-
معرکۃ الآراء کتب کے مقدمات کا تعارفی سلسلہ ’’مقدمہ تحفۃ الاحوذی‘‘ علمی جامعیت کا حسین شاہکار (پہلی قسط) نوٹ: اس سلسلہ میں ہم ان شاء اللہ اپنے قارئین باذوق کی خدمت میں اسلامی تاریخ میں بعض ان کتابوں کے مقدمات کا تعارف اور ان سے فوائد علمیہ پیش کریں گے کہ جن کتابوں کے مقدمات اسلامی علوم و فنون کا بحر بیکراں ہیں اورعلمی حلقوں میں انہیں غیر معمولی قدر و منزلت حاصل ہے۔جیسے مقدمہ فتح الباری، مقدمہ صحیح مسلم، مقدمہ ابن کثیر،تاج العروسکا مقدمہ، مقدمہ لسان العرب،طبقات الشافعیہ الکبریٰ کا مقدمہ،’’كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون کا مقدمہ’’الوافي بالوفَيَات‘‘ کا مقدمہ مقدمۃ الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم، کتاب المجروحین لابن حبا ن وغیرہ کا مقدمہ۔
دوسری بات یہ کہ ہر کتاب کے مقدمہ کا تعارف دو فصل پر مشتمل ہوگا ، فصل اول میں صاحب مقدمہ کا تعارف ، فصل ثانی میں کتاب کے مقدمہ کاتعارف ،سابقہ دراسات کابیان مع فوائد علمیہ وغیرہ ان شاء اللہ ذکر کئے جائیں گے ۔ ممکن ہے فصل اول ،فصل ثانی کے مقابلے میں مختصررہے ۔’’مقدمۃ تحفۃ الاحوذی کے مؤلف کا تعارف ‘‘:
فصل اول:
نام اور کنیت: محمد عبد الرحمٰن ،کنیت ابو العلیٰ ۔
مولد و مسکن : سن 1283ھ میں مطابق 1865ء میں اعظم گڑھ کے مشہور علمی قصبہ مبارکپور میں آپ کی پیدائش ہوئی۔
تعلیم وتربیت: گھر سے ہی انہوں نے اپنی تعلیم کا آغاز کیا ،پھر قرب وجوار کے علماء سے استفادہ کیا ،اس کے بعد مدرسہ چشمہ رحمت غازی پور میں استاذ الاستاذہ مولانا حافظ محمد عبد اللہ غازی پوری او رمولانا محمد فاروق چڑیا کوٹی سے استفادہ کیا ،پھر مولانا غازی پوری کی ایماء پر 1306 میں بالآخر شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوکرکے بخاری ومسلم اور دیگر کتب حدیث پڑھی۔ذہبیٔ وقت قاضی حسین بن محسن انصاری یمانی سے بھی 1314ھ میں کتب ستہ کے علاوہ کئی ایک حدیث کی کتابیں پڑھیں۔
تدریسی خدمات: تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے وطن جاکر’’ دارالتعلیم‘‘ کے نام سے ایک دینی مدرسہ قائم کیا اوراس میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا۔اس کے بعد کئی سال تک مدرسہ بلرام پور (گونڈہ) میں تدریس کے بعد مدرسہ اللہ نگر (گونڈہ)میں کئی سال تک تدریس فرمائی۔پھر کچھ مدت تک مدرسہ سراج العلوم (کنڈؤبونڈیہار)میں تدریس فرمائی ۔بعد ازاں اپنے استاذ حافظ عبد اللہ غازی پوری رحمہ اللہ کے حکم پر مدرسہ احمدیہ( آرہ)میں کئی سال تک تدریس فرمائی ۔پھر استاذہی کے حکم پر مدرسہ دارالقرآن والسنۃ کلکتہ گئے ۔یہاں کافی عرصہ تدریس کے بعد درس وتدریس کا سلسلہ ترک کرکے تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ ہوئے۔(چالیس علماء اہل حدیث ،عبد الرشید عراقی- ص142۔ )نعمانی کتب خانہ حق سٹریٹ اردو بازار لاہور)
مشہور تلامذہ:عبد السلام مبارکپوری مؤلف سیرۃ البخاری ، علامہ تقی الدین ہلالی مراکشی ، صاحب مرعاہ المفاتیح علامہ عبید اللہ رحمانی ،مولانا سید ابو الحسن علی میاں ندوی ،مولانا امین احسن اصلاحی ۔
تصانیف :
1۔تحفۃ الأحوذي شرح جامع الترمذي(عربی) ۔2۔مقدمہ تحفۃ الأحوذي(عربی) 3۔أبکار المنن في تنقید آثار السنن(عربی) 4۔شفاء العلل شرح کتاب العلل۔ 5۔تحقیق الکلام في وجوب القراء ۃ خلف الإمام۔ 6۔نور الأبصار۔ 7۔تنویر الأبصار في تائید نور الأبصار۔ 8۔ضیاء الأبصار في رد تبصرۃ الأنظار۔ 9۔المقالۃ الحسنیٰ في سنیۃ المصافحۃ بالید الیمنیٰ۔ 10۔القول السدید فما یتعلق بتکبیرات العید۔ 11۔کتاب الجنائز۔ 12۔إعلام أہل الزمن من تبصرۃ آثار السنن۔ 13۔خیر الماعون في منع الفرار من الطاعون۔
14۔تنقید الدرۃ الغرۃ۔ 15۔الحق المبین في سنیۃ المصافحۃ بالیمین۔ 16۔الکلمۃ الحسنیٰ في المصافحۃ بالید الیمنیٰ۔ 17۔رسالۃ في رکعۃ الوتر۔ 18۔الدر المکنون في تائید خیر الماعون۔ 19۔الوشاح الإبریزي في حکم الدواء الإنکلیزي۔ 20۔إرشاد الہام إلی منع خصاء البہائم۔ 21۔رسالۃ في مسائل العشر۔ 22۔تنقید الجوہر النقي۔ 23۔شرح موطا امام مالک(عربی) 24۔رسالۃ ترجمان۔ 25۔نور العینین۔ 26۔رسالۃ في رفع الیدین للدعاء بعد الصلاۃ المکتوبۃ۔ 27۔القول الحسن کا جواب۔ 28۔فتاویٰ مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ(ترتیب) 29۔فتاویٰ مولانا حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری رحمہ اللہ(ترتیب) 30۔فتاویٰ مبارک پوری رحمہ اللہ۔ اس لسٹ میں مطبوع اور غیر مطبوع دونوں طرح کی کتابیں شامل ہیں ۔
علم حدیث میں گہری دسترس کی بنیاد پر سعودی عرب کے حکمراں سلطان عبد العزیزبن عبد الرحمٰن مرحوم نے بھی ان کو بیت اللہ شریف میں درس حدیث کے لیے دعوت دی ، لیکن اس وقت وہ ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ کی تالیف میں مشغول تھے اس وجہ سے انہوں نے معذرت کرلی ۔(دبستان حدیث از اسحاق بھٹی:ص:187)
مفصل سیرت کے لیے رجو ع کریں ۔1- چالیس علماء اہل حدیث۔2- نزھۃالخواطر۔3- مقدمۃ تحفۃ الأحوذی۔4- مقالات محدث مبارک پوری۔5-دبستان حدیث اسحاق بھٹی ص 182-216۔6-تذکرہ علماء مبارکپور ۔7-مولانا عبد الرحمٰن مبارکپوری حیات اورخدمات از ڈاکٹر عین الحق قاسمی ۔8-جماعت اہل حدیث کی تدریسی خدمات۔9-ہندوستان میں علماء ومحدثین کی دینی خدمات ازغازی عزیر ۔ -10العلامة المحدث المباركفوري ومنهجه في كتابه تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي – وفي آخره نصوص وثائقية حول المباركفوري وفيها – إجازاته للشيخ محمد بن إبراهيم آل الشيخ
النـاشـر: دائر البشائر الإسلامية – بيروت. الطبعة: الأولى. سـنة الطبــع: 1430هـ. عدد الصفحات: 415. نوع الكتاب: رسالة علمية تقدم بها المؤلف لنيل درجة الماجستير.
فصل ثانی :
تحفۃ الاحوذی امام ابو عیسیٰ رحمہ اللہ ترمذی کی الجامع کی بے نظیر شرح ہے جو چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ عرب و عجم میں متداول ہے اور تمام مشائخ و اعلام کے ہاں جامع ترمذی کے غوامض کے حل کے لیے ایک بہترین مرجع ہے۔ اس کے متعدد ایڈیشن زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکے ہیں۔ دارالفکر مصر میں بھی یہ عظیم الشان شرح دس جلدوں پر مشتمل شائع ہوئی ہے اور اس کا آخری ایڈیشن ۲۰۰۷ء میں دو ضخیم جلدوں میں ’’بیت الأفکار الدولیۃ الأردن‘‘سے طبع ہوا ہے۔ جو ۲۹۰۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ عمر رضا کحالہ نے ’’معجم المؤلفین‘‘ (ص: ۵/۱۶۶) میں لکھا ہے: ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ دو جلدوں میں ہے’’اسی طرح مولانا سید عبدالحئی حسنی لکھنوی نے ’’نزھۃ الخواطر‘‘ (۸/۲۴۳) میں فرمایا ہے: یہ تین جلدوں پر مشتمل ہے، مگر یہ بہرنوع درست نہیں۔ حضرت مولانا ابو الاشبال احمد حفظہ اللہ نے بتلایا کہ مولانا عبدالصمد شرف الدین رحمہ اللہ نے ذکر کیا تھا کہ محدث مبارکپوری رحمہ اللہ تحفۃ الاحوذی مصر سے شائع کرانا چاہتے تھے، انہوں نے مولانا عبدالصمد شرف الدین رحمہ اللہ کے توسط سے مصری مطبع خانوں سے رابطہ کیا۔ مولانا چاہتے تھے کہ بذریعہ ڈاک اس کے پروف ملتے رہیں۔ پروف ریڈنگ وہ خود کرنا چاہتے تھے، مگر بعد مکانی کے باعث اصحاب مطبع نے انکار کر دیا۔ مصری مطبع خانہ سے مایوسی کے بعد ۱۳۴۳ھ میں ہندوستان ہی میں اس کی طباعت کا فیصلہ کیا۔ اس کی اطلاع مولانا تقی الدین ہلالی کو ندوۃ العلماء لکھنو میں دی تو انہوں نے اس کے متعلق ایک لمبا قصیدہ لکھ بھیجا۔ جو طبع اول کی جلد چہارم کے آخر میں طبع ہوا۔ محدث مبارکپوری رحمہ اللہ کو اس کی کتابت کی فکر ہوئی وہ اس کی کتابت بھی کسی ایسے کاتب سے کروانے کے حق میں تھے جو ہمہ وقت یہی کام کرے، چنانچہ ڈھونکی نزد وزیر آباد میں حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی کے والدِ محترم جناب مولانا محمد ابراہیم کو اس کی کتابت کی سعادت حاصل ہوئی۔ تحفۃ الاحوذی طبع ہند کی دوسری جلد کی فہرست کے آخر میں ان کا نام:’’یلوح الخط في القرطاس دھراً‘‘ کا مصداق بنا ہوا ہے۔ ان ابتدائی مراحل کے بعد اس کی پہلی جلد ۱۳۴۶ھ؍ ۱۹۲۷ء میں برقی پریس دہلی سے زیورِ طبع سے آراستہ ہوئی۔ جلد دوم ۱۳۴۹ھ؍ ۱۹۳۰ء میں، جلد سوم ۱۳۵۲ھ مطابق ۱۹۳۳ء میں اور جلد چہارم ۱۳۵۳ھ؍ ۱۹۳۴ء میں طبع ہو کر شائقین کے ہاتھوں میں پہنچی۔ (دیکھیں مقالات محدث مبارکپوری )
2 ۔مقدمہ تحفۃ الاحوذی کا تعارف:
تحفہ الاحوذی کا یہ علمی مقدمہ دو ابواب اور’’خاتمۃ المقدمۃ‘‘پر مشتمل ہے۔ پہلا باب علمِ حدیث، محدثینِ کرام اور کتبِ احادیث کے تعارف پرمشتمل ہے۔ جو اکتالیس فصلوں میں پھیلا ہوا ہے اور دوسرا باب امام ترمذی اور ان کی الجامع سے متعلقہ نادر مباحث کو محیط ہے جس کے تحت سترہ فصلیں ہیں۔
محدث مبارکپوری رحمہ اللہ نے مقدمہ میں کتبِ احادیث کا تعارف ذکر کرنے کے ساتھ ان میں سے بعض اہم کتابوں کے بارے میں یہ نشاندہی بھی کی کہ یہ جرمنی کے کتب خانہ میں موجود ہیں۔ حضرت محدث کی اس وضاحت پر ایک حلقہ نے طوفان اٹھایا اور بڑے نازیبہ کلمات سے اس کی پھبتی اڑائی گئی۔ جس کا جواب جناب ڈاکٹر عین الحق قاسمی صاحب نے ’’محدث مبارکپوری حیات و خدمات‘‘ میں دیا اور اس کی وضاحت انہوں نے ایک مضمون میں بھی کی، جو ماہنامہ محدث بنارس ہند نومبر ۱۹۹۸ء میں شائع ہوا۔ اسی طرح ہمارے فاضل دوست جناب ڈاکٹر ظفر اللہ صاحب حفظہ اللہ صدر شعبہ علومِ اسلامیہ گورنمنٹ کالج سمندری فیصل آباد نے بھی ’’محدث مبارکپوری اور ان کے ناقدین‘‘ کے عنوان سے ایک مفصل مضمون لکھا اور بحث کا حق ادا کر دیا۔ جو ہفت روزہ الاعتصام لاہور کی جلد نمبر ۵۲، ۳ جمادی الاولی ۱۴۲۱ھ بمطابق ۴ اگست ۲۰۰۰ء کی اشاعت میں طبع ہوا۔ معاندین نے ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کے سہارے جو بتنگڑ بنایا تھا۔ جناب ڈاکٹر خالد ظفر اللہ صاحب ڈاکٹر حمید اللہ کے ہی مکتوب کا عکس دیکھ کر حقیقت واضح کر دی ہے۔ جس میں انہوں نے لکھا ہے:’’فأنا أحترمہ کل الاحترام والآراء المنسوبۃ إلی عنہ لیست قطعیاً آرائي وقاني اللّٰه من مثلھا‘‘ کہ میں ان کا بھرپور احترام کرتا ہوں اور ان کے بارے میں میری منسوب آرا قطعاً میری نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے محفوظ رکھے۔ جس سے محدث مبارکپوری رحمہ اللہ کے بارے میں ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کی رائے ظاہر ہو جاتی ہے۔ شائقین حضرات تفصیل کے لیے الاعتصام کا محولہ شمارہ ملاحظہ فرمائیں۔(مقالات محدث مبارکپوری ص:38)
مقدمہ کا پہلا باب:
1:علم حدیث کی تعریف ،موضوع اور مقصد کا بیان ۔2: علم حدیث اور علم حدیث حاصل کرنے والوں کی فضیلت ۔3 :تدوین حدیث کابیان ۔4: کتابت حدیث کا بیان ۔5:حجیت حدیث اورقرآن کریم سے اس پر عمل کے وجوب کے دلائل ۔ 6: اسلامی تاریخ میں علم کے حاملین (علم کی نشر واشاعت کرنے والے)زیادہ تر غیر عرب (عجمی) تھے ۔7: ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت ۔8:محدثین نے علم حدیث پر کتابیں مختلف اغراض و مقاصد کے تحت تالیف کی ہیں ۔9:کتب احادیث کے طبقات کا بیان ۔10:علم حدیث میں مختلف قسم کی مصنفات کا ذکر ۔11: جوامع کا ذکر ۔ 12:کتب سنن کا ذکر جو کہ بہت ہیں ۔13:مسانید کا ذکر جو کہ بہت ہیں ۔14:مستخرجات اور مستدرکات کا ذکر ۔15- مسلسلات کا بیان ۔16:معاجم کا بیان ۔17:کتب امالی کا بیان ۔18- ان احادیث کی کتابوں کابیان جو کہ خاص ابواب پر تالیف کی گئی ہیں ،جنہیں اجزاء کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔19: اربعینات (وہ کتابیں جن میںصرف مختلف موضوعات یا ایک ہی موضوع پر چالیس احادیث ذکر کی جاتی ہیں) پر لکھی گئی کتابوں کا ذکر ۔20:کتب ستہ کا بیان جو کہ صحاح ستہ کے نام سے معروف ہیں ۔ 21: صحیح احادیث کے بیان میں، کہ وہ سب کی سب صحت میں ایک ہی درجے کی نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بعض کا درجہ دوسرے سے بلند و اعلیٰ ہے۔22کتب ستہ کے علاوہ دیگر کتب صحاح کا ذکر :23:ائمۂ اربعہ(جن کے مذاہب کے پیروکار پائے جاتے ہیں ) کی جانب منسوب کتب احادیث کا ذکر اور ان کے تراجم کابیان ۔24:ا ن احادیث کی کتابوں کا بیان جنہیں ائمۂ احناف نے تصنیف کیاہے اور ان کے تراجم اور یہ بہت کم ہیں ۔25:علم اسماء الرجال کابیان۔26:ائمۂ جرح و تعدیل اور اسماء الرجال کا بیان اور ان کتب کے مصنفین کا تذکر ہ جن کا ذکر کشف الظنون کے مصنف نے کیا ہے۔27: علم اصول حدیث کا بیان ،جسے علم روایت حدیث بھی کہا جاتا ہے ۔پہلا زیادہ مشہور ہے۔ 28:غریب الحدیث پر لکھی گئی کتابوں کا بیان۔ 29:کتب احادیث کی مشہورشروحات کا بیان۔ 30:احکام کے باب میں لکھی گئی احادیث کی کتابیں جوکہ بہت ہیں۔31:کتب احادیث میں مختصرات کا ذکر ۔ 32:تخریج احادیث پر لکھی گئی کتابوں کا ذکر ۔33:موضوع احادیث سے متعلق لکھی گئی کتابوں کا بیان ۔34:ناسخ و منسوخ احادیث سے متعلق لکھی گئی کتابوں کا بیان۔ 35:بظاہر متعارض نظر آنے والی احادیث کے درمیان تلفیق و توفیق پر لکھی گئی کتابوں کا ذکر ۔36:اہل حدیث کے انساب او ر اس کے راویوں کے بارے میں لکھی گئی کتابو ں کا بیان ۔37:محدثین کی وفیات پر لکھی گئی کتابوں کا بیان۔38:اسماء صحابہ پر لکھی گئی کتابیں ۔39:مختلف ، مؤتلف ،متفق ،مفترق ،مشتبہ اسماء و القاب و انساب وغیرہ پر لکھی گئی کتابوں کا بیان ۔40:بعض ان اصول کا ذکر جن کے ذریعہ احناف صحیح احادیث کو رد کرتے ہیں اور ان اصولوں پر رد ۔ 41:نادر و نایاب احادیث کی قلمی کتابیں او ر ان کے اماکن ،تاکہ ان سے استفادہ ممکن ہو جس کی رسائی وہاں تک ممکن ہو ۔
مقدمہ کا دوسرا باب :
یہ باب امام ترمذی اور ان کی جامع سے متعلق خاص ہے،اس میں کل سترہ فصل ہیں ۔
1:امام ترمذی رحمہ اللہ کی سوانح ۔2:جامع ترمذی کی اہمیت و محاسن ۔3: جامع ترمذی کے رواۃ ۔ 4: جامع ترمذی میں امام ترمذی کے شرائط کا بیان۔5: جامع ترمذی کا درجہ صحیحین کے بعد ہے یا سنن ابو داؤد یا سنن نسائی کے بعد ہے ؟ 6:جامع ترمذی میں موضوع حدیث نہیں ہے۔ 7: جامع ترمذی میں موجود ساری حدیثیں قابل عمل ہیں یا بعض غیر قابل عمل۔8:جامع ترمذی کے نام کا بیان۔9:جامع ترمذی کی شروحات اور ان شروحات کے مصنفین کے تراجم ۔ 10:جامع ترمذی میں اما م ترمذی کے بعض عادات کا بیان ۔11:جرح و تعدیل ،حدیث کی تصحیح وتضعیف سے متعلق امام ترمذی نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں ان کی تشریح اور بعض مذاہب کابیان ۔12-ان ائمہ حدیث اور فقہاء محدثین کے تراجم کاذکر جن کا ذکر امام ترمذی رحمہ اللہ نے مذاہب کے بیان میں اور جرح وتعدیل کے ضمن میں کیا ہے۔13-جامع ترمذی میں جن ائمۂ تفسیر کا ذکر ہے ان کے تراجم کا تذکرہ۔14-مشہور بڑے ائمۂ لغت کا ذکر ،جن میں بعض کا ذکر امام ترمذی رحمہ اللہ نے کیا ہے۔15-ترمذی میں مکرر احادیث و ابواب کا ذکر ۔16-حروف تہجی کے اعتبار سے جامع ترمذی کے رواۃ کا ذکر ۔ 17-مقدمہ اور شرح میں میرے بعض استعمال کئے گئے الفاظ کی شرح ۔
یہ مقدمہ اتنا اہم ہے کہ بعد میں دکتور عبدالعليم عبدالعظيم البستوی رحمہ الله نے مستقل اپنی تعلیق اور اضافہ کے ساتھ اسے الگ سے شائع کیا جس کا نام ہے ’’فوائد في علوم الحديث وكتبه وأهله‘‘۔ تقریباً 1040 صفحات پر یہ مشتمل ہے۔اس کتاب کا تعارف شیخ اسعد اعظمی حفظہ اللہ نے صوت الامہ مارچ 2012 ص 3 پر پیش کیا ہے۔
جاری…..