-
ایما ن کی حفاظت کے لیے فتنوں سے دوری افضل ترین عمل ہے عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:’’يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ‘‘.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑی کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلا جائے گا۔ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے وہاں بھاگ کر آ جائے گا‘‘۔
[صحيح البخاري: 7088]
راوی کا تعارف: (۱)ان کانام ’’سعد بن مالک بن سنان الخزرجی الانصاری‘‘ ہے۔(۲)انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بارہ غزوہ کیا۔(۳)نبی ﷺ کےعلاوہ کئی ایک صحابہ سے انہوں نے حدیث روایت کیاہے،جیسے قتادہ بن النعمان، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، زید بن ثابت، ابو قتادہ الانصاري، عبد الله بن سلام، اسيد بن حضير، ابن عباس، ابو موسیٰ الاشعری، معاویہ، جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہم ۔
قال حنظلة بن أبي سفيان، عن أشياخه: لم يكن أحد من أحداث أصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أفقه من أبي سعيد.
حنظلہ بن ابی سفیان اپنے اساتذہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:’’ رسول اللہ ﷺ کے جوان صحابہ میں سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے زیادہ فقہ میں گہرائی و گیرائی کسی اور کو نہ حاصل تھی‘‘۔ بعض جگہوں پر ’’اعلم‘‘کا بھی لفظ ہے ،یعنی کہ وہ فقہ کے سب سے زیادہ جانکار تھے ۔
(۴) ان کاانتقال 74ھ میں ہوا۔[تھذيب التهذيب:1/ 697] (۵)ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سےکل (1170) حدیثیں مروی ہیں ۔ [سير أعلام النبلاء:3/ 172]
مسائل :(۱) اس حدیث میں فتنوں سے بچنے کی ترغیب اس حد تک ہے کہ اگر بستی چھوڑ کر پہاڑوں میں رہ کر بھی فتنوں سے انسان بچ سکے تو اس کے لیے ایسا کرنا بہتر ہے۔(۲) جس شخص کے لیے اپنا ایمان بچانا مشکل ہو تو اس کے لیے آبادی سے دوری اور بکریاں پالنا بہتر اور افضل ہے۔(۳)آنے والے زمانے میں فتنوں کی کثرت ہوگی اور ان فتنوں کے سبب انسان کو اپنے دین کا خطرہ ہوگا۔(۴)فتنوں کے زمانے میں دین کی حفاظت ایک مسلمان پرواجب ہے۔(۵)اس حدیث میں آپﷺ نے خبر دی ہے کہ آنے والے زمانہ میں فتنوں کی کثرت ہوگی ۔(۶)فتنوں کے وقت ایک مومن کا کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے ،اسے آپ ﷺنے اس حدیث میں بیان فرمایا ہے۔(۷)بکریوں کا پالنا یا چرانا کوئی ایسا عمل نہیں ہے ،جسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جائے۔