[contacts]
  • کتب ستّہ سے ہم کیسےمستفید ہوں؟ (قسط ثانی)

    (لکچر از شیخ :عبد المحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ ، یہ لیکچر انہوں نےجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پیش کیا تھا۔)

    (۱) صحيح البخاري امام بخاری کی صحیح سنت کی کتابوں میں سب سے صحیح کتاب ہے، اس کا موضوع وہ حدیثیں ہیں جن کی سند رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی ہے ۔ امام بخاری کی منشا یہ تھی کہ ان کی کتاب روایت و درایت یعنی حدیث و فقہ دونوں کو شامل ہو۔ یہی وجہ تھی کہ اُنہوں نے ایسا طریقۂ تالیف اپنا یا جو اس طریقے سے ممتاز ٹھہرا جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں اپنایا ہے۔ امام بخاری کا طریقہ یہ ہےکہ وہ حدیثوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور اُن کو الگ الگ کر کے مختلف ابواب کے تحت لاتے ہیں تاکہ ان کے ذریعہ ترجمۃ الباب پر استدلال کر سکیں۔ متعدد مقامات پر حدیثوں کے تکرار کے باوجود امام بخاری کسی مقام کو اسنادی یا متنی فائدے سے خالی نہیں چھوڑتے وہ اس طرح کہ جب وہ حدیث کو دوبارہ لاتے ہیں تو جس شیخ سے اسے ذکر کیا تھا اُس کے بجائے دوسرے شیخ سے ذکر کرتے ہیں۔ اس سے حدیث کے تعدد طرق کا فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔ جن حدیثوں کا تکرار سند و متن دونوں کے ساتھ ہوا ہے وہ بہت تھوڑی سی یعنی بیس سے کچھ زائد ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری (۱۱؍۳۴۰) میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہی بات کشف الظنون (۱؍۳۶۳) میں بھی ہے۔ میں نے اپنی کتاب ’’الفوائد المنتقاة من فتح الباري وكتب أخرى‘‘ میں ان احادیث کے مقامات کی فائدہ نمبر (۲۵۴) میں صراحت کر دی ہے ۔
    امام بخاری نے حدیثوں کو ابواب پر متفرق کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے اس سے بعض حدیثوں کے متعلق یہ سمجھا گیا کہ وہ اپنے مقام میں مذکور نہیں ہے ۔
    چنانچہ بعض علماء کو بعض احادیث کی بابت یہ گمان ہوا کہ کتاب اس سے خالی ہے۔ جیسا کہ امام حاکم رحمہ اللہ کے ساتھ مستدرک میں یہ معاملہ پیش آیا کہ انہوں نے کئی حدیثوں کے بارے میں امام بخاری پر استدراک کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ انہوں نے یہ حدیثیں ذکر ہی نہیں کی ہیں ، حالانکہ وہ سب صحیح بخاری میں موجود تھیں۔ اس کی مثالوں میں وہ حدیث ہے جسے بخاری نے (۲۸۴) كتاب الإجارة کے اندرعَسْبُ الفحل سے ممانعت کے بیان میں روایت کیا ہے ۔ حاکم نے حدیث کی بابت بخاری پر استدراک کیا اور وہم کا شکار ہوگئے ۔ حافظ ابن حجر حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : حاکم حدیث کے استدراک میں وہم میں پڑ گئے ہیں حالانکہ وہ بخاری میں موجود ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ، گویا انہوں نے جب کتاب البیوع میں حدیث کو نہیں پایا تو انہیں یہ وہم ہو گیا کہ بخاری نے اس کی تخریج ہی نہیں کی ہے۔
    جہاں تک فقہ بخاری کی بات ہے تو وہ موصوف کے قائم کردہ اُن تراجم ابواب سے واضح ہے جن کا وصف حافظ ابن حجر نے مقدمہ فتح میں اس طرح بیان کیا ہے کہ ان تراجم ابواب نے افکار کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور عقلوں اور نگاہوں کو تعجب میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ بعجلت حاصل ہونے والے نہیں اور نہ اُن کی مثال ہے ۔ امام بخاری ان میں اپنی باریک بینی کی وجہ سے اپنے ہمسروں میں الگ شان کے مالک ہیں اور ان میں اپنی محققانہ نظر کی وجہ سے اپنے ہمسروں کے درمیان منفرد شہرت کے حامل ہیں ۔
    تراجم ابواب میں امام صاحب کی دقت و باریک بینی کی مثالوں میں سے کتاب الإجارة میں اُن کا یہ قول ہے :’’ اس بات کا بیان کہ آدمی جب کسی مزدور کو مزدوری پر رکھے تاکہ وہ اس کے لیے تین دن یا ایک مہینہ یا ایک سال بعد کام کرے تو ایسا کرنا جائز ہے در آں حالیکہ جب مدت معینہ آجائے تو وہ دونوں اپنی اپنی شرط پر قائم ہوں‘‘ ۔ اس ترجمہ سے مقصود یہ ہے کہ اجارہ(کسی کو مزدوری پررکھنے) کی مدت میں یہ شرط نہیں لگائی جاتی کہ وہ معاملہ طے کرنے کے وقت سے متصل ہو(بلکہ دونوں کے درمیان فاصلہ بھی رکھا جا سکتا ہے)۔ اس ترجمہ کے تحت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث (۲۲۶۴) لائے ہیں جو اِس بات کے بیان میں ہے کہ نبی ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بنی دیل کے ایک شخص کو بطور ماہر رہنما کے اجرت پر رکھا تھا اور دونوں حضرات نے اپنی اپنی اونٹنیاں اُسے دے کر تین رات کے بعد غار ثور پر ملاقات کرنے کا اُس سے وعدہ لیا تھا۔
    امام بخاری کا اپنی صحیح میں ایک منہج یہ ہے کہ وہ حدیث کو ایک مقام میں دو سندوں کے ذریعہ دو شیخ سے روایت کرتے ہیں اور متن کو ان دونوں شیخوں میں سے دوسرے سے ذکر کرتے ہیں ۔ حافظ نے فتح (۱؍۴۳۶)ہی میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے :’’ کہ امام بخاری کے منہج کو اچھی طرح پر کھنے سےیہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب وہ حدیث کو ایک (شیخ)کے علاوہ سے ذکر کرتے ہیں تو لفظ اخیر والے کا ہوتا ہے، واللہ اعلم ۔
    امام بخاری کا ایک منہج صحیح میں یہ بھی ہے کہ جب اُن پر قرآن کے کسی کلمہ کے موافق کوئی لفظ گزرتا ہے تو وہ اس قرآنی کلمہ کی بھی تفسیر کرتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے قرآن وحدیث دونوں کے غریب الفاظ کی تفسیریں جمع کر دی ہیں ، حافظ نے فتح کے متعدد مقامات پر اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ بطور مثال جلد:۳، صفحات ۱۹۶، ۳۲۴، ۳۴۳ کو ملاحظہ کریں۔
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو صحیح بخاری میں امام صاحب کے منہج اور ان کی اصطلاحات کی معرفت میں تمکن حاصل ہے۔ اس بابت میں نے کتاب ’’الفوائد المنتقاة من فتح الباري وكتب أخرىٰ‘‘، میں از فائدہ نمبر (۲۲۶) تا فائدہ نمبر(۲۸۴) در بہت سی مفید باتیں بیان کر دی ہیں ۔
    صحیح بخاری کی اپنی اہمیت کی وجہ سے مختلف زمانوں میں اُسے علماء کی توجہ حاصل رہی ہے ۔ اس کتاب کی خدمت کی جنہیں توفیق حاصل ہوئی ہےاُن میں سر فہرست حافظ ابن حجر العسقلانی المتوفی (۸۵۲ھ) ہیں جنہوں نے اس کی عمدہ اور وسیع شرح کی ہے۔ انہوں نے اپنے متقدمین علماء سے اخذ کیے ہوئے اقتباسات اور حسب توفیق الٰہی اس عظیم کتاب سے حاصل شدہ فہم واستنباط کو اپنی اس شرح میں جمع کیا ہے جو فتح الباری کے نام سے معروف ہے۔ اور اُن کے سابقین اور لاحقین کے درمیان حدِّ فاصل سمجھی جاتی ہے۔ جو اُن سے متقدم تھے اُن سے انہوں نے جمع کیا اور جو اُن کے بعد آئے اُن کے لیے یہ کتاب مرجع ثابت ہوئی، یہ کتاب مصر کے المطبعة السلفيةسے شائع ہو چکی ہے ۔ اس کے پہلے تینوں اجزاء پر ہمارے شیخ الشیخ عبد العزیزبن عبد الله بن باز رحمہ اللہ کی بڑی عمدہ تعلیق ہے (1) کتاب کی اس طباعت میں شیخ محمد فؤاد عبد الباقی کی ترقیم (نمبرنگ) ثبت کی گئی ہے۔ اُن کی ترقیم کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی بار جب کسی حدیث کا ذکر آتا ہے تو اُسی ایک جگہ پہلے مقام میں دیگر مقامات میں مذکور اُس حدیث کے نمبروں کو ذکر کر دیتے ہیں۔ لیکن بعد کے مقامات میں حدیث کے پہلے نمبرنگ والے مقام کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔ حافظ ابن حجر حدیث کے بعد والے مقامات میں اس کی شرح کرتے ہوئے اُس کے سابقہ مقامات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اس طرح اُن کی اس کتاب کی بدولت حدیث کے پہلے مقام کی طرف رہنمائی ممکن ہو جاتی ہے، اور رضوان محمد رضوان کی ، ’’فھارس البخاری‘‘ کی طرف رجوع کرنے سے بھی یہ چیز ممکن ہے کیونکہ جب وہ حدیث کے تکرار والے مقامات سے گزرتے ہیں تو یہ صراحت کرتے ہیں کہ یہ حدیث فلاں فلاں نمبر میں ملاحظہ کر لی جائے اور اُس کتاب کی طرف مع اُس کے نمبر کے اشارہ کرتے ہیں جس میں پہلی بار حدیث کا ذکر آیا ہوا ہے ۔ صحیح بخاری میں کتابوں کی تعداد ستانوے (۹۷) ہے اور تکرار کے ساتھ حدیثوں کی تعداد شیخ محمد فؤاد عبد الباقی کی ترقیم کے مطابق سات ہزار پانچ سو تریسٹھ (۷۵۶۳) ہے اور بائیس (۲۲) حدیثیں ثلاثی ہیں۔
    ——————————————————–
    (1) میں نے یہ لیکچر بیس سال پہلے دیا تھا۔ اس سال ( ۱۴۲۳ھ)اور میں زیور طباعت سے آراستہ کرنے کے لیے اس کی تحریر عمل میں آئی ۔ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے۲۷؍ محرم ۱۴۲۰ھ میں وفات پائی۔
    (۲) صحیح مسلم امام مسلم کی صحیح صحت میں امام بخاری کی صحیح کے بعد ہے ، مسلم رحمہ اللہ نے اس کی ترتیب پر توجہ دیتے ہوئے ایک موضوع سے متعلق حدیثوں کو جمع کرکے ایک مقام پر درج کیا ہے اور دیگر مقامات پر اُن حدیثوں کا تکرار کتاب کے حجم کے اعتبار سے کم ہے ۔ اگرچہ انہوں نے اپنی کتاب کے ابواب قائم نہیں کیے لیکن وہ تبویب کے حکم میں ہیں کیونکہ انہوں نے ایک موضوع کی حدیثوں کو ایک مقام پر جمع کیا ہے ۔
    امام مسلم کی صحیح کا امتیاز یہ ہے کہ اُس میں حدیثیں ٹکڑے ٹکڑے اور بالمعنیٰ روایت کیے بغیر جوں کی توں اپنی سند اور متن کے ساتھ ذکر کر دی گئی ہیں ۔ روایت کے الفاظ کی حفاظت کی گئی ہے ، الفاظ کس راوی کے ہیں اور کس نے حدثنا اور کس نے اخبرنا کے ساتھ روایت کیا ہے ، ان سب کی صراحت کر دی گئی ہے ۔ حافظ ابن حجر اپنی کتاب’’تهذیب التھذیب‘‘ کے اندر امام مسلم کے ترجمہ میں اُن کی صحیح کی عمدہ ترتیب کے ذکر میں کہتے ہیں : ’’میرا کہنا ہے کہ امام مسلم کو اپنی کتاب کے سلسلے میں جو وافر اور بڑا نصیبہ حاصل ہوا وہ کسی اور کو حاصل نہ ہو سکا بایں طور کہ بعض لوگ اُسے محمد بن اسماعیل کی صحیح پر فضیلت دیتے ہیں۔ اِس کی وجہ اُس کے یہ خصائص ہیں کہ وہ طرق کی جامع اور عمدہ سیاق والی ہے ، اسی طرح حدیثوں کے ٹکڑے ٹکڑے اور معنیٰ کی روایت کیے بغیر وہ بعینہٖ الفاظ کی ناقل ہے ۔
    نیسا پور کے کچھ لوگوں نے ان کے منہج تالیف کو اپنا یا لیکن اُن کے طرز اور انداز کو نہ پہنچ سکے ۔ اُن میں بیس سے زائد ائمہ میرے علم میں ایسے ہیں جنہوں نے مسلم پر مستخرج تصنیف کی ہے ۔ پس عطا کرنے اور ہبہ کرنے والے کی تسبیح اور پاکی ہے۔
    شیخ محمد فؤاد عبد الباقی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کی پیشکش کی طرف توجہ کی اور اس کی متعدد تفصیلی فہرست تیار کی۔ اُن کی اس خدمت کے ساتھ کتاب چار جلدوں میں طبع ہوئی ۔ شیخ نے کتاب میں امام نووی رحمہ اللہ کے قائم کیے گئے تراجم ابواب کو درج کیا ہے جو کہ امام مسلم کا عمل نہیں ہے ۔ انہوں نے اُس کی اصل حدیثوں کی نمبرنگ کی ہے جو تین ہزار تینتیس (۳۰۳۳) تک پہنچتی ہے ۔ صحیح مسلم کی کتابوں کی مجموعی تعداد چون (۵۴) ہے۔
    شیخ محمد فؤاد عبد الباقی کے تیار کیے ہوئے نسخے کی پانچویں جلد کتاب کی متنوع و مفصل فہرستوں پر مشتمل ہے ۔ صحیح مسلم کی اعلیٰ سندیں رباعیات ہیں ۔
    جاری۔۔۔۔۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings