-
عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کے ایک ہونے سے متعلق ایک جھوٹی روایت بعض گمراہ فرقے، خصوصاً قادیانی اور مہدوی، اپنی بعض باطل تاویلات کی تائید میں نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب اس روایت’’لا مھدي إلا عيسىٰ ابن مريم‘‘سے استدلال کرتے ہیں۔ حالانکہ محدثین کرام نے اس روایت کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اسے منکر، باطل اور ناقابلِ احتجاج قرار دیا ہے۔ ذیل میں اس روایت کی سند کا تحقیقی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے، جس سے واضح ہوگا کہ یہ روایت متعدد علتوں کی بنا پر قابلِ قبول نہیں، لہٰذا اس سے کسی بھی عقیدہ یا نظریہ پر استدلال درست نہیں۔
امام ابن ماجہ رحمہ الله (المتوفی273ھ)نے کہا:
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْجَنَدِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا الدُّنْيَا إِلَّا إِدْبَارًا، وَلَا النَّاسُ إِلَّا شُحًّا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ، وَلَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ۔
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دن بہ دن معاملہ سخت ہوتا چلا جائے گا، اور دنیا تباہی کی طرف بڑھتی جائے گی، اور لوگ بخیل ہوتے جائیں گے، اور قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہو گی، اور مہدی عیسیٰ بن مریم ؈ کے علاوہ کوئی نہیں ہے“۔
[سنن ابن ماجۃ، رقم 4039]
یہ روایت سخت ضعيف ومردود ہے۔
امام حسن بن محمد الصغانی رحمہ الله (المتوفی577ھ) نے اس روایت کو موضوع ومن گھڑت قرار دیا ہے۔
[الدرر الملتقط في تبين الغلط:ص34]
امام ذہبی رحمہ الله (المتوفی:748ھ) نے کہا:
قلت:حديثه ’’لا مھدي إلا عيسى ابن مريم‘‘، وهو خبر منكر أخرجه ابن ماجة-
”میں کہتا ہوں: اس کی وہ حدیث ’’مہدی، عیسیٰ بن مریم کے سوا کوئی نہیں‘‘، منکر روایت ہے، جسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے‘‘۔
[ميزان الاعتدال: ن مؤسسة الرسالة: 4/ 107]
اس کے اندر درج ذیل چار علتیں ہیں:
پہلی علت : حسن بصری مدلس ہیں اور روایت ”عن“ سے ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ الله (المتوفی852ھ)نے کہا:
”وكان يرسل كثيرا ويدلس“۔
”یہ بہت زیادہ ارسال کرتے تھے اور تدلیس بھی کرتے تھے“۔ [تقریب التھذيب لابن حجر: رقم 1227]
اگر کوئی کہے کہ ابن حجر نے طبقات المدلسین میں اسے مدلسین کے دوسرے طبقہ میں رکھا ہے جن کی معنعن روایت مقبول ہوتی ہے ۔
تو عرض ہے کہ حسن بصری کو دوسرے طبقہ میں رکھنا درست نہیں ہے کیونکہ یہ کثیر التدلیس ہیں اور جو مدلس کثیر التدلیس ہو وہ تیسرے طبقہ کا ہوتا ہے۔
امام ذہبی رحمہ الله (المتوفی:748ھ) نے کہا:
”كان الحسن كثير التدليس، فإذا قال في حديث عن فلان ضعف سماعه“۔
”حسن بصری کثیر التدلیس ہیں ، لہٰذا جب یہ کسی حدیث میں عن فلاں کہیں تو ان کا سماع ضعیف ہوگا“۔
[ميزان الاعتدال، ن مؤسسة الرسالة: 1/ 481]
رہی بات یہ کہ اگر یہ کثیر التدلیس ہیں اور ان کا عنعنہ مضر ہے تو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انہیں دوسرے طبقہ میں کیوں رکھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا تسامح ہے اور خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی دوسرے مقام پر کہا:
”وهو مع ذلك كثير الإرسال فلا تحمل عنعنته على السماع“۔
”حسن بصری اس کے ساتھ کثیر الارسال ہیں اس لیے ان کا عنعنہ سماع پر محمول نہیں“۔
[فتح الباري لابن حجر، ط السلفية: 1/ 109]
لیجیے خود ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی فیصلہ کردیا کہ حسن بصری کا عنعنہ سماع پر محمول نہیں ہوگا۔
دوسری علت: ابان بن صالح کا حسن بصری سے سماع ثابت نہیں ہے۔
امام ذہبی رحمہ الله (المتوفی:748ھ) لکھتے ہیں:
قيل: إنه لم يسمع من الحسن ذكره ابن الصلاح في أماليه-
”کہا گیا ہے کہ انہوں نے حسن سے سماع نہیں کیا تھا۔ اس بات کا ذکر ابن الصلاح نے اپنی امالی میں کیا ہے‘‘۔
[ميزان الاعتدال، ن مؤسسة الرسالة: 4/ 107]
تیسری علت : ”محمد بن خالد الْجَنَدِيُّ“ متروک ہے ۔
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ(المتوفی :463ھ) نے اسے متروک قرار دیتے ہوئے لکھا ہے :
وَمُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْجَنَدِيُّ وَالْمُثَنَّى بن الصباح مَتْرُوكَانِ-
”محمد بن خالد الجندی اور مثنی بن صباح، دونوں متروک راوی ہیں‘‘۔
[التمهيد لابن عبدالبر 23/ 39]
تنیبہ :
امام ذہبی رحمہ اللہ نے میزان میں ابن معین سے تو ثیق نقل کی ہے مگر یہ ثابت نہیں ہے ۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام ازدی سے ”منکر الحدیث“ کی جرح بھی نقل کی ہے ۔
تاہم امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ کی جرح ثابت ہے ۔
ت چوتھی علت : سند میں اضطراب ہے۔
”مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْجَنَدِيِّ“ سے یہ روایت دو طرح مروی ہے:
(الف) مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْجَنَدِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ۔
[ابن ماجۃ: رقم 4039]
(ب) مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْجَنَدِيِّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنِ الْحَسَنِ،(؟)عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم۔
[بيان خطأ من أخطأ على الشافعي للبيھقي ص296 ]
دوسرے طریق کی مکمل سند یہ ہے:
أبنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزْدَادَ الرَّازِيُّ الْمُزَكِّي بِبُخَارَا مِنْ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ الْمَهْرِيُّ بِمِصْرَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، ثنا صَامِتُ بْنُ مُعَاذٍ:عَدَلْتُ إِلَى الْجَنَدِ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ مِنْ صَنْعَا، فَدَخَلْتُ عَلَى مُحَدِّثٍ لَهُمْ، فَطَلَبْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فَوَجَدْتُهُ عِنْدَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْجَنَدِيِّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ۔
[بيان خطأ من أخطأ على الشافعي للبيھقي:ص296]
یہ دوسرا طریق مرسل ہے ، نیز اس کی سند میں ( أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ) متروک ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ الله (المتوفی:852ھ) نے کہا:
’’أبان بن أبي عياش فيروز البصري أبو إسماعيل العبدي متروك‘‘۔
”ابان بن ابی عیاش، جن کا نام فیروز تھا، بصری تھے، ان کی کنیت ابو اسماعیل اور نسبت عبدی ہے۔ وہ متروک راوی ہیں‘‘۔
[تقريب التھذيب لابن حجر: رقم 142]
اس دوسرے طریق سے متعلق امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فَإِنْ كَانَتِ الرِّوَايَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ صَحِيحَةً، وَقَدْ رَوَاهُ مَرَّةً أُخْرَى بِخِلَافِهَا كَانَ هَذَا تَخْلِيطًا مِنْ جِهَتِهِ بِرِوَايَتِهِ مَرَّةً هَكَذَا، وَمَرَّةً هَكَذَا، إِلَّا أَنَّ فِيَ صِحَّتِهَا عَنْهُ نَظَرٌ فَإِنَّهُ عَنْ مُحَدِّثٍ مَجْهُولٍ۔
”پھر اگر محمد بن خالد سے یہ روایت صحیح ثابت بھی ہو، جبکہ یہی روایت ان سے ایک دوسری مرتبہ اس کے خلاف بھی مروی ہو، تو یہ ان کی طرف سے روایت میں خلط و اضطراب شمار ہوگا، کیونکہ وہ کبھی اسے ایک طرح اور کبھی دوسری طرح روایت کرتے ہیں۔ تاہم ان سے اس (دوسری روایت) کی صحت بھی محلِ نظر ہے، کیونکہ وہ ایک مجہول محدث کے واسطے سے مروی ہے‘‘۔
[بيان خطأ من أخطأ على الشافعي للبيھقي:ص296]
لیکن پہلی روایت کی سند بھی چونکہ ضعیف ہی ہے ۔ لیکن رفع اضطراب کی ضمانت نہیں ہے ۔
تاہم اگر پہلی روایت کو ترجیح دیں تو اس کی سند بھی سخت ضعیف ہے کما مضیٰ ۔
خلاصۂ کلام یہ کہ یہ روایت سخت ضعیف ومردود وباطل ہے ۔