[contacts]
  • عصرِ حاضر میں طالباتِ علم کی اصلاحی کمزوریاں : ایک شرعی و فکری جائزہ

    علمِ دین اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے، چنانچہ دین کا علم حاصل کرنے والی خواتین دراصل اس امت کی مربیات، گھروں کی اصلاح کرنے والیاں اور آنے والی نسلوں کی رہنما ہوتی ہیں، ان کا علم حاصل کرنا محض ذاتی اصلاح نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح ہے، لیکن موجودہ دور کے مختلف فتنوں، آزمائشوں اور سوشل میڈیا کی بے لگامی نے طالباتِ علم کے راستے میں کئی نئے چیلنجز کھڑے کر دیئے ہیں۔
    زیرِ نظر تحریر انہی غلط رویوں اور کمزوریوں کا ایک اصلاحی و شرعی تجزیہ ہے، تاکہ ہر طالبۂ علم اپنی اصلاح کی طرف قدم بڑھائے اور علم کے نور سے اپنے کردار کو منور کر سکے۔
    بارہا میں نے ان چیزوں کا مشاہدہ کیا ہے، بلکہ افسوس اس بات پر ہے کہ ہماری کئی اسلامی بہنیں ان شرعی و اخلاقی برائیوں میں ملوث ہیں مگر انہیں یہ احساس تک نہیں کہ یہ کتنے سنگین گناہ ہیں :
    (۱) عدم اخلاص اور شہرت طلبی کا فتنہ :
    علم کی پہلی سیڑھی نیت کی درستی ہے، جب نیت ہی بگڑ جائے تو علم بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے، آج بعض طالبات علم کے حصول کو شہرت، تعریف یا اپنی امیج بنانے کا ذریعہ سمجھنے لگتی ہیں، جبکہ یہ وقتی دھوکہ اور دنیا و آخرت کا نقصان ہے۔
    نبی کریم ﷺ نے ایسے ہی لوگوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا :
    ’’مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيَصْرِفَ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، فَهُوَ فِي النَّارِ‘‘۔ [سنن ابن ماجه : ٢٥٣، حسنه الألباني رحمه الله]
    ’’جو شخص اس لئے علم حاصل کرتا ہے کہ بے علم (عوام) سے بحث کرے یا علماء کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے، وہ جہنم میں جائے گا‘‘۔
    (۲)انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بےجا استعمال :
    طالبات علم کے لیے انٹرنیٹ بیک وقت ایک سہولت بھی ہے اور ایک شدید آزمائش بھی، آج کثیر تعداد ایسی ہے جو علم کے نام پر وقت کے بڑے حصے کو بے فائدہ ویڈیوز، غیر مستند اقوال اور غیر محقق معلومات پر ضائع کر دیتی ہے، سفر علم میں وقت کی اہمیت سب سے زیادہ ہے، انٹرنیٹ پر غیر مستند ذرائع سے فتاویٰ، اقوال اور دلائل لے کر انہیں آگے پھیلانا آج کے دور کا ایک بڑا فتنہ ہے، یاد رکھیں! بغیر علم کے کسی مسئلے میں بول پڑنا نہ صرف گمراہی کا راستہ کھولتی ہے بلکہ طالبۂ علم کے مقام کو بھی گرا دیتی ہے۔
    (۳) حجاب کے نام پر تصاویر کی نمائش :
    آج عام خواتین تو دور بلکہ نیک، دین دار خواتین حتیٰ کہ مشہور و معروف عالمات و فاضلات بھی اس فتنے کی شکار ہیں، یہ سمجھتی ہیں کہ یہ تو پردے میں ہیں مگر ان کا پردہ پوری دنیا کے سامنے ظاہر ہے، کچھ طالبات سمجھتی ہیں کہ چونکہ چہرہ ڈھکا ہے، لہٰذا تصویر حلال ہے، کچھ’’اسلامک فیشن‘‘ کے نام پر اپنی شخصیت کا تاثر پوری دنیا تک پہنچاتی ہیں۔
    جبکہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف زینت چھپانے کا حکم دیا، بلکہ زینت کے اسباب کو بھی چھپانے کا حکم دیا ہے :
    ﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ﴾ [النور : ٣١]
    ’’مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں‘‘۔
    نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا :’’الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ‘‘۔[سنن ترمذی : ۱۱۷۳، صحيح]
    ’’عورت (سراپا) پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کا پیچھا کرتا ہے‘‘۔
    میری بہنو! یہ کتنی عظیم بات ہے کہ نمائش شیطانی راستہ بن سکتی ہے، خصوصا طالباتِ علم کے لئے یہ روش ہرگز مناسب نہیں کہ وہ اپنے حجاب، جلباب یا دینی شناخت کی تصاویر نشر کریں چاہے واٹس اپ ڈی پی پر ہو یا اسٹیٹس، انسٹا یا فیس بک وغیرہ پر۔
    (۴) ذاتی زندگی، مختلف کھانے، ذاتی دسترخوان اور روزمرہ معمولات کی نمائش :
    موجودہ دور کی سب سے خطرناک وبا ’’زندگی کی نمائش‘‘ہے، خصوصاً خواتین کھانے کی تصاویر، ذاتی اشیاء، کپڑے، سفر، حتیٰ کہ بعض اوقات تو گھر کے افراد کی چیزیں سب کچھ سوشل میڈیا پر نشر کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، افسوس کہ یہ عمل پڑھی لکھی دینی خواتین کا ٹرینڈ بن چکا ہے، جبکہ طالبۂ علم کی شان تو یہ ہونی چاہئے کہ وہ زندگی کی غیر ضروری نمائش، غیر مفید امور اور فضولیات و تحسینیات سے حتیٰ الامکان اپنا دامن محفوظ رکھے کہ یہی اس کے اسلام کی خوبی ہے، نبی کریم ﷺنے فرمایا :
    ’’مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ‘‘۔[سنن ترمذی : ٢٣١٧، صحيح]
    ’’کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اورفضول باتوں کوچھوڑ دے‘‘۔
    عزیز بہنو! اپنی ذاتی اشیاء، اپنا دسترخوان نیز نجی زندگی کی تفصیلات نشر کرنا کوئی عقل مندی نہیں بلکہ یہ حسد، بغض اور نظر بد جیسی جان لیوا بیماریوں کی اصل ہے۔
    (۵) غیر منہجی مباحث اور بغیر علم کے گفتگو کرنا :
    کچھ طالبات چند مضامین یا چند اسباق پڑھ لینے کے بعد بڑے بڑے علمی مسائل پر گفتگو شروع کر دیتی ہیں، مثلاً : عقیدہ کے دقیق مسائل، اصولِ فقہ کے بڑے مباحث، فرقوں پر فیصلے، یا فقہی اختلافات میں شدت، یہ سب خطرناک اعمال میں سے ہیں۔
    نبی کریم ﷺ کا فرمان یاد رکھیں :
    ’’مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ‘‘۔ [سنن أبي داود : ٣٦٥٧، حسن]
    ’’جس کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا تو اس کا گناہ اس پر ہوگا جس نے فتویٰ دیا ہے‘‘۔
    (۶) علمی خیانت (AI یا ChatGPT کا مواد اپنی طرف منسوب کرنا) :
    یہ نئے دور کی نئی آزمائش ہے، کافی پہلے سے یہ چیز چلی آرہی تھی کہ کوئی کسی کی تحریر کو اپنی طرف منسوب کر لیتا، مگر آج کل یہ بہت عام ہوگیا ہے کہ اکثر لوگ مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں، بہت سی طالبات پوری تحریر مصنوعی ذہانت سے لکھواتی ہیں اور اسے اپنی محنت ظاہر کرتی ہیں، یہ واضح علمی خیانت اور دیانت کے خلاف عمل ہے، نیز اس سے دلوں میں علم کا نور بجھا دیا جاتا ہے، علم کی برکت ختم کر دی جاتی ہے اور شیطانی عمل کے راستے ہموار ہوتے ہیں، یہ بد ترین عمل بھی واضح دھوکہ میں شامل ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
    ’’مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي‘‘۔[صحیح مسلم : ٢٩٤]
    ’’جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں‘‘۔ (ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے)۔
    عزیز بہنو! علم کے میدان میں جھوٹ سب سے بڑا ضرر اور دھوکہ ہے، AI، Chat gpt وغیرہ معاون ضرور ہو سکتے ہیں مگر متبادل نہیں! تحریر آپ خود لکھیں، سمجھیں، اور تحقیق کریں، یہی آپ کے علم کی اصل پہچان ہے۔
    (۷) وقت کا ضیاع اور غیر ضروری مشاغل :
    طلاب العلم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ علم کا سفر مستقل محنت مانگتا ہے، لیکن بعض طالبات فیشن، ٹرینڈز، دوستوں کی لمبی باتیں، سیلفیز اور چھوٹی چھوٹی مصروفیات میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتی ہیں، جبکہ وقت کی اہمیت کا اندازہ نبی کریم ﷺکے اس فرمان سے لگایا جاسکتا ہے:
    ’’لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ۔۔۔‘‘[سنن ترمذی : ٢٤١٧، صحيح]
    ’’قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں پاؤں نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے : اس کی عمر (وقت) کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں ختم کیا۔۔۔‘‘
    یہ وقت ہی اصل زندگی ہے، عموما ًسبھی کے لیے اور خصوصاً طالباتِ علم کے لیے وقت بہت بڑی امانت ہے، اگر آپ اپنا وقت ضائع کر رہی ہیں تو درحقیقت آپ کا علم بھی ضائع ہو رہا ہے!
    امت کی چراغوں کے نام اہم پیغام :
    میری پیاری بہنو! آپ کوئی عام لڑکی نہیں ہیں، بلکہ اللہ رب العزت نے آپ کو چن کر اپنی خاص بندیوں میں شامل کیا ہے، آپ حقیقت میں وہ بیج ہیں جو آنے والی نسلوں کو فکر، حیا، دین، ادب، اور شعور کا سایہ عطا کریں گی ان شاء اللہ، اگر آپ کی نیت خالص ہو، کردار پاک ہو، پردہ حقیقی و شرعی ہو، زبان سنجیدہ ہو اور زندگی میں پرہیزگاری ہو تو آپ کا علم باعث نور و برکت ہے۔ اور اگر آپ کے عمل میں دکھاوا، لاپرواہی، نمائش، وقت کا ضیاع اور علمی خیانت شامل ہوجائے تو علم بجائے نفع کے نقصان کا باعث ہے۔ (نسأل الله السلامة، ونعوذ به من الفتن ما ظهر منها وما بطن)
    لہٰذا ہر طالبۂ علم پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو محاسبہ، حیا، تقویٰ، سچائی اور حقیقت پسندی میں ڈھالے، اور اس شعور کو اپنے دل و ذہن میں محفوظ کر لے کہ علم ایک عظیم عبادت ہے، اور ہر عبادت اخلاص کا محتاج ہے۔
    اللہ رب العالمین ہمیں اخلاصِ نیت اور سلیقۂ عبادت عطا فرمائے، ہمارے علم کو مفید اور اعمال کو ذخیرۂ آخرت بنائے۔ آمین یارب العالمین
    ھ ھ ھ

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings