[contacts]
  • شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ-جامع المسائل قسط :(25)

    یہ پورا مجموعہ 9 جلدوں پر مشتمل ہے۔اسے علامہ عزیر شمس اور ان کے ساتھ پوری ٹیم نے عالم اسلا م کی نامورشخصیت دکتور بکر بن عبداللہ ابو زید کے اشراف میں مرتب کیا ہے۔ یہ شیخ الاسلام کے غیر مطبوعہ فتاویٰ کامجموعہ ہے ، بعض بڑے نادر فتاویٰ اس مجموعہ میں شامل ہیں ،بلکہ اس رسالہ میں طلاق سے متعلق ابن تیمیہ کے چھ رسائل (18-23 ) الحمد للہ موجو دہیں ، طلاق ثلاثہ،طلاق بدعت ،طلاق سنت کے بارے میں امام موصوف کا جو مبنی برحق نقطہ نظر ہے،پہلی با ر اسی مجموعہ سے وہ ہمارے سامنے آیا ہے ، اب تک ہم امام ابن القیم(في ’’إغاثة اللهفان‘‘ (1/ 283 – 338) و’’إعلام الموقعين‘‘ (3/ 41 – 62،287 – 288) و’’زاد المعاد‘‘ (5/ 220 – 248) و’’الطرق الحكمية‘‘ (ص 16 – 17).) کی کتابوں سے امام موصوف کے طلاق سے متعلق نقطۂ نظر کو پڑھ رہے تھے ۔ شیخ الاسلام کے سوانح نگار وں نے ابن تیمیہ کی جانب طلاق سے متعلق منسوب کئی ایک رسائل و فتاویٰ کا ذکر کیا ہے ۔ جیسے :
    1 – ’’تحقيق الفرقان بين التطليق والأيمان‘‘ (قاعدة كبيرة نحو أربعين كراسة). 2 – ’’الفرق المبين بين الطلاق واليمين‘‘ (قاعدة بقدر النصف من ذلك). 3 – ’’قاعدة في أن جميع أيمان المسلمين مكفرة‘‘ (مجلد لطيف). 4 – ’’قاعدة في تقرير أن الحلف بالطلاق من الأيمان حقيقة‘‘.5 – قاعدة سماها ’’التفصيل بين التكفير والتحليل‘‘6 – الرد الكبير على من اعترض عليه في مسألة الحلف بالطلاق (ثلاث مجلدات). 7 – ’’لمحة المختطف في الفرق بين الطلاق والحلف‘‘.8 – ’’الاجتماع والافتراق في الحلف بالطلاق‘‘.9 – ’’قاعدة في أن المطلقة بثلاثة لا تحل إلاّ بنكاح زوج ثان‘‘.10 – ’’بيان الحلال والحرام في الطلاق’’ (= ’’البغدادية’’).11 -’’جواب من حلف لا يفعل شيئًا على المذاهب الأربعة ثم طلَّق ثلاثًا في الحيض‘‘.12 – ’’الطلاق البدعي لا يقع’’.13 – ’’مسائل الفرق بين الطلاق البدعي والخلع ونحو ذلك‘‘.14 – ’’الحلف بالطلاق وتنجيزه ثلاثًا‘‘.
    ’’ جامع المسائل لابن تیمیہ‘‘ کی پہلی جلد کا تعارف پیش خدمت ہے ۔ اس مجموعہ میں رسائل ،فتاویٰ اور مسائل کی کل تعداد 24 ہے ۔ سب سے پہلے جامع المسائل میں ابن تیمیہ کے موجود رسائل و فتاویٰ کی فہرست ذکر کردیتے ہیں ۔
    جلد اول میں شامل مسائل: محقق:علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ -1-فصل في معنى “الحيّ القيوم”-2- قاعدة جليلة في إثبات علوّ الله تعالى على جميع خلقه۔3- فتوى فيمن يدعي أن ثَمَّ غوثًا وأقطاباً وأبدالاً۔4- فصل في أولياء الله وأولياء الشيطان۔5- مسألة عن الأحوال وأرباب الأحوال۔6- مسألة في رؤية النبي صلى الله عليه وسلم ربه۔7- قاعدة شريفة في تفسير قوله (أغير الله أتخذ وليا فاطر السماوات والأرض وهو يطعم ولا يطعم) (كتبها بقلعة دمشق في آخر عمره)۔8-فصل في سورة حم السجدة [فصلت]۔9-مسألة في قول النبي صلى الله عليه وسلم لمعاذ: “أتدري ما حقُّ الله على العباد؟ “۔10-فصل في قوله صلى الله عليه وسلم: سيد الاستغفار أن يقول العبد “‌‌اللهم أنت ربي لا إله إلاّ أنت … “-11-قاعدة في الصبر۔12-مسألة في الفُتُوَّة وآدابها وشرائطها۔13-مسألة فيما يفعله بعض الخطباء يوم الجمعة۔14-قاعدة في أفعال الحج۔15-فتوى في البيع بفائدةٍ إلى أجل۔16-مسائل في الإجارة ونقص بعض المنفعة والجوائح، والفرق بين الجائحة في الثمر والزرع وغير ذلك۔17-فصل في الطلاقِ، وتقسيمِه إلى سنّي وبدعيّ، وبيانِ أن الطلاقَ البدعيَّ لا يقع۔ من كلام شيخ الإسلام تقي الدين أبي العباس أحمد بن تيمية مما كتبه في القلعة بدمشق في آخر عمره رحمة الله عليه۔18- فتوى في طلاق السنة وطلاق البدعة۔19- فصل في جمع الطلاق الثلاث،20- فصل في الأحاديث الواردة في الطلاق الثلاث۔21۔ فصل في الطلاق الثلاث۔22- فتوى في الطلاق الثلاث بكلمة واحدة۔23۔ فصل في الإيلاء، من كلام الإمام العلامة شيخ الإسلام تقي الدين ابن تيمية رحمة الله عليه، كتبه أخيرًا بقلعةِ دمشق۔24- فصل في الظِّهار۔
    فوائد علمیہ: (۱)فوت شدہ نمازوں کا ممنوعہ اوقات میں پڑھنا جائز ہے۔
    (۲)حج میں اگر کسی سے وقوف عرفہ فوت ہوجاتا ہے تو پھر حج کے آگے کے اعمال(مزدلفہ میں قیام، رمی جمار وغیرہ) انجام دینا اس پر ضروری نہیں ہے ،سلف و خلف تمام کے نزدیک یہی مسئلہ ہے ،ائمہ اربعہ کی بھی یہی رائے ہے ، لیکن کیا اب اسے عمرہ کرنا ہوگا یا نہیں کیونکہ وہ تو احرام کی حالت میں ہے ، اس سلسلہ میں دو قول مشہور ہیں ، ایک شاذ قول یہ بھی ہے کہ گرچہ کسی سے وقوف عرفہ فوت ہوگیا ہے پھر بھی آگے کے حج کے اعمال اسے انجام دینے ہوں گے ، یہ قول اوزاعی مزنی وغیرہ سےمروی ہے۔ درست بات وہی ہے جس پر جمہور ہیں کہ وقوف عرفہ فوت ہونے کے سبب آگے کے حج کے اعمال کو پورا کرنا ضروری نہیں ہے ۔کیونکہ اللہ نے وقوف عرفہ کے بعد آگے کے حج کے اعمال کی ادائیگی کا حکم دیا ہے، جیسا کہ اللہ کافرمان ہے: ﴿فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ (198) ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (199) فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً﴾ [البقرة: 198 – 200]
    جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعر حرام کے پاس ذکر الٰہی کرو اور اس کا ذکر کرو جیسے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، حالانکہ تم اس سے پہلے راہ بھولے ہوئے تھے۔ پھر تم اس جگہ سے لوٹو جس جگہ سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے طلب بخشش کرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔
    3 عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ، فَلَمَّا صَلَّى إِذَا رَجُلَانِ لَمْ يُصَلِّيَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَدَعَا بِهِمَا فَجِئَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ:” مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟ قَالَا: قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ، فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ‘‘.یزید بن الاسودخزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، وہ ایک جوان لڑکے تھے، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے کونے میں دو آدمی ہیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، تو آپ نے دونوں کو بلوایا، انہیں لایا گیا، خوف کی وجہ سے ان پر کپکپی طاری تھی، آپ ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا: ”تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“، تو ان دونوں نے کہا: ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکے تھے، آپ ﷺنے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کو اس حال میں پائے کہ اس نے نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ (بھی) نماز پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہو جائے گی“۔ [سنن ابي داؤد:صحیح :575]
    (۴) صحابہ ، ائمہ اور اہل علم کے اتفاق کے ساتھ دنیا میں نبی ﷺ نے اپنی آنکھ سے اللہ رب العالمین کا دیدارنہیں کیا ہے ،جتنی روایتیں اس باب میں پیش کی جاتی ہیں وہ سب کی سب جھوٹی او رموضوع ہیں ۔
    (۵)تمام علماء سلف کا اتفاق ہےکہ کوئی بھی شخص دنیا میں اللہ کا دیدار نہیں کرسکتا ہے، اس سلسلہ میں ایک صحیح حدیث بھی ہے۔
    ’’تعلموا أنه لن يرى أحد منكم ربه عز وجل حتى يموت‘‘۔[ صحيح مسلم:169 ت عبد الباقي]:ترجمہ :آپ ﷺنے فرمایا :’’کہ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی مرنے تک اپنے رب عزوجل کو ہرگز نہیں دیکھ سکے گا‘‘۔
    ’’ہاں آخرت میں اہل ایمان کو اللہ کا دیدار میسرہوگا جیسا کہ تواتر کے ساتھ احادیث مروی ہیں ، اب جو شخص آخرت میں بھی دیدار الہٰی کا منکر ہے وہ جہمی گمراہ ہے ، اور جو یہ کہتا ہے کہ نبی کے علاوہ دوسرا کوئی دل کے ذریعہ اس دنیا میں اللہ کو دیکھ سکتا ہے وہ بھی بدعتی اور جھوٹا ہے، جو یہ کہتا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دنیا میں اللہ کو دیکھا ہے وہ بھی غلطی پر ہے ،گویا وہ ایسی بات کہ رہا ہے جو بات صحابہ اور ائمہ دین میں سے کسی نے بھی نہیں کہی ہے۔
    (۶)’’قال بعض السلف: أعمالُ البِرِّ يَفعلُها البَرُّ والفاجر، ولا يَقدِرُ على ترك المعاصي إلاّ صدِّيق‘‘.’’بعض سلف کا کہنا ہے کہ نیکی نیک و بد سبھی کرتے ہیں ،البتہ گناہ صرف نیک لوگ ہی ترک کرتے ہیں یا دور رہتے ہیں ‘‘۔
    (۷)کتاب وسنت اور اصول شریعت سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ طلاق بدعت یا محرم کو طلاق کہنے سےیہ لازم نہیں آتا ہے کہ اسے طلاق شمار کیاجائے گا ،کیونکہ شریعت کے ا س طرح کے کئی ایک عقود ہیں جو کتاب وسنت کی رو سے حرام مانے جاتے ہیں پھر انہیں اسی نام سے موسوم کیا جاتا ہےجیسے نکاح حرام یا فاسد ، بیع حرام یا فاسد ،اب جو لوگ لفظ طلاق آجانے سےاسے طلاق بدعت میں طلاق شمار کرتے ہیں ،انہیں نکاح فاسد ،بیع باطل میں بھی نکاح یا بیع آجانے کے سبب اسے صحیح ماننا چاہیے ۔( ص234)
    (۸)فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کے عقد میں قبول اسلام سے قبل دو بہنیں ایک ساتھ تھیں ،قبو ل اسلام کے بعدنبی ﷺ نے انہیں اختیار دیا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا ہی اپنے عقد میں رکھنا جائز ہے ،چنانچہ ایک کو انہوں نے اپنی زوجیت سے الگ کردیا اور ایک کوبرقرار رکھا۔(ابو داؤد :2243)۔حسن۔
    (۹)زمانۂ جاہلیت میں طلاق کی نہ تو عدت تھی اور نہ ہی کوئی تعداد فکس تھی ،آدمی جب چاہتا طلاق دے دیتا اور جب چاہتا رجوع کرلیتا تھا ۔
    (۱۰) ایلاء اور ظہار دونوں کو پہلے لوگ طلاق ہی شمار کرتےتھے ،کیونکہ ان دونو ں میں انسان شہوت کی تکمیل سے خود کو محروم کرلیتا تھا جو کہ مقاصد نکاح میں سے ہے۔ لیکن اللہ نے اپنے حکم کے ذریعہ یہ واضح کردیا کہ یہ ظہار اور ایلاء طلاق نہیں ہیں،گرچہ ان کے ذریعہ انسان کا قصد طلا ق کا ہی ہو، جہاں تک ظہار کامسئلہ ہے تو اس کا کفارہ سورۂ مجادلہ میں بیان کیا گیا اور ایلاء میں اختیار دیا گیا کہ چاہے تو مدت پوری کرلیں یا پھر طلاق دیں ۔
    (۱۱)اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق رجعی دیتا ہے او راسی دوران ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتقال ہوجاتا ہے تو دوسرے کو اس کے مال میں سے حصہ ملے گا۔کیونکہ طلا ق رجعی میں نکاح ختم نہیں ہوتا ہے۔
    (۱۲) طلاق سکران واقع نہیں ہوتا ہے ،یہی صحابۂ کرام کافتویٰ ہے جیسے عثمان بن عفان ،عبد اللہ بن عباس اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم اجمعین ،صاف صریح اختلاف کسی ایک صحابی کا بھی میرے علم میں نہیں ہے ۔
    (۱۳)اصل یہ ہے کہ نکاح کو آسان بنا نا چاہئے اور طلاق کو مشکل ،لیکن لوگوں کی ایک جماعت نے اسے الٹ دیا ہے ،نکاح کو مشکل اور طلاق کو آسان بنادیا ہے، نکاح کے لیے کتاب و سنت سے غیر ثابت شدہ بہت سارے شرائط بیان کرنے لگتے ہیں جیسے لفط نکاح یا تزویج کی شرط ،عورت کا ولی عادل ہو ، دوعادل گواہوں کی حاضری ، کفو ،نسب ، صنعت و حرفت میں برابری کی شرط ،قبول کا لفظ دو بار یا تین بار بولنے پر اصرارکرنا وغیرہ ۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings