[contacts]
  • ریلز (Reels) کا فتنہ اور ہماری زندگیاں : ایک لمحہ فکریہ

    (شیخ عبد الحسیب مدنی حفظہ اللہ کے خطاب سے لئے گئے اہم نکات)
    تلخیص وپیشکش : ام محمد خوشنما مصلح الدین(جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ)
    شیخ عبد الحسیب مدنی حفظہ اللہ کا یہ خطاب موجودہ دور کے ایک انتہائی حساس، سنگین، خطرناک اور خاموش فتنہ ’’ریلز (Reels) اور شارٹ ویڈیوز‘‘ کی لت پر مبنی ہے، اس خطاب میں انہوں نے سوشل میڈیا کے اس جنون کا ہماری دنیاوی، خاندانی اور ایمانی زندگیوں پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔اس ویڈیو کے کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں :
    (۱) وقت ایک قیمتی سرمایہ اور محاسبۂ نفس : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
    ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَـنۡظُرۡ نَـفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ‌ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾
    [الحشر: ١٨]
    ترجمہ: ’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے‘‘۔
    اس آیت کی روشنی میں محاسبۂ نفس ہر مسلمان پر لازم ہے، ہماری زندگی کے دن، رات اور لمحات ہمارا سرمایہ ہیں، انسان ہر لمحے یا تو جنت کما رہا ہے یا جہنم، یہاں تک کہ مباح (جائز) کاموں میں ضائع کیا گیا وقت بھی دراصل نقصان ہی ہے، کیونکہ اسے نیکیوں اور آخرت کی تیاری میں لگایا جا سکتا تھا، ہر انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ وہ اپنے وقت کا کیا کر رہا ہے اور اسے کہاں لگا رہا ہے؟
    (۲) ریلز کی لت (Addiction) اور ذہنی غلامی : آج کے دور میں ریلز دیکھنے کی عادت بالکل شراب یا کسی نشہ کی لت کی طرح ہو چکی ہے، لوگ بلاوجہ موبائل اٹھاتے ہیں اور گھنٹوں اسکرین کے حوالے کر دیتے ہیں، ہم غیر شعوری طور پر اپنے اسمارٹ فونز کے ذہنی غلام بن چکے ہیں۔
    (۳) ذہنی یکسوئی (Concentration) کا خاتمہ : سوشل میڈیا اور ریلز نے انسان کے دماغ کی یکسوئی اور فوکس کو تباہ کر دیا ہے، اس کا منفی اثر عبادات، کاروبار اور تعلیمی معاملات پر پڑ رہا ہے، انسان نماز میں کھڑا ہوتا ہے یا کوئی ضروری کام کر رہا ہوتا ہے، لیکن اس کا دماغ مختلف خیالات میں الجھا رہتا ہے۔
    اس ضمن میں شیخ حفظہ اللہ نے زمانۂ جاہلیت کے ایک اعرابی کا بڑا سبق آموز واقعہ بیان کیا ہے، وہ یہ کہ اس دور میں شراب نوشی عام تھی لیکن وہ اعرابی شراب نہیں پیتا تھا، جب اس سے پوچھا گیا کہ پورا زمانہ شراب پیتا ہے تم کیوں نہیں پیتے؟ تو اس نے جواب دیتے ہوئے کہا:
    ’’لا أشرب ما يشرب عقلي‘‘ یعنی میں وہ چیز نہیں پی سکتا جو میری عقل کو پی جائے۔
    [حدائق الأزھر للغرناطی:ص:۲۳]
    آج اگر ہم اپنی عقل اور شعور کی حفاظت کرنا نہیں سیکھتے تو اس اعرابی سے بڑے نادان ہم ہیں، جس طرح شراب عقل کو ختم کرتی ہے، ریلز کا یہ نشہ خاموشی سے ہماری تخلیقی صلاحیتوں، یکسوئی اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کررہا ہے۔
    (۴) خاندانی رشتوں میں دوریاں اور دراڑیں : ریلز کی وجہ سے والدین اور بچوں، اور خصوصاً میاں بیوی کے درمیان دوریاں پیدا ہو رہی ہیں، لوگ ایک ہی کمرے میں جسمانی طور پر ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں لیکن ذہنی طور پر ایک دوسرے سے میلوں دور اپنی اپنی موبائل اسکرینز میں گم ہوتے ہیں، باہمی وقت نہ گزارنے کی وجہ سے رشتوں میں تلخیاں اور بعض اوقات نوبت میاں بیوی میں طلاق اور والدین و بچوں میں فراق وجدائی تک پہنچ رہی ہے۔
    (۵) دینی ریلز اور قصہ گوئی کا فتنہ : یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ دین اور علماء کی ریلز دیکھنا سراسر فائدہ مند ہے، ریلز میں عام طور پر قرآن و حدیث اور فقہی مسائل بیان نہیں کئے جاتے، بلکہ زیادہ تر صرف قصے کہانیاں (Stories) بیان کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ (Attraction) حاصل کی جا سکے، اس سے حقیقی علم حاصل نہیں ہوتا بلکہ انسان صرف وقتی مزہ لیتا ہے.
    (۶) نظریاتی اور ثقافتی تبدیلی : یہ ریلز اور کہانیاں محض تفریح نہیں ہوتیں، بلکہ وہ غیر شعوری طور پر ایک خاص کلچر، طرزِ زندگی اور نظریہ آپ کے ذہن میں منتقل کر دیتی ہیں، مثال کے طور پر سوشل میڈیا پر میاں بیوی کی مثالی اور اسکرپٹڈ ویڈیوز دیکھ کر نوجوان بچیوں کے ذہن خراب ہو رہے ہیں، اور وہ حقیقی زندگی میں مردوں سے غیر حقیقت پسندانہ توقعات وابستہ کر رہی ہیں جس سے رشتے خراب ہو رہے ہیں۔
    (۷) علم سے دوری اور وقت کا شدید ضیاع : ریلز دیکھنا اس تھیلے کی طرح ہے جس کے نچلے سرے میں سوراخ ہو، آپ اوپر سے جو بھی ڈالیں گے وہ نیچے سے ضائع ہوتا جائے گا، جو گھنٹوں ہم ریلز پر برباد کرتے ہیں، اگر وہی وقت کسی مستند عالم کا مکمل درس سننے یا قرآن و حدیث کے مطالعہ میں لگائیں تو ہماری زندگی بدل سکتی ہے۔
    خلاصۂ کلام :
    ہمیں چاہئے کہ اپنی زندگی کے اس قیمتی سرمایہ کو چند سیکنڈز کی ان ویڈیوز کی نذر ہونے سے بچائیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس فتنے کے شر سے محفوظ رکھے، اور اپنے اوقات اور وسائل کا صحیح استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings