-
خود پسندی: ایک مہلک مرض دین اسلام کے مختلف ابواب اور شعبے ہیں جیسے عقائد، عبادات، معاملات، آداب ومعاشرت وغیرہ انہی میں سے ایک عظیم باب اور شعبہ اخلاقیات کا ہے، اخلاق دو طرح کے ہوتے ہیں: محمود اور مذموم، محمود یہ شریعت اسلامیہ کے مطلوبہ اخلاق ہیں اور مذموم یہ ممنوعہ اخلاق، اخلاق محمودہ یہ معاشرے کی بقا وتحفظ کا ضامن ہیں، صالح معاشرے کی تشکیل کا ایک بہترین ذریعہ ہے، افراد وعوام کو دین کی طرف بلانے کا اہم وسیلہ ہے، وہیں پر اخلاق مذمومہ یہ معاشرے کو فساد وبگاڑ کی طرف لے جاتے ہیں، بد امنی پیدا کرتے ہیں، انہی اخلاق مذمومہ میں سے ایک مذموم صفت خود پسندی ہے، یہ قبیح عادت، زہر قاتل، نفس کی پرستش، قبول حق سے روکنے والی، نصیحت سننے اور اس پر عمل کرنے سے دور کر دینے والی، تکبر کی ظلمت میں دھکیل دینے والی باطنی اور مہلک مرض ہے، جو انسان کے دل ودماغ کو دھیرے دھیرے کھوکھلا کر دیتی ہے، انسان کو اپنی ہی نظر میں بڑا وکامل اور دوسروں سے برتر بنا دیتی ہے حتیٰ کہ وہ اپنی معمولی خوبیوں پر فخر کرنے لگتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو بھول جاتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام وافراد نے اپنے علم وطاقت یا عبادت اور اپنے اسباب پر گھمنڈ کیا وہ بالآخر ذلت ورسوائی کے گڑھے میں جا گرے۔
خود پسندی کی تعریف: خود پسندی کہتے ہیں اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور بڑا سمجھنا، اور دوسروں کو حقیر سمجھنا، علی بن محمد الجرجانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خود پسندی یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو کسی بلند مرتبے کا مستحق سمجھے حالانکہ وہ حقیقت میں اس کا مستحق نہ ہو۔ [التعریفات: 147]
احمد بن یحییٰ بن مرتضیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خود پسندی اس خوشی کو کہتے ہیں جو کسی نعمت یا کمال کے حاصل ہونے پر پیدا ہو اور اس کے ساتھ یہ احساس بھی ہو کہ آدمی دوسروں پر برتری جتائے، خواہ یہ برتری زبان سے ہو، یا کسی عمل سے یا پھردل کے اعتقاد کے ذریعے ہو ۔[البحر الزخار: 6/490]
خود پسندی ایک بری اور قبیح صفت ہے جس کی خطرناکی اور خطروں کوکئی نصوص میں واضح کیا گیا ہے اور بتایا گیا کہ یہ ایک آفت ہے جو دنیوی آفات اور اخروی عقوبات کی طرف گھسیٹ کر لے جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ﴾ [التوبۃ:25] ’’یقیناً اللہ نے تمہاری بہت سے مواقع پر مدد فرمائی اور حنین کے دن بھی، جب تمہیں اپنی کثرت تعداد پر ناز ہوگیا تھا، مگر وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے‘‘۔
امام جعفر بن محمد صادق کہتے ہیں: نصرت کو حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک چیز ہے اور وہ ہے: عاجزی، محتاجی کا احساس اور اپنی بے بسی کا اقرار۔۔۔ اور محرومی و رسوائی کے آنے کا سبب بھی ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے: خود پسندی [تفسیر السلمی:1/272]
ایک دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے:﴿وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا، كُلُّ ذَلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا﴾[الاسراء:37-38]’’اور زمین میں اکڑ کر مت چلو، بے شک تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ ہی لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتے ہو۔ یہ سب باتیں تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں‘‘۔
سلطان العلماء عز الدین بن عبد السلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس تکبر اور بڑائی جتانے سے روکا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مقصد کو حاصل نہیں کرسکتا۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو اسی طرح اپنے تکبر اور خود پسندی کے ذریعے بھی تم اپنے مطلوب تک نہیں پہنچ سکتے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی باطل خواہش کے پورا ہونے سے مایوس کردیا ۔[تفسیر العز بن عبد السلام:2/219]
ایک اور جگہ فرمایا:﴿وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾[لقمان:18]’’ اور لوگوں سے اپنا رخ پھیر کر بات نہ کرو اور زمین میں اکڑ کر مت چلو، بے شک اللہ ہر اترانے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ہے‘‘۔
ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ، أي: مختالٍ مُعجَبٍ في نفسِه۔ [تفسیر ابن کثیر: 6/339]
یعنی اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو اترانے والا ہو اور خودپسندی میں مبتلا ہو۔
ایک حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’بينا رجُلٌ يمشي في حُلَّةٍ تُعجِبُه نفسُه، مُرَجِّلٌ جُمَّتَه، إذ خَسَف اللَّهُ به، فهو يتجَلْجَلُ إلى يومِ القيامةِ‘‘۔[ (بخاری: 5789]’’ ایک شخص ایک قیمتی جوڑے میں چل رہا تھا، اپنے آپ پر اتراتا ہوا، اپنے بال سنوارے ہوئے، اپنے نفس میں مگن، اچانک اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا، پس وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا‘‘۔
امام قرطبی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح فرماتے ہیں : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گناہوں پر فوری پکڑ سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے اور انسان کا اپنے نفس، لباس اور ہیئت پر خود پسندی میں مبتلا ہونا اور اترانا حرام اور کبیرہ گناہ ہے ۔[المفھم لما اشکل من تلخیص: کتاب مسلم:5/406]
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مجھے تم پر سب سے زیادہ جن چیزوں کا خوف ہے کہ ہلاک ہو جاؤگے، وہ تین ہیں:
ایسی بخیلی جس کی اطاعت کی جائے، ایسی خواہش پرستی جس کی پیروی کی جائے اور خود پسندی۔[ابن ابی شیبہ: 38727، جامع بیان العلم وفضلہ: 960]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
خود پسندی درست بات کے خلاف ہے اور عقلوں کی آفت ہے۔[ادب الدنیا والدین للماوردی: 237]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دو چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں: خود پسندی اور ناامیدی۔[حلیۃ الاولیاء: 7/298، تنبیہ الغافلین: 485]
ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جہالت کی علامت تین ہیں: خود پسندی، غیر ضروری گفتگو اور جس چیز سے منع کرے خود اس میں مبتلا ہو جانا۔ [جامع بیان العلم وفضلہ: 963، تاریخ دمشق:47/175]
مسروق بن الاجدع رحمہ اللہ کہتے ہیں:
انسان کے علم کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور اس کے جہالت کے لیےیہی کافی ہے کہ وہ اپنے علم پر عجب کرے۔[سنن دارمی:1/383،346]
عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
تکبر کیا ہے؟ فرمایا: لوگوں کو حقیر جاننا۔
اور خود پسندی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: خود پسندی یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کوئی ایسی چیز سمجھے جو دوسروں میں نہ ہو اور میں نہیں جانتا کہ مصلین حضرات میں خود پسندی کی کوئی برائی ہے۔[شعب الایمان: 8260]
یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
خود پسندی سے بچو، کیوں کہ یہ اپنے اہل کو ہلاک کر دیتا ہے اور یہ نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے ۔[شعب الایمان للبیھقی: 7248]
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس شخص کو پانچ چیزوں سے بچا لیا گیا وہ دنیا و آخرت کے شر سے بچ گیا: خود پسندی، ریا، تکبر، حقارت اور خواہش نفس۔[حلیۃ: 8/95]
نیز فرمایا: قراء (اہل علم) کی آفت خود پسندی ہے۔[شعب الایمان للبیھقی: 3/304]
ابو الحسن الماوردي رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
رہا خود پسندی تو یہ انسان کی خوبیوں کو چھپا دیتا ہے اور اس کی برائیوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔ یہ انسان کو مذمتوں کا مستحق بنا دیتا ہے اور فضائل سے روک دیتا ہے۔ تکبر سے پیدا ہونے والی نفرت کی کوئی حد نہیں اور خود پسندی سے پیدا ہونے والی جہالت کی بھی کوئی انتہا نہیں۔ یہاں تک کہ یہ خود پسندی انسان کی پھیلی ہوئی خوبیوں کو بھی بجھا دیتا ہے، اور اس کی مشہور فضیلتوں کو چھین لیتا ہے۔ یہ ایسی برائی ہے جو تمام نیکیوں کو مٹا دیتی ہے اور یہ برائی نیکیوں کو مٹانے کے لیے کافی ہے اور یہ ایسی مذمت ہے جو ہر فضیلت کو گرا دیتی ہے اور ساتھ ہی دل میں غصہ اور دوسروں کے دلوں میں بغض پیدا کرتی ہے ۔[ادب الدنيا والدين للماوردی]
بعض اوقات خود پسندی کی آفت انسان پر اس حد تک غالب آ جاتی ہے کہ وہ اسے کفر اور اسلام سے خروج تک پہنچا دیتی ہے۔ جیسے ابلیس ملعون کا حال ہوا، جس نے اپنی اصل اور اپنی عبادت پر فخر کیا اور یہی خود پسندی اسے تکبر تک لے گئی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے آدم علیہ السلام کاسجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ خود پسندی صرف اخلاقی خرابی نہیں بلکہ اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ انسان کے دین و ایمان کے لیے بھی انتہائی خطرناک بن سکتی ہے۔
خود پسندی کے اسباب:
(۱) جہالت: حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اپنے عمل اور علم پر حتیٰ،کہ فقہی اختلافات اور علماء کے اقوال جاننے پر بھی خود پسندی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر انہیں معلوم ہو کہ خود پسندی خود جہالت کی علامت ہے تو وہ کبھی اپنے آپ پر فخر نہ کریں۔ ابو حامد الغزالی فرماتے ہیں: خود پسندی کی اصل علت محض جہالت ہے اور اس کا علاج اس جہالت کے برعکس صحیح معرفت ہے۔۲۔ تقویٰ اور ورع کی کمی۔۳۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی (مراقبہ) کی کمزوری۔۴۔ نصیحت کرنے والوں کی کمی۔۵۔ نیت کی خرابی اور باطن کی گندگی۔۶۔ لوگوں کی تعریف و ستائش کا کثرت سے ہونا، جس سے شیطان فائدہ اٹھاتا ہے۔۷۔ دنیا کی محبت اور خواہش نفس کی پیروی۔۸۔ غور و فکر نہ کرنا: اگر انسان سوچے سمجھے غور کرے تو جان لے کہ ہر نعمت اللہ کی عطا ہے۔۹۔ شکر کی کمی۔۱۰۔ ذکر الٰہی کی کمی۔۱۱۔ قرآن و سنت میں تدبر نہ کرنا۔۱۲۔ اللہ کے مکر سے بے خوفی اور صرف عفو و مغفرت پر بے جا اعتماد۔۱۳۔ منصب کا گھمنڈ۔۱۴۔ برے لوگوں کی صحبت۔۱۵۔ نفس کی امتیازی صفت جو دوسروں کے اندر نہ ہو۔ (بسا اوقات یہ بھی خود پسندی کا سبب بن سکتا ہے کہ بندہ یہ کہنے لگ جائے کہ یہ صفت صرف میرے اندر ہے جو کسی اور کے پاس نہیں)۔۱۶۔ عزت و توقیر میں مبالغہ ۔ ۱۷۔ خود پسندی کے عقوبات اور نقصانات سے غفلت۔
خود پسندی کے مظاہر:
۱۔ حق کو رد کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔۲۔ لوگوں سے منہ موڑنا۔۳۔ عقل مند اور اہل علم سے مشورہ نہ لینا۔۴۔ چلنے میں تکبر اور اکڑ۔۵۔ اپنی عبادات کو بڑا سمجھنا اور اپنی نیکیوں پر ناز کرنا۔۶۔ علم پر فخر کرنا اور اس کی نمائش کرنا۔۷۔ طعن و تشنیع اور اشاروں کنایوں سے دوسروں کو نیچا دکھانا۔۸۔ نسب، حسب اور ظاہری حسن پر فخر کرنا۔۹۔ لوگوں کی مخالفت صرف تکبر کے لیے کرنا۔۱۰۔ صالح اور متقی علماء کو کم تر سمجھنا۔۱۱۔ اپنی تعریف خود کرنا۔۱۲۔ گناہوں کو بھول جانا یا انہیں معمولی سمجھنا۔۱۳۔ ہمیشہ اپنے لیے جزا، مغفرت اور دعا کی قبولیت کا یقینی گمان رکھنا۔۱۴۔ غلطی پر اصرار کرنا۔ ۱۵۔ عبادت میں سستی برتنا اس گمان سے کہ وہ کمال کو پہنچ چکا ہے۔۱۶۔ گناہگاروں اور فاسقوں کو حقیر سمجھنا۔۱۷۔ بغیر اہلیت کے خود کو پیش کرنا۔۱۸۔ اہل علم کی بات غور سے نہ سننا۔
خود پسندی کے مواقع اور ان کا علاج:
امام ابو حامد الغزالی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ خود پسندی آٹھ چیزوں میں ہوتی ہے اور انہوں نے ان میں سے ہر ایک کا علاج بھی بیان کیا ہے میں اس کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا ان شاء اللہ:
پہلا: اپنے جسم پر غرور کرنا:
اپنی خوبصورتی، وضع قطع، صحت و طاقت، اعضاء کے تناسب، حسن صورت اور حسن آواز پر ناز کرنا۔ انسان اپنے حسن کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے اور ہر حال میں زوال پذیر ہے۔
اس کا علاج: انسان غور کرے کہ اس کی ابتدا اور انتہا میں اس کے پیٹ کے اندر کیسی گندگی بھری ہوئی ہے اور ان خوبصورت چہروں اور نرم و نازک جسموں کے بارے میں سوچے کہ وہ کس طرح مٹی میں ریزہ ریزہ ہو گئے اور قبروں میں بدبودار ہو گئے، یہاں تک کہ انسانی طبیعتیں بھی ان سے کراہت کرنے لگیں۔
دوسرا: اپنی پکڑ اور طاقت پر غرور کرنا:
جیسا کہ قوم عاد کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا تھا: مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً۔ہم سے بڑھ کر طاقت میں کون ہے؟ [فصلت: 15] عوج نے اپنی طاقت کے زعم میں ایک پہاڑ اکھاڑ لیا تاکہ اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لشکر پر گرا دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک کمزور چونچ والے پرندے (ہدہد) کے ذریعے اس پہاڑ کے ٹکڑے میں سوراخ کر دیا، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کھسک کر اس کے گلے کا طوق بن گیا اور وہ بے بس ہو گیا۔
اس کا علاج: انسان کو یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ محض ایک دن کا بخار اس کی ساری طاقت و قوت نچوڑ سکتا ہے اور اگر وہ اپنی طاقت پر اترائے گا تو اللہ تعالیٰ ایک معمولی سی آفت بھیج کر اسے اس طاقت سے مکمل طور پر محروم کر سکتا ہے۔
تیسرا: عقل و دانش پر خودپسندی:
انسان اپنی عقل، سمجھداری اور دین و دنیا کے معاملات میں اپنی باریک بینی پر غرور کرنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان مطلق العنان بن کر صرف اپنی رائے پر اڑ جاتا ہے اور دوسروں سے مشورہ کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے مخالفین کو جاہل سمجھتا ہے اور اپنی عقل پر اتنا گھمنڈ کرتا ہے کہ اہل علم کی بات سننے سے بھی گریز کرتا ہے بلکہ انہیں حقیر اور کمتر گردانتا ہے۔
اس کا علاج: انسان اپنی عقل پر فخر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ یہ سوچے کہ دماغ کو لاحق ہونے والی ایک معمولی سی بیماری بھی انسان کو وہم میں مبتلا کر کے پاگل بنا سکتی ہے، جس سے وہ لوگوں کے لیے محض ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔
انسان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس کا علم بہت تھوڑا ہے اور جو باتیں وہ نہیں جانتا، وہ ان باتوں سے کہیں زیادہ ہیں جو وہ جانتا ہے۔
اپنی عقل پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے ان بے وقوفوں کے انجام سے ڈرے جو اپنی عقل پر ناز کرتے ہیں حالانکہ لوگ ان کی حماقت پر ہنستے ہیں۔ اپنی عقل اور خوبیوں کا اندازہ خوشامدی دوستوں سے نہیں بلکہ اپنے دشمنوں یا مخالفین سے لگائے۔ خوشامدی دوست صرف خوبیاں گنوا کر انسان کی خودپسندی میں اضافہ کرتے ہیں، جس سے انسان اپنی خامیوں سے غافل ہو جاتا ہے۔
چوتھا: شرف اور نسب وخاندان پر غرور کرنا:
یہاں تک کہ بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اپنے خاندانی شرف اور اپنے آباء واجداد کی نجات کے سبب بخش دیئے جائیں گے اور ان کی مغفرت ہو چکی ہے اور بعض کا تو یہ خیال ہوتا ہے کہ ساری مخلوق ان کی غلام اور خادم ہے۔
اس کا علاج: اسے یہ جاننا چاہیے کہ اگر وہ اپنے آباء و اجداد کے افعال و اخلاق کی مخالفت کرے اور پھر بھی یہ سمجھے کہ وہ ان کے ساتھ ملا دیا جائے گا، تو یہ اس کی نادانی ہے اور اگر وہ واقعی اپنے آباء و اجداد کی پیروی کرتا ہے تو ان کے اخلاق میں تو تکبر و غرور تھا ہی نہیں بلکہ ان کے اندر تو اللہ کا خوف تھا اور وہ اپنے نفس کو حقیر سمجھتے اور اس کی مذمت کرتے تھے۔ انہیں یہ شرف نسب کی وجہ سے نہیں بلکہ علم، فرمانبرداری اور عمدہ صفات کی بدولت ملا تھا۔ لہٰذا اسے بھی انہی صفات سے شرف حاصل کرنا چاہیے جن سے انہیں شرف ملا۔
اور نسب میں ان کے برابر اور قبائل میں ان کے شریک وہ لوگ بھی تھے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں لائے تو وہ اللہ کے نزدیک کتوں سے بھی بدتر اور خنزیروں سے بھی زیادہ ذلیل و خوار تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ شرف و بزرگی تقویٰ کی بنیاد پر ہے نہ کہ نسب کی بنیاد پر۔ چنانچہ اللہ نے ارشاد فرمایا:﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾’’ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ‘‘ ۔ [الحجرات: 13]
پانچواں: ظالم بادشاہوں اور ان کے حواریوں کی طرف منسوب ہونے پر فخر کرنا:
بجائے اس کے کہ دین اور علم کی نسبت پر فخر کیا جائے، لوگ ظالموں کی نسبت پر فخر کرتے ہیں اور یہ انتہائی درجے کی جہالت ہے۔
اس کا علاج: وہ ان کی رسوائیوں پر غور کرے اور یہ سوچے کہ انہوں نے اللہ کے بندوں پر کیسے کیسے ظلم ڈھائے اور اللہ کے دین میں کتنا فساد مچایا اور یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی مبغوض اور ناپسندیدہ ہیں۔ اگر وہ جہنم میں ان کی حالت، ان کی بدبو اور گندگی کو دیکھ لے تو وہ ان سے نفرت کرنے لگے گا اور ان کی طرف منسوب ہونے سے بیزاری ظاہر کرے گا۔
چھٹا: تعداد کی کثرت پر غرور کرنا:
یعنی اولاد، خادموں، قبیلے، رشتہ داروں، مددگاروں اور پیروکاروں کی کثرت پر فخر کرنا۔ جیسا کہ کفار نے کہا تھا: ﴿وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالا وَأَوْلادًا﴾۔’’ اور انہوں نے کہا کہ ہم مال اور اولاد میں بہت زیادہ ہیں‘‘۔[سورہ سبا: 35]
اس کا علاج: انسان اپنی اور ان سب کی کمزوری پر غور کرے۔ یہ سب عاجز بندے ہیں جو خود اپنے نفع و نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ پھر وہ ان پر کیسے غرور کر سکتا ہے جبکہ موت کے وقت یہ سب اس سے جدا ہو جائیں گے اور وہ اکیلا، ذلیل اور بے بس ہو کر اپنی قبر میں دفن کر دیا جائے گا۔ وہاں نہ کوئی گھر والا، نہ اولاد، نہ کوئی قریبی رشتہ دار، نہ کوئی جگری دوست اور نہ کوئی قبیلے والا اس کا ساتھ دے گا۔
ساتواں: مال و دولت پر غرور کرنا:
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دو باغ والوں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا:﴿أَنَا أَكْثَرُ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا﴾ ’’ میں تم سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور افراد کے لحاظ سے بھی زیادہ طاقتور ہوں‘‘۔ [الکہف: 34]
اس کا علاج: مال کی آفتوں، اس کے کثیر حقوق اور اس کی بڑی ہلاکتوں پر غور کرے۔ غریبوں کی فضیلت کو دیکھے کہ وہ قیامت کے دن جنت میں جانے میں کیسے سبقت لے جائیں گے اور اس بات پر نظر رکھے کہ مال تو آنے جانے والی چیز ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور یہ بھی دیکھے کہ یہودیوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو مال میں اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہیں۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر غور کرے: ایک شخص اپنے قیمتی لباس میں اکڑ کر چل رہا تھا اور خود پسندی میں مبتلا تھا کہ اچانک اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک اسی طرح زمین میں دھنستا چلا جائے گا (متفق علیہ) اس حدیث میں مال اور نفس پر غرور کرنے کی سزا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
آٹھواں: اپنی غلط رائے پر خود پسندی:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَفَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا﴾ ’’بھلا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اسے اچھا سمجھنے لگے؟‘‘ [فاطر: 8] نیز فرمایا: ﴿وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾۔’’ اور وہ یہی گمان کر رہے ہیں کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں‘‘۔[الکہف: 104] اور تمام اہل بدعت اور گمراہ لوگوں نے اپنی غلطیوں پر اس لیے اصرار کیا کیوں کہ وہ اپنی آراء کے بارے میں خود پسندی کا شکار تھے۔
اس کا علاج: انسان ہمیشہ اپنی رائے پر شک کرے اور اس پر دھوکہ نہ کھائے، سوائے اس کے کہ قرآن مجید، سنت نبوی یا شرائط پر پورا اترنے والی کوئی صحیح عقلی دلیل اس کی قطعی گواہی دے دے۔ کیوں کہ اگر انسان خواہشات، بدعات اور عقائد کے تعصب میں پڑ گیا تو وہ ایسی جگہ سے ہلاک ہو جائے گا کہ اسے خبر بھی نہ ہوگی۔[احياء علوم الدين للغزالی:1291-1295]
[استفادہ از: الدرر السنية، صيد الفوائد، اسلام ويب، احياء علوم الدين لابي حامد الغزالي، ادب الدنيا والدين للماوردي]
اللہ ہمیں اس بری خصلت سے بچائے اور دل میں عاجزی وانکساری پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین