہر وہ شخص جو کتاب و سنت کے دلائل کے مطابق بات کرتا ہے، وہ سلفی ہے، اور اس اعتبار سے اس کی کوئی حد متعین نہیں ہے۔لیکن جہاں تک زمانی حد (Time Period) کا تعلق ہے، تو (اس لحاظ سے) ”سلف“ سے مراد وہ تینوں فضیلت والے قرونِ اولیٰ والے ہیں، یعنی: صحابہ، تابعین، اور ان کے اتباع ۔ پس یہی لوگ ”سلف“ ہیں، اور جو ان کے بعد آئے، وہ ”خلف“ ہیں۔“
[ شرح ألفية ابن مالك للعثيمين 43/ 13 بترقيم الشاملة]
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’السلفية نسبة إلى السلف،فيجب أن نعرف من هم السلف إذا أُطلق عند علماء المسلمين :السلف، وبالتالي تُفهم هذه النسبة وما وزنها في معناها وفي دلالتها، السلف: هم أهل القرون الثلاثة الذين شهد لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالخيرية في الحديث الصحيح المتواتر المخرج في الصحيحين وغيرهما عن جماعة من الصحابة عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أنه قال: (خير الناس قرني، ثم الذين يلونهم ، ثم الذين يلونهم ) هدول القرون الثلاثة الذين شهد لهم الرسول عليه السلام بالخيرية،فالسلفية تنتمي إلى هذا السلف، والسلفيون ينتمون إلى هؤلاء السلف‘‘۔
’’لفظ ”سلفیت“ ، ”سلف“ کی طرف نسبت ہے، چنانچہ ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ جب علمائے مسلمین کے ہاں مطلق طور پر ”سلف“ کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد کون لوگ ہوتے ہیں؟ تاکہ اس کے نتیجے میں اس نسبت کو سمجھا جا سکے اور اس کے معنیٰ و دلالت کا وزن (اور اہمیت) معلوم ہو سکے۔
”سلف“ سے مراد ان تین زمانوں (قرونِ ثلاثہ) کے لوگ ہیں جن کے خیرِ امت ہونے کی گواہی رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس حدیثِ صحیح و متواتر میں دی ہے جو صحیحین (بخاری و مسلم) وغیرہ میں صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:(بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے)۔ یہ وہ تین زمانے ہیں جن کے لیے رسول اللہ ﷺنے بھلائی اور خیر کی گواہی دی۔ پس، ’’سلفیت‘‘ اسی سلف سے منسوب ہے اور سلفی حضرات انہی سلفِ صالحین کی طرف خود کو منسوب کرتے ہیں۔
[سلسلة الھدى والنور: 001]
ایک نکتہ یہ بھی ذہن میں رہے کہ اگر اصل سلف کے علاوہ بعد کے ادوار کے لوگوں کو بھی سلف کہہ کر ان کے فہم کو حجت گردانا جانے لگا، تو پھر اختلافِ امت کو حل کرنے کے لیے سلف کے فہم و منہج کو فیصل ماننے کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جائے گا، کیونکہ بعد میں امت کے اندر اختلافات پیدا ہو گئے اور اس بنا پر ہر گروہ کے سلف بھی الگ الگ ہو گئے ہیں۔ جبکہ صحابہ، تابعین اور اتباعِ تابعین بالاتفاق اہلِ سنت سب کے سلف ہیں، اور ہر گروہ پر ان کے قول و فہم سے حجت قائم کی جا سکتی ہے۔
اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اختلاف و افتراق سے متعلق حدیث میں نبی کریمﷺ نے صرف صحابۂ کرام کے منہج کو معیار قرار دیا ہے، کیونکہ یہی معیار ہر دور کے اختلافات میں حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا کر سکتا ہے۔