[contacts]
  • مایوسی کے لمحات

    انسانی زندگی خوشی و غم ، تکلیف و راحت اور آلام و آرام کا ایک ایسا گلشن فانی ہے جس میں چین و سکون اور پریشانی و مشکلات ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں جس کو نبیل عوضی کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ:’’إنھا دار بلاء، دار محن، دارمصائب،دارکرب‘‘ ’’دنیا آزمائش، امتحانات،پریشانی اور تکلیف کا گھر ہے‘‘۔
    [دروس للشيخ نبيل العوضي :31/‏4]
    مصائب کی دشوار گزار راہ پر چلتے ہوئے شریعت اسلامیہ صبر و شکر ، توکل علی اللّٰہ اور استقامت کی تعلیم دیتے ہوئے رجاء مع الخوف کو لازم پکڑنے کی تاکید بھی کرتی ہے لیکن پھر بھی ابن آدم بعض حالات میں رحمان و رحیم جیسی صفات سے متصف ذات سے مایوس و ناامید نظر آتا ہے ۔ مایوسی کے لمحات پر روشنی ڈالنے سے پہلے بنیادی طور پر چند باتوں کا ذکر کرنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا ۔
    (۱) دنیا ابتلا و آزمائش گاہ ہے جس سے راہ فرار نہیں ہے :جیسا کہ ارشاد ربانی ہے :
    ﴿وَلَنَبۡلُوَنَّكُم بِشَیۡءࣲ مِّنَ ٱلۡخَوۡفِ وَٱلۡجُوعِ وَنَقۡصࣲ مِّنَ ٱلۡأَمۡوَالِ وَٱلۡأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَا تِۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّـٰبِرِینَ﴾
    [البقرة:155]
    ’’ اور ہم تمہیں کچھ خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے ضرور آز مائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو‘‘۔
    امام ابن جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:’’الدنيا وضعت للبلاء. فينبغي للعاقل أن يوطن نفسه على الصبر‘‘۔
    ’’ دنیا آزمائش کے لیے بنائی گئی ہے لہٰذا عقلمند کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ صبر کو اپنا وطن یعنی رہائش گاہ بنا لے ‘‘۔
    [ صيد الخاطر1/399 ابن الجوزي(ت 597)]
    (۲)مایوسی انسانی فطرت میں داخل ہے : اللہ کا فرمان: ﴿لَّا یَسۡـَٔمُ ٱلۡإِنسَـٰنُ مِن دُعَاۤءِ ٱلۡخَیۡرِ وَإِن مَّسَّهُ ٱلشَّرُّ فَیَـُٔوسࣱ قَنُوطࣱ﴾
    [فصلت: 49]
    ترجمہ : بھلائی کے مانگنے سے انسان تھکتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور نا امید ہو جاتا ہے ۔
    (۳) مایوسی کفر ہے : فرمان الٰہی ہے: ﴿إِنَّهُ لا يَيْأسُ مِن رَوْحِ اللَّهِ إلا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ﴾ [يوسف:87]
    ترجمہ : یقینا ًرب کی رحمت سے نا امید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں۔
    ایک دوسرے مقام پر ناامیدی کو اہل ضلال کی پہچان بتلائی گئی ہے۔ ﴿وَمَنْ يَقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ﴾
    [الحجر:56]
    ترجمہ : اوراپنے رب کی رحمت سے نا امید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔
    ابو قلابہ کہتے ہیں کہ ایک شخص گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ہلاک ہوگیا میرے لیے تو توبہ ہی نہیں ہے ، چنانچہ ایسا شخص رحمت الٰہی سے مایوس ہوجاتا ہے اور گناہ میں منہمک ہوجاتا ہے حالانکہ اللہ تعالی نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ [تفسير البغوي – إحياء التراث 1/‏240 — البغوي، أبو محمد (ت 516]
    (۴)مایوسی گناہ کبیرہ ہے : عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے نبی ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور سوال کیا کہ اللہ کے نبی ﷺ !کبیرہ گناہ کیا ہے؟تو آپ نے فرمایا: الشِّرْكُ بالله، واليأس من رَوْح الله، والقنوط من رحمة الله، والأمن من مكر الله، وهذا أكبر الكبائر۔ ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور رحمت الٰہی سے مایوس ہونا اور اللہ کے مکر سے خود کو مامون سمجھنا یہ کبیرہ گناہ ہے‘‘ ۔
    [ رواه الطبراني و حسنه الألباني رحمه الله في صحيح الجامع (4603)]
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کبائر کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’’القنوط من رحمة الله‘‘۔’’اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا( بھی) کبیرہ گناہ ہے‘‘۔
    [مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين لابن القيم]
    مایوسی کے لمحات :
    (۱)گناہوں کی کثرت :کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرنا ایک گنہگار کو مغفرت اور بخشش سے مایوس کر دیتا ہے حتیٰ کہ اگر اسے وعظ ونصیحت کی جائے تو بول پڑتا ہے کہ زندگی تو گناہوں میں گزری ہے ایک گناہ اور سہی ، اللہ معاف کرے گا بھی یا نہیں وغیرہ ۔ اس طرح کی باتیں رحمت الہٰی کی وسعت سے عدم معرفت اور لاعلمی کی وجہ سے انسان کہتا ہے کیوں کہ خالق و مالک کا اعلان تو یہ ہے کہ : ﴿ قُلۡ یَـٰعِبَادِیَ ٱلَّذِینَ أَسۡرَفُوا۟ عَلَىٰۤ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوا۟ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ یَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِیعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِیمُ ﴾ [الزمر:53]
    ترجمہ : کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوجاؤ ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے واقعی وہ بڑی بخشش ، بڑی رحمت والا ہے ۔
    صحیح مسلم میں مذکور ننانوے قاتل کی توبہ اور مغفرت کا واقعہ نا امید حضرات کو مایوسی سے باہر نکالنے اور مغفرت کی راہ دکھانے کے لیے کافی ہے ۔ [صحيح مسلم – ت عبد الباقي:8/2118مسلم (ت261)]
    (۲)اولاد کا نہ ہونا :اولاد ایک ایسی نعمت ِبیش بہا ہے کہ جس کے نہ ملنے پر انسان شرک کے دلدل تک پہنچ جاتا ہے، سماج میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ازدواجی زندگی سے منسلک ہونے کے بعد اولاد کی محرومی انسان کی نہ صرف چین و سکون چھین لیتی ہے بلکہ بعض دفعہ وہ شرک کی راہ بھی اختیار کرلیتا ہے ۔ ایسے حضرات کو صبر و ضبط دلانے کے لیے سیرتِ ابراہیم و زکریا علیہما السلام اس مناسبت سے بہترین نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ جن کو ایک ایسی عمر میں اولاد کی نعمت عطا کی گئی جس میں ظاہری و باطنی طور پر اولاد کی ساری امیدیں ٹوٹ جایا کرتی ہیں ۔
    (3)رزق میں تنگی :انسانی زندگی کے تحفظ و بقا کا راز رزق میں مضمر ہے اور رزق کی ذمہ داری رب ذو الجلال نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے ۔ اور یہ نظام ربانی ہے کہ وہ ہر کسی کو روزی دیتا ہے، کسی کو کم کسی کو زیادہ ۔ لیکن چونکہ انسانی فطرت میں مال کی کثرتِ طلب اور طمع رچی بسی ہے بلکہ انسان مال و زر کا ایسا حریص ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایاکہ:’’ اگر ابن آدم کو مال کی دو وادیاں دے دی جائیں تو تیسرے کا طلبگار ہوگا ‘‘۔
    [ صحيح البخاري -8/92 البخاري (ت 256)]
    مال کا ایسا لالچی انسان اگر اسے چاہت کے بقدر رزق یا دولت نہ ملے تو رحمت الٰہی سے مایوس نظر آتا ہے جس سے شریعت اسلامیہ بڑی سختی کے ساتھ منع کرتی ہے ۔
    (۴) شفا نہ ملنا : شدت و رخا انسانی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہے، صحت و تندرستی تو کبھی بیماری ، زیستِ انسانی کا لازمہ ہے، مسلسل مرض میں مبتلا شخص رحمت خداوندی سے مایوس ہوجاتا ہے جو کہ قرآنی اصول کے خلاف ہے ،سیرتِ ایوب علیہ السلام کو پڑھنے کے بعد صبر و ضبط کی ایک الگ کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور تعجب تب ہوتا ہے جب حصول شفا کی خاطر انسان پیر و فقیر تک کے دروازے پر دستک دیتا ہے جو کہ باعث ہلاکت ہے ۔
    عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ’’الْهَلَاكُ فِي اثْنَتَيْنِ: الْقُنُوطِ وَالْعُجْبِ‘‘ ۔’’ہلاکت دو چیزوں کے سبب ہوگی: نا امیدی اور خوش فہمی ‘‘۔
    [الكبائر لمحمد بن عبد الوهاب:1/5 محمد بن عبد الوهاب (ت 1206) ((حلية الأولياء)) لأبي نعيم (7/298)
    مذکورہ لمحات کے علاوہ اور بھی بہت سارے لمحات ہیں جہاں ایک انسان اس ذات سے مایوس ہوجاتا ہے جس کے پاس رحمت کے ننانوے حصے ہیں ، لہٰذا ایک انسان کو اللہ کی ذات سے رحمت کی امید رکھتے ہوئے صبر و تحمل کا پیکر بن کر زندگی بسر کرنا چاہیے نیز تقدیر پر ایمان رکھتے ہوئے’’رَضِينَا قِسْمَةَ الْجَبَّارِ فِينَا‘‘ [موارد الظمآن لدروس الزمان:1/167] کا مصداق ہونا چاہیے ۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ :
    نہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہے امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں (اقبال)
    اخیر میں دعا ہے الٰہی ہم سب کو پیکر صبر و رضا کا مجسم بنا ۔ آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings