-
خلع کاصحیح اور شرعی طریقہ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ:’’جَاءَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلَا خُلُقٍ وَلَكِنِّي لَا أُطِيقُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ‘‘۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ثابت کے دین اور ان کے اخلاق کی وجہ سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن میں ان کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتی۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ پھر کیا تم ان کا باغ واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔
[صحيح البخاري: 5275]
راوی ٔحدیث کا تعارف: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا شمار مشہور فقہاء صحابہ میں ہوتا ہے،جنہوں نے اپنی زندگی سنت کی نشر واشاعت اور بدعت کی بیخ کنی کے لیے وقف کردیا تھا ،ان کا پورا نام ’’ عبدالله بن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف‘‘ہے ،یہ رسول اللہ ﷺ کے چچازاد بھائی ہیں ، حبر الامہ ان کا لقب ہے،ہجرت سے تین سال قبل ان کی پیدائش ہوئی یعنی کہ نبو ت کے دسویں سال ،اپنے والد سے قبل انہوں نے اسلام قبول کیا،فتح مکہ کے سال انہوں نے اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کیا ،رسول اللہ ﷺنے ان کے لیے خصوصی دعا کی تھی ، ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :’’ضمَّني النبي صلى الله عليه وسلم إلى صدره، وقال: (اللهم علِّمْه الحكمة)‘‘۔ ’’ مجھے نبی کریم ﷺ نے سینے سے لگایا اور فرمایا:اے اللہ! اسے حکمت کا علم عطا فرما‘‘۔
[صحیح البخاري:3756]
عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل الخلاء، فوضعت له وضوءًا، قال: ((من وضع هذا؟)) فأخبر، فقال: (اللهُمَّ فقِّهْه في الدين)۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بیت الخلاء میں تشریف لے گئے۔ میں نے (بیت الخلاء کے قریب) آپ ﷺکے لیے وضو کا پانی رکھ دیا۔ (باہر نکل کر) آپ ﷺ نے پوچھا یہ کس نے رکھا؟ جب آپ ﷺ کو بتلایا گیا تو آپ ﷺنے (میرے لیے دعا کی)اور فرمایا:’’اللهم فقهه في الدين‘‘۔’’ اے اللہ! اس کو دین کی سمجھ عطا فرمائے۔
[صحیح البخاري :143]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے 1660 حدیثیں مروی ہیں ۔ (یہ تمام باتیں سیر اعلام النبلاء سے ماخوذ ہیں )۔
قال عبدالله بن مسعود: نعم ترجمان القرآن ابن عبا
س۔[الطبقات الكبرى؛ لابن سعد، جـ 2، ص 279]
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بہترین ترجمان القرآن ہیں ۔
عن طاؤس قال: ما رأيتُ رجلًا أَعلم من ابن عبّاس۔
[الطبقات الكبير (2/ 316 ط الخانجي)]
طاؤس کہتے ہیں:’’ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے زیادہ ذی علم کسی کو نہیں دیکھا‘‘۔
قال محمد ابن الحنفية، لما دفن ابن عباس: اليوم مات رباني هذه الأمة۔
[الطبقات الكبير (6/ 347 ط الخانجي)]
جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دفن کیا گیا تو محمد ابن الحنفیہ نے کہا کہ آج اس امت کے ایک ربانی عالم کا انتقال ہوگیا ہے‘‘۔
ان کا انتقال سنہ 68ھ میں ہوا ،71سال کی انہیں عمر ملی ،محمد بن حنفیہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
[أسد الغابة؛ لابن الأثير، جـ 3، صـ 189،صفة الصفوة؛ لابن الجوزي، جـ1، صـ 757]
فوائد ومسائل:
(۱)اس حدیث سے خلع کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔
(۲)خلع کی صورت میں بیوی کو حق مہر واپس کرنا ہوتا ہے اور خاوند بھی حق مہر سے زیادہ کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔
(۳)اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عورت شوہر کا حق مہر واپس کرکے یا کوئی اور مال مہر کے برابر دے کر کےخلع کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
(۴)رسول اللہ ﷺنے ایک عورت کے مسئلہ کو پوری توجہ کے ساتھ سن کرکے طرفین پر بغیر ظلم و زیادتی کے انصاف کے ساتھ حل کردیا۔
(۵) اسلام نے ایک عورت کے لیے یہ مباح قرارد یا ہےکہ وہ شوہر کے حقوق کے سلسلہ میں اگر خوف محسوس کرے کہ اسے شرعی تعلیمات کی روشنی میں نہیں ادا کرپائے گی تو وہ خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
(۶)عہد نبوی میں خواتین بوقت ضرورت نبی ﷺ کی خدمت میں آکر دینی مسئلہ دریافت کرلیا کرتی تھیں ۔