-
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ قسط :(24) ’’القلوب و شفاؤها‘‘کا تعارف پیش خدمت ہے:
یہ رسالہ مجموع الفتاویٰ دسویں جلد صفحہ 91 سے 137 تک پر ہے ۔دیکھیں:(أمراض القلوب وشفاؤها 10/ 91 – 137مجموع الفتاوى:(المقدمة/ 2)
یہ رسالہ درج ذیل امور پر مشتمل ہے۔
(۱)دل کی اقسام (۲)قلب سلیم کا مفہوم(۳)دل کی بیماری کی اقسام و اسباب کابیان(۴)دل کے بگاڑکا معنیٰ اور اس کی سختی کے اسباب (۵)دل کی زندگی کا مفہوم اور اس کے آثار(۶)دل کی بیماریاں ،جیسے جہالت، شک ،حسد ، کبر ،شہوت ،غضب ،عشق وغیرہ (۷)دل کی بیماریوں کی شفایابی کے اسباب او ر طریقے (۸)دل کی درستی کے اسباب و علامات (۹)دل کی صفائی کا مطلب اور اس کے اسباب و آثار(۱۰)دل کے ادھر ادھر الٹنے پلٹنے پر تحذیر اور دین پر ثابت قدمی کے اسباب ۔
فوائد علمیہ :
(۱)دل کو اللہ نے اپنی محبت اور عبادت کے لیے بنایا ہے اور جب دل میں اللہ کی محبت ہوگی تو وہ کسی اور کی محبت کی طرف مائل نہیں ہوگا۔
(۲)حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دل کی چار قسمیں ہیں ۔ایک بے داغ و روشن دل جس میں چمکتا ہوا چراغ ہے، یہ مومن کا دل ہے۔ایک غلاف شدہ دل(ڈھکا ہوادل)یہ کافر کا دل ہے۔ایک اوندھا دل، یہ منافق کا دل ہے۔اور ایک ایسا دل جس میں دو مادے (عنصر) ہیں: ایک مادہ اسے ایمان کی غذا دیتا ہے اور دوسرا مادہ اسے نفاق کی غذا فراہم کرتا ہے،یہ وہ لوگ ہیں جونیکی اور بدی دونوں طرح کے اعمال کرتے ہیں ۔
(۳)دل کے مردہ ہونے کا سب سے بڑا سبب شرک ہے۔
(۴)مردہ دل کی ایک پہچان یا علامت یہ ہے کہ وہ اس بات کو قبو ل نہیں کرتاہے جو اسے زندگی عطا کرے ،وہ نفع بخش بات کو نہیں سنتا ہے ،وہ اسے نفع پہنچانے والی چیزوں کو دیکھتا نہیں ہے ۔جیسا کہ اللہ کافرمان ہے ۔ ﴿ صمّ بكم عمي فهم لا يعقلون ﴾ ’’وہ بہرے ،گونگے اور اندھے ہیں، انہیں عقل نہیں‘‘۔(البقرۃ:171)
(۵)دل کی زندگی توحید سے ہی ممکن ہے ،توحید دل سے اللہ کے سوا ہر چیز کا ڈر ختم کردیتا ہے۔حکم الٰہی کی بجاآوری سے دل شہوات اور شیطان کی پیروی سے محفوظ رہتا ہے۔
﴿أومن كان ميتا فأحييناه ﴾ ترجمہ: ’’ایسا شخص جو پہلے مردہ تھا ،پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا ‘‘۔(الانعام :122)
أي: بتوحيد الله . یعنی : اللہ کی توحید کے ذریعہ۔
﴿استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم﴾
’’تم اللہ اور اس کےرسول کے کہنے کو بجا لاؤ۔ جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں‘‘۔
(الانفال:24)
(۶)دل کی عمومی بیماریوں میں سے ایک بیماری حسد ہے ،جس کا اکثریت شکارہے ۔
(۷)جس کسی کے دل میں کسی کے تعلق سے حسد پیدا ہوتو اسے لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہیے ،بلکہ فوراً اس کے لیے برکت کی دعا کرنی چاہیے،اور اس حسد کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھنا چاہیے، خوف الٰہی کے سبب حسد سے متعلق کوئی بات یا عمل ہر گز نہ انجام دے ۔
(۸)جس کے تعلق سے دل میں حسد پیدا ہو ،اس کی اپنے طاقت کے بقد ر قولی و عملی طورپر مدد کرناچاہیے۔
(۹)محسود کے پاس نعمت کی موجوگی سے حاسد تکلیف میں رہتا ہے، جب وہ نعمت اس سے چھن جاتی ہے تو حاسد کو راحت ملتی ہے۔گویا کہ محسود سے زوال نعمت کے سبب حاسد کو سکو ن ملتا ہے گرچہ اس میں اسے کچھ فائدہ نہ ہو۔
(۱۰)بخیلی یا کنجوسی ایک مہلک بیماری ہے ،جو انسان کو حقوق کے ادائیگی اور دوسروں کے ساتھ احسان کرنے سے مزید بہت سارے خیر کے کاموں سے روک دیتی ہے۔
(۱۱)کامیابی کے اسباب میں بخیلی کو ترک کرنا بھی ہے ۔
(۱۲)عبد الرحمٰن بن عوف طواف میں اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ، (اللهم قني شُحّ نفسي)’’اے اللہ تو مجھے نفس کی بخالت سے بچائے رکھنا ۔ ایک شخص نےکہا کہ اکثر آپ یہ دعا کیوں کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا اگر تم نفس کی بخالت سے بچالئے گئے تو سمجھو کہ تم ظلم اور قطع رحم سےبھی بچالئے گئے ۔
(۱۳)کبر کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر کبر ہوگا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔
(۱۴)عشق ایسا مرض ہےجو انسان کے دین و عزت دونوں کو تباہ کردیتا ہے ، اس کے بعد پھر اس کے عقل اور جسم دونوں کو خراب کردیتا ہے۔
(۱۵)مرض کے ختم ہونے پر ہی انسان صحتیاب ہوتا ہے،مرض عشق میں مبتلا شخص سے عشق کا خاتمہ اسی وقت ہوتا ہے جب اس کے دل سے مذموم محبت ختم ہوجاتی ہے۔
(۱۶)دل کو شفا قرآن کے ذریعہ سے ملتی ہے، دلوں میں موجود شکوک و شبہات جیسی بیماریوں کا خاتمہ قرآن سے ہی ممکن ہے ۔
(۱۷) بدن سے زیادہ دل کو خوراک اور توجہ کی ضرورت ہے، بدن کے خوراک سے زیادہ دل کا خورا ک اثر انداز ہوتا ہے۔
(۱۸)ایمان کے ذریعہ دل کو صحتیابی حاصل ہوتی ہے۔
(۱۹)اطاعت و بندگی سے ایمان بڑھتا ہے اور گناہ و نافرنی سے ایمان گھٹتا ہے۔
(۲۰)تلاوت قرآن اور اس کی آیتوں پر تدبر وتفکر کرنا یہ دل کی درستی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔
(۲۱)دل کی درستی کا ایک بڑا سبب صبر بھی ہے، جس کی چند قسمیں ہیں ، اطاعت الٰہی پر صبر، گناہوں سے خود کو روک کرکے صبرکرنا، تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر صبر کرنا۔
(۲۲)مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ، تنگی کے بعد کشادگی ہے ، دشواری کے بعد آسانی ہے۔
(۲۳)دل کی درستی کا ایک سبب شکر گزاری بھی ہے، کیونکہ اس کے ذریعہ نیک اعمال کی مزید توفیق ملتی ہے ۔
(۲۴)شکر گزاری کے ذریعہ اللہ عذاب کو بھی ختم کردیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کافرمان ہے:
﴿ما يفعل الله بعذابكم إن شكرتم وآمنتم﴾
’’اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے کر کیا کرے گا ؟اگر تم شکر گزاری کرتے رہواور با ایمان رہو‘‘۔
(النساء:147)
(۲۵)شکر کے سبب اللہ مزید اپنے بندوں کو عطاکرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے:
﴿وإذ تأذّن ربكم لئن شكرتم لأزيدنّكم﴾
’’اورجب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر گزاری کروگے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا ‘‘۔
(ابراھیم:7)
شروحات:
1-أمراض القلوب وشفاؤها* لشيخ الاسلام ابن تيمية،شرح وبيان فضيلة الشيخ الدكتور ياسر برهامي
جاری …..