-
اسلام :عورتوں کے حقوق کا محافظ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ’’جو بھی نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ضرور انہیں ان کا بدلہ دیں گے ان اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے‘‘۔ [سورۃ النحل : ٩٧]
قابل احترام قارئین! اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بے شمار مخلوقات پیدا فرمائی ہیں اور ان سب میں شرف و منزلت کے اعتبار سے انسان کو سب سے اونچے مقام پر رکھا، فرمایا:﴿ وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ ﴾ ’’یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت دی‘‘۔
[سورۃ الإسراء : ٧٠]
انسان کی اسی اہمیت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے اس کی ہدایت و رہنمائی کا مکمل سامان مہیا فرمایا اور کائنات کی ہر چیز کو اس کے لیے مسخر کر دیا، اور اسی طرح رب العالمین نے انسانوں میں دیگر مخلوقات کی طرح نر و مادہ کا فرق رکھا، لیکن بحیثیتِ انسان اس کے مرتبے میں، ہدایت اور مسخر کردہ اشیاء سے فیض یاب ہونے میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا، جینے کا حق، آزادی کا حق اور تعلیم کا حق مرد و عورت دونوں کو برابر شامل ہے، لیکن زمانۂ قدیم میں ان حقوق کو عورتوں سے سلب کر لیا گیا تھا، وہ لوگ عورت سے سب سے پہلے حقِ حیات ہی چھین لیتے اور اگر کبھی یہ حق مل بھی جاتا تو آگے کے حقوق پر وار کرتے اور اس کی زندگی موت ہی کی ایک صورت بن کر رہ جاتی، عورت کبھی کہیں منحوس سمجھی جاتی تو کہیں شر و فتن کا سرچشمہ، کوئی اس کو محض قابلِ استعمال شے تصور کرتا، تو کوئی اس پر طرح طرح کی پابندیاں لگا کر معاشرے میں بے بس و مجبور کر دیتا، الغرض عورت کو اس کا مقام جو بحیثیتِ انسان اور اللہ کی بندی ہونے کے ناطے ملنا چاہیے تھا، کسی قوم نے آج تک فراہم نہیں کیا۔
بالآخر خالقِ انسانیت کو ظلم و جبر کی چکی میں پستی اس مخلوق پر رحم آیا اور اس پر احسان کیا، چنانچہ اسلام جو امن و سلامتی کی دعوت اور حقوق کی ضمانت لے کر نمودار ہوا، اس میں خواتین کے نام بڑا پیغام بھیجا، اس کو معاشرے میں ایک نمایاں مقام دلایا، اس کے حقوق متعین فرمائے، اس پر آسانی کی، اس کی قدر سکھائی، اس کی کفالت و حضانت پر بشارت دی، اس کو صالحیت کی شرط کے ساتھ دنیا کا قیمتی متاع بتایا، الغرض اس کو دائرۂ اسلام میں مکمل محفوظ و مامون کر دیا۔
ایمانیات، عبادات، اخلاقیات اور معاملات ہر باب میں اس کو شامل فرمایا اور ان پر اجر کا وعدہ بھی کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
[سورۃ النحل: ۹۷]
’’جو بھی نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ضرور انہیں ان کا بدلہ دیں گے ان اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام نے عورت کو ایک اونچے مقام پر فائز کیا اور یہ حقیقت ان جاہل لوگوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جن کے نزدیک عورت ہر لحاظ سے کمتر تصور کی جاتی رہی۔
سب سے پہلے ایک عورت کو بیٹی کی شکل میں والدین کی سعادت کا ذریعہ بنایا، نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
’’وَمَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَ ضَمَّ أَصَابِعَهُ‘‘۔
’’جس نے دو لڑکیوں کی ان کی بلوغت تک پرورش کی تو وہ اور میں قیامت کے دن اس طرح ملے ہوئے ہوں گے جس طرح یہ دونوں انگلیاں اور آپ نے شہادت اور بعد والی انگلی کو ملایا‘‘۔
[صحیح مسلم : ٦٦٩٥]
مذکورہ حدیث کے ذریعے نبی ﷺ نے زمانۂ جاہلیت کی زندہ درگور کی جانے والی رسم کو ہی درگور کر دیا۔
اسی طرح بہن کی حیثیت سے بھی عورت کو نظر انداز نہیں کیا گیا، بلکہ قرآن نے دو معزز ہستیوں کے واقعات میں بہن کی طرف ان کی نسبت کا ذکر فرما کر ان کے مقام کو واضح فرمایا۔
پہلا واقعہ مریم علیہا السلام کا، جب لوگوں نے ان پر تہمت تراشی کی تو ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
﴿يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا﴾
[سورۃ مریم : ۲۸]
’’اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی‘‘۔
اور دوسرا واقعہ موسیٰ علیہ السلام کا، جن کی بہن کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ فَبَصُرَتْ بِهِ عَنْ جُنُبٍ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾
[سورۃ القصص : ۱۱]
’’اور موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے ان کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا، تو وہ اسے دور ہی دور سے دیکھتی رہی اور دوسروں کو اس کا پتہ نہ چل سکا‘‘۔
بیٹی اور بہن سے آگے جب ایک عورت کسی کی بیوی کہلاتی ہے تو اسلام نے اس مقدس رشتے کی قدر و قیمت دوگنی کر دی اور صالحیت کی موجودگی میں اس کو دنیا کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیا، فرمایا:
’’اَلدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ‘‘۔
’’دنیا متاع (کچھ وقت تک کے لیے فائدہ اٹھانے کی چیز) ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے‘‘۔
[صحیح مسلم : ٣٦٧٩]
محترم قارئین! اب ہم بات کریں عورت بحیثیت بیوی، تو یہ چیز سمجھ آتی ہے کہ عورت کو سب سے زیادہ ظلم و ستم کا نشانہ اسی رشتے میں بنایا گیا، بیوی کی شکل میں عورت سب سے زیادہ ستائی گئی، بلکہ آج بھی دنیا کی لبرل تہذیبیں اس معاملے میں اپنی چالیں چل رہی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ طور طریقے بدل گئے، لیکن مقصد اس کو دنیا کے سامنے حقارت و ذلت کے ساتھ پیش کرنا ہی ہے۔
غور کریں! اسلام نے کس قدر عمدگی کے ساتھ بیوی کے بارے میں مردوں کو ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا:
﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
[سورۃ البقرۃ : ۲۲۸]
’’اور عورتوں کے بھی اچھائی کے ساتھ ویسے ہی حق ہیں جیسے اُن پر مردوں کے ہیں‘‘۔
اور نبی کریم ﷺ نے ترہیب کا پہلو اپناتے ہوئے فرمایا:
’’فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ‘‘۔
’’عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘‘۔
[صحیح مسلم : ٦٩٥٠]
معزز قارئین! غور فرمائیں، کیا عورت کی ایسی تکریم بھی کسی مذہب نے کی ہے؟؟
اور پھر یہی عورت جب ماں کے مبارک رشتے سے سرفراز ہوتی ہے تو پھر اس کے مقام و مرتبہ کا کیا کہنا، سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے اس کے ایامِ حمل سے لے کر ایامِ رضاعت و پرورش کی ساری روداد نقل فرما کر اس کی عزت و قدر کرنے کی وصیت فرمائی :
﴿وَ وَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ﴾
[سورۃ لقمان : ١٤]
’’ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کی ہے، اس کی ماں نے دُکھ پر دُکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہوئی، میرے شکر گزار بنو اور اپنے والدین کے بھی، آخر میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے‘‘۔
اور حدیث میں بھی ماں کو باپ سے تین گنا زیادہ درجہ دیا گیا، نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا:
’’مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أَبُوكَ‘‘۔
’’میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا: تمہاری ماں ہے، پوچھا: اس کے بعد کون؟ فرمایا: تمہاری ماں، پھر پوچھا: اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا: تمہاری ماں، انہوں نے پوچھا: اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا: تمہارا باپ‘‘۔
[صحیح بخاری : ٥٩٧١]
مذکورہ قریبی رشتوں کے علاوہ اسلام نے خالہ، پھوپھی، بھانجی اور بھتیجی کو بھی محرمات کی فہرست میں شامل فرما کر ایک قسم کا تحفظ عطا کیا ہے، جو خواتین کے مقام و مرتبہ میں اضافے کا باعث ہے۔
اسلام نے جہاں عورت کو ایک مقام دیا اور ہر حیثیت سے اس کی عزت و تکریم کی وہیں اس کے حقوق بھی متعین کیے تاکہ اس کی بلند مقامی کا ثبوت فراہم کرے، اور ان نادان لوگوں کی نادانی کا ازالہ کرے جو سمجھتے ہیں کہ عورت مرد کی محکوم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اپنی کوئی مرضی اور اختیار نہیں۔
پہلا حق: اسلام نے عورت کو کئی حقوق دیئے ہیں ان میں سب سے پہلا قابل ذکر جینے کا حق ہے، جو اسلام سے قبل اسے حاصل نہ تھا اور اسلام نے اس حق کو چھیننے والوں کی تہدید کی فرمایا :
﴿وَإِذَا الْمَوْؤٗدَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتُ﴾
[ سورۃ التکویر : ۰۸,۰۹]
’’اور جب قیامت کے دن زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئی‘‘۔
دوسراحق: اسی طرح تعلیم کا حق دیا جو عورت سمیت ساری انسانیت کی ترقی کا زینہ ہے، اسلام نے عورت کو اپنے حدود و قیود کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے اس ترقی میں شامل ہونے کی بھر پور اجازت دی، قرون اولیٰ کی خواتین ہمارے لیے اسوہ ہیں کہ جس طرح صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حصول علم اور اس کی تشہیر میں سرگرم رہتے بالکل اسی طرح صحابیات رضی اللہ عنہن نے بھی اس میدان میں نمایاں کارنامے انجام دیئے۔
تیسرا حق: یہ بات مسلّم ہے کہ عورت کا نکاح اس کے ولی کے ذمہ ہے، جس کی موجودگی کے بغیر نکاح باطل ہے لیکن عورت اس دوران کلی طور پر بے اختیار نہیں ہے، بلکہ نکاح کے معاملہ میں اسلام نے عورت سے اجازت لینا ضروری قرار دیا، نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :’’لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ أَنْ تَسْكُتَ‘‘۔
’’بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ کرلیا جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ مل جائے، صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کنواری عورت اجازت کیسے دے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے ،یہ خاموشی ہی اس کی اجازت سمجھی جائے گی‘‘۔
[صحیح بخاری : ٥١٣٦]
چوتھا حق: اسی طرح عورت سے نکاح کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو مہر دینا بھی ضروری ہے، اسلام سے قبل بھی مہر کا تصور موجود تھا لیکن لوگوں نے عورت کو اس حق سے محروم کر رکھا تھا، اسلام نے یہ حق بھی اسے دلوایا اور فرمایا :﴿ وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحْلَةً ﴾ [سورۃ النساء : ٤] ’’عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی سے دو‘‘۔
پانچواں حق: نیز نکاح کے بعد بسا اوقات زوجین کے درمیان کئی اختلاف کی گنجائش رہتی ہے تو ایسے ناگزیر موقع پر مرد کو حق طلاق حاصل ہے تو دوسری طرف عورت بھی خلع کا استحاق رکھتی ہے یعنی اگر شوہر سے کسی معقول سبب کے خلاصی چاہتی ہے تو شوہر کا مہر واپس کرکے نکاح سے آزاد ہو سکتی ہے۔
چھٹاحق: اسی طرح عورت کو باپ کی میراث میں حق حاصل ہے گرچہ کہ وہ شوہر کی زیر کفالت ہو، اور شوہر کے مال میں بھی اس کا حصہ مقرر ہے ، بلکہ بیٹے کی طرف سے چھوڑے ہوئے مال سے بھی کوئی اس کو بے دخل نہیں کر سکتا۔
افسوس کہ اس معاملہ میں عورت کی حق تلفی زمانہ جاہلیت میں تو ہوتی ہی رہی لیکن آج بھی مسلم معاشرے میں موجود ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا دو ٹوک فیصلہ ہے: ﴿ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ﴾
[سورۃ النساء : ٧]
’’مردوں کے لیے اس مال سے حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں (اسی طرح) عورتوں کے لیے بھی اس مال سے حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں‘‘۔
الغرض اسلام نے عورت کو ہر وہ حق عطا کیا جس سے وہ ظلم و تشدد کی زد میں محروم کر دی گئی تھی، اور کوئی نہیں تھا جس سے وہ ان حقوق کا مطالبہ کرے اور وہ اس مطالبہ کو پورا کرے، سبحان اللہ! عورت پر دین اسلام کے کتنے عظیم احسانات ہیں۔مگر نہایت افسوس کا مقام ہے کہ آج کے پُر فتن دور میں مسلم خواتین اپنے مقام ومرتبہ سے نا آشنا ہیں، انہیں اپنی قدر ومنزلت کا علم نہیں جس کے سبب وہ اپنا وقار گنوا بیٹھی ہیں، اور جس میدان میں جو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے وہاں غائب اور جس میدان سے دور رہنا چاہیے وہاں پیش پیش ہیں، نتیجتاً عائلی اور معاشرتی اختلافات اور بے حیائی کا بازار گرم ہوتا جا رہا ہے۔ واللہ المستعان
الله تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلم خواتین کو اپنا مقام ومرتبہ جان کر صحیح معنوں دین اسلام کی فرمانبرداری کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین