-
کتب ستّہ سے ہم کیسےمستفید ہوں؟ (قسط ثالث) (لکچر از شیخ :عبد المحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ ، یہ لیکچر انہوں نےجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پیش کیا تھا۔)
ترجمہ: صہیب حسن بن فضل حق مدنی مبارکپوری ؍ لکچرر جامعۃ الہند الاسلامیہ منی اولی مالاپورم کیرالام(۳) سنن ابی داؤد:
سنن ابی داؤد بڑی عظیم الشان کتاب ہے۔ اس کے مؤلف نے احکام کی حدیثیں جمع کرنے ، اُن کی ترتیب اور اُنہیں تراجم ابواب کے تحت لانے پر توجہ دی ہے ۔ اُن کے قائم کیے ہوئے تراجم ابواب ان کے فقہ اور روایت و درایت میں اُن کے تمکن پر دلالت کرتے ہیں ۔ اُن کے متعلق ابو سلیمان الخطابی ’’معالم السنن‘‘ میں کہتے ہیں : ’’ابوداؤد نے حدیث کی اپنی اس کتاب میں علم دین کے اصول، امہات سنن اور احکام فقہ کی وہ چیزیں اکٹھا کی ہیں جو ہمارے علم کے مطابق اُن سے پہلے اور اُن کے بعد کسی نے نہیں کی ہیں ‘‘۔
’’تہذیب سنن ابی داؤد‘‘ حافظ مندری کی کتاب ہے جس پر امام ابن قیم کی تعلیقات ہیں۔ ابن قیم رحمہ الله ’’سنن ابی داؤد منذری‘‘ کی تہذیب اور اُس پر اپنی چڑھائی ہوئی تعلیق کے متعلق لکھتے ہیں :’’ ابوداؤد سليمان بن الاشعث السجستانی رحمہ الله کی کتاب کو اسلام میں وہ مقام حاصل ہوا جس سے اللہ نے اُس کو خاص کیا تھا ۔ بایں طور کہ اہل اسلام کے درمیان وہ حَکَم اور تنازعات اور اختلافات کی جگہوں میں فیصل ہوئی۔ انصاف کرنے والے فیصلہ کے لیے اُس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور محققین اس کے فیصلے پر راضی ہوتے ہیں ۔ یقیناً احکام کی متفرق حدیثوں کو اُنہوں نے جمع کیا ۔ خوب چھان پھٹک کرنے کے بعد مجروحین اور ضعفاء کی حدیثوں کو الگ کیا اور بہتر سےبہتر انداز میں انہیں مرتب کر کے نہایت عمدگی اور خوب سلیقہ کے ساتھ ایک لڑی پرویا ۔ امام علامہ حافظ ذکی الدین ابو محمد عبد العظیم منذری رحمہ اللہ تعالیٰ نےکتاب کے اختصار و تہذیب ، اس کی حدیثوں کی نسبت، اس کی علتوں کی وضاحت اور اس کی تقریب و تسہیل میں اس قدر عمدگی کا ثبوت دیا کہ اب مزید اُس میں کچھ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ وہ (اس انداز سے کتاب کی خدمت میں) سبقت لے گئے اور بعد میں آنے والے اُن کے تابع ہوئے ۔ ( یہ ساری خوبیاں دیکھنے کے بعد) میںنے ان کی کتاب کو سب سے بہتر توشہ قرار دیا اور یوم آخرت کے لیے ذخیرہ بناتے ہوئے اس کی تہذیب اس انداز سے کی جس طرح انہوں نے اس کے ذریعہ اصل کتاب کی کی تھی۔ میں نے اُن کی کتاب میں اُن علتوں پر کلام کا اضافہ کیا جس سے انہوں نے سکوت اختیار کیا تھا یا اُنہیں مکمل ذکر نہیں کیا تھا ۔ جن حدیثوں کی تصحیح نہیں کی تھی اُن کی تصحیح سے تعرض کیا، جن مشکل متون کا قفل ابھی نہیں کھولا تھا اُن پر کلام کیا ، باب کے اندر جن صالح حدیثوں کی طرف اشارہ نہیں کیا تھا اُن کا اضافہ کیا ، اہم مقامات پر بسط کے ساتھ کلام کیا ، شاید غورو فکر کرنے والا مجتہد یہ باتیں دیگر کسی کتاب میں نہ پاسکے۔
کتاب سنن ابی داؤد سنن کی دیگر کتابوں پر مقدم ہے ، اس کی کتابوں کی مجموعی تعداد پینتیس (35) اور اس کی حدیثوں کی مجموعی تعداد پانچ ہزار دو سو چوہتر (5274)ہے۔
سنن ابی داؤد میں اعلیٰ سندیں رباعیات ہیں، رباعی وہ سند ہے جس میں رسول اللہ ﷺ اور امام ابوداؤد کے درمیان صرف چار اشخاص ہیں ۔ سنن ابی داؤد کی کئی شرحیں ہیں ، اُن میں سب سے مشہور شرح ابو الطیب شمس الحق العظیم آبادی کی ’’عون المعبود ‘‘ہے۔
(۴) سنن النسائی :
امام نسائی رحمہ اللہ نے سنن میں دو کتا بیں تصنیف کیں ۔ ایک’’ السنن الکبریٰ ‘‘ہے اور دوسری ’’السنن الصغریٰ‘‘، دوسری کو پہلی سے مختصر کیا ہے ، ’’الصغریٰ‘‘ کو ’’المجتبیٰ‘‘ کہا جاتا ہے یعنی’’ الکبریٰ‘‘ سے منتخب گئی ۔ یہی سنن صغریٰ ہی علماء کی توجہ کا مرکز رہی اور حدیث کی چھ کتابوں میں سے ایک سمجھی گئی ، یہ بڑی قدر و منزلت اور زیادہ ابواب والی کتاب ہے ۔ اس کے تراجم ابواب اس کے مؤلف کے فقہ پر دلالت کرتے ہیں بلکہ بعض ان میں ایسے ہیں جن میں امام نسائی کی دقت استنباط ظاہر ہوتی ہے ، اس کی مثالوں میں سے کتاب الطھارۃ کے اوائل میں اُن کا یہ قول ہے :’’ شام کے وقت روزہ دار کے لیے مسواک کی رخصت ہے‘‘ ۔ اس مسئلہ میں علماء کا دو قول ہے۔
پہلا یہ کہ زوال کے بعد مسواک کرنا منع ہے۔ اس ممانعت کی علت وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس سے وہ بو ختم ہو جاتی ہے جس کے متعلق نبیﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے :’’ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے‘‘۔
اور دوسرا قول یہ ہے کہ زوال کے بعد مسواک کرنا جائز ہے ۔کیونکہ یہ مسئلہ نبی ﷺ کے اس عمومی ارشاد کے تحت ہے ’’ اگر مجھے اپنی امت کو مشقت میں ڈالنے کا خوف نہ ہوتا تو ہر نماز کے وقت میں انہیں مسواک کرنے کا حکم دیتا ‘‘۔
نسائی نے اس حدیث کو مذکورہ ترجمہ (شام کے وقت روزہ دار کے لیے مسواک کی رخصت ہے) کے تحت ذکر کیا ہے، چونکہ اس مسئلہ میں حدیث جواز پر دلالت کرتی ہے لہٰذا دونوں قول میں راجح یہی ہے۔ سندی نے سنن نسائی کے حاشیہ میں امام نسائی کی دقت کو سراہتے ہوئے لکھا ہے : ’’حدیث سے جو بات اخذ ہوتی ہے اُس کو مصنف نے ترجمہ الباب کے طور پر ذکر کیا ہے ، اس سے یہ بات مخفی نہیں رہتی کہ مصنف دقیق استنباط اور تعجب خیز بیدار مغزی کے مالک ہیں ، یقیناً اُن کی باریک بینی اور فہم کی تیزی قابل تعریف ہے‘‘ ۔
سنن نسائی کی اعلیٰ سندیں رباعیات ہیں۔ اُس کی کتابوں کی مجموعی تعداد پچاس (50) اور احادیث کی تعداد پانچ ہزار سات سو چوہتر (5774) ہے۔ اس کتاب کی سب سے بہترین طباعت وہ ہے جس کی تحقیق و ترقیم اور فہارس تیار کرنے کا کام مکتب تحقیق التراث الاسلامی – دار المعرفہ بیروت نے انجام دیا ہے ، یہ طباعت ہر حدیث کا سلسلہ وار اور نسائی میں اُس کے دیگر مقامات کا نمبر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ بقیہ اصحاب کتب ستہ کی تخریج اور اُن کے یہاں اور’’ تحفۃ الاشراف‘‘ میں حدیث کا جو نمبر ہے اُسے ذکر کرتی ہے ۔
(۵) سنن الترمذي :
سنن ترمذی کو جامع ترمذی (بھی) کہا جاتا ہے، یہ حدیث کی اہم اور بڑے فوائد والی کتابوں میں سے ہے ، مؤلف نے اس میں احادیث کے جمع و ترتیب ، اُن کی فقہ کے بیان اور مسائل فقہیہ میں صحابہ و تابعین وغیرہ کے اقوال کے ذکر کی طرف توجہ دی ہے۔ جن صحابۂ کرام کی حدیثوں کو ذکر نہیں کیا اُن کی طرف اپنے اس قول سے کہ’’ اس باب میں فلاں اور فلاں (صحابہ) سے (حدیثیں مروی) ہیں) ‘‘اشارہ کر دیا ہے۔
امام ترمذی نے حدیثوں کی صحت اور اُن کے حسن وضعف کو بیان کرکے اُن کے درجات کا تعین کر دیا ہے ۔ جامع ترمذی میں رباعی حدیثیں زیادہ ہیں، ایک حدیث ثلاثی ہے جس کی تخریج ترمذی نے کتاب الفتن(2660) میں کی ہے ۔ کہتے ہیں : ’’ہم سے حدیث بیان کی اسماعیل بن موسیٰ الفزاری بن بنت السدی الکوفی نے ، (وہ کہتے ہیں) ہم سے حدیث بیان کی عمر بن شاکر نے (وہ روایت کرتے ہیں) انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے ہیں : رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک ایسا زمانہ آئے گا جب اپنے دین پر ثابت قدم رہنے والا انگارا پکڑنے والے کے مانند ہوگا ‘‘۔
امام ترمذی نے کہا : ’’یہ حدیث اس سند سے غریب ہے‘‘۔ انتہیٰ
اس کی سند میں عمر بن شاکر ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کے ذریعہ صحیح ہے ۔ ملاحظہ ہو :’’ السلسلۃ الصحيحۃ للالبانی نمبر (975)
جامع ترمذی کی کتابوں کی تعداد پچاس (50) اور اس کی حدیثوں کی تعداد تین ہزار نو سو چھپن (3956) ہے ، جامع ترمذی کی سب سے عمدہ شرح شیخ عبد الرحمٰن مبارکپوری متوفی (1353ھ) کی کتاب ’’ تحفۃ الاحوذی‘‘ ہے۔
جاری……..