-
’’جمع بین الصلاتین‘‘کے شرعی اسباب اسلام ایک ایسا کامل اور جامع دین ہے جس کی بنیاد اعتدال، آسانی اور رفعِ حرج پر قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عبادات کا پابند بنایا ہے، مگر ساتھ ہی ان حالات کا بھی لحاظ رکھا ہے جن میں معمول کے مطابق احکام پر عمل کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ انہی رعایتوں میں سے ایک اہم رعایت ’’جمع بین الصلاتین‘‘ ہے، یعنی دو فرض نمازوں کو ایک ہی وقت میں ادا کرنا۔ شریعت اسلامیہ نے اسے عام معمول نہیں بنایا بلکہ مخصوص حالات اور معتبر شرعی اسباب کے ساتھ مشروع قرار دیا ہے تاکہ اللہ کے بندے مشقت اور تنگی سے محفوظ رہیں اور نماز جیسی عظیم عبادت بھی ترک نہ ہو۔اصل اصول یہی ہے کہ ہر نماز اپنے مقررہ وقت میں ادا کی جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾
’’بے شک نمازمومنین پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے‘‘۔
[سورۃ النساء: 103]
البتہ بعض حالات میں رسول اللہ ﷺ نے امت کے لیے نمازوں کو جمع کرنے کی اجازت دی، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
پہلا سبب: سفر
جمع بین الصلاتین کا سب سے مشہور اور متفق علیہ سبب ’’سفر‘‘ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنے اسفار میں ،خواہ وہ سفر جہاد کے لیے ہو یا حج وعمرہ کے لیے ، حسبِ ضرورت ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع فرمایا کرتے تھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’كان رسول الله ﷺ إذا ارتحل قبل أن تزيغ الشمس أخَّر الظهر إلى وقت العصر، ثم نزل فجمع بينهما، وإذا زاغت الشمس قبل أن يرتحل صلى الظهر ثم ركب‘‘۔
’’رسول اللہ ﷺ جب زوالِ آفتاب سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر کو موخر کر کے عصر کے وقت دونوں نمازیں جمع کرتے، اور اگر زوال کے بعد روانہ ہوتے تو پہلے ظہر ادا فرماتے، پھر سفر پر روانہ ہوتے‘‘۔
[صحیح بخاری :1112، صحیح مسلم: 704]
اسی طرح معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك، فكان يصلي الظهر والعصر جميعا، والمغرب والعشاء جميعا‘‘۔
’’ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک میں نکلے، تو آپ ﷺ ظہر اور عصر کو اکٹھا (جمع کرکے) پڑھتے تھے، اور مغرب اور عشاء کو بھی اکٹھا (جمع کرکے) ادا فرماتے تھے‘‘۔
[صحیح مسلم: 706 ]
دوسرا سبب: شدید بارش
شدید بارش کی وجہ سے مسجد میں آنے والوں کو دشواری پیش آئے تو دو نمازوں کو جمع کرنا مشروع ہے۔ جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے:
عن نافع،أن ابن عمر،أذن بالصلاة في ليلة ذات برد وريح، فقال:’’ألا صلوا في الرحال‘‘، ثم قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمر المؤذن إذا كانت ليلة باردة ذات مطر، يقول: ’’ألا صلوا في الرحال‘‘۔
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سخت سردی اور تیز ہوا والی رات میں نماز کے لیے اذان دی، پھر فرمایا:’’ألا صلوا في الرحال‘‘۔ ’’خبردار! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو‘‘۔ اس کے بعد فرمایا: رسول اللہ ﷺ موذن کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب رات سرد ہو اور بارش ہو تو وہ اعلان کرے: ’’ألا صلوا في الرحال‘‘-’’خبردار! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو‘‘۔
[ صحیح بخاری :666، صحیح مسلم: 697 ]
تیسرا سبب: شدید بیماری
جمہور اہلِ علم کے نزدیک اگر بیماری ایسی ہو کہ ہر نماز اپنے وقت میں ادا کرنا شدید مشقت کا باعث بن جائے تو دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے۔اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے مستحاضہ عورت کو ظہر کے ساتھ عصراور مغرب کے ساتھ عشاء جمع کرکے پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ تفصیل لے لیے دیکھیں:[ سنن أبي داؤد:287، جامع ترمذي :128 ، ابن ماجہ :627] امام ترمذی اور دیگر اہلِ علم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اور استحاضہ بھی ایک قسم کی بیماری ہے۔ اسی موقف کو متعدد فقہائے اسلام نے اختیار کیا ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’القول بجواز الجمع بالمرض ظاهر مختار‘‘۔ ’’ مرض کی وجہ سے جمع بین الصلاتین کے جواز کا قول ہی ظاہر، قوی اور پسندیدہ ہے۔[ روضۃ الطالبين:1/401]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’الصواب أن الجمع لا يختص بالسفر الطويل، بل يجمع للمطر، ويجمع للمرض كما جاءت بذلك السنة في جمع المستحاضة فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرها بالجمع في حديثين‘‘۔ ’’صحیح بات یہ ہے کہ’’جمع بین الصلاتین‘‘
صرف طویل سفر کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ بارش کی وجہ سے بھی دو نمازیں جمع کی جا سکتی ہیں، اسی طرح بیماری کی وجہ سے بھی جمع کرنا جائز ہے، جیسا کہ مستحاضہ کے متعلق وارد سنت سے ثابت ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے دو مختلف احادیث میں مستحاضہ عورت کو دو نمازیں جمع کرکے ادا کرنے کا حکم دیا ہے‘‘
[ مجموع الفتاوى:24/26]
امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فالمراد بالجمْع الجائز للعذر هو جمْعُ المسافر، والمريض، وفي المطر كما وردتْ بذلك الأدلَّة الصَّحيحة‘‘۔
’’عذر کی بنا پر جائز جمع سے مراد وہ جمع ہے جو مسافر، مریض اور بارش کی حالت میں کی جائے، جیسا کہ اس بارے میں صحیح دلائل وارد ہوئے ہیں‘‘۔
[الدراري المضيۃ:1/74]
علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’لا يجوزُ الجمع إلَّا مِن عِلَّة، كالمطر على الصَّحيح، وكالمرض، وكالسفر، فإذا كان هناك عِلَّةٌ شرعيَّة، فلا بأسَ بالجمع‘‘۔’’جمع بین الصلاتین‘‘
کسی شرعی عذر کے بغیر جائز نہیں۔ البتہ صحیح قول کے مطابق بارش، بیماری اور سفر کی وجہ سے جمع کرنا جائز ہے۔ لہٰذا جب کوئی شرعی عذر موجود ہو تو دو نمازوں کو جمع کرکے ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں‘‘۔[فتاوىٰ نور على الدرب :7/25]
علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ولهذا يجوزُ الجمْعُ في المطر وأنت في البلد، ويجوزُ الجمْعُ للمرض وأنت في البلد‘‘۔
’’اس بنا پر بارش کی صورت میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے ، اگرچہ تم اپنے شہر میں ہو ، اسی طرح بیماری کی وجہ سے بھی دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے ، اگرچہ تم اپنے شہر میں ہو‘‘۔
[لقاء الباب المفتوح :رقم اللقاء: 129]
چوتھا سبب: شدید ضرورت یا غیر معمولی مشقت
اگر کوئی ایسی غیر معمولی ضرورت پیش آجائے جس میں ہر نماز اپنے وقت پر ادا کرنا انتہائی دشوار ہو اور اسے معمول نہ بنایا جائے تو دو نمازوں کو جمع کرنے کی گنجائش ہے۔ عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں:
جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الظهر والعصر،والمغرب والعشاء بالمدينة،في غير خوف، ولا مطر قيل لابن عباس: ما أراد إلى ذلك؟ قال: “أراد أن لا يحرج أمته‘‘۔
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع فرمایا، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپ ﷺ کا اس سے کیا مقصد تھا؟انہوں نے فرمایا:’’آپ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ اپنی امت کو مشقت اور تنگی میں نہ ڈالیں‘‘۔
[صحیح مسلم :705]
امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ یہ جمع کسی عارضی ضرورت اور مشقت کی بنا پر تھی، اسے دائمی معمول بنانا مقصود نہیں تھا۔
[شرح صحیح مسلم :5/219]
چنانچہ ایک مسلمان کسی خاص ضرورت کی حالت میں’’ جمع بین الصلاتین‘‘ کرسکتا ہے گرچہ وہ اپنے شہر میں، اپنے گھر میں موجود ہو۔ جیسے کہ اسپتالوں میں وہ ڈاکٹر حضرات جو مریضوں کا گھنٹوں گھنٹوں آپریشن کرتے ہیں ۔ اور ان جیسے دیگر افراد۔
پانچواں سبب: خوف وڈر
اس بارےمیں اہلِ علم کے مابین اختلاف ہے لیکن صحیح اور راجح بات یہ ہے کہ’’خوف‘‘ بھی مقیم شخص کے لیے دو نمازوں کو جمع کرنے کا ایک شرعی عذر ہے۔ جواز کے قائلین علماء نے اس پر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر، نیز مغرب اور عشاء کو اس حال میں جمع کرکے ادا فرمایا کہ نہ کوئی خوف تھا اور نہ بارش‘‘۔
[ صحیح مسلم :705]
اس حدیث سے معلوم ہواکہ نمازوں کو جمع کرنے کے شرعی اعذار میں ’’خوف‘‘ بھی شامل ہے۔ لہٰذا جب ایسا خوف پیدا ہو جائے کہ لوگوں کے لیے جماعت کے ساتھ ہر نماز کو اس کے مقررہ وقت میں ادا کرنا دشوار ہو، تو خوف کی بنا پر ان کے لیے دو نمازوں کو جمع کرکے ادا کرنا جائز ہے۔جیسے دنگا، فساد کے حالات ، کرفیو کے حالات، جنگ وغیرہ کے حالات ۔
علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’والصواب:أنَّه لا حرجَ في الجمع بينهما عند وجود العُذر الشرعيِّ، جاز الجمعُ كما جمع النبي صلَّى اللهُ عليه وسلَّم في السَّفر، وفي الخوف، والمرض، يجوزُ الجمع، ولا بأس۔ وقال أيضًا: يجوزُ الجمع بعد الفراغ من الأولى إذا وُجِد شرطُه من خوفٍ، أو مطرٍ، أو مرض‘‘۔
’’درست اور راجح بات یہ ہے کہ جب کوئی شرعی عذر موجود ہو تو دو نمازوں کو جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لہٰذا ایسے عذر کی موجودگی میں جمع کرنا جائز ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے سفر میں نمازیں جمع فرمائیں، اور اسی طرح خوف اور بیماری کی حالت میں بھی نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں‘‘۔
[فتاوىٰ نور على الدرب: 13/123- 124]
دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’پہلی نماز ادا کرنے کے بعد اگر جمع کرنے کا شرعی عذر موجود ہو، جیسے خوف، بارش یا بیماری، تو دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے‘‘۔[مجموع فتاوىٰ ابن باز:12/294]
علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’الجمع له ميزان، وهو المشقَّة, فإذا شقَّ على الإنسان أن يُفرِدَ كلَّ صلاة في وقتها، فله الجمع؛ لحديث ابن عبَّاس رضي الله عنهما قال: جمَع رسولُ الله صلَّى اللهُ عليه وسلَّم بين الظُّهر والعصر, والمغرب والعشاء, بالمدينة، في غير خوفٍ ولا مطرٍ. قيل لابن عباس: ما أرادَ إلى ذلك؟ قال: أراد أنْ لا يُحْرِجَ أمَّتَه؛ فهذا يدلُّ على أنَّ مدار الجمع على الحرَج والمشقَّة. ويجوزُ لهم الجمع ولو بقُوا عدَّةَ سنوات، ولا أعلمُ في هذه سُنَّةً سوى حديث ابنِ عباس السابق, وهو قاعدةٌ عامَّة، وهي المشقَّة؛ فإنه يجوز الجمعُ سواءً في الحرب أو في السِّلم, وفي الحضر والسفر‘‘.
’’جمع بین الصلاتین کا اصل معیار مشقت ہے۔ لہٰذا جب کسی شخص کے لیے ہر نماز کو اس کے مقررہ وقت میں الگ الگ ادا کرنا دشوار ہو جائے، تو اس کے لیے نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے۔ اس کی دلیل عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر، نیز مغرب اور عشاء کو اس حال میں جمع فرمایا کہ نہ خوف تھا اور نہ بارش۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپ ﷺ کا اس سے کیا مقصد تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ نے یہ اس لیے کیا تاکہ اپنی امت کو مشقت اور تنگی میں نہ ڈالیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جمع کی بنیاد حرج اور مشقت پر ہے۔ اگر یہ مشقت طویل مدت تک بھی باقی رہے، حتیٰ کہ کئی سال تک، تب بھی ایسے لوگوں کے لیے نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے۔ اس مسئلے میں میرے علم کے مطابق ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہی حدیث اصل سنت اور عمومی ضابطہ ہے، اور وہ ضابطہ مشقت ہے۔ لہٰذا جب بھی مشقت پائی جائے، خواہ جنگ ہو یا امن، حضر ہو یا سفر، نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے‘‘۔
[مجموع فتاوىٰ ورسائل العثيمين: 15/383]
محترم قارئین! مذکورہ دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ’’ جمع بین الصلاتین‘‘ شریعت کی ایک عظیم سہولت اور رخصت ہے، اور حالات وظروف کی وجہ سے اس میں جمعِ تقدیم اور جمعِ تاخیر دونوں صورتیں جائز ہیں۔ لیکن یہ رخصت صرف انہی اسباب کے ساتھ مشروع ہے جن پر قرآن و سنت سے دلیل موجود ہو۔ ان اسباب میں سفر، بارش، بیماری اور شدید ضرورت یا غیر معمولی مشقت، خوف وڈر شامل ہیں۔ اس کے برعکس بلاعذر محض سہولت یا سستی کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں، بلکہ جو شخص بغیر کسی شرعی عذر کے نماز کو اس کے مقررہ وقت سے موخر کرتا ہے، وہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک بڑے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ کیونکہ اصل حکم یہی ہے کہ ہر نماز اپنے مقررہ وقت میں ادا کی جائے۔ لہٰذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ نماز کے اوقات کی حفاظت کرے اور صرف شرعی عذر کی موجودگی ہی میں اس رخصت سے فائدہ اٹھائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین کو آسان بنایا ہے مگر اس کی حدود بھی مقرر فرمائی ہیں‘‘۔