-
غم نہ کریں انسانی زندگی خوشی اور غمی کا ایک حسین مگر کٹھن امتزاج ہے، دنیا کے اس سفر میں دکھ، پریشانیاں اور حادثات آنا ایک فطری امر ہے، لیکن اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ وقتی رنجیدہ ہونا تو انسانی خصلت ہے، مگر غم کو دل کا مستقل روگ بنا لینا قلبی اور جسمانی دونوں حوالوں سے نقصان دہ ہے، اسی لیے دینِ اسلام ہمیں مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید اور توکل کی روشنی کی طرف بلاتا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کثرت سے یہ دعا فرمایا کرتے تھے:’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ‘‘۔’’اے اللہ! غم و الم سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔ [صحيح البخاري: ٦٣٦٩]
سنتِ نبوی ﷺ میں غم اور پریشانی سے پناہ مانگنے کی خاص تاکید کی گئی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ غم انسان کے دل کو کمزور کر دیتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کے قرب کے سفر سے روکتا ہے، اسی لیے مومن کو مایوس اور غمگین کرنا شیطان کے اہم ترین اہداف میں سے ایک ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ اس دعا کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’نبی کریم ﷺ نے غم کو ان چیزوں میں شمار کیا ہے جن سے پناہ مانگی جاتی ہے، کیونکہ غم دل کو کمزور کر دیتا ہے، انسان کے ارادے اور عزم کو پست کر دیتا ہے، اور ہمت کو نقصان پہنچاتا ہے، شیطان کے نزدیک مومن کو غمگین دیکھنے سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّمَا النَّجۡوٰى مِنَ الشَّيۡطٰنِ لِيَحۡزُنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ترجمہ:’’سرگوشیاں (بری)، پس شیطانی کام ہے جس سے ایمانداروں کو رنج پہنچے‘‘۔
لہٰذا غم دل کی ان خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے جو انسان کو اللہ کی راہ میں اٹھنے، چلنے اور جدوجہد کرنے سے روک دیتی ہے‘‘۔ [طريق الهجرتين:ص٢٧٩]
اسی طرح آپ رحمہ اللہ’’مدارج السالکین‘‘میں مزید فرماتے ہیں:
’’قرآنِ مجید میں غم کا ذکر جب بھی آیا ہے، تو یا تو اس سے منع کیا گیا ہے یا اس کی نفی کی گئی ہے، چنانچہ جن مقامات پر روکا گیا ہے، ان میں سے ایک مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَهِنُوا۟ وَلَا تَحۡزَنُوا۟﴾ ’’تم سستی نہ کرو اور نہ غمگین ہوا کرو‘‘۔ دوسری جگہ فرمایا: ﴿وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡهِمۡ﴾ ’’اور آپ ان پر غم نہ کریں‘‘۔تیسری جگہ ارشاد فرمایا:﴿لَا تَحۡزَنۡ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَاۖ﴾ ’’غم نہ کرو بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔
اور جن مقامات پر نفی کی گئی ہے، اس کی مثال:
﴿فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡهِمۡ وَلَا هُمۡ یَحۡزَنُونَ﴾
’’پس نہ انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ غم ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کو آگے بڑھنے نہیں دیتی، اس میں دل کے لیے کوئی فائدہ یا اصلاح نہیں ہے، چونکہ شیطان کو بندے کا غمگین ہونا سب سے زیادہ پسند ہے، اس لیے وہ غم کے ذریعے بندے کو اللہ کی راہ پر چلنے سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے‘‘۔ [مدارج السالكين (٥٠٠/١)]
شیخ عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ غم سے نجات اور خوشحالی کا عملی طریقہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’دکھ، درد اور غم کو دور کرنے کا ایک اہم ترین طریقہ یہ ہے کہ ان اسباب کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے جو پریشانیوں کا باعث بنتے ہیں، اس کا بہترین حل یہ ہے کہ انسان ماضی کے ان تلخ حادثات کو بھول جائے جنہیں وہ لوٹا کر واپس نہیں لا سکتا، نیز یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو ہو چکا اس کے بارے میں مسلسل سوچتے رہنا ایک لاحاصل اور بے کار عمل ہے، اور ایسا کرنا سراسر حماقت اور دیوانگی ہے‘‘۔ [الوسائل المفيدة (٢٢)]
غم سے نجات کا ایک اور موثر نسخہ تقدیر پر کامل ایمان ہے، جب انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ جو کچھ بھی نقصان یا مصیبت اسے پہنچی ہے، وہ اللہ کی طرف سے لکھی جا چکی تھی اور اس میں ضرور کوئی نہ کوئی خیر پوشیدہ ہے، تو اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّبۡـرَاَهَا ؕ اِنَّ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌۚ۔ لِّـكَيۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰٮكُمۡؕ﴾ [الحديد: ٢٢-٢٣]
ترجمہ:’’نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے ۔تاکہ تم اپنے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہوجایا کرو اور نہ عطا کردہ چیز پر گھمنڈ میں آجاؤ‘‘۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ غم اور پریشانیوں سے اللہ کی پناہ مانگیں، تقدیر پر مکمل ایمان رکھیں، ماضی کے پچھتاؤں کو چھوڑ کر حال میں بھلائی کے کاموں کے لیے کمر بستہ ہو جائیں، اور ہر قدم پر اللہ تعالیٰ سے مدد اور رہنمائی طلب کریں، بے شک وہی بہترین کارساز اور بہترین مددگار ہے۔