[contacts]
  • قناعت پسندی

    عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، آمِنًا فِي سِرْبِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا‘‘.
    عبیداللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’تم میں سے جس نے اس حال میں صبح کی کہ اس کا جسم صحیح سلامت ہو، اس کی جان امن و امان میں ہو اور اس دن کا کھانا بھی اس کے پاس ہو تو گویا اس کے لیے دنیا اکٹھی ہو گئی‘‘۔
    [صحيح ابن ماجه :3357،حسن]
    عبید اللہ بن محصن کا تعارف : ان کے شرف صحابیت کے سلسلہ میں بعض لوگوں نے اختلاف یا شبہ ظاہر کیا ہے ،لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ صحابی ہیں ۔امام بخاری رحمہ اللہ نے (التاریخ الکبیر،6/483) میں لکھا ہے:’’ عبيدالله بن محصن الانصاری: له صُحبة‘‘۔’’عبیداللہ بن محصن کو شرف صحابیت حاصل ہے‘‘۔امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسی روایت کے سیاق میں ذکر کیا ہے’’وكانت له صحبة‘‘۔’’اسی طرح امام ترمذی رحمہ اللہ ان کانام اپنی کتاب ’’تسمية أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم‘‘میں بھی ذکر کیا ہے۔ ان کے علاوہ کئی ایک علماء نے بھی ان کو صحابہ کی فہر ست میں ذکر کیاہے۔
    فوائد حدیث :
    (۱)جسے کوئی بیماری اور خوف نہ ہو اور دن بھر کی ضرورت کا سامان موجود ہو تو یہ اس کے لیے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔(۲)ہم زیادہ کی خواہش میں ان نعمتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے جو ہمارے پاس موجود ہوتی ہیں جس کی وجہ سے دل میں شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔(۳)جس شخص کے پاس ایک دن کی ضروریات موجود ہیں اسے اس دن اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور یہ امید رکھنی چاہیے کہ جب کل کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ ہی آج کی طرح اس کی ضروریات کل بھی پوری کرے گا۔(۴)اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صحت و عافیت اور ایک دن کے کھانے کے سامان کا گھر میں ہونا ایسے ہی ہے جیسے پوری دنیا اس کے پاس ہے، سبحان اللہ۔ حدیث میں قناعت کا زبردست بیان ہے، اور ناشکری کرنے والوں کے لیے اس میں بہت بڑی نصیحت ہے۔(۵) امن کی نعمت اللہ ر ب العالمین کی عظیم ترین نعمت ہے۔ (۶)انسانی ضروریا ت میں امن ،عافیت اور رزق کو بڑا اونچا درجہ حاصل ہے۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings