[contacts]
  • لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

    زندگی یہ محض سانسوں کا تسلسل نہیں، بلکہ آزمائشوں اور امتحانات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ اس کی راہوں میں کہیں شامِ غم کے گہرے سائے پڑتے ہیں، کہیں مصیبتوں کے بادل چھا جاتے ہیںاور کہیں تکالیف کا ریلا سیلاب بن کر ہمارے وجود کو چیلنج کرتا ہے۔ ہر انسان اپنی ذات میں ایک پوری داستان لیے پھرتا ہے، جہاں کبھی وقت کی سُوئیاں بوجھل ہو جاتی ہیں اور کبھی غم کی طوالت روح کو نڈھال کر دیتی ہے۔ یہ وہ کٹھن گھڑیاں ہوتی ہیں جب دل ٹوٹنے لگتا ہے، امیدیں دم توڑ دیتی ہیں اور انسان خود کو چاروں طرف سے مایوسی کے قفل میں جکڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔
    یہ تمام مشکلات، یہ تمام تاریکیاں، یہ لمبی ہوتی ہوئی شامیں اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ انسانی قوت کی ایک حد ہے۔ جب انسان اپنی تدبیر اور طاقت سے عاجز آ جاتا ہے، جب ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے، تو پھر ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے۔ یہ راستہ، درحقیقت، رب کی طرف لوٹنے کا راستہ ہے۔ یہ وہ یقین ہے جو مومن کے دل میں چراغ بن کر جلتا ہے، کہ کوئی بھی شب کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کی سحر ضرور طلوع ہو گی۔
    یہی وہ جوہر ہے جسے دینِ اسلام نے ایمان کا نصف قرار دیا ہے۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو مایوسی کے قلعے کو ڈھا دیتا ہے۔ یہ وہ رختِ سفر ہے جو مشکل سے مشکل راہ کو آسان بنا دیتا ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جسے ہم صبر کہتے ہیں۔ آئیے، اسی صبر کے فلسفے، اس کی علمی بنیادوں اور قرآن و حکمت کی روشنی میں اس کے انمٹ اثرات کو اجاگر کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ غم کی شام لمبی سہی، مگر ہے تو شام ہی، فانی اور عارضی۔
    صبر یہ ایک لفظ نہیں، بلکہ قلبِ مومن کا جوہر اور ایمان کا نصف ہے۔ علامہ ابنِ قیم رحمہ اللہ نے اس فلسفے کو ایک ابدی حقیقت میں ڈھالتے ہوئے فرمایا: ’’الصبر نصف الإيمان، فإن الإيمان نصفان: نصف صبر ونصف شكر‘‘۔’’صبر ایمان کا آدھا حصہ ہے، کیونکہ ایمان دو حصوں پر قائم ہے ، آدھا صبر اور آدھا شکر۔(مدارج السالکین ۱؍۴۵۵)
    گویا جس نے تحمل اور ضبط کھو دیا، اُس نے اپنے ایمان کا ایک بازو توڑ دیا۔ غم کی گھڑیاں لمبی اس لیے لگتی ہیں کہ ہر دکھ وقت کے دھارے کو کھینچ کر طوالت بخش دیتا ہے۔ لیکن یہ طاقت، وقت کو اپنی جگہ سے نہیں ہٹاتی ،یہ انسان کو بدل دیتی ہے۔ وہ دل جو مشقت کی بھٹی میں تپ کر نکلتا ہے، وہ محض گوشت کا لوتھڑا نہیں رہتا، بلکہ تحمل اور رضا کا سونا بن جاتا ہے۔
    یہ کوئی محض تسلی نہیں، یہ خالق کا ایک حتمی اعلان ہے جسے قرآنِ حکیم نے امرِ یقینی بنا دیا:
    ﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ [البقرہ:153]
    ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔
    یہ جملہ ایک وعدہ، ایک رفاقت اور ایک ملجا (پناہ گاہ) ہے۔ جب خالق و مالک خود انسان کا رفیق ہو، تو پھر مخلوق کا کوئی بھی غم اور دکھ کیا معنی رکھتا ہے؟ غم ایک عارضی سائے سے زیادہ کچھ نہیں۔
    غم انسان کی زندگی میں وہ گہرا رنگ ہے جو روح کی گہرائی کو عیاں کرتا ہے۔ اگر زندگی سراسر خوشی ہوتی، تو انسان ایک سطحی مخلوق بن کر رہ جاتا، لیکن غم اسے گہرائی، بصیرت اور معرفت بخشتا ہے۔ اسی لیے تحمل، درحقیقت غم کی ایک روحانی تربیت ہے۔ یہ دکھ کو ضبط، وقار اور تسلیم کی زبان سکھاتا ہے۔
    علی رضی اللہ عنہ نے اس تعلق کو نہایت بلیغ مثال سے واضح فرمایا:’’الصبر من الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد، فإذا قطع الرأس، بطل الجسد‘‘۔
    ’’ایمان میں تحمل کی حیثیت ویسی ہی ہے جیسے جسم میں سر کی، جب سر کٹ جائے تو جسم بیکار ہو جاتا ہے‘‘۔[کتاب الصبر والثواب عليه – ابن ابی الدنیا:ص:24]
    یہی وہ دقیق نکتہ ہے جو مومن اور کمزور دل انسان میں فرق پیدا کرتا ہے ، کمزور غم کی یلغار میں بکھر جاتا ہے، جبکہ مومن غم کی بھٹی میں تپ کر نکھر جاتا ہے۔ غم کی شام طویل سہی، مگر شام ہی تو ہے، یعنی ختم ہونے والی۔ یہ فانی ہے، ابدی نہیں۔ جو تحمل سے کام لیتا ہے، وہ دراصل اپنے غم کو اپنے رب کے حضور ایک امانت رکھوا دیتا ہے، ایک ایسی امانت جس کا اجر وہ خود نہیں جانتا۔
    قرآنِ کریم نے اس راستے کے مسافروں کی سب سے بڑی تعریف یہ فرمائی:﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ،الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾[البقرہ: 155-157]’’اور صبرکرنے والوں کو خوشخبری دے دو، جو مصیبت کے وقت کہتے ہیں: ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘‘۔
    یہ کلمہ کوئی معمولی فقرہ نہیں، بلکہ تسلیمِ الٰہی کا حتمی اعلان ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اپنی ذات کے تمام کنٹرول کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، اپنے دکھ کو اس کی تقدیر کے ترازو میں رکھ کر مطمئن ہو جاتا ہے۔
    قرآن کی آیات سے استدلال کرتے ہوئے ابنِ قیم اور دیگر سلف صالحین نے صبر وتحمل کی سب سے اعلیٰ صورت کو’’صبرِ جمیل‘‘ کہا اور اس کی تعریف میں فرمایا:
    ’’الصبر الجميل هو الذي لا شكوى فيه إلى الخلق‘‘۔
    ’’خوبصورت صبر وہ ہے جس میں مخلوق سے کوئی شکوہ نہ ہو‘‘۔[مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين”الجزء الثاني، ص: 160]
    یہ وہ صبر ہے جس کے ہونٹ خاموش رہتے ہیں مگر دل اللہ سے سرگوشی کرتا ہے۔ وہ صبر جو آنکھوں میں نمی رکھتا ہے مگر زبان پر شکوہ نہیں لاتا۔ یہ تقدیر کے سامنے شکوے کے بجائے تسلیم کا سجدہ ہے۔ یہ وہی صبر ہے جو حضرت یعقوب علیہ السلام نے کیا تھا جب فرمایا:﴿فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ ’’پس صبر ہی بہتر ہے اور تم جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مددگار ہے‘‘۔[یوسف:18]
    جب انسان اس راستے پر گامزن ہوتا ہے، تو یہ دراصل ایک اندرونی تبدیلی ہے، اللہ اس کے سینے کو وسعت دیتا ہے اور یہی وسعت روح کی روشنی بن کر اس کے غم کی تاریکی کو نگل جاتی ہے۔
    زندگی کی شام، دراصل ایک بھرپور استعارہ ہے۔ سورج ڈوب رہا ہوتا ہے، لیکن روشنی مٹتی نہیں، بلکہ رنگ بدلتی ہے۔ اسی طرح، غم بھی مومن کی زندگی سے مٹتا نہیں، بلکہ ایمان کے رنگ میں ڈھل جاتا ہے۔ غم کا بادل ہمیشہ کے لیے آسمانِ دل پر نہیں چھا سکتا اس کے پیچھے ’’سحرِ رضا‘‘ چھپی ہوتی ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺدیکھیں ، تاجدار رسالت مآب نے مومن کے احوال اور اس کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَٰلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ‘‘۔
    ’’مومن کے معاملے پر تعجب ہے، اس کا ہر حال اس کے لیے بھلا ہے، یہ بات کسی اور کے لیے نہیں سوائے مومن کے۔ اگر اسے خوشی پہنچے تو وہ شکر کرتا ہے، جو اس کے لیے بھلا ہے، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، جو اس کے لیے بھلا ہے‘‘۔[صحیح مسلم، کتاب الزهد والرقائق، باب المؤمن أمره كله خير:حدیث نمبر 2999]
    قرآن میں اس جوہر کو صرف برداشت نہیں کہا گیا، بلکہ عملی استقامت کا نام دیا گیا ہے۔ اللہ کا حکم ہے:﴿وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ﴾[النحل:127]’’اور صبرو تحمل کریں، مگر آپ کا صبر اللہ کے سہارے کے بغیر ممکن نہیں‘‘۔
    یہ آیت بتاتی ہے کہ صبر انسان کا ذاتی فعل نہیں، بلکہ اللہ کا عطیہ ہے۔ جو اللہ سے جڑتا ہے، وہی اس طاقت، اور استقامت کو پا سکتا ہے۔ پس، یہ یقین اٹل ہے: لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہےپس یہ ایک وقت ہے جو گزر جائے گا۔ اس کے بعد ابدیت کی صبح ہے، جہاں تحمل کرنے والوں کو اجرِ بے حساب سے نوازا جائے گا۔ صبر ہی وہ کشت زار ہے جہاں مصائب کے کانٹے خوشنودی کے پھول بن کر کھلتے ہیں۔
    یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہم اس’’نصفِ ایمان‘‘ کی حقیقت سے آشنا ہونے کے باوجود، روزمرہ کی زندگی میں اسے فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ ہم نے اپنی گھریلو پریشانیوں، مالی مشکلات اور تعلقات کے غموں میں، صبر کے ہتھیار کو گویا ترک کر دیا ہے۔ آج کا انسان، مادی ترقی کی انتہا پر کھڑا ہونے کے باوجود، اندر سے کھوکھلا اور بے قرار ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ غم کی شام ایک جھٹکے میں صبح میں بدل جائے، اور جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ اضطراب اور مایوسی کے گہرے گڑھے میں گر جاتا ہے۔
    ہم رب کی معیت کے اس حتمی اعلان:’’إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ‘‘ کو ایک لمحاتی تسلی سمجھ لیتے ہیں، جبکہ یہ ایک ابدی فارمولا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ غم، یہ آزمائشیں، یہ مشکلیں ایک امتحان ہیں، اور امتحان کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ ہم اس بات سے غافل ہو جاتے ہیں کہ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے پس یہ ختم ہو جائے گی، بس اس کے ختم ہونے تک ہمیں امتحان میں کھڑا رہناہے ۔
    یہ صرف انفرادی غموں کی بات نہیں، بلکہ آج اُمتِ مسلمہ اجتماعی طور پر غم کی طویل ترین شام سے گزر رہی ہے۔ یہ شام، صرف ہمارے ملکوں کے ایوانِ سلطنت کے ظلم اور یک طرفہ ناانصافی کی تاریکی سے نہیں چھائی، بلکہ عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کی گھمبیر فضا نے بھی اسے مزید بوجھل بنا دیا ہے۔
    ہماری روحیں آج فلسطین میں ہوتے ظلم و جبر، بیت المقدس کی پامالی اور ہر محاذ پر مسلمانوں کی خوں ریزی کو دیکھ کر چھلنی ہیں۔ ہمارے ہاتھ دعا کے لیے اٹھتے ہیں، ہم گریہ کرتے ہیں، لیکن جب دعا کا نتیجہ ہماری مقرر کردہ ٹائم لائن پر ظاہر نہیں ہوتا، تو ہم فوراً نااُمیدی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھتے تو ہیں، مگر ہمارا دل فوراً ٹوٹ جاتا ہے۔
    کیا ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ فتح اور نصرت ایک فوری ریڈی میڈ پروڈکٹ ہے؟ کیا ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ طویل جدوجہد، استقامت اور صبر کی بھٹی سے گزرنا ضروری نہیں؟
    جب امت اجتماعی طور پر اپنے محور سے ہٹ جاتی ہے، تو اسے تاریکیاں گھیر لیتی ہیں۔ ہمارا غم یہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ شام طویل کیوں ہے، بلکہ ہماری فکر یہ ہونا چاہیے کہ کیا ہمارا صبر اور ہمارا یقین کافی مضبوط ہے؟ کیا ہم نے اپنے دکھوں کو مخلوق سے بیان کرنے کے بجائے خالق کے حضور پیش کیا ہے؟
    تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے ظلم کی طویل ترین راتوں کا سامنا کیا ہے، وہ صرف اور صرف اس یقین کی طاقت سے سرخرو ہوئے ہیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ وہ دعائیں کرتے تھے اور دعاؤں کے بعد مایوس نہیں ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کا رب انہیں کبھی مایوس نہیں کرے گا۔ اللہ نے فرمایا:’’لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ‘‘۔ ’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘‘۔
    یہ آخری سہار ہمارا ایمان ہی ہے۔ چاہے ظلم کا پہاڑ کتنا ہی اونچا ہو، ناانصافی کی رات کتنی ہی گہری ہو، اور امتحان کتنا ہی مشکل ہو ہمیں اپنے دلوں میں یہ نعرہ زندہ رکھنا ہے کہ ہر رات کی ایک صبح ہوتی ہے، ہر آزمائش کا ایک انجام ہوتا ہے، اور ہر غم کی ایک حد ہوتی ہے۔
    کیونکہ ہم جانتے ہیں، اور ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا ہے: لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings