-
کیا ہاتھوں اور پیروں پر لگی مہندی زینت میں شامل نہیں؟ عصرِ حاضر میں جہاں زیب و زینت کے اظہار کو عام اور جدید طرزِ زندگی کا لازمی حصہ سمجھا جانے لگا ہے، وہیں اسلامی تعلیمات ہمیں حیا اور پردے کے ان زریں اصولوں کی یاد دلاتی ہیں جو معاشرے کو فتنوں سے محفوظ رکھتے ہیں، اسلام عورت کو اپنے شوہر اور محرم رشتوں کے لیے زیب و زینت اختیار کرنے کی مکمل اجازت اور ترغیب دیتا ہے، عورت کے لیے زیب و زینت کی خاطر اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی اور نقش و نگار لگانا بالکل جائز ہے، لیکن اس پر واجب ہے کہ وہ اسے چھپائے رکھے اور غیر محرم مردوں کی موجودگی میں مہندی لگے ہاتھ یا پیر ہرگز ظاہر نہ کرے۔
آج کے دور میں جب سوشل میڈیا (فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ پروفائل، اسٹیٹس وغیرہ) پر مہندی لگے ہاتھوں اور پیروں کی تصاویر شیئر کرکے نمائش کرنے کا رجحان عام ہو چکا ہے، بعض اوقات ’’ایستھیٹک‘‘ (Aesthetic) ٹرینڈز کے نام پر چہرہ چھپا کر صرف مہندی لگے ہاتھوں، انگوٹھیوں یا کلائی میں پہنی گئی گھڑی کے ساتھ کسی کتاب یا چائے کے کپ کی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں، بعض خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ چہرہ نہ دکھانے سے پردے کا تقاضا پورا ہو گیا، حالانکہ مہندی اور زیورات سے مزین ہاتھ بذاتِ خود باعثِ کشش ہیں اور شرعی لحاظ سے یہ بھی بے پردگی اور تبرج (زینت کی نمائش) کے زمرے میں آتے ہیں، نیز بازاروں اور تعلیمی اداروں میں غیر محرم مردوں کے سامنے سج دھج کر نکلنے کا رجحان عام ہو چکا ہے، ایسے حالات میں یہ شعور بیدار کرنا انتہائی ضروری ہے کہ پردے کا حکم صرف لباس تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس کشش اور زینت پر لاگو ہوتا ہے جو فتنے کا سبب بن سکتی ہے، مہندی بھی اسی کشش اور زینت کا ایک اہم حصہ ہے۔
یہی غفلت عیدین اور شادی بیاہ کے مواقع پر بھی دیکھنے میں آتی ہے، ان مواقع پر مہندی لگانا خواتین کا پسندیدہ عمل ہے، لیکن عموماً پردے کے احکامات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، دلہن یا دیگر خواتین کے مہندی لگے ہاتھوں کی تصویر کشی، ان تصاویر کا غیر محرم رشتہ داروں (جیسے دیور، کزن وغیرہ) تک پہنچنا، یا کیمرہ مین کے سامنے بے تکلفی سے سجے ہوئے ہاتھوں کی نمائش کرنا ایک عام لیکن سنگین شرعی کوتاہی ہے جس کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔
چنانچہ اسی تناظر میں اکابر علمائے کرام کے فتاویٰ ہماری رہنمائی کرتے ہیں کہ ہاتھوں اور پیروں پر لگی مہندی بھی اسی شرعی زینت میں شامل ہے جسے نامحرم مردوںسے چھپانا ضروری ہے، چنانچہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ (۱۴۲۰ھ) فرماتے ہیں :
’’جب عورتیں اپنے ہاتھوں یا پیروں پر مہندی لگائیں تو ان پر لازم ہے کہ اسے نامحرم مردوں کی نگاہوں سے محفوظ رکھیں، انہیں چاہیے کہ اپنے حجاب اور لباس کے ذریعے اسے اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں، کیونکہ مہندی لگے ہاتھ اور پاؤں فتنے کا باعث بن سکتے ہیں‘‘۔[فتاوىٰ نور على الدرب لابن باز:٢٧٢/١٧]
شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ (۱۴۲۱ھ) فرماتے ہیں :
’’ہمیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ مہندی کا شمار بھی اسی زیب و زینت میں ہوتا ہے جسے عورت کے لیے ان افراد کے علاوہ کسی اور کے سامنے ظاہر کرنا جائز نہیں، جن کے روبرو اللہ تعالیٰ نے زینت ظاہر کرنے کی رخصت دی ہے، لہٰذا وہ اسے نامحرم مردوں کے سامنے ہرگز ظاہر نہ کرے، مثال کے طور پر اگر کسی عورت کو ضرورت کے تحت بازار جانا پڑے اور اس نے ہاتھوں یا پیروں میں مہندی لگا رکھی ہو، تو اس پر لازم ہے کہ وہ ہاتھوں کو (دستانے وغیرہ کے ذریعہ) ڈھانپ کر رکھے، اور پیروں میں موزے پہن لے‘‘۔[فتاوىٰ نور على الدرب لابن عثيمين:٢/٧]
نیز شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں :
’’عورت کے لیے زیب و زینت کی خاطر اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگانا جائز ہے، لیکن اس پر واجب ہے کہ وہ اسے چھپائے رکھے اور غیر محرم مردوں کی موجودگی میں مہندی لگے ہاتھ یا پیر ظاہر نہ کرے‘‘۔ [https://youtu.be/W2yh4UhoBMc?si=nmOZ8aHVgalWDRqm]
آج مسلمان عورتوں اور بچیوں کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اس واضح فرمان : ﴿وَلَا یُبۡدِینَ زِینَتَهُنَّ﴾[النور: ٣١]
’’اور وہ اپنی زینت کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں‘‘۔ پر غور کرنا چاہیے، اس آیت میں جسم کی ہر قسم کی ظاہری زینت اور بناؤ سنگھار شامل ہے، جس میں مہندی، چوڑیاں، انگوٹھیاں اور دیگر زیورات بھی آجاتے ہیں، جنہیں ہر حال میں نامحرموں سے چھپانا واجب ہے۔
لہٰذا خواتین کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے اعضاء (ہاتھوں، پیروں یا آنکھوں وغیرہ) کی تصاویر شیئر کرنے سے مکمل گریز کریں، مزید یہ کہ جب بھی کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلنا پڑے، تو شرعی عبایا کے ساتھ ساتھ دستانوں اور موزوں کا اہتمام لازمی کریں، تاکہ وہ نامحرم مردوں کی نگاہوں کا مرکز بننے سے محفوظ رہیں، یاد رکھیں! کہ ظاہری پردہ دراصل باطنی تقویٰ اور دل کی پاکیزگی کا آئینہ دار ہے، ایک مسلمان عورت جب اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنی زینت کو چھپاتی ہے، تو یہ عمل نہ صرف معاشرہ کو پاکیزہ رکھتا ہے، بلکہ اللہ کے ہاں اس کے وقار، عزت اور درجات میں بے پناہ اضافے کا سبب بنتا ہے۔