-
صدائے حق: اسلام میں حق کے لیے آواز بلند کرنے کی اہمیت اور تقاضے تمہید:
صدائے حق کی اہمیت:
انسانی تاریخ کا جب بھی مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ دنیا میں ہمیشہ دو قوتیں ایک دوسرے کے مقابل رہی ہیں: حق اور باطل۔ حق وہ نور ہے جو دلوں کو منور کرتا، ضمیر کو بیدار رکھتا اور انسان کو سیدھی راہ دکھاتا ہے، جبکہ باطل وہ تاریکی ہے جو انسان کو گمراہی، خود غرضی، ظلم اور بےانصافی کے دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو محض ذاتی طور پر حق پر قائم رہنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر حق کی گواہی دینے، اسے کھل کر بیان کرنے اور جب باطل سر اٹھائے تو اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی تاکید کی ہے۔
حق کے لیے آواز بلند کرنا کوئی وقتی اورجذباتی ردعمل یا سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ایک مستقل ایمانی ذمہ داری ہے جسے قرآن و سنت نے عبادت کے درجے میں شمار کیا ہے۔ یہ وہ صفت ہے جس کی بدولت انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی اپنی قوموں کے سامنے سچائی کا علم بلند کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تختِ شاہی کے سامنے کلمۂ حق کہنے سے دریغ نہ کیا، اور امتِ مسلمہ کے ہر دور کے علماء و مصلحین نے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔
زیرِ نظر مضمون اسی اہم موضوع پر ایک کاوش ہے کہ اسلام میں حق گوئی، حق کی گواہی اور باطل کے سامنے سچائی بیان کرنے کی کیا اہمیت ہے، انبیاء کرام اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس فریضے کو کس عزم و ہمت سے نبھایا، حق گوئی کے کیا آداب اور تقاضے ہیں، اور آج کے دور میں ایک مسلمان کے لیے اس فریضے کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق بات کہنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حق و باطل کا ازلی معرکہ:
حق اور باطل کی کشمکش کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ انسانی تاریخ کے آغاز سے ہی جاری ہے۔ جس دن ابلیس نے حکمِ الٰہی کے سامنے سرکشی اختیار کی، اُسی دن سے باطل کی ایک مستقل قوت وجود میں آ گئی جو ہمیشہ حق کے راستے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، ارادہ اور اختیار دے کر اسے آزمائش میں ڈالا کہ وہ حق کا ساتھ دیتا ہے یا باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے۔
اسی آزمائش کے تحت اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر دور میں انبیاء علیہم السلام بھیجے تاکہ وہ لوگوں کو باطل کے اندھیروں سے نکال کر حق کی روشنی کی طرف بلائیں۔ ہر نبی نے اپنی قوم کے سامنے حق بیان کیا، خواہ اس کے نتیجے میں ان کا مذاق اڑایا گیا، دھمکایا گیا، جلاوطن کیا گیا یا شہید کر دیا گیا۔ یہ سلسلہ اس لیے قائم رکھا گیا کہ حق کبھی خاموش نہ رہے، کیونکہ جس معاشرے میں حق خاموش ہو جائے وہاں باطل کو پھلنے پھولنے کا پورا موقع مل جاتا ہے۔
﴿وقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾
’’اور کہہ دو کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بےشک باطل مٹنے ہی والا تھا‘‘۔
[الاسراء: 81]
یہ آیتِ کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ باطل خواہ کتنا ہی طاقتور اور غالب کیوں نہ دکھائی دے، اس کی حیثیت عارضی ہے، جبکہ حق دیر پا اور غالب آنے والی حقیقت ہے۔ لیکن حق کے غالب آنے کے لیے ضروری ہے کہ اہلِ حق خاموش نہ بیٹھیں بلکہ اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حق کی گواہی دیں اور اسے عملی طور پر بیان کریں۔
قرآنِ کریم کی روشنی میں حق گوئی کا حکم:
قرآن مجید نے متعدد مقامات پر مسلمانوں کو حق بات کہنے، سچائی پر قائم رہنے اور انصاف کی گواہی دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ احکامات محض اخلاقی نصیحتیں نہیں بلکہ ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیئے گئے ہیں۔
﴿ولَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
’’اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ ہی جانتے بوجھتے حق کو چھپاؤ‘‘۔
[البقرہ: 42]
اس آیت میں دو جرائم کا ذکر ہے: پہلا یہ کہ حق اور باطل کو آپس میں ملا کر پیش کیا جائے تاکہ لوگ فرق نہ کر سکیں، اور دوسرا یہ کہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا لیا جائے۔
﴿یَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾
’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بن جاؤ، خواہ یہ گواہی خود اپنے، والدین یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو‘‘۔
[النساء: 135]
﴿کونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾
’’اللہ کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جاؤ، انصاف کی گواہی دیتے ہوئے، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف چھوڑ دو۔ عدل کرو، یہی تقویٰ کے قریب تر ہے‘‘۔[ المائدہ: 8]
﴿یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی اور درست بات کہو‘‘۔[الاحزاب: 70]
﴿یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو‘‘۔[التوبہ: 119]
ان تمام آیات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام میں حق گوئی، سچائی کی گواہی اور انصاف پر قائم رہنا محض ایک اچھی عادت نہیں بلکہ ایمان کا بنیادی جزو ہے۔
انبیاء علیہم السلام: حق کے پہلے علمبردار:
تاریخِ انبیاء اٹھا کر دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی کو اپنی قوم کے سامنے حق بیان کرنے کی پاداش میں مخالفت، طعن و تشنیع اور بعض اوقات جان لیوا خطرات کا سامنا کرنا پڑا، مگر کسی نے بھی خاموشی کو ترجیح نہ دی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے بت پرستی کے باطل نظام کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی، بتوں کو توڑ کر ان کی بےبسی کا عملی مظاہرہ کیا اور اپنے والد آزر سے بھی نہایت نرمی اور دلیل کے ساتھ توحید کی بات کی، حالانکہ اس کے نتیجے میں انہیں آگ میں ڈالنے کی سازش کی گئی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ تو حق گوئی کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں براہِ راست حکم دیا کہ وہ فرعون جیسے سرکش اور جابر بادشاہ کے دربار میں جا کر حق بات کہیں:
﴿اذْهَبَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ. فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ﴾
’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ، بےشک وہ سرکش ہو گیا ہے، پھر اس سے نرمی کے ساتھ بات کرو، شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے‘‘۔
[سورۃ طٰہٰ: 43-44]
اس واقعے سے یہ اصول بھی سمجھ میں آتا ہے کہ حق گوئی کا مطلب سختی یا بدتمیزی نہیں، بلکہ اسے حکمت اور نرمی کے ساتھ بیان کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ نے مکہ کے سخت ترین حالات میں، جب آپ کو دھمکیاں دی گئیں، بائیکاٹ کیا گیا اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم ڈھایا گیاپھر بھی آپ ﷺ نے توحید کا پیغام اور حق کی دعوت دینا کبھی ترک نہ کیا۔
سیرتِ رسول اکرم ﷺ میں حق گوئی کا اسوہ:
رسول اللہ ﷺ نبوت سے پہلے بھی اپنی قوم میں’’الصادق الامین‘‘ یعنی سچے اور امانت دار کے لقب سے مشہور تھے۔ نبوت ملنے کے بعد جب آپ ﷺنے صفا کی پہاڑی پر کھڑے ہو کر قریش کو توحید کی دعوت دی تو سب سے پہلے انہیں اپنی سچائی کا اعتراف کرایا۔ یہی وہ سچائی اور دیانت تھی جس کی بنیاد پر آپ ﷺ نے حق کا اعلان کیا، باوجود اس کے کہ آپ کو معلوم تھا کہ اس اعلان کے نتیجے میں پوری قوم کی مخالفت مول لینا پڑے گی۔
آپ ﷺ نے اپنی امت کو بھی یہی تعلیم دی کہ ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے بھی حق بات کہنے سے دریغ نہ کریں، بلکہ اسے سب سے افضل جہاد قرار دیا:
’’افْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ‘‘۔
اس حدیثِ مبارکہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں جہاد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ جب کوئی حکمران یا صاحبِ اقتدار ظلم پر اتر آئے تو اس کے سامنے کھڑے ہو کر حق بات کہنا جہاد کے اعلیٰ ترین درجات میں شامل ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی حق گوئی کی درخشاں مثالیں:
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہﷺ کی تربیت سے حق گوئی کا وہ سبق سیکھا جس کی مثالیں تاریخِ اسلام میں جا بجا ملتی ہیں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو کلمۂ حق کی گواہی دینے کی پاداش میں تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھا گیا، مگر ان کی زبان سے’’احد، احد‘‘ کے سوا کچھ نہ نکلا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبوت کے پہلے دن سے ہی رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور معراج جیسے سخت امتحان میں بھی بلا تامل حق کی گواہی دی۔ یہی وہ استقامت تھی جس کی بنا پر آپ کو’’صدیق‘‘ کا لقب عطا ہوا۔
اسی طرح خلفائے راشدین کے دور میں بھی حق گوئی کی روایت زندہ رہی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے طاقتور خلیفہ کے دور میں بھی ایک عام صحابی نے برسرِ منبر ان سے سوال کر دیا کہ آپ نے اپنے لیے دو چادروں کا کپڑا کہاں سے لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہ صرف اس سوال کا مثبت جواب دیا بلکہ اس صحابی کی جرأتِ اظہار پر ناراض ہونے کے بجائے اسے سراہا۔
حق گوئی کے آداب: حکمت، نرمی اور صبر:
اسلام میں حق گوئی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ جذبات میں آ کر سختی، بدتمیزی یا بےادبی سے بات کی جائے۔
﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾
’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ، اور ان سے بہترین انداز میں مباحثہ کرو‘‘۔
[ النحل: 125]
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حق گوئی میں تین چیزیں لازم ہیں: حکمت، موعظۂ حسنہ (نرمی و خیرخواہی)، اور بہترین انداز میں مکالمہ۔
﴿یا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾
’’اے میرے بیٹے! نماز قائم کر، نیکی کا حکم دے، برائی سے روک، اور جو مصیبت تجھ پر آئے اس پر صبر کر، بےشک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے‘‘۔
[ لقمان: آیت 17]
حکمت، نرمی اور صبر کا امتزاج ہی وہ کنجی ہے جس سے حق کی بات دلوں تک پہنچ سکتی ہے۔
خاموشی کا گناہ: امر بالمعروف و نہی عن المنکر:
’’منْ رَأَىٰ مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ‘‘۔
’’تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل میں اسے برا سمجھے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے‘‘۔[صحیح مسلم، کتاب الایمان،49]
’’الَا لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ رَهْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ‘‘۔
’’خبردار! لوگوں کا خوف تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب وہ اسے دیکھے یا اس کا مشاہدہ کرے۔
[سنن ابن ماجہ: 4007،صحیح]
یہ حدیث انتہائی جامع اصول بیان کرتی ہے: اگر انسان حق کو جانتا ہے اور اسے چھپا لیتا ہے محض اس ڈر سے کہ لوگ کیا کہیں گے، تو یہ رویہ نبوی تعلیمات کے خلاف ہے۔ البتہ حق گوئی کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اپنی جان کو بلاوجہ خطرے میں ڈال دے، بلکہ حکمت اور حالات کا لحاظ رکھتے ہوئے حق بات پہنچانے کی کوشش کی جائے۔
عصرِ حاضر میں حق کی آواز بلند کرنے کی ضرورت:
آج کے دور میں جھوٹ، فریب، غیبت، بہتان اور جھوٹی خبروں کا ایک سیلاب سا امڈ آیا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں باطل کو حق کا لبادہ پہنا کر پیش کرنا معمول بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں مسلمان کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحقیق کرے، سچائی کا ساتھ دے اور جھوٹ کو پھیلنے سے روکے۔
﴿والْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ﴾
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔
[ التوبہ: 71]
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ امر بالمعروف او رنہی عن المنکر ہر مومن مرد اور عورت پر اپنی استطاعت کے مطابق عائد ہوتا ہے گھر، محلہ، ادارہ، بازار، غرض ہر جگہ۔
حق گوئی کی راہ کی آزمائشیں اور ثابت قدمی:
حق کی راہ کبھی گلابوں کی سیج نہیں رہی۔ ہر اُس شخص کو جس نے حق بات کہی، کسی نہ کسی صورت میں آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔
تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جن لوگوں نے حق کی خاطر مشکلات جھیلیں، آخرکار انہی کا بول بالا ہوا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ غلامی سے نکل کر خانہ کعبہ کی چھت پر اذان دینے کے مقام تک پہنچے۔ یہی سنتِ الٰہی ہے کہ حق پر جمے رہنے والوں کو بالآخر سرخروئی نصیب ہوتی ہے۔
خلاصۂ کلام:
اس مضمون میں آپ نے پڑھا کہ اسلام میں حق کے لیے آواز بلند کرنا ایک بنیادی فریضہ ہے، جس کی جڑیں قرآن مجید کی متعدد آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیثِ مبارکہ میں گہرائی سے پیوست ہیں۔ انبیاء کرام علیہم السلام سے لے کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تک، ہر دور کے اہلِ ایمان نے اس فریضے کو نبھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
ہمیں یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ حق گوئی کا مطلب سختی یا بےادبی نہیں بلکہ حکمت، نرمی اور صبر کے ساتھ سچائی کو بیان کرنا ہے۔ خاموشی، جبکہ حق بولنے کی طاقت موجود ہو، ایمان کی کمزوری کی علامت ہے، جبکہ حق پر ڈٹے رہنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں حق کا ساتھ دیں، باطل کے سامنے سرنگوں نہ ہوں، اور جہاں کہیں بھی صدائے حق بلند کرنے سے کبھی دریغ نہ کریں۔ آمین ۔