[contacts]
  • حسد کی تباہ کاریاں، اسباب اور علاج (قرآن وسنت اور اقوال سلف کی روشنی میں) (دوسری اور آخری قسط)

    حسد کے اسباب :
    معاشرہ میں حسد کے پنپنے اور پروان چڑھنے کی کئی وجوہات ہیں، ان میں سے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:
    (۱) دشمنی اور کینہ: یہ حسد کا سب سے بڑا اور طاقتور سبب ہے، جب کسی انسان کو دوسرے شخص سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا ان کے مقاصد آپس میں ٹکراتے ہیں، تو دل میں غصہ اور کینہ جڑ پکڑ لیتا ہے، کینہ پرور شخص ہمیشہ انتقام اور تسکین کا متلاشی رہتا ہے، چنانچہ جب اس کے دشمن پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ خوش ہوتا ہے، اور جب اسے کوئی نعمت ملتی ہے تو شدید رنجیدہ ہوتا ہے، یہ کیفیت بالآخر شدید ترین حسد میں تبدیل ہو کر انسان کی بصیرت چھین لیتی ہے۔
    (۲) تکبر اور غرور: متکبر مزاج کا حامل شخص اپنے کسی ماتحت، غریب، یا کم تر سمجھے جانے والے فرد کو اعلیٰ نعمت ملتے ہوئے ہرگز برداشت نہیں کر پاتا، اسے ہمیشہ یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر اس کے ماتحت کو نعمت یا مقام مل گیا، تو وہ اس کی ماتحتی سے نکل کر اس کے برابر کھڑا ہو جائے گا۔
    (۳) عزتِ نفس کا بے جا غرور: بعض اوقات انسان پر یہ بات سخت گراں گزرتی ہے کہ اس کا کوئی ہم پلہ، دوست یا جاننے والا مال، علم، یا منصب میں اس سے آگے بڑھ جائے، اسے یہ بے بنیاد خوف لاحق ہو جاتا ہے کہ ترقی کرنے کے بعد وہ شخص اس پر تکبر کرے گا، لہٰذا وہ اپنی جھوٹی انا کی تسکین کی خاطر تمنا کرتا ہے کہ اس شخص سے وہ نعمت چھن جائے تاکہ دونوں کی برابری برقرار رہے۔
    (۴) نفس کی خباثت اور بخل: بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا کسی سے کوئی مقابلہ، پرانی دشمنی یا منصب کی کشمکش نہیں ہوتی، لیکن ان کی نفسیات اس قدر بیمار ہو چکی ہوتی ہے کہ کسی کی خوشحالی، کامیابی یا ترقی کا سن کر ان کا دل بلاوجہ سلگنے لگتا ہے، یہ وہ بخیل لوگ ہیں جو اللہ کی تقسیم کردہ نعمتوں پر بھی بخل کرتے ہیں، گویا وہ نعمتیں ان کے ذاتی خزانے سے دی جا رہی ہوں، اس قسم کا حسد سراسر نفس کی غلاظت اور طبعی خباثت کا نتیجہ ہوتا ہے، اور اس کا علاج سب سے زیادہ کٹھن ہے۔
    (۵) حیرت اور استعجاب کا غلط رُخ : یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کسی کی کامیابی پر حیران ہو کر اسے اس نعمت کا حقدار نہ سمجھے، مثال کے طور پر پچھلی امتوں کو اس بات پر سخت حیرت ہوتی تھی کہ انہی جیسا ایک عام انسان رسالت، وحی اور اللہ کے قرب کے مرتبہ پر کیسے فائز ہو گیا؟ چنانچہ انہوں نے محض اس گھبراہٹ میں حسد کیا اور نبوت چھن جانے کی تمنا کی کہ انہی جیسا ایک انسان ان پر فضیلت کیسے پا گیا۔
    (۶) مقاصد اور اہمیت فوت ہونے کا ڈر: یہ حسد عموماً ان لوگوں کے درمیان ہوتا ہے جو کسی ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے کوشاں ہوں اور ان کے درمیان سخت مسابقت ہو، مثال کے طور پر ایک ہی استاد کے دو شاگرد یا ایک ہی دفتر کے دو ملازم، ان میں سے ہر ایک کو یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ دوسرے کی کامیابی سے اس کی اپنی اہمیت ختم ہو جائے گی، یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا حسد بھی اسی نوعیت کا تھا، جنہیں یہ ڈر تھا کہ یوسف علیہ السلام کی موجودگی میں انہیں والد کی بھرپور توجہ نہیں مل سکے گی۔
    (۷) قیادت اور جاہ و منصب کی محبت: جو شخص یہ چاہتا ہو کہ کسی خاص فن، علم یا منصب میں صرف اسی کا نام ہو اور وہ بے نظیر کہلائے، تو جب بھی وہ سنے گا کہ دنیا میں اس کا کوئی ہم پلہ موجود ہے، تو اسے شدید دلی رنج ہو گا، وہ اس شخص کی موت، رسوائی یا اس کے ہنر کے زوال کی تمنا کرے گا تاکہ اس کی انفرادیت کی کرسی قائم رہے، یہود کے علماء کا نبی کریم ﷺ سے حسد اسی نوعیت کاتھا، انہیں اپنی مذہبی چودھراہٹ اور علمیت کا رعب چھن جانے کا شدید خوف تھا۔
    امام ابن قدامہ رحمہ اللہ اس حوالہ سے فرماتے ہیں: ’’حسد کے تمام تر اسباب کی اصل اور بنیادی وجہ دنیا کی محبت ہے‘‘۔[مختصر منهاج القاصدین لابن قدامة، ص:١٨٨]
    حاسد اپنے نفس کا علاج کیسے کرے؟
    حاسد کے لیے اپنے نفس کا علاج کرنے اور حسد جیسی مہلک قلبی بیماری سے نجات پانے کے لیے درج ذیل امور پر غور کرنا اور عمل پیرا ہونا نہایت ضروری ہے:
    (۱) حاسد پر لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ اس کا دل بیمار اور حسد کی غلاظت سے آلودہ ہو چکا ہے، اس روگ کے علاج اور قلب کی پاکیزگی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایمان کے ارکان (اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر کی اچھائی و برائی) پر اپنے یقین کو مزید پختہ کرے۔
    (۲) اسے یہ بخوبی جان لینا چاہیے کہ حسد دل کی خطرناک ترین بیماریوں میں سے ایک ہے، یہ ایک ایسا مذموم اخلاق ہے جو انسان کی مروت اور شرافت کو داغدار کر دیتا ہے، اور اسی روگ کے باعث حاسد ہمیشہ رنج و الم کی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے۔
    (۳) حاسد کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حسد درحقیقت اللہ عزوجل کی قضاء و قدر پر اعتراض اور اس کے فیصلوں پر ناگواری کا اظہار ہے، جو انسان کے دین و ایمان کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوسکتا ہے، لہٰذا اس پر واجب ہے کہ وہ اس گناہ سے سچی توبہ کرے، اللہ کی رضا پر راضی رہے اور دوسروں کے لیے بھی وہی کچھ کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے۔
    (۴) حاسد اللہ کی قضاء و قدر پر کامل ایمان رکھے اور یہ پختہ یقین رکھے کہ کوئی بھی ذی روح اپنا مقررہ رزق اور مدتِ حیات پوری کیے بغیر موت سے ہمکنار نہیں ہو سکتی، اس لیے جو چیز اس کے دائرہ اختیار میں نہیں، اس کی طمع اور حرص سے کلی طور پر گریز کرے۔
    (۵) حاسد کو یاد رکھنا چاہیے کہ ابلیس کو آدم علیہ السلام سے حسد اور تکبر کرنے کی بنا پر ہی جنت سے نکالا گیا تھا، اسے اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں اس کا یہ عمل اسے بھی ابلیس کی طرح اللہ کی رحمت سےہمیشہ کے لیے محروم نہ کر دے۔
    (۶) وہ اس بات کا شعور بیدار کرے کہ حسد کرنا دراصل یہودیوں کی قبیح خصلتوں اور ان کے مذموم کردار سے مشابہت اختیار کرنا ہے۔
    (۷) جب بھی کسی کی کوئی نعمت یا خوبی پسند آئے، یا دل میں حسد کا خیال پیدا ہو تو فوراً ’’ماشاء الله لا قوة إلا بالله‘‘ کہے اور اس شخص کے حق میں برکت کی دعا کرے، یہ عمل حسد کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔
    (۸) اپنے دل کی پاکی اور سکون کے لیے کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے اور قرآنِ مجید کی تلاوت کا باقاعدہ اہتمام کرے۔
    حاسد کے شر سے بچاؤ کے چند بنیادی اسباب :
    امام ابن القیم رحمہ اللہ نے حاسد کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے قرآن و سنت پر مبنی دس نہایت جامع اور مجرب اسباب بیان فرمائے ہیں، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے :
    (۱) اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا:
    اللہ تعالیٰ کے حضور حاسد کے شر سے پناہ مانگنا، اسی کی طرف رجوع کرنا اور اسے اپنا قلعہ بنانا بہترین دفاع ہے، بالخصوص معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا اہتمام کرنا ایک انتہائی مضبوط حفاظتی حصار ہے۔
    (۲) تقویٰ اور احکام الٰہی کی پابندی:
    جو شخص اللہ کے احکامات کی پابندی کرتا ہے اور اس کی نافرمانی سے بچتا ہے، اللہ اس کی حفاظت کا ذمہ لے لیتا ہے، قرآن کا وعدہ ہے:
    ﴿وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡــئًا﴾[آل عمران: ١٢٠]
    ترجمہ:’’تم اگر صبر کرو اور پرہیزگاری کرو تو ان کا مکر تمہیں کچھ نقصان نہ دے گا‘‘۔
    (۳) صبر اور درگزر سے کام لینا:
    حاسد اور دشمن کی ایذا رسانی پر صبر کرنا اور اس سے الجھنے سے گریز کرنا عظیم کامیابی ہے، حاسد پر فتح پانے کے لیے صبر اور اللہ پر توکل سے بڑھ کر کوئی ہتھیار نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    ﴿وَمَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِىَ عَلَيۡهِ لَيَنۡصُرَنَّهُ اللّٰهُ﴾ [الحج: ٦٠]
    ترجمہ: ’’اور جس نے بدلہ لیا اسی کے برابر جو اس کے ساتھ کیا گیا تھا پھر اگر اس سے زیادتی کی جائے تو یقیناً اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد فرمائے گا‘‘۔
    ذرا سوچیں! جب اللہ نے بدلہ لینے والے مظلوم کی مدد کا وعدہ کیا ہے، تو اس شخص کا مقام کتنا بلند ہوگا جو اپنا حق وصول کیے بغیر صبر کا دامن تھامے رکھے؟
    (۴) اللہ پر کامل توکل:
    توکل شر کو دفع کرنے کا سب سے طاقتور اور موثر ذریعہ ہے: ﴿وَمَنۡ يَّتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسۡبُهٗ﴾ [الطلاق: ٣]ترجمہ: ’’اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا‘‘۔
    (۵) دل کو حاسد کے خیالات سے فارغ رکھنا:
    ہر وقت حاسد کے بارے میں سوچنا، اس کی سازشوں سے خوفزدہ رہنا اور دل کو اسی فکر میں مبتلا رکھنا دراصل حاسد کو اس کے مقصد میں کامیاب کرنا ہے، اپنے ذہن کو ان منفی خیالات سے مکمل طور پر پاک کر لینا حاسد کے شر کو بے اثر کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
    (۶) اللہ کی طرف کامل رجوع اور اخلاص:
    دل میں اللہ کی محبت، اس کی رضا کی طلب اور آخرت کی فکر اس قدر بسا لیا جائے کہ حاسد کے تفکرات اور شیطانی وسوسوں کے لیے دل کے نہاں خانے میں کوئی جگہ باقی ہی نہ رہے۔
    (۷) گناہوں سے سچی توبہ اور استغفار:
    بسا اوقات انسان پر دشمنوں اور حاسدوں کا مسلط ہونا اس کے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہوتا ہے:
    ﴿وَمَاۤ اَصَابَكُمۡ مِّنۡ مُّصِيۡبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ﴾[الشورى: ٣٠]
    ترجمہ:’’تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے‘‘۔
    چنانچہ ہر حال میں گناہوں سے سچی توبہ اور کثرت سے استغفار کرنا چاہیے۔
    (۸) صدقہ، خیرات اور احسان:
    حسبِ استطاعت صدقہ اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنا مصیبتوں کو ٹالنے، نظرِ بد سے بچنے اور حاسد کے شر کو دور کرنے میں انتہائی حیرت انگیز اثر رکھتا ہے۔
    (۹) برائی کا بدلہ بھلائی سے دینا:
    یہ نفس پر سب سے بھاری مگر دشمن کو زیر کرنے کا سب سے کارگر طریقہ ہے، جس کی توفیق صرف خوش نصیبوں کو ملتی ہے، حاسد، ظالم اور اذیت دینے والے کی نفرت کی آگ کو اس پر احسان کر کے بجھانا چاہیے، یعنی وہ جتنا ظلم کرے، آپ اس کے ساتھ اتنی ہی بھلائی اور شفقت کریں، قرآن مجید میں فرمایا گیا:
    ﴿وَلَا تَسۡتَوِى الۡحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِىۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِىٌّ حَمِيۡمٌ﴾[فصلت: ٣٤]
    ترجمہ: ’’نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہوجائے گا جیسے دلی دوست‘‘۔
    (۱۰) توحید کا خالص ہونا:
    بقیہ تمام اسباب کا مدار اسی دسویں سبب پر ہے، انسان کا یہ پختہ عقیدہ ہو کہ نفع و نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اپنی سوچ کو دنیاوی اسباب سے ہٹا کر مسبب الاسباب (اسباب پیدا کرنے والے رب) کی طرف مرکوز کریں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    ﴿وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ‌ؕ وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾[الأنعام: ١٧]
    ترجمہ: ’’اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں، اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی نفع پہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے‘‘۔
    نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    ’’وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ‘‘۔
    ’’اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے‘‘۔ [سنن الترمذي: ٢٥١٦، صحيح]
    جب بندے کی توحید خالص ہو جاتی ہے تو اس کے دل سے اللہ کے سوا ہر چیز کا خوف نکل جاتا ہے، توحید اللہ کا وہ مضبوط ترین قلعہ ہے جس میں داخل ہونے والا ہمیشہ کے لیے امن پا لیتا ہے۔[بدائع الفوائد لابن القيم:٢/ ٢٣٨- ٢٤٥]
    شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’حاسد کے دل سے حسد کے خاتمہ کا علاج یہ ہے کہ وہ اس بیماری سے اللہ کی پناہ طلب کرے، اللہ تعالیٰ سے شفا اور عافیت کی دعا مانگے، اور جب بھی اسے کوئی چیز اچھی لگے تو کثرت سے اللہ کا ذکر کرے۔
    دوسری جانب، محسود (جس سے حسد کیا جا رہا ہو) کے لیے علاج یہ ہے کہ وہ حاسد کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کی تلاوت کرے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کرے اور صرف اسی کی ذات پر کامل توکل کرے‘‘۔ [المنتقي:١٦٧/١]
    خلاصۂ کلام :
    حسد ایک ایسی بھڑکتی ہوئی آگ ہے جو انسان کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کرسکتی ہے، سوشل میڈیا کی اس کھوکھلی دنیا میں جہاں ہر دوسری پوسٹ یا تصویر دلوں میں احساسِ کمتری کا بیج بو سکتی ہے، ہمیں اپنے قلوب کی کڑی نگرانی کرنی چاہیے، بالخصوص علماء، عالمات اور طلبۂ علم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے دلوں کو اس غلاظت سے پاک رکھیں، کیونکہ حسد ان کی دعوت، علم اور قرب الٰہی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، حاسد دراصل اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر معترض ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا سیکھیں، دوسروں کو ملنے والی نعمتوں پر انہیں صدقِ دل سے دعائیں دیں اور اپنے رب کے فضل کے طالب بنیں، حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ ہم دنیا کی نظروں میں کتنا اونچا مقام پاتے ہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم بروزِ قیامت اپنے رب کے حضور قلبِ سلیم کے ساتھ پیش ہوں۔
    اللہ رب العزت ہم سب کو حسد جیسی مہلک بیماری سے محفوظ رکھے اور ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور خیر خواہی پیدا فرمائے۔ آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings