-
حسد کی تباہ کاریاں، اسباب اور علاج (قرآن وسنت اور اقوال سلف کی روشنی میں) (قسط اول) دورِ حاضر میں بالخصوص سوشل میڈیا کے اس پرفتن ماحول میں جہاں ہر شخص اپنی زندگی کے بہترین لمحات، کامیابیوں اور نعمتوں کی نمائش میں مصروف ہے، حسد کی بیماری ایک خطرناک وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے، ورچوئل دنیا کی اس چکاچوند نے دلوں میں موازنہ اور مسابقت کی ایک ایسی دوڑ پیدا کر دی ہے جس نے انسان کا ذہنی و قلبی سکون چھین لیا ہے، دوسروں کی ترقی، علم، دولت، شہرت یا مقبولیت کو دیکھ کر دل میں جلن اور بے چینی کا پیدا ہونا اب ایک عام سی بات بن چکی ہے، عوام الناس تو درکنار افسوسناک امر یہ ہے کہ دین اور علم سے وابستہ طبقات کے درمیان بھی یہ وبا تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے، حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اس مرض سے سب سے زیادہ محفوظ ہونا چاہیے تھا، دینی مراکز، مساجد، مدارس اور سوشل میڈیا پر دوسروں کی علمی مقبولیت، دعوتی سرگرمیوں اور وعظ و تدریس کی کامیابی پر حسد کرنا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’حسد نہایت مذموم اور قبیح خصلت ہے، بڑے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ چیز سب سے زیادہ علماء اور طلبۂ علم کے درمیان پائی جارہی ہے، اگرچہ یہ تاجروں کے درمیان بھی موجود ہے جو ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں، اور ہر پیشے والا شخص اپنے ہم پیشہ افراد سے حسد کرتا ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ علماء اور طلبۂ علم کے درمیان اس کی شدت کہیں زیادہ ہے، حالانکہ مناسب اور لائقِ تر بات تو یہ تھی کہ اہلِ علم حسد سے کوسوں دور اور کمالِ اخلاق کے سب سے زیادہ قریب ہوتے‘‘۔
[مجموع فتاوىٰ ٢٣٦/٢٦]
لہٰذا ایسے پرفتن حالات میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اس مہلک بیماری کی حقیقت، اس کے اسباب اور تدارک کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے تاکہ ہم اپنے قلوب کا حقیقی محاسبہ کر سکیں، درج ذیل سطور اسی اہم ضرورت کا ایک علمی اور اصلاحی جائزہ ہیں۔
حسد کا مفہوم :
حسد کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو ملنے والی دینی یا دنیاوی نعمت کو دیکھے، تو دل میں یہ تمنا کرے کہ یہ نعمت اس سے زائل ہو جائے، چھن جائے اور اسے مل جائے، یا کم از کم اس شخص کے پاس نہ رہے۔
[النهاية في غريب الحديث لابن الأثير:٣٨٣/١]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (۷۲۸ھ) نے حسد کی جامع تعریف یوں فرمائی ہے کہ: ’’حسد دراصل محسود (جس سے حسد کیا جائے) کی اچھی حالت کو دیکھ کر دل میں بغض اور کراہت محسوس کرنے کا نام ہے‘‘۔
[مجموع الفتاوىٰ١١١/١٠]
اسی طرح شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ (۱۴۲۱ھ) فرماتے ہیں:
’’انسان کا اس چیز کو ناپسند کرنا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ کسی اور کو بطورِ انعام عطا فرمائی ہے، یہی حسد ہے، اس کی مثال یوں ہے کہ کوئی شخص اس بات کو ناپسند کرے کہ اللہ نے فلاں شخص کو مال، اولاد، نیک بیوی، علم، عبادت کی توفیق یا کسی بھی دوسری نعمت سے نوازا ہے، اس ناپسندیدگی کے ساتھ چاہے وہ اس نعمت کے زوال کی تمنا کرے یا نہ کرے، یہ احساس بلاشبہ حسد کے زمرے میں آتا ہے‘‘۔
[مجموع فتاوىٰ ورسائل العثيمين:٢٢٥/٢٦]
رشک اورحسد کے درمیان فرق :
یہاں رشک اورحسد کے درمیان فرق کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ جائز اور ناجائز کا فرق کیا جا سکے :
حسد سے مراد یہ تمنا کرنا ہے کہ کسی دوسرے شخص سے اس کی نعمت چھن جائے (چاہے وہ نعمت حاسد کو ملے یا نہ ملے)، یا کسی کے پاس موجود نعمت حال یا مستقبل میں باقی نہ رہے، درحقیقت حسد کرنے والا اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے پر کوئی فضل یا نعمت نازل فرمائے۔
جبکہ اس کے برعکس رشک یہ ہے کہ انسان یہ تمنا کرے کہ جیسی نعمت دوسرے شخص کے پاس ہے، ویسی اسے بھی مل جائے، لیکن اس کے دل میں یہ خواہش ہرگز نہ ہو کہ وہ نعمت اس دوسرے شخص سے چھن جائے، شرعی لحاظ سے اس میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے والے کو برا سمجھا جاتا ہے، بلکہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں یہ ایک طرح کی مستحسن مسابقت ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَفِىۡ ذٰلِكَ فَلۡيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوۡنَ﴾
[المطففين: ٢٦]
ترجمہ: ’’سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنا چاہیے‘‘۔
اسی مفہوم کی تائید احادیثِ مبارکہ سے بھی ہوتی ہے، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا‘‘۔
’’حسد (رشک) صرف دو باتوں میں جائز ہے، ایک تو اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اس دولت کو راہ حق میں خرچ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہو اور ایک اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے حکمت (کی دولت) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ذریعہ سے فیصلہ کرتا ہو اور (لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو‘‘۔
[صحيح البخاري: ٧٣]
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’غبطہ (رشک) ایمان کا حصہ ہے، جبکہ حسد نفاق کی علامت ہے، مومن رشک کرتا ہے، اور منافق حسد کرتا ہے‘‘۔ [حلية الأولياء لأبي نعيم الأصبهاني:٩٥/٨]
قرآن و سنت اور سلف صالحین کے اقوال کی روشنی میں حسد کی مذمت :
(ا) حسد کی مذمت پر قرآن سے دلائل:
(۱) اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:
﴿اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖۚ﴾
[النساء: ٥٤]
ترجمہ:’’کیا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے‘‘۔
(۲) ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
﴿ تِلۡكَ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ نَجۡعَلُهَا لِلَّذِيۡنَ لَا يُرِيۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فَسَادًا ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾
[القصص: ٨٣]
ترجمہ: ’’آخرت کا یہ بھلا گھر ہم ان ہی کے لیے مقرر کردیتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے نہ فساد کی چاہت رکھتے ہیں پر ہیزگاروں کے لیے نہایت ہی عمدہ انجام ہے‘‘۔
شیخ صالح بن الفوزان حفظہ اللہ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں:
’’جو شخص اپنے لیے خیر کو پسند کرتا ہے لیکن لوگوں کے لیے شر کو، اس کا یہ عمل زمین میں فساد اور تکبر شمار ہوتا ہے، کیونکہ وہ اللہ کی نعمت کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھنا چاہتا ہے اور کسی دوسرے کے لیے خیر کا خواہاں نہیں ہوتا، اور یہی دراصل حسد ہے‘‘۔[شرح كتاب الكبائر:ص ۸۰]
(۳) اسی طرح اللہ نے حاسدوں کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے، فرمایا:
﴿وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ﴾
[الفلق: ٥]
ترجمہ:’’اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وہ حسد کرے‘‘۔
اس آیت میں حاسد کے شر کو تاریکی، جادو اور دیگر آفات کے برابر لا کھڑا کیا گیا ہے۔
(ب) حسد پر احادیثِ مبارکہ سے دلائل :
(۱) زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
’’دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ، وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعَرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَاكُمْ لَكُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ‘‘۔
’’تمہارے اندر پچھلی امتوں کا ایک مرض گھس آیا ہے اور یہ حسد اور بغض کی بیماری ہے، یہ مونڈنے والی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ سر کا بال مونڈنے والی ہے بلکہ دین مونڈنے والی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ جنت میں نہیں داخل ہو گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، اور کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتا دوں جس سے تمہارے درمیان محبت قائم ہو: تم سلام کو آپس میں پھیلاؤ‘‘۔
[سنن ترمذی: ٢٥١٠، قال الالبانی: حسن]
(۲) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ‘‘۔ ’’ہر صاف دل، زبان کا سچا‘‘، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں، صاف دل کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ، لَا إِثْمَ فِيهِ، وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ، وَلَا حَسَدَ‘‘۔
’’پرہیزگار صاف دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد ہو‘‘۔
[سنن ابن ماجة: ٤٢١٦، صحيح]
(۳) انس مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا‘‘۔
’’آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو‘‘۔
[صحيح البخاري: ٦٠٦٥]
(۴) ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’لا يزالُ النّاسُ بخيرٍ؛ ما لم يتحاسَدوا‘‘۔
’’لوگ اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہیں گے جب تک ایک دوسرے سے حسد نہیں کریں گے‘‘۔
[السلسلة الصحيحة: ٣٣٨٦]
(ج) حسد کی سنگینی پر سلف کے اقوال :
(۱) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’اللہ عزوجل کی نعمتوں سے عداوت نہ رکھو‘‘، عرض کیا گیا: بھلا اللہ کی نعمتوں سے کون عداوت رکھتا ہے؟، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں سے ان نعمتوں پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائی ہے‘‘
[بهجة المجالس لابن عبد البر:ص ٨٨]
(۲) معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
’’میں ہر شخص کو راضی کرنے کی قدرت رکھتا ہوں، سوائے اس حاسد کے جو کسی کی نعمت پر جلتا ہو، کیونکہ اسے اس نعمت کے زوال (چھن جانے) کے سوا کوئی اور چیز راضی نہیں کر سکتی‘‘۔
[تاريخ دمشق لابن عساكر:٢٠٠/٥٩]
(۳) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’حسد دراصل انسانی کم ظرفی اور اخلاقی پستی کا نتیجہ ہے، حاسد تاعمر ایسی حسرتوں کا شکار رہتا ہے جن کی کوئی انتہا نہیں، اور نتیجتاً وہ بلند مراتب اور اعلیٰ درجات سے یکسر محروم رہ جاتا ہے‘‘۔
[حلية الأولياء:١٤٧/٩]
(۴) امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’حسد وہ پہلا گناہ ہے جس کے باعث آسمان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی گئی، اور یہی وہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعہ زمین پر اس کی نافرمانی ہوئی، چنانچہ آسمان میں ابلیس نے آدم علیہ السلام سے حسد کیا، اور زمین پر قابیل نے اپنے بھائی ہابیل سے حسد کیا‘‘۔ [تفسير القرطبي:٢٥٩/٢٠]
(۵) امام اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’حسد ایک ایسا انصاف پسند مرض ہے، جو محسود کی بنسبت خود حاسد کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے‘‘۔
[الآداب الشرعية لابن مفلح:١٠٢/١]
(۶) امام ابن القيم رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’چار خصلتیں ایسی ہیں جو انسان کو دوسروں کی نظر میں مبغوض اور قابلِ نفرت بنا دیتی ہیں، وہ ہیں: تکبر، حسد، جھوٹ اور چغل خوری‘‘۔
[زاد المعاد لابن القيم :٦١٣/٤]
(۷) شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’حسد انسان کی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حاسد عموماً محسود پر زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے، وہ اس کے عیوب اور خامیوں کو اچھالتا ہے، لوگوں کو اس سے دور کرتا ہے، اور اس کی عزت و وقار کو ٹھیس پہنچاتا ہے، انہی مذموم رویوں کے باعث حسد کا شمار ان کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو انسان کی جمع شدہ نیکیوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتے ہیں‘‘۔
[مجموع فتاوىٰ:٢٣٠/٢٦]
(۸) شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
’’حسد ایک خطرناک بیماری اور نہایت بری خصلت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو جو نعمت عطا فرمائی ہو، اس کے زوال کی تمنا کرنا حسد کہلاتا ہے، درحقیقت یہ اللہ رب العزت کی حکمت اور اس کی تقسیم پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے، اور یہ یہودیوں اور کافروں کے اوصاف میں سے ہے‘‘۔
[المنتقى من فتاوى فضيلة الشيخ صالح الفوزان:١٦٧/١]
حاسد کا عبرتناک انجام :
بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ پچھلی امتوں میں ایک بادشاہ گزرا ہے، اس کا ایک دربان تھا، جسے بادشاہ اس کی دانشمندی اور دیانت داری کی بنا پر بے حد عزیز رکھتا تھا۔
یہ دربان بادشاہ کو نصیحت کرتے ہوئے اکثر کہا کرتا تھا:’’بادشاہ سلامت! نیکی کرنے والے کے ساتھ نیکی کیجئے، اور برائی کرنے والے کو اس کے حال پر چھوڑ دیجئے، کیونکہ اسے برباد کرنے کے لیے اس کی اپنی برائی ہی کافی ہے‘‘۔
دربار میں اس دربان کا بڑھتا ہوا رسوخ اور عزت دیکھ کر ایک درباری شدید حسد کا شکار ہو گیا، اس نے بادشاہ کے کان بھرنے شروع کیے اور ایک دن موقع پا کر کہا:’’بادشاہ سلامت! یہ دربان جو آپ کا اتنا قریبی ہے، وہ باہر جا کر لوگوں میں پھیلا رہا ہے کہ آپ کے منہ سے بدبو آتی ہے‘‘۔
بادشاہ نے حیرانی سے پوچھا: مجھے تمہاری اس بات کا کیسے یقین آئے؟
حاسد نے چالاکی سے جواب دیا: کل جب وہ دربار میں حاضر ہو تو آپ اسے بات کرنے کے لیے اپنے قریب بلائیے گا، آپ دیکھیں گے کہ وہ کراہت سے اپنی ناک اور منہ پر ہاتھ رکھ لے گا۔
اس سازش کو عملی جامہ پہنانے کےلیے حاسد نے اسی شام دربان کو اپنے گھر دعوت پر بلایا اور اسے ایسا شوربے والا سالن کھلایا جس میں لہسن کی مقدار بہت زیادہ تھی، اگلے دن جب دربان بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو بادشاہ نے اسے جانچنے کے لیے اپنے قریب بلایا، دربان نے سوچا کہ کہیں بادشاہ سلامت کو لہسن کی ناگوار بو سے تکلیف نہ ہو، اس لیے اس نے فوراً اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا۔
یہ منظر دیکھ کر بادشاہ کو حاسد کی بات پر مکمل یقین آ گیا اور اس نے غصے سے دربان کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔
پھر بادشاہ نے قلم دوات منگوا کر ایک خط لکھا اور اس پر شاہی مہر لگوا کر دربان کو حکم دیا کہ یہ فرمان لے کر فلاں گورنر کے پاس جاؤ (بادشاہ کے ایسے خطوط عموماً بہت بڑے انعام و اکرام کا پروانہ سمجھے جاتے تھے اور ان کی مالیت لاکھوں میں ہوتی تھی)، دربان جب وہ خط لے کر خوشی خوشی دربار سے نکلا تو راستے میں اسے وہی حاسد ملا، حاسد نے پوچھا: یہ کیا ہے؟
دربان نے سادگی سے جواب دیا: بادشاہ نے مجھے یہ انعام کا پروانہ عطا کیا ہے۔
حاسد نے لالچ میں آ کر وہ پروانہ مانگ لیا، دربان چونکہ نیک دل تھا، اس نے خوش دلی سے وہ خط اسے تحفہ میں دے دیا۔
حاسد خوشی خوشی وہ خط لے کر مقررہ گورنر کے پاس پہنچا، گورنر نے جیسے ہی خط پڑھا، اس نے فوراً جلادوں کو طلب کیا، اور منتیں کرنے لگا: اللہ کا خوف کرو، یقیناً کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے، بادشاہ سے دوبارہ تصدیق کر لو!
لیکن گورنر نے دو ٹوک جواب دیا: شاہی فرمان کے بعد ہمارے لیے کسی تصدیق کی گنجائش نہیں ہوتی۔
دراصل اس خط میں بادشاہ نے لکھا تھا:
’’جو شخص بھی میرا یہ خط لے کر تمہارے پاس آئے، اسے فوراً قتل کر کے اس کی کھال میں بھوسا بھر دو اور لاش میرے پاس بھیج دو‘‘۔
چنانچہ انہوں نے حکم کی تعمیل کی، حاسد کو قتل کر کے اس کی کھال میں بھوسا بھر کر بادشاہ کے دربار میں بھجوا دیا، جب بادشاہ نے حاسد کی لاش دیکھی تو وہ سخت حیران ہوا، اس نے فوراً دربان کو طلب کیا اور پوچھا: مجھے سچ سچ بتاؤ، جب میں نے تمہیں اپنے قریب کیا تھا تو تم نے اپنے منہ پر ہاتھ کیوں رکھا تھا؟ اور یہ خط اس شخص کے پاس کیسے پہنچا؟
دربان نے عرض کیا: بادشاہ سلامت! اس شخص نے کل میری دعوت کی تھی اور مجھے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن کی مقدار بہت زیادہ تھی، میں نے محض آپ کو لہسن کی بدبو سے بچانے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھا تھا، جہاں تک خط کی بات ہے تو وہ اس نے مجھ سے مانگ لیا تھا، اس لیے میں نے اسے دے دیا۔
یہ سن کر بادشاہ مسکرایا اور بولا:تم بالکل بجا کہتے تھے، اپنے منصب پر واپس لوٹ جاؤ اور وہی بات دہراتے رہو جو تم ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ :’’برے انسان کو برباد کرنے کے لیے اس کی اپنی برائی ہی کافی ہے‘‘۔
اس واقعہ کے بعد بادشاہ نے دربان کی قدر و منزلت میں مزید اضافہ کر دیا اور اسے بے پناہ مال و دولت سے نوازا۔
[حلية الأولياء :٢٢٨/٢]
جاری ……