-
مولانا ابوالحسن علی ندوی کی شخصیت سازی میں علمائے اہل حدیث کا کردار( ان کی کتابوں کے آئینے میں) (پہلی قسط) مولانا ابوالحسن علی ندوی کا شمار بیسویں صدی کی مایہ ناز شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ ایک مشہور و معروف مصنف، مورخ، سوانح نگار، تذکرہ نویس اورعربی واردو کے ممتاز انشاء پرداز تھے، عرب وعجم میں یکساں مقبول تھے، ادبی و علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، سعودی حکومت نے آپ کو شاہ فیصل ایوارڈ بھی عطا کیا تھا، آپ کے والد حکیم سید عبدالحئی حسنی اپنے دور کے معروف اور بلند پایہ عالم دین اور مورخ تھے، انہوں نے تقریباً آٹھ ضخیم جلدوں میں’’ نزھۃ الخواطر‘‘ لکھی جو آج بھی دینی و علمی حلقوں میں کافی مقبول ومشہور ہے جس میں تقریباً ساڑھے چار ہزار سے زائد شخصیات کے حالات قلم بند کیے گئے ہیں۔ مولانا عبدالحئی حسنی نے جس دور میں تعلیم کا آغاز کیا اس زمانے میں قرآن وحدیث کے بجائے منطق وفلسفہ، علم کلام اور دوسرے علوم عقلیہ و نقلیہ کی خاص اہمیت تھی اور ان علوم میں دسترس حاصل کرنا قابل فخر واعزار سمجھا جاتا تھا، لہٰذا مولانا کی ابتدائی تعلیم بھی اپنے وقت کے حساب سے ہوئی پھر تحصیل علم حدیث کا ذوق وشوق پیدا ہوا اور اس کے لیے متعدد مشائخ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا لیکن علم حدیث کی تشنگی بجھ نہ سکی لہذامزید علمی تشنگی کو سیرابی دینے کے لیےبھوپال تشریف لے گئے جو اس زمانے میں علوم و فنون، ادب و ثقافت اورتہذیب وتمدن کا مرکز تھا، اس مرکز علم وادب میں بے شمار تشنگان علم و دانش سرچشمۂ علم و فن سے خوب سیراب ہوئے ۔ مولانا بلال عبدالحئی حسنی ندوی لکھتے ہیں ’’مسلسل دو سال آپ نے بھوپال میں قیام کیا اور تحصیل علم حدیث کی تکمیل کی، یہی زمانہ شیخ حسین کی شہرت ومقبولیت کا تھا، مولانا نے شیخ سے پورا فائدہ اٹھایا‘‘۔(۱)
مزید لکھتے ہیں کہ:’’ مولانا نے جس ذات سے فن حدیث میںسب سے زیادہ استفادہ کیا ہے وہ شیخ حسین بن محسن انصاری کی ذات والا صفات ہے جو اس وقت ہندوستان کے کبار محدثین کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتے تھے اور جن سے سند لینا بہت باعث فخر سمجھا جاتا تھا ‘‘۔(۲) مولانا ابو الحسن علی ندوی اپنے والد محترم کے متعلق لکھتے ہیں:’’ مولانا سید عبد الحئی حسنی صاحب نے ان سے( شیخ حسین بن محسن انصاری) صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ،سنن ابی داؤد، اول سے آخر تک لفظ بلفظ پڑھیں اور خود ان کتابوں کی قرأت کی، نیز سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی اور مشکاۃ ومؤطا کی سماعت کی، اساتذہ اور علمائے بھوپال کی ایک خصوصی مجلس میں شیخ نے آپ کو آخری سبق پڑھایا اور سند فراغت دی، اور تمام علوم میں آپ کو درس وتدریس کی تحریراً وتقریراً اجازت دی، ان کتابوں کے علاوہ آپ نے شیخ صاحب سے’’حصن حصین ‘‘اور ’’بلوغ المرام‘‘ وغیرہ بھی پڑھی اور مسلسلات کی اجازت لی، شیخ صاحب نے اپنی تمام مرویات اور ساری کتابوں کی اجازت دی،’’ نزھۃ الخواطر‘‘ میں مولانا سید عبد الحئی حسنی صاحب نے لکھا ہے کہ :’’وہ مجھ سے اولاد کی طرح محبت فرماتے تھے، لکھنؤ تشریف لاتے تو میرے یہاں قیام فرماتے، بعض اوقات مہینہ مہینہ بھر قیام فرمایا‘‘ ۔(۳)
شیخ حسین کے شاگردوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں بعض اسماء کا ذکر مولانا ابوالحسن علی ندوی کرتے ہیں: ’’تلامذہ میں نواب سید صدیق حسن خان، مولانا محمد بشیر سہسوانی، مولانا شمس الحق ڈیانوی، مولانا عبد اللہ غازی پوری، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی، مولانا سلامت اللہ جیراج پوری، نواب وقار جنگ مولوی وحید الزماں حیدر آبادی، علامہ محمد طیب مکی، شیخ ابو الخیر احمد مکی اورشیخ اسحاق بن عبدالرحمن نجدی خاص طور پر قابل ذکر ہیں‘‘۔(۴)
قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ندوی صاحب نے شیخ حسین کے جن تلامذہ کا ذکر کیا ہے ان کے والد اور شیخ ابو الخیر احمد مکی کے علاوہ سب کے سب مسلک اہل حدیث کے نامور عالم دین اور محدثین عظام تھے، جنہوں نے ہندوستان میں درس حدیث کی مسند بچھائی، ان کی دینی و اصلاحی خدمات اور علمی جدوجہد کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان سے بہت سی بدعات و خرافات کا خاتمہ ہوا، انہوں نے فن حدیث کو عام علوم پر فوقیت وفضیلت دی، اس کی خدمت واشاعت کرکے امت مسلمہ پرجو احسان کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔
مولانا عبد الحئی حسنی نے اہل حدیثوں کے سرخیل میاں نذیر صاحب کی بھی شاگردی اختیار کی اور ان سے سند اجازہ حاصل کیا،کبار علماء اہل حدیث کی صحبت وہم نشینی اختیار کی،اس کے باوجود بھی مولانا اپنے آبائی وموروثی مسلک تقلید وتصوف پر قائم ودائم رہے، پوری زندگی علمائے اہل حدیث سے خوب اخذ و استفادہ کرتے رہے، اپنی تحریروں میں فن حدیث سے متعلق ان کی خدمات کا اعتراف کرتے رہے، لیکن پھر بھی آپ مسلک اہل حدیث جو قرآن اور صحیح حدیث سے عبارت ہے قبول نہیں کر سکے، منہج سلف صالحین کے دامن سے وابستہ نہیں ہو سکےحتی کہ ایک مدت تک ندوۃ میں علم حدیث اور عربی زبان کی درس و تدریس کے لیے علمائے اہل حدیث کو ہی مقرر کرتے رہے۔ یہی حال ان کے فرزند ارجمند مولانا ابو الحسن علی ندوی کا بھی رہا، ان کی خود نوشت سوانح کے مطالعہ سے ہویدا ہوتا ہے کہ آپ کی شخصیت سازی، صلاحیت کی تشکیل، عربی زبان و ادب میں ید طولیٰ اور فکری تعمیر میں سب سے زیادہ گہرا اثر علماء اہل حدیث کی صحبت و رفاقت اور ان کی فیضان نظر کا تھا ۔
اگر آپ کی زندگی سے علمائے اہل حدیث کا ذکر نکال دیا جائے تووہ ناقص اور نا مکمل ہے۔ آپ کی خوابیدہ تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے،پڑھنے کا شوق اور لکھنے کا جذبہ پیدا کرنے میں اور آپ کی علمی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں علمائے اہل حدیث کا کلیدی رول رہااور وہ آپ کے خانوادے کے لیے مشعل راہ رہے اور ان کی وجہ سے خوشگوار علمی نقوش مرتب ہوئے جیسا کہ مولانا ندوی لکھتے ہیں میری عربی تعلیم کے شروع ہونے کا وقت آیا تو میرے برادر معظم و مربی ڈاکٹر حکیم مولوی سید عبدالعلی صاحب مرحوم نے مجھے عرب صاحب کے سپرد کیا جن سے بھائی صاحب کو بہت یگانگت و محبت تھی یہ خاندان ہمارے خاندان کا دو پشتوں سے استاد چلاآرہا تھا یہ تیسری پشت تھی، میرے والد صاحب نے حدیث شیخ حسین بن محسن سے پڑھی تھی۔ادب انہوں نے ان کے فاضل فرزند شیخ محمد عرب صاحب سے پڑھا، اب ان کی اولاد کی باری تھی۔(۵)
مولانا کی زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب وہ دینی علوم سے عصری علوم کی طرف مائل ہو گئے،انگریزی تعلیم حاصل کرنے کا شوق پروان چڑھنےلگا، میٹرک اور انٹر میڈیٹ کی تیاری میں مصروف ہو گئے اس کے لیے مختلف انگریزی اور ریاضی کے اساتذہ سے مدد لینےلگے کیونکہ اسی زمانے میں ان کے خاندان کا ایک عزیز انڈین سول سروس میں کامیابی سے ہمکنار ہوا تھا اور لندن سے ٹریننگ حاصل کر کے ہندوستان آیا تھا جس کی بڑی دھوم مچی تھی ، اس سے مولانا بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے بھی عصری تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کرلیا،جب مولانا کی والدہ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے نہایت موثر، دل سوز اور نصیحت آموز خط ارسال کیا اور انہیں انگریزی تعلیم سے روکا۔ خط کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں:’’ علی تم کسی کے کہنے میں نہ آؤ اور اگر خدا کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہو اور میرے حقوق ادا کرنا چاہتے ہو تو ان مردوں پر نظر کرو جنہوں نے علم دین حاصل کرنے میں عمر گزاری، ان کے مرتبے کیاتھے،شاہ ولی اللہ صاحب، شاہ عبدالعزیز صاحب، شاہ عبدالقادر صاحب، مولانا محمد ابراہیم صاحب‘‘ (کاروان زندگی) کتاب کے حاشیہ میں مولانا ندوی لکھتے ہیں کہ اس سے مراد مولانا ابو محمد ابراہیم صاحب آروی مشہور اہل حدیث عالم ہیں۔(۶)
ہندوستان میں سب سے پہلے مدارس میں دارالاقامہ کے قیام کی تجویز پیش کرنا اور پھر اس کا عملی نفاذ مدرسہ احمدیہ سلفیہ آرہ کی صورت میں کرنے کا شرف واعزاز مولانا ابراہیم آروی کو ہی حاصل ہے۔مولانا اپنی بے پناہ علمی قابلیت وخدا داد صلاحیت کی بدولت اہل حدیث وغیر اہل حدیث میں یکساں مقبول و مشہور تھے جیسا کہ مولانا ندوی کی والدہ کے خط سے عیاں ہوتا ہے۔ آپ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے بانیوں میں سے بھی تھے۔
ابتدائی تعلیم تعمیر شخصیت،افکار و خیالات اور تصورات کو پروان چڑھانے میں رہنما ثابت ہوتی ہے جس سے فہم و فراست، شعور وآگہی اور عقل و دانش میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ انسانی زندگی کا بہترین انداز میں آغاز ہوتا ہے۔ مولانا کی ابتدائی تعلیم اور پرورش وپر داخت خالص دینی وعلمی ماحول میں ہوئی، جس گھرانے میں مولانا کی آنکھیں کھلیں وہاں دیندار و تعلیم یافتہ طبقہ اور شرفاء میں مسدس حالی کے اشعار پڑھنے پڑھانے کا عام چلن تھا اور خاندان کے ہر فرد کو بے شمار اشعار نوک زبان تھے، عوام میں مسدس حالی کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں شرک و بدعت اور علماء سوء، صوفیاء و مشائخ کی تمام بری خصلتوں اور عادتوں پر سخت تنقید ہے ۔ مولانا کو بھی مسدس حالی کا بہت سا حصہ زبانی یاد تھا اور دل و دماغ پر اثر انداز تھا جس کو وہ تقریر وتحریر میں بیان کرتے تھے پھر جب اردو زبان کی کتابوں کے مطالعہ کا شوق ہوا اور ابتدائی ایام میں جن کتابوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئےان میں سے وہ کتاب جو زندگی کے لیے مشعل راہ بنی اور جسے بار بار پڑھتے تھے وہ قاضی سلیمان صاحب منصور پوری کی شہرہ آفاق کتاب ’’رحمۃ للعالمین ‘‘ہے۔ مولانا قمطراز ہیں:’’ اردو کے ابتدائی مطالعہ اور طالب علمی کے اس ابتدائی دور میں جس کتاب کو اپنے شوق سے پڑھا اور جس نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ قاضی سلیمان صاحب منصور پوری مرحوم کی سیرت رحمۃ للعالمین کا پہلا حصہ ہے۔قاضی سلیمان صاحب کے درجات اللہ بلند فرمائے اس عالم میں ہوتے تو کہتا کہ آپ کی کتاب کا مجھ پر بڑا احسان ہے اس نے سب سے پہلے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے اس زمرے سے آشنا کیا جس کے بغیر یہ زندگی خاک اور عالم خس وخاشاک ہے‘‘۔ (۷)
مولانا ندوی رحمہ اللہ قاضی منصور پوری اور ان کی کتاب کے سلسلے میں شیخ صلاح الدین مقبول حفظہ اللہ کی کتاب’’الاستاذابو الحسن الندوي، الوجہ الآخر من كتاباتہ‘‘کے حوالے سے مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کو ایک مکتوب میں علمائے اہل حدیث سے اپنی عقیدت و محبت کے بارے کچھ اس طرح سے لکھتے ہیں:
’’راقم شاید کسی کتاب سے اتنا متاثر ومستفید نہیں ہوا جتنا مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی کتاب رحمۃ للعالمین سے جب کہ راقم نے’’مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں‘‘ کے سلسلہ میں اور کاروان زندگی کے حصہ اول میں لکھا ہے۔ قاضی صاحب نے کانپور کے ندوۃ العلماء کے جلسہ میں میرے مربی برادر محترم مولوی حکیم ڈاکٹر سید عبدالعلی صاحب رحمہ اللہ سے فرمایا کہ میں نے سیرت رحمۃ للعالمین کا ایک نسخہ آپ کے چھوٹے بھائی کو بھیجا ہے۔ یہ نا چیز قاضی صاحب کو برابر یاد رکھتا ہے اور ان کا معتقد ہے ‘‘۔(۸)
مولانا ندوی گونا گوں صفات اور کمالات فائقہ سے متصف تھے لیکن مولانا کی ایک امتیازی شناخت عربی زبان وادب سے ہوتی ہے ، تحریر و تقریر میں عربی زبان میں دسترس ومہارت کی بدولت عالم عرب میں کافی مشہور و مقبول ہوئے بلکہ عصر حاضر میں مولانا کو عالم عرب میں جو مقام و مرتبہ اور عظمت و شہرت حاصل ہوئی وہ برصغیر کے کسی دوسرے عالم کو نہیں ہوئی، ہند و بیرون ہند جہاں بھی کسی کانفرنس، اجتماع اور علمی محافل میں شرکت فرماتے انہیں قابل احترام اور سرپرست کی حیثیت دی جاتی تھی لیکن مولانا کو یہ مقام و مرتبہ اوریہ عزت وشرف کیسے حاصل ہوا، وہ بنیادی عناصر کیا ہیں جنہوں نے مولانا کی شخصیت سازی اور اس کی تشکیل وتکمیل میں کلیدی کردار ادا کیا، اور کن عوامل کی وجہ سے یہ شخصیت اس اعزاز اور مناصب کی مستحق ہو سکی۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی شخصیت کی تشکیل میں اس کے خاندان، ماحول، اساتذہ اور علوم و فنون کا بہت عمل دخل ہوتا ہے، آپ ایک نامور و علمی خانوادے کے چشم وچراغ تھے، جب اس جہاں فانی میں آپ نے آنکھ کھولی تو اس وقت آپ کا خاندان پورے برصغیر ہندوپاک میں ممتاز ومحترم سمجھا جاتا تھا، گھر کے علمی اور دینی ماحول کا اثر مولانا کی ذہنی نشونما، کردار سازی اور شخصیت پر گہرا تھا، قابل قدر اور معزز ہستیوں نے ان کی تربیت کی تھی، حصول علم کے تمام وسائل و سہولیات وافرمقدار میں موجود تھے۔ لیکن انسان کی زندگی سنوارنے، اس کی شخصیت کو نکھارنے، کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرانے اور زندگی کے مقصد سے آشنا کرانے میں سب سے اہم کردار مخلص اور قابل اساتذہ کا ہوتا ہے۔ مولانا کو عربی زبان سے شیفتگی اور اشتغال کو پروان چڑھانے میں ان کے اساتذہ کرام میں اہل حدیث اساتذہ کا سب سے زیادہ اور اہم رول رہا ہے جیسا کہ مولانا کی خود نوشت سوانح سے معلوم ہوتا ہے “رائے بریلی کے قیام میں عم محترم مولانا سید طلحہ صاحب سے پڑھنے کی نوبت آئی وہ صرف ونحو کے استاد ہی نہیں امام تھے، اور خاص طور پر اس کی مشق کرانے میں ان کو ید طولیٰ حاصل تھا، صحیح عبارت پڑھنے اور صرف ونحو کے ضروری مسائل کے جزودماغ بن جانے میں ان کا بڑا دخل تھا ۔عربی زبان( صرف ونحو) کے علاوہ ان سے اور بھی بہت سارے علمی فوائد حاصل ہوئے اور ذہنی تربیت ہوئی، تاریخی شعور پیدا ہوا اور اس متنوع ثقافت میں سے کچھ حصہ ملا جس میں ان کو اپنے باکمال معاصرین میں بھی امتیاز حاصل تھا ۔(۹)
مولانا سید طلحہ آپ کے پھوپھا تھے اور اورینٹل کالج لاہور میں عربی زبان و ادب کے پروفیسر تھے، آپ عربی زبان کے ممتاز علماء میں سے تھے، علامہ میمنی سے گہرے روابط وابستہ تھے۔ اورینٹل کالج لاہور میں دونوں عربی کے درس وتدریس سے منسلک تھے، جس کی وجہ سے کالج کا یہ دور باب زریں کا درجہ رکھتا ہے۔محمد راشد شیخ اس عہد کے بارے میں لکھتے ہیں:’’لاہور اس عہد میں حقیقتاً شہر علم وحکمت تھا، ہر شعبے کے صاحب علم وفضل یہاں موجود تھے جن میں عربی زبان کے فضلاء میں مولانا اصغر علی روحی، مولوی محمد شفیع اور مولانا سید طلحہ وغیرہ شامل تھے‘‘۔(علامہ عبد العزیز میمنی، سوانح اور علمی خدمات، محمد راشد شیخ، ص، ۱۰۱)۔ اس دور کا ذکر علامہ میمنی کے شاگرد ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی کرتے ہیں کہ” اتفاق سے ہر دو حضرات مولانا میمن اور سید طلحہ غیر مقلد تھے اور نہایت شوق وذوق سے ان سے پڑھتے تھے، دوران تشریح وہ نہایت نازک اور اہم نکات بیان کرجاتے، اسی طرح تشریح کے دوران بیسیوں عربی اشعار بیان کر جاتے۔( نفس المصدر، ص 97)
خلیل عرب صاحب کی ہدایت اوران کے مقرر کردہ نصاب کی روشنی میں سید طلحہ صاحب مولانا کو رائے بریلی میں عربی کی تعلیم دیتے تھے اور خلیل عرب صاحب ہی کے مشورہ سے اعلی تعلیم کے حصول کے لیے لکھنؤ کا رخت سفر باندھا جیسا کہ مولانا لکھتے ہیں:‘’ شفیق بھائی اور مشفق استاد خلیل عرب صاحب جو فیصلہ کرتے اس میں چوں و چرا کی گنجائش نہ تھی لیکن یہ فیصلہ بھائی صاحب کے مزاج کے خلاف تھا (وہ یونیورسٹیوں کے مشرقی امتحانات دینے کے طبعاً خلاف تھے ) اور غالبا انہوں نے عرب صاحب کے رجحان اور اصرار پر کیا جو لکھنؤ یونیورسٹی میں ایم اے، بی اے کے کلا سیز کو عربی پڑھاتے تھے‘‘۔(۱۰)
مولانا کے والد کے انتقال کے بعد لکھنؤ میں قیام کا بہت بڑا مسئلہ درپیش تھا، بڑے بھائی طالب علم ہی تھے،معاش اور ذرائع آمدنی کا کوئی معقول انتظام و انصرام نہیں تھا خود بڑے بھائی صاحب کی تعلیم و تکمیل اور لکھنؤ میں قیام آسان نہیں تھا ،مزید مولانا کی تعلیم اور قیام وطعام کا مسئلہ۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں نواب صدیق حسن خان بھوپالی کے فرزند نواب نور الحسن صاحب کا گھرانہ مدد کے لیے سامنے آیا، مولانا اور ان کے بڑے بھائی کو حصول علم کے لیے اپنی شاندار عالی شان کوٹھی کا ایک حصہ دے دیا اور انہیںاپنی اولاد کی طرح ہر طرح کی آسائش و آرائش فراہم کیا تاکہ یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرسکیں۔
مولانا لکھتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ نواب نور الحسن خان صاحب مرحوم کی بیگم صاحبہ اور ان کے صاحبزادوں سید ظہور الحسن،سید نجم الحسن صاحباں کو اپنے شایان شان بدلہ دے اور ان کی قبروں کو نور سے بھرد ے کہ انہوں نے عزیزوں سے بڑھ کر محبت وتعلق کا ثبوت دیا اور اپنی کوٹھی پر قیام کی پیشکش کی، ہاسٹل کے مصارف کی استطاعت نہ تھی، بھائی صاحب نے اس مخلصانہ و محبانہ پیشکش کو قبول کیا، یکسوئی وانہماک کے ساتھ مطالعہ کرنے کے لیے ان حضرات نے اپنی عالی شان کوٹھی کا ایک حصہ جو کوٹھی سے علیحدہ بھی تھا بھائی صاحب کے حوالہ کر دیا‘‘۔ (۱۱)
لکھنؤ میں مولانا کی عربی تعلیم کا باضابطہ آغاز ہو جاتا ہے،اس کے لیے ان کے بڑے بھائی سید عبدالعلی صاحب نے ایسی شخصیت کے سپرد کیا جو عربی زبان وادب کی نشر واشاعت اور تدریس میں امامت کا درجہ رکھتی تھی اور پورے برصغیر ہند وپاک میں اس کی اشاعت میں بے پایاں خدمات انجام دیں ،جن کی مساعیٔ جمیلہ سے پورے خطے میں عربی زبان کے درس و تدریس کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ،وہ شخصیت علامہ خلیل بن محمد بن حسین بن محسن انصاری کی تھی جو عرب صاحب کے نام سے مشہور و معروف تھے، مولانا ندوی نےعرب صاحب کے خرمن علم وادب اور فکر ونظر سے جی بھر کر خوشہ چینی کی، اس جو ہرکمال نے آپ کے سر پر عظمت کا وہ تاج سجایا جس کی جلوہ طرازیوں نے ان کی عربی زبان و ادب کو چمکا دیا، مولانا ندوی لکھتے ہیں:’’ نا چیز راقم کو خدا کے فضل سے بڑے بڑے کامل الفن اساتذہ کی خدمت میں زانوئےادب تہہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی لیکن عربی زبان و ادب کے ذوق سلیم وذوق صحیح پھر اس ذوق کو منتقل کرنے کی ایسی قابلیت نہ صرف ہندوستان (جو کہ صدیوں سے عربی کے مذاق سلیم سے نا آشنا اور صحیح طریقہ تعلیم سے محروم ہے) بلکہ ممالک عربیہ کے اعلی علمی و ادبی حلقوں میں بھی نہیں پائی‘‘۔ (۱۲)
عرب صاحب مولانا ندوی کی عربی تعلیم کا آغافَعَلَ فَعَلَا فَعَلُوْا سے کراتے ہیں، پھر عربی کی پہلی کتاب المطالعة المصريةشروع کرائی، اس کے بعد مدارج القرأة اور الطريقة المبتکرۃکے تین حصے پڑھائے، پھر عربی زبان و ادب کی مشہور کتاب کلیلہ ودمنہ شروع کرا دیا، یہ عرب صاحب کی خود ساختہ تیار کردہ نصاب تعلیم اور طریقۂ تدریس تھا جو اعلی تعلیمی تجربوں اور اجتہادد پر مبنی تھا، اسی طرح عرب صاحب مولانا کو مجموعة النظم والنثرپڑھاتے اور حفظ کراتے تھے، ادب کی متوسط کتابوں کے ختم ہونے کے بعد انہوں نے عرب صاحب سے دیوان الحماسة، لامیة العرب، قصیدہ بانت سعاد، ابوالاعلیٰ المعری کا دیوان سقط الزند اور توفیق دیاب کی کتاب خلاصہ تاریخ آداب اللغة العربیة، نہج البلاغہ اور مقامات حریری وغیرہ پڑھیں ۔
یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ اگر مولانا ندوی کی زندگی میں عرب صاحب کی شخصیت، ان کی تعلیم و تربیت، ان کی سرپرستی اور سایہ عاطفت نہ ہوتا تو شاید مولانا کو عربی زبان وادب میں وہ شہرت و مقام حاصل نہ ہوتا۔ مولانا عرب صاحب کے ساتھ ایک واقعہ کےضمن میں لکھتے ہیں:’’مستقبل میں میرے لیے عربی زبان و ادب کا ذوق پیدا ہونے اور اس کے ذریعے سے دین و علم کی خدمت کرنے کا فیصلہ کرا دیا، اگر صورتحال اس کے برعکس ہوتی اور اس میں اپنے آپ کو بری اور مظلوم قرار دیتا اور اپنے محسن و مربی استاد کو حدود سے تجاوز کرنے والا تو شاید معاملہ برعکس ہوتا اور میں ہمیشہ کے لیے ان کے فیض تعلیم اور عربی زبان وادب میں کامیابی سے محروم ہو جاتا ہے۔ ذلک من فضل ربی لييلوني أ اشكر أم اكفر.(۱۳)
یہ وہی عرب صاحب ہیں جن کے خاندان کو علامہ نواب صدیق حسن خان بھوپالی نے ہندوستان کی سرزمین پر آباد کیا، وہ اصلا یمنی تھے،سفرحجاز کے دوران ان کے دادا شیخ حسین بن محسن یمانی سے نواب صاحب کی ملاقات ہوئی جن کی غیرمعمولی علمی لیاقت اور صلاحیت دیکھ کر اس قدر متأثر ہوئے کہ ان کو بھوپال آنے کی دعوت دی اور ہرطرح کی سہولیات فراہم کرانے کا وعدہ کیا اس طرح سے ہندوستان میں آپ کا ورود مسعود ہوا،جن کی آمد کی وجہ سے بھوپال علوم و فنون کا مرکز بن گیا۔ ان کے متعلق مولانا ندوی لکھتے ہیں کہ:’’ شیخ حسین بن محسن کے قیام نے بھوپال کو دارالحدیث اور شیراز و یمن کا ہمسر بنا دیا، تقریبا ثلث صدی سے زائد موتی مسجد جو اس چھوٹے سے شہر میں تھی، جامعہ ازہر سے آنکھیں ملاتی تھی، قال اللہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدائیں گونجتی رہیں اور نہ صرف بھوپال بلکہ ہندوستان کی فضا کو اس نفحۂ عنبریں سے معطر ومنور کرتی رہیں‘‘۔(۱۴)
عمر کے آخری مرحلے میں علامہ خلیل عرب پاکستان منتقل ہوگئے اور وہاں جمعیت اہلِ حدیث مغربی پاکستان سےمنسلک ہو گئے اور مختلف اہل حدیث اداروں میں عربی زبان وادب اورعقیدہ و منہج سلف کی تعلیم و ترویج میں مشغول ہو گئے تھے۔جن لوگوں نے مولانا ندوی کے حالات زندگی قلم بند کیے ہیں ان تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ مولانا کو عربی زبان میں قدرت ودسترس علامہ خلیل عرب کی مرہون منت ہے اور ان کی تحریری وقلمی صلاحیتوں کو مہمیز لگانے اور عالم اسلام سےروشناس کرانے کا کام مشہورراسخ العقیدہ سلفی عالم دین ڈاکٹر تقی الدین ہلالی نے کیا جو کہ علم و تحقیق اور عربی زبان و ادب کے عروج کمال پر جلوہ افروز تھے۔ مولانا ندوی ان کے علمی کمالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : وہ عالم عربی کے ممتاز ترین محقق،ادیب اور صرف ونحو میں سند کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کی بول چال اور عام تحریروں کی زبان پوری عربی دنیا میں اپنی صحت،سلامت، برجستگی اور عربی محاورات میں بے نظیر ہے۔ (۱۵) مزید لکھتے ہیں:’’ علامہ موصوف عربی زبان کے ان گنے چنے اساتذہ و فضلاء میں سے ہیںجو سند کا درجہ رکھتے ہیں، ان کے اس امتیاز کے لیے اتنی شہادت کافی ہے کہ جب علامہ رشید رضا ’’مدیر المنار‘‘ اورعلامہ امیر شکیب ارسلان مصنف ’’حاضر العالم الاسلامی‘‘ کا نحو و عربیت میں کے کسی مسئلے میں اختلاف ہوتا تو دونوں ہلالی صاحب کو حکم بناتے تھے ‘‘۔(۱۶)
حوالہ جات
(۱)مولانا بلال عبد الحئی حسنی ندوی، مولانا حکیم سید عبد الحئی حسنی اور علم حدیث، مجموعہ مقالات ہندوستان اور علم حدیث تیرہویں اور چودہویں صدی ہجری میں۔ مرتب مولانا فیروز اختر ندوی، ناشر مرکز الشیخ ابی الحسن الندوی، مظفر پور اعظم گڑھ، ۲۰۱۲. ص: ۷۱۴ (۲)نفس المصدر، ص: ۷۱۳
(۳)مولانا سید ابو الحسن علی ندوی، حیات عبد الحئی رحمہ الله، ناشر سید احمد شہید اکیڈمی، ،۲۰۰۴ ص: ۸۴
(۴)نفس المصدر، ص: ۸۳- ۸۴
(۵)مولانا ابو الحسن علی ندوی، پرانے چراغ ، حصہ اول، مکتبہ فردوس مکارم نگر لکھنؤ، ط۔ ششم ۲۰۱۰، ص: ۱۸۶۔۱۸۷
(۶)مولانا ابو الحسن علی ندوی، کاروان زندگی، حصہ اول، مکتبہ اسلام، گوئن روڈ لکھنؤ، ط۔ سوم، ۲۰۰۰، ص: ۱۲۲
(۷)مولانا سید ابو الحسن علی ندوی، مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں، مرتب مولانا محمد عمران خان ندوی، مجلس نشریات اسلامی، ناظم آباد کراچی، ص: ۱۶۱
(۸)صلاح الدین مقبول احمد، الأستاذ أبو الحسن الندوي: الوجه الآخر من كتاباته، غراس للنشر والتوزيع، الكويت، ط. الأولى، ٢٠٠١، ص: ٢٥
(۹)مولانا ابو الحسن علی ندوی، کاروان زندگی، ص: ۱۰۱ (۱۰)نفس المصدر، ص: ۱۰۲
(۱۱)نفس المصدر، ص: ۸۰ (۱۲)مولانا ابو الحسن علی ندوی، پرانے چراغ، اول،ص: ۱۸۶
(۱۳)مولانا ابو الحسن علی ندوی، کاروان زندگی، اول، ص: ۹۲ (۱۴)مولانا ابو الحسن علی ندوی، پرانے چراغ، اول: ۱۸۶ (۱۵)نفس المصدر،ص: ۲۸۶-۲۸۷ (۱۶)مولانا ابو الحسن علی ندوی، کاروان زندگی، اول، ص: ۱۱۶