-
طلاق اور خلع کا بڑھتا ہوا گراف – اسباب و حل قارئین کرام! معاشرے میں طلاق اور خلع کی شرح دن بدن بڑھتی جاری ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ سال بھر میں ہزاروں شادیاں ہوتی ہیں، جن میں سے بہت سے جوڑے مختلف مسائل و اختلافات کی وجہ سے علیحدگی بھی حاصل کر لیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک علیحدگی کا گراف قابل اعتراض نہیں تھا لیکن کیا وجہ ہے کہ آج طلاق اور خلع کا گراف بڑھتا جا رہا ہے؟
تحقیق و مشاورت کے بعد بارہ (۱۲)بڑے اسباب سامنے آئے :
(۱)عدم تقویٰ : جب دل میں اللہ کا خوف نہ ہو تو انسان ظلم، ناانصافی اور حق تلفی سے نہیں رکتا، جس سے رشتہ ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
(۲) کم علمی : دین کا علم نہ ہونے کی وجہ سے انسان حقوق و فرائض سے ناواقف رہتا ہے اور نادانی میں رشتہ خراب کر بیٹھتا ہے۔
(۳)مادیت پرستی : دنیا اور مال کی محبت دل میں بس جانے سے انسان رشتوں کی قدر کھو دیتا ہے۔
(۴) تخیل پرستی : ڈراموں، ریلز اور فلموں کو حقیقی زندگی سمجھ لینا، اور ساتھی سے فرشتہ جیسی توقعات وابستہ کر لینا۔
(۵) قبل از نکاح چھان بین نہ کرنا : نکاح سے پہلے دین، اخلاق اور مزاج کی تحقیق نہ کرنا، جس سے بعد میں اختلافات جنم لیتے ہیں۔
(۶) صحیح تربیت نہ کرنا : والدین اپنی ذمہ داری یعنی تربیت اولاد میں کوتاہی کرتے ہیں، بیٹیوں کو گھر داری اور بیٹوں کو حسن سلوک نہیں سکھایا جاتا۔
(۷) غیر ضروری توقعات و معاشی مسائل : فضول خرچی، دوسروں سے موازنہ اور آمدنی سے زیادہ توقعات رشتے میں تناؤ پیدا کرتی ہیں۔
(۸) عدم مواصلات : میاں بیوی ایک دوسرے سے کھل کر بات نہیں کرتے، جس سے شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔
(۹) سوشل میڈیا کا ناجائز استعمال : ناجائز تعلقات، بے پردہ مواد، اور دوسروں کی زندگیوں سے موازنہ رشتے کو تباہ کرتا ہے۔
(۱۰) والدین اور معاشرے کی غیر ضروری مداخلت : چھوٹی سی لڑائی میں ماں کو فون کرنا، یا والدین کا ہر بات میں ٹانگ اڑانا، رشتہ توڑ دیتا ہے۔
(۱۱) قلت صبر : ذرا سی بات پر اٹھ کھڑے ہونا، اور برداشت نہ کرنا۔
(۱۲) آخری حل کو پہلا حل سمجھ لینا : ذرا سی بات پر ’’مجھے خلع چاہیے‘‘ یا’’میں طلاق دے دوں گا‘‘کہہ دینا۔
اسباب کا قرآن و سنت کی روشنی میں حل :
(۱) تقویٰ :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾[آل عمران:١٠٢]
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ویسا ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے‘‘۔
جب انسان اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارتا ہے تو وہ ہر قسم کے فتنے اور فساد سے محفوظ رہتا ہے اور جس دل میں اللہ کا خوف ہو وہ ظلم نہیں کرتا۔
(۲) صبر، برداشت اور ایثار :
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مقامات میں صبر کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا ہے:
﴿وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾[ھود:١١٥]
ترجمہ:’’اور صبر کرو، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘۔
ایک دوسری جگہ فرمایا:﴿وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾[انفال:٦٦]
ترجمہ: ’’اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔
مزید فرمایا: ﴿وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ﴾ [آل عمران:١٤٦]
ترجمہ: ’’اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم ہر قسم کے معاملات میں صبر کا دامن تھامے رکھیں اور صبر کے ذریعے اپنے ساتھی کے لیےآسانی پیدا کریں ،تاکہ رشتے کی خوبصورتی میں اور نکھار پیدا ہو اور رشتہ ہر قسم کی خرابی سے محفوظ رہ سکے ساتھ ہی ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو نرم کریں کیونکہ جس دل میں نرمی نہ ہو وہ دل ہمدردی و جذبہ ایثار سے خالی ہوتا ہے۔
(۳) علم دین کا حصول :
علم دین سے غفلت برتنا یہ بہت اہم وجہ ہے ان فتن اور شرور کی جو ہمارے درمیان پنپ رہے ہیں۔
رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے:’’طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ‘‘۔
’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘۔ [ابن ماجہ: ٢٢٤،حسن، صحیح]
اسی طرح اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے :
﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [زمر: ٩]
ترجمہ:’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘۔
گویا اللہ تعالیٰ علم والوں کی برتری بیان کر رہے ہیں کہ بے علم کبھی بھی علم والوں کے درجے پر نہیں پہنچ سکتے۔
﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾[فاطر: ٢٨]
ترجمہ:’’اللہ سے اس کے بندوں میں سے علم والے ہی ڈرتے ہیں‘‘۔
لہٰذا ہمیں خود بھی علم دین سیکھنا چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی علم دین سے آراستہ کرنا چاہئے کیونکہ یہی وہ دین ہے جس کے ذریعے انسان حق و باطل کے درمیان تمیز کر پاتا ہے۔
(۴) حقیقت پسندی :
ازدواجی زندگی میں انسان کا انتہائی افسانوی ہونا بھی رشتے کو خراب کرتا ہے۔
آج نوجوان نسل ڈراموں اور ریلز کو حقیقی زندگی سمجھ بیٹھی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے ساتھی سے ان تمام چیزوں کی توقع وابستہ کر لیتے ہیں جو ہم نے اپنے ذہن میں افسانوں کے ذریعے بیٹھائی ہوتی ہیں، جبکہ ازدواجی زندگی کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان ہے :
﴿وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾ [روم: ٢١]
ترجمہ:’’اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی‘‘۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی بھی انسان کامل نہیں ہوتا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ‘‘۔
ترجمہ :’’کوئی مومن مرد مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے، اگر ایک عادت ناپسند ہے تو دوسری پسند بھی ہوگی‘‘۔ [صحیح مسلم: ١٤٦٩]
اور ہم کسی دوسرے کی زندگی کے ساتھ اپنی زندگی کا موازنہ نہ کریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ﴾ [نساء:٣٢]
ترجمہ: ’’جن چیزوں میں اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ان کی تمنا نہ کرو‘‘۔
لہٰذا ساتھی کو فرشتہ نہ سمجھا جائے اور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ایک دوسرے کی خامیوں سے در گزر کیا جائے۔
(۵) فکر آخرت :
فرمان نبوی ﷺہے :’’تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ‘‘۔
ترجمہ: ’’عورت سے چار چیزوں کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب و نسب کی وجہ سے، اس کے جمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے، پس تم دین والی کو ترجیح دو تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں‘‘۔ [صحیح بخاری :٥٠٩٠]
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کریں اور ان میں سے دنیا کو نوچ کر نکال دیں اسی دنیا کے پیچھے بھاگتے ہوئے ہم اپنی زندگی اور آخرت دونوں تباہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
(۶) نکاح سے پہلے چھان بین کرنا :
’’إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ‘‘۔
ترجمہ: ’’جب تمہیں کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام دے جس کی دینداری اور اخلاق سے تمہیں اطمینان ہو تو اس سے شادی کر دو، اگر ایسا نہیں کرو گے، تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد پھیل جائے گا‘‘۔ [ترمذی: ١٠٨٤، حسن صحیح]اس حدیث کی ایک اور شاہد ہے جس کی بنیاد پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو حسن کہا ہے ۔ دیکھیں: [ارواء الغلیل: کتاب النکاح، ح:۱۷]
لہٰذا نکاح کرتے وقت دین کو ترجیح دی جائے اور نکاح سے پہلے اچھے طریقے سے چھان بین کی جائے تاکہ ہر قسم کے دھوکے سے محفوظ رہا جا سکے۔
(۷) بہترین تربیت :
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ‘‘۔
’’تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی نگہبانی سے متعلق پوچھا جائے گا‘‘۔ [صحیح بخاری: ٨٩٣]
اس حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ذمہ دار کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کرنا چاہیے، بالخصوص والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری یعنی تربیت اولاد پر خوب محنت کریں اور بیٹیوں کو گھر داری سکھانے کے علاوہ زندگی جینے کے گر بھی سکھائیں اور انہیں خاوند کی فرمانبرداری کرنا اور سسرالی معاملات کو حکمت اور صبر و برداشت کے ساتھ نبھانے کی تعلیم دیں۔
اسی طرح بیٹے کو بھی اپنی زندگی کے معاملات کو حکمت و دانائی کے ساتھ نبھانے اور اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی ترغیب دی جائے اور اپنی اولاد کے دل میں اللہ کا تقویٰ پیدا کیا جائے تاکہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے ہر شر سے محفوظ رہنے کی کوشش کریں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾[تحریم:٦]
ترجمہ: ’’اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ‘‘۔
(۸) قناعت و کفایت :
انسان کو وسائل اختیار کرتے ہوئے اس بات کا یقین رکھنا چاہئے کہ رزق دینے والا اللہ ہی ہے وہ جب چاہے رزق کشادہ کر دے اور جب چاہے انسان کو تنگی میں ڈال دے، فرمان الٰہی ہے:
﴿لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ، وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ﴾ [طلاق: ٧]
ترجمہ: ’’کشادگی والا اپنی کشادگی سے خرچ کرے اور تنگ والا اسی میں سے جو اللہ نے دیا‘‘۔
لہٰذا مرد کو چاہیے کہ بخیلی نہ کرے اور عورت کو چاہئے کہ فضول خرچی نہ کرے اور جس قدر اللہ نے دے رکھا ہے اس پر قناعت اور صبر کے ساتھ گزارا کرے بہت زیادہ کی چاہ انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اپنے دوست احباب پر تو بے دریغ لٹاتے ہیں لیکن گھر آتے ہی تنگی کا رونا رونے بیٹھ جاتے ہیں ایسے میں انسان کو ان دو حدیثوں کو مد نظر رکھنا چاہئے :
پہلی حدیث : ’’خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ‘‘۔
’’تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہے‘‘۔ [ سنن ترمذی: ٣٨٩٥، صحیح]
دوسری حدیث :’’إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفْقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فَمِ امْرَأَتِكَ‘‘۔
’’تم اللہ کی رضا کے لیے جو خرچ کرو گے اس پر اجر ملے گا حتیٰ کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو‘‘۔ [صحیح بخاری: ٥٦]
(۹) تواصل قائم کرنا : ایک دوسرے کو وقت دیں، اپنے ساتھی کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کریں، اگر کبھی کوئی بات بری لگ جائے تو اپنے ساتھی کو اس کی غلطی سدھارنے کا موقع دیں، شوہر کو چاہیے کہ عورت پر اپنا بے جا زور نہ چلائے اور اس کے ساتھ اپنے معاملات کو خیر کے ساتھ انجام دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [نساء:١٩]
ترجمہ: ’’ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو‘‘۔
اسی طرح بیوی بھی شوہر کی قوامیت کو تسلیم کرے، جسے اللہ نے قرآن میں اس طرح ذکر فرمایا:
﴿اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ﴾[النساء:٣٤]
ترجمہ: ’’مرد عورتوں کے نگران ہیں‘‘۔
اور اس کے مرتبہ کا لحاظ رکھے جسے رسول اللہ ﷺنے یوں بیان کیا ہے :
’’لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا‘‘۔
’’اگر میں کسی کو (اللہ کے سوا) کسی اور کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے‘‘۔ [سنن ترمذی: ١١٥٩، صحیح]
(۱۰) سوشل میڈیا کا جائز استعمال :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾[نور:٣٠]
ترجمہ: ’’مومن مردوں سے کہو اپنی نظریں نیچی رکھیں‘‘۔
نفس کی پاکیزگی کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز نظروں کی حفاظت ہے جسے اللہ رب العزت نے مذکورہ آیت میں بیان کیا ہے، اگر ہم کسی بھی طرح کی خیانت کرتے ہیں تو اس کا حساب ہمیں اللہ کے ہاں دینا ہوگا، جیسا کہ اللہ نے فرمایا:
﴿إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾[اسراء: ٣٦]
ترجمہ: ’’کان، آنکھ اور دل سب سے سوال ہوگا‘‘۔
یقینا ًسوشل میڈیا ہمارے لیے خیر اور شر دونوں کا ذریعہ ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس کا استعمال خیر کے لیے کریں، ناجائز تعلقات بنانا یا کسی بھی قسم کے زنا کا ارتکاب کرنا یہ وہ چیزیں ہیں جو ہماری دنیا اور آخرت دونوں برباد کرنے کے لیے کافی ہیں، لہٰذا ان تمام چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(۱۱) غیر ضروری مداخلت سے اجتناب :
چھوٹی سی لڑائی میں لڑکی اپنی ماں کو فون کر دیتی ہے، لڑکا اپنی ماں کی ہر بات پر بیوی سے لڑتا ہے، یہ چھوٹی چھوٹی باتیں رشتہ کو ختم کرنے میں اہم کردار نبھاتی ہیں، تیسرے فریق کی مداخلت سے گھر ٹوٹ جاتے ہیں، اگر کبھی اختلاف بڑھ جائے تو شرعی طریقہ سے حل نکالنا چاہئے، جیسا کہ قرآن میں ہے :
﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا﴾[النساء: ٣٥]
ترجمہ: ’’اگر میاں بیوی میں اختلاف کا ڈر ہو تو ایک ثالث اس کے گھر سے اور ایک اس کے گھر سے بھیجو‘‘۔
صرف بڑے اختلاف پر اور صرف صلح کی نیت کے ساتھ، اسی طرح میاں بیوی کے راز تیسرے تک نہیں جانے چاہیے۔
(۱۲)آخری حل کو آخری ہی سمجھا جائے : آج ذرا سی بات پر کہہ دیا جاتا ہے ’’مجھے خلع چاہیے‘‘ یا’’میں طلاق دے دوں گا‘‘، اسلام نے طلاق کو سب سے آخری قدم بنایا ہے۔
ان تمام چیزوں کے باوجود بھی اگر نباہ نہ ہو سکے تو خلع اور طلاق کو اللہ نے ہمارے لئے حلال کیا ہے لیکن اس کی بھی کچھ شرائط ہیں جو آگے بیان کی جائیں گی ان شاءاللہ۔
قبل اس کے کہ ہم اس موضوع پر بات کریں دو باتیں جان لینا ضروری ہے :
پہلی بات: جب مطالبۂ طلاق عورت کی جانب سے ہو تو اسے خلع کہتے ہیں، جبکہ وہ الفاظ طلاق کے ساتھ نہ ہو۔
دوسری بات: بلا سبب یا کسی غیر معقول سبب کے تحت مطالبۂ طلاق جس کے متعلق نبی اکرم ﷺ کی یہ حدیث قابل غور ہے:
’’أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ‘‘۔
’’جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے‘‘۔ [سنن ابی داؤد: ٢٢٢٦، صحیح]
یہ غور کرنے والی بات ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں ہونے والی خلع اور طلاق کے اکثر و بیشتر اسباب بہت معمولی قسم کے ہوتے ہیں ، جنہیں بیٹھ کر رفع کیا جاسکتاہے ۔
طلاق و خلع کے شرعی اسباب :
اگر نباہ کی تمام کوششوں کے باوجود رشتہ قائم نہ رہ سکے، تو اسلام نے خلع اور طلاق کو حلال کیا ہے۔
خلع کے مباح اسباب :
اول: جب عورت اپنے خاوندکا اخلاق پسند نہ کرتی ہو، مثلاً خاوند ميں شدت و سختی پائی جاتی ہو اور حدت ہو اور وہ جلد متاثر ہو جاتا ہو، اور کثرت غضب والا ہو، اور چھوٹی سی بات پر تنقيدکرنےلگے، اور ادنیٰ سی غلطی پر سزا دينے لگے تو اس عورت کو خلع لینےکا حق حاصل ہے۔
دوم: جب عورت اپنے خاوند کی خلقت ناپسندکرتی ہو يعنی اس میں کوئی پيدائشی عیب اور بد صورتی ہو، یا حواس میں نقص پایا جائے تو عورت کو خلع حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔
سوم: اگر خاوند ناقص دین ہو يعنی نماز ترک کرتا ہو، يا پھر نماز باجماعت اداکرنے سے سستی کرتا ہو، یا پھر رمضان المبارک میں بغیر کسی عذرکےروزہ نہ رکھے، يا حرام کاموں ميں جاتا ہو مثلاً زنا اور شراب نوشی اور گانے بجانے کی محفل وغیرہ میں جاتا ہو۔تو عورت کو خلع حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔
چہارم: جب خاوند اپنی بیوی کو اخراجات نہ دے يا لباس نہ دے یا ضروریات کی اشیاء نہ دیتا ہو اور خاوند یہ اشیاء دینے پر قادر بھی ہو۔
پنجم: جب بیوی کو عمومی اور عادت والا حق معاشرت نہ دیتا ہو جس میں بیوی کو عفت حاصل ہو، يعنی خاوند وطی کرنے پر قادر نہ ہو اور اس میں عیب پایا جائے، یاپھر وہ بیوی کو نہ چاہتا ہو یا ووہ کسی دوسرے کی طرف مائل ہو اور اس سے رکا رہے، يا وہ بیویوںکے مابین مبیت يعنی رات بسر کرنے میں عدل نہ کرتا ہو‘‘۔ [من فتاویٰ الشیخ عبد اللہ بن عبد الرحمن بن جبرین رحمہ اللہ، رقم الفتوى : ١٨٥٩]
طلاق کے جائز اسباب :
طلاق دینے کے لیے بھی فقہاء نے کچھ اسباب بیان کئے ہیں ساتھ ہی یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ اگر کسی غیر معقول سبب کے تحت طلاق دی جائے تو وہ قابل مذمت ہوگی، آئیے وہ اسباب بھی جان لیں، کچھ فقہاء کے نزدیک ایسی عورت کو طلاق دینا واجب ہے جو پاکدامنی اختیار نہ کرے، اور ایسی عورت جو اللہ کے فرائض مثلاً نماز وغیرہ میں کوتاہی کرے، اور شوہر اس کو ان کاموں پر مجبور نہ کر سکے۔
علامہ مرداوی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’الإنصاف‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’مستحب یہ ہے کہ ایسی عورت کو طلاق دی جائے جو اللہ کے واجب کردہ حقوق میں کوتاہی کرتی ہو مثلاً نماز وغیرہ اور وہ عفیفہ بھی (پاکدامن) بھی نہ ہو، اور شوہر اس کو اللہ کے حقوق ادا کرنے پر مجبور نہ کر سکے، تو ایسی عورت کو طلاق دینا مستحب ہے، اور یہی قول حنابلہ کا صحیح ترین قول ہے، اور اکثر اہلِ علم نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے، اور بعض کے نزدیک طلاق واجب ہے، کیونکہ وہ عورت پاک دامن نہیں ہے اور اللہ کے حقوق میں کوتاہی کرتی ہے‘‘۔ [الإنصاف:ج:٨،ص:٤٢٩]
لیکن جب نباہ بخوبی ہو رہا ہو اور طلاق کا کوئی معقول اور شرعی سبب موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں طلاق دینا مکروہ ہے۔
خلاصۂ کلام :
نکاح محض ایک دنیاوی معاہدہ نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک مقدس رشتہ اور عظیم نعمت ہے، اس رشتے کی مضبوطی اور خوبصورتی کا راز باہمی محبت، ایثار، درگزر اور قرآنی اصولوں کی پیروی میں پوشیدہ ہے، دورِ حاضر میں طلاق اور خلع کے تشویش ناک حد تک بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے کہ زوجین اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، معمولی باتوں کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے حکمت و صبر سے کام لیں اور ہر قدم پر اللہ کا تقویٰ اختیار کریں، جب ازدواجی زندگی کی بنیاد دین، حقیقت پسندی اور باہمی احترام پر رکھی جائے گی تو یہ رشتہ دنیا میں سکون اور آخرت میں فلاح کا بہترین ذریعہ بنے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو امن و سکون کا گہوارہ بنائے، ہمیں رشتوں کے تقدس کی حفاظت کرنے کی توفیق دے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے والا بنائے۔آمین