[contacts]
  • مولانا ابوالحسن علی ندوی کی شخصیت سازی میں علمائے اہل حدیث کا کردار( ان کی کتابوں کے آئینے میں) (دوسری اور آخری قسط)

    مولانا ندوی کی یہ خوش نصیبی ہے کہ علامہ تقی الدین ہلالی جیسی عبقری شخصیت کی رفاقت و صحبت کی سعادت حاصل ہوئی، ان کے فیضان علم و ادب سے خوب استفادہ کیا اور اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو جلا بخشا، علامہ تقی الدین ہلالی صاحب تحفہ علامہ عبدالرحمٰن مبارک پوری سے علم حدیث حاصل کرنے کی غرض سے ہندوستان تشریف لائے اور اپنے دوست علامہ عبدالمجید حریری کے پاس مدن پورہ بنارس میں سکونت اختیار کی، جب علامہ خلیل عرب کو علامہ ہلالی کے قیام کے متعلق علم ہوا تو انہوں نے سید سلیمان ندوی اور ڈاکٹر سید عبدالعلی کو انہیں ندوہ بلانے کا مشورہ دیا، شروع میں علامہ ہلالی نے جانے سے انکار کر دیا لیکن مولانا حریری کے مسلسل اصرار اور مشورے سے ندوہ کی دعوت قبول کرلی۔مولانا ندوی لکھتے ہیں:’’ ۱۴ ستمبر ۱۹۳۰کو انہوں نے باقاعدہ تدریس کا چارج لے لیا اور گویا دارالعلوم اور اس کے حلقۂ فضلاء میں عربی کی بہار آگئی، حقیقتاً شیخ خلیل عرب صاحب نے جو کام شروع کرایا تھا اور ہندوستان میں عربی زبان و ادب کی تعلیم کے صحیح طریقے اور اس کا صحیح ذوق پیدا کرنے کا جو دور شروع کیا تھا ہلالی صاحب کے ہاتھوں اس کی تکمیل ہوئی، میں نے باضابطہ طریقہ پر تو ان سے بہت استفادہ کیا، روزانہ ان کی خدمت میں حاضری دیتا اور ان کی صحبتوں اور مجلسوں سے فائدہ اٹھاتا ۔(1)
    ‎علامہ ہلالی کا جہاں بھی دورہ ہوتا مولانا ندوی ان کے ساتھ رہتے۔ انہی کی معیت میں اعظم گڑھ، بنارس،مئو اور مبارک پور کا بھی سفر کیا ،اکثر وہ چھٹیاں اپنے دوست مولانا عبدالمجید حریری کے گھر بنارس میں گزارتے تھے اور مولانا ندوی ساتھ ہوتے تھے اور ان سے خوب اخذ و استفادہ کرتے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب امرتسر سے مولانا محمد داؤد غزنوی کی ادارت میں ایک اہل حدیث رسالہ ’’التوحید‘‘ کے نام سے شائع ہوتا تھا جس میں سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی حیات ودعوتی کارناموں پرمشہور اہل حدیث عالم مولانا محی الدین قصوری کا سلسلہ وار مضمون ’’مجدد اعظم ‘‘کے نام سے نکلتا تھا جو علمی حلقوں میں بے حد مقبول تھا، اس کے حسن اسلوب اور سید صاحب کے علمی ودعوتی کاز پر قیمتی معلومات ہونے کی وجہ سے سید عبدالعلی حسنی کے صلاح پر اس کا عربی ترجمہ مولانا ندوی نے ترجمۃ الامام السید احمد بن عرفان الشہید کے عنوان سے کیا، اور وہ علامہ تقی الدین ہلالی کی اصلاح اور ان کے سفارشی خط کی وجہ سے اس وقت کے عالم عرب کے معروف مجلہ ’’المنار‘‘ میں شائع ہوا اور یہ مولانا کا پہلا عربی مضمون تھا۔ عجیب حسن اتفاق ہے کہ مولانا ندوی کا پہلا عربی مضمون بھی علماء اہل حدیث ہی کی بدولت منظر عام پر آیا۔ مجلہ، اصل مضمون نگار، اصلاح کرنے والا اور جس مجلہ میں مضمون شائع ہوا سب کے سب اہل حدیث تھے۔
    علامہ تقی الدین ہلالی کی جدوجہد وکوششوں سے ہندوستان میں عربی صحافت کا ایک روشن ستارہ ماہنامہ’’الضیاء‘‘ وجود میں آیا۔ مسلسل تین سال تک آپ کی نگرانی و اشراف میں شائع ہوتا رہا، اس مجلہ نے عمدہ مضامین، تحقیقی مقالات اور زبان و بیان کی وجہ سے ہندوستان اور عرب میں اپنی انفرادیت قائم کر لی، لیکن افسوس اس ادبی مجلے کی زندگی طویل نہ ہو سکی اور علامہ ہلالی کے رخصت ہونےکے ساتھ یہ روشن چراغ بھی گل ہو گیا ۔ اس مجلہ نے اپنی مختصر مدت میں عربی زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والے بے شمار افراد کی قلمی صلاحیتوں کو جلا بخشا اورمولانا مسعود عالم ندوی، مولانا محمد ناظم ندوی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی کی عربی تحریروں کی شہرت و مقبولیت کا ایک ذریعہ بنا۔ مولانا ندوی لکھتے ہیں : ’’میں اس رسالے کا مستقل مضمون نگار بن گیا اور ایک طرف سے اعزازی طور پر شریک ادارت اور رفیق کا رقرار پایا، اس رسالے کے ذریعے میری ناچیز و محدود انشائی و ادبی صلاحیت اور خلیل عرب صاحب اور ہلالی صاحب کی تعلیم و صحبت کا فیض واثر ندوۃ العلماء کے ذی علم ارکان اور صاحب ذوق ذمہ داروں کے سامنے آیا۔ اسی زمانے میں میرے بعض اہم مضامین’’الادب النبوي‘‘ اور ’’الحضارة الغربية الوافدة وأثرها في الجيل المثقف كما يراه شاعر الهند الكبير لسان العصر أكبر حسين الإلٰه آبادي‘‘میں شائع ہوئے ۔(2)
    مولانا ندوی کی زندگی کے مطالعہ اور تجزیہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی زندگی کے ہرگوشہ میں علمائے اہل حدیث کی سرپرستی ورہنمائی حاصل رہی، ان کی مجالس میں نشست و برخاست رکھتے اور فیوض وبرکات سے بہرہ ور ہوتے،ان کی صحبت و رفاقت نے نہ صرف ذہن کے دریچوں کو کھول دیا بلکہ حصول علم کی تڑپ پیدا کر دی۔ مولانا کی خوش نصیبی تھی کہ آپ کو علماء اہل حدیث کے ایسے نامور اساتذہ اور اجلہ علماء کرام کا سایۂ عاطفت اور ان کی تربیت مل گئی جو اپنے زمانے کے یکتائے روزگار تھے جن سے خوب لعل وگہر اور یا قوت ودُرر حاصل کیے، لیکن قابل غور پہلو یہ ہے کہ ان کے عقائد، ان کا مسلک جو کہ سلف صالحین کا مسلک ومنہج تھا، انہیں عملی زندگی میں نہیں اپنا سکے بلکہ اپنے والد کی طرح آبا ء و اجداد کے صوفیانہ اعتقاد پر تادم حیات باقی رہے اور اسی پر عمل پیرا بھی رہے بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعہ اس کی تشہیر بھی کرتے رہے، عقائد کے سلسلے میں آپ نےاپنے مشفق ومربی اساتذہ کی نصیحت کو بھی نظر انداز کر دیا۔ علامہ تقی الدین ہلالی فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ ابو الحسن علی ندوی عقائد صوفیہ میں شیخ محمد الیاس کے بھائی ہیں اگرچہ وہ عربی ادب میں مسعود عالم ندوی کے بعد سب سے اچھا شاگرد تھا میں اسے تصوف میں شیخ الیاس کا مرید سمجھا تھا لیکن وہ بھائی نکلا، اللہ تعالی اسے تقلید سے توبہ اور اتباع نبی کی توفیق عنایت فرمائے جیسا کہ مسعود عالم ندوی نے تقلید سے توبہ کر لیا، اس لیے کہ تقلید انسان کے لیے عبادات وعقائد میں نبی ﷺ کی اطاعت وپیروی میں رکا وٹ پیدا کرتی ہے۔ (3)
    ‎ان کے مربی ومشفق استاد خلیل عرب صاحب بھی مولانا کے تصوف سے نالاں وناراض تھے اور ان کے تصوف پر سخت تنقید کرتے تھے حتیٰ کہ خطوط میں بھی اس پر تنبیہ کرتے رہے۔ مولانا کو مخاطب ہوکر ایک خط میں دعائیہ کلمات لکھتے ہیں: ’’تمتع المسلمين بعلومه عدا التصوف آمين‘‘ یعنی اللہ تعالی تصوف کے علاوہ مولانا کے علم سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے۔ اس پر مولانا لکھتے ہیں :’’ہمارے استاد خلیل عرب صاحب تصوف کے قائل نہ تھے ، نہ اس سے ہمارےاشتغال کو پسندکرتے تھے ‘‘۔ (4)
    ‎تعجب ہےجن اہل حدیث اساتذہ کی محنتوں اور کاوشوں کی وجہ سے شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی، جن کے گہرے اثرات ان کی شخصیت اور فکر پر سب سے زیادہ تھے، حقیقت یہ ہے کہ انہی کا فیضان نظر اور صحبت کی کرامت تھی جس نے ان کی شخصیت سازی، صلاحیت کی تشکیل اور فکر کی تعبیر میں اساسی رول ادا کیا جن کے ذکر جمیل کے بغیر مولانا کی زندگی ادھوری ہے پھر بھی مولانا نے ان کے منہج سلف کے عقائد کو قبول نہیں کیا اور اپنے آباء و اجداد کے موروثی صوفیانہ عقائد باطلہ پر قائم رہے بلکہ تصوف سے آپ کی عقیدت ومحبت اس قدرتھی کہ علامہ ابن تیمیہ، علامہ ابن القیم، مولانا ابراہیم آروی اورخلیل عرب صاحب جیسے راسخ العقیدہ علماء سلف کو بھی تصوف سے جوڑنے کی سعی نامسعود کرتے رہے۔ مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’ ڈاکٹر ہلالی رحمہ اللہ، علامہ خلیل عرب اور خود ان کے پھوپھا علامہ طلحہ ٹونکی، شاہ حلیم عطاء، ان کے ماموں زاد بھائی مولانا سید ابو الخیر حسنی وغیرہم کوئی بھی ان کو تصوف اور شخصیت پرستی کی انفعالیت سے بچا نہیں سکا‘‘۔ (5)
    ‎مولانا رحمانی رحمہ اللہ نے جن علماء کا ذکر کیا ہے وہ نہ صرف مولانا ندوی کے مشفق اساتذہ تھے بلکہ ان کے مربی وسرپرست بھی تھے جن کی نگرانی میں مولانا کی حسن تعلیم و تربیت ہوئی جن کی وجہ سے ان کے اندر تعلیم و تعلم کا صحیح ذوق اور سچا شوق پیدا ہوا، عالم عرب میں نیک نامی و ناموری اور شہرت ومعروفیت حاصل ہوئی اس کے باوجود مولانابرصغیر ہند کی تاریخ لکھتے ہیں تو علماء اہل حدیث کی دینی وعلمی خدمات واعمال کے ذکر سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں اور اگر کہیں لکھنا ضروری ہوا تو سرسری طور پر ذکر کر دیتے ہیں اور ان کے روشن وتابناک تاریخی حقائق سے پہلو تہی اختیار کر لیتے ہیں۔ ‎اپنی اردو تصنیفات و تالیفات کے ذریعہ کتاب وسنت کے خلاف باطل نظریات کو فروغ دیتے، لیکن عربی تصنیفات میں علماء سلف کا اسلوب اختیار کرتے ،حد تو یہ ہے کہ اپنی اردو کتاب کا عربی میں ترجمہ کراتے وقت بھی تحریف و تبدیل سے کام لیتے ہیں جیسا کہ مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں :’’مولانا ندوی کی یہی عادت ہے کہ وہ اپنی عربی کتابوں میں سنی ذوق کا مظاہرہ کرتے ہیں اور عجمی زبان کی کتابوں میں صوفی ذوق پیش کرتے ہیں‘‘۔ (6)
    ندوۃ العلماء کے استاذ حدیث مولانا ابو سحبان روح القدس ندوی مولانا کی ظاہری عبادت کے سلسلے میں لکھتے ہیں : ’’ قرأۃ خلف الامام ہو یا سفر میں جمع بین الصلاتین، تعدیل ارکان فی الصلوۃ ہو یا صفت نماز کی ادائیگی کی کیفیت، مولانا علی میاں عاملین بالحدیث کی صف میں نظر آتے ہیں‘‘۔ (7)
    مولانا کےظاہر اور باطن میں کافی تضاد واقع تھا، ظاہری طور پر کچھ مسائل میں علمائے اہل حدیث کی صف میں شامل تھے، شاید اس وجہ سے مولانا ابو یحییٰ امام خان نوشہروی کو بھی مغالطہ ہوگیا اور انہوں نے اپنی مشہور کتاب’’تراجم علمائے اہل حدیث ہند ‘‘ میں مولانا ندوی کو بھی علمائے اہل حدیث میں شمار کردیا۔ جبکہ مولانا کی یہ حکمت رہی ہے کہ عرب دنیا میں اس کی وجہ سے ان کا مقام ومرتبہ قائم و دائم رہے۔
    ‎مولانا صلاح الدین مقبول نےعربی زبان میں ان کے غلط عقائد پر انہی کی زندگی میں ایک کتاب’’الاستاذ ابوالحسن الندوی، الوجه الآخر من كتاباته‘‘نام سے تحریر کی، ان کے افکار و نظریات جو کتاب و سنت کے صریح مخالف ہیں، انہی کی کتابوں سے یکجا کر کےعالم عرب کو روشناس کرایا جس کی وجہ سے علمائے عرب ان سے دوری اختیار کرنے لگے اور ان کی شہرت اور ناموری کا گراف گر گیا۔یہ کتاب موالانا کے سامنے پیش کی گئی تھی، آپ نے کتاب کی دستیابی کی اطلاع بذریعہ تحریر دی ہے،لیکن اپنے باطل افکار و نظریات کے بارے میں کچھ نہیں لکھا، یہ تحریر کتاب کی ابتداء میں چھپی ہوئی ہے۔
    اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه۔
    حوالہ جات : (1)نفس المصدر، ص: ۱۱۶-۱۱۷ (2)نفس المصدر، ص: ۱۳۷ (نوٹ: پچھلی قسط میں ان دونوں مصادر کے نام موجود ہیں)
    (3)د۔ تقی الدین الہلالی، السراج المنیر في تنبيه جماعة التبليغ على أخطائهم. ط ١٩٧٩،ص: ۷۰
    (4)محمد ياسين کوپر گانوی، مشاہیر کے خطوط بنام مولانا ابو الحسن علی ندوی، مکتبہ فردوس مکارم نگر لکھنؤ۔ ص: ۲۵
    (5)مجموعہ مقالات عبد الحمید رحمانی، ابو الکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر،جوگا بائی،نئی دہلی،ج۔ سوم، ص: ۱۱۸
    (6)نفس المصدر، ص: ۱۹۴
    (7)مولانا ابو سحبان روح القدوس ندوی، مولانا علی میاں اور علم حدیث، مجلس تحقیقات ونشریاتِ اسلامی، پوسٹ باکس ۱۱۹، لکھنؤ، ص: ۲۰۰

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings