[contacts]
  • زیارت قبر نبوی ﷺ اور اس میں وارد ضعیف و موضوع روایات کا جائزہ (قسط :اول)

    اسلام ایک صاف ستھرا دین ہے جو عقیدہ وعمل کے اعتبارسے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے، شرک اور اس کے جملہ اسباب ودوافع سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام میں قبروں کی زیارت مشروع ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے قبروں کی زیارت کا حکم دیا ہے کیونکہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ جب انسان قبر کی زیارت کے لیے جاتا ہے تو اپنی آخری منزل کے بارے میں سوچتا ہے پھر اس کے دل میں دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ انہی مسائل میں سے قبر رسول ﷺ کی زیارت بھی ہے۔
    اس مضمون میں ان تمام فقہی آرا، دلائل اور مآخذ کی روشنی میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ زیارتِ قبرِ نبوی کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کے لیے سفر کی حیثیت کیا بنتی ہے۔
    قبر کی لغوی و اصطلاحی تعریف:
    قبر کی لغوی تعریف : القبر: انسان کے دفن ہونے کی جگہ۔[لسان العرب:68/5]
    میت کو دفن کرنے کی جگہ۔[المعجم الوسیط:ص:885]
    اصطلاحی تعریف : قبر کا اطلاق اور اس سے مراد کبھی تنگ مکان پر ہوتا ہے اور کبھی وہ زندگی مراد ہوتی ہے جس میں انسان بدن کے ذریعہ برزخی زندگی میں زندہ رہتا ہے۔[مفاھیم القرآن: 181/8]
    زیارت کی لغوی و اصطلاحی تعریف :
    زیارت کی لغوی تعریف : زیارت مصدر ہے ’’الزور‘‘ سے جس کے معنیٰ مائل ہونا ، کسی کی طرف راغب ہونا اور کسی کی طرف عدول کرنا ۔[معجم مقاییس اللغة: 36/3]
    اصطلاحی تعریف: الزيارة هي عبارة عن قيام شخص بالتوجه نحو المزور الميت فإذا كانت الزيارة مباشرة على قبره تسمى’’بالزيارة عن قرب‘‘ وإما إن كان بالتوجه إلى شخص المزور من دون قطع المسافة وبعيدا على قبره فتسمى ’’بالزيارة عن بعد‘‘ وجاء في كتاب معجم المصباح المنير ’’الزيارة في العرف تعني قصد المزور إكراما له واستئناسابه‘‘۔ [المصباح المنير:260/1]
    زیارت نام ہے کسی شخص کا میت کی زیارت کے قصد کرنے کا، اگر زیارت براہ راست قبر کی ہو تو اس کو قریب کی زیارت کہا جاتا ہے، جبکہ اگر قبر سے دور سفر کیے بغیر زیارت ہو تو اس کو دور کی زیارت کہا جاتا ہے، المصباح المنیر میں ہے کہ زیارت عام استعمال میں میت کی تعظیم اور تسلی کے لیے قبر پر جانا ہے۔
    زیارتِ قبر نبوی ﷺ کا حکم:
    زیارت قبر نبوی کے حکم کے بارے میں چار اقوال ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
    1: جمہور اہل علم کا مذہب یہ ہے کہ قبر نبوی ﷺ کی زیارت مندوب ہے ۔
    جمہور کی دلیل : اللہ تعالیٰ کا قول : ﴿ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُول﴾’’اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، تیرے پاس آ جاتے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور رسول (ﷺ) بھی ان کے لیے استغفار کرتے‘‘۔[النساء:64]
    وجہ استدلال: آپ ﷺ موت کے بعد اپنی قبر میں زندہ ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ:’’الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ‘‘۔ ’’انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں‘‘۔[البحر الزخار: 63/13]
    اور امام بیہقی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، اور اس موضوع پر مستقل رسالہ ’’حياة الأنبياء في قبورهم‘‘ بھی تحریر فرمایا ہے۔
    ابو منصور البغدادی کہتے ہیں: قَالَ الْمُتَكَلِّمُونَ الْمُحَقِّقُونَ مِنْ أَصْحَابِنَا: إِنَّ نَبِيَّنَا عَلَيْهِ السَّلَامُ حَيٌّ بَعْدَ وَفَاتِهِ. ’’اہلِ علم محقق متکلمین نے کہا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ اپنی وفات کے بعد بھی زندہ ہیں‘‘۔
    چونکہ ثابت ہے کہ شہداء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور رزق پا رہے ہیں اور نبیﷺ بھی ان میں سے ہیں:﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾’’جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں‘‘۔[آل عمران :169]
    جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ نبی ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں تو ان کی طرف وفات کے بعد زیارت کے لیے آنا اسی طرح ہے جس طرح آپ ﷺ کی زندگی میں آپ کے پاس آنا ہے ۔
    2: بعض مالکی اور ظاہری کا مذہب یہ ہے کہ قبر نبوی کی زیارت واجب ہے ۔
    دلیل:﴿وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِہٖ﴾ ’’اور جو کوئی اپنے گھر سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کی طرف نکل کھڑا ہوا‘‘۔[النساء:100]
    ’’مَنْ زَارَنِي بَعْدَ مَوْتِي فَكَأَنَّمَا زَارَنِي فِي حَيَاتِي‘‘۔’’جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی، گویا اُس نے میری زندگی میں میری زیارت کی‘‘۔[سنن الكبرىٰ للبيهقي: 228/1]
    آپ ﷺ کے پاس ہجرت کرنا اس طرح ہے جس طرح آپ کی زندگی میں ہے ۔
    تردید: یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ آپ کی زندگی میں آنا اور وفات کے بعد آپ کے پاس آنےمیں بہت فرق ہے ، کیونکہ آپ کی زندگی میں احکام شرعیہ اور دیگر مسائل سیکھے جاتے ، اس کے علاوہ بہت سارے فوائد تھے ۔
    قائلین وجوب اس سے بھی دلیل پکڑتے ہیں کہ حدیث:‘‘مَنْ حَجَّ وَلَمْ يَزُرْنِي فَقَدْ جَفَانِي‘‘۔’’جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی، تو اُس نے میرے ساتھ ظلم کیا اور مجھ سے اعراض کیا‘‘۔
    یہ لوگ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے ساتھ ظلم اور آپ سے اعراض حرام ہے، تو زیارت واجب ہوتی ہے تاکہ حرام میں واقع نہ ہوا جا ئے ۔
    جمہور نے اس کا جواب دیا ہے کہ جفا یہ مندوب کے ترک پر بھی کہا جاتا ہے، جیسا کہ حسن سلوک کے ترک پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور سخت طبعی پر بھی ، جیسا کہ حدیث میں ہے:’’من بدا فقد جفا‘‘۔’’جو (مدینہ سے) باہر رہا، اس نے نافرمانی کی‘‘۔[فتح الغفار: 2141/4]
    لیکن (مَنْ حَجَّ وَلَمْ يَزُرْنِي) والی روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ’’نعمان بن شبل‘‘ ضعیف جدا ہیں ۔
    3: علماء احناف کا مذہب یہ ہے کہ قبر نبوی کی زیارت یہ واجبات کے قریب ہے ۔
    ان کا استدلال یہ ہے کہ جو زیارت قبور کی مشروعیت کے بارے میں روایات وارد ہیں، وہ عموم پر دلالت کرتی ہیں اور نبی ﷺ اس عموم میں داخل ہیں ۔ اور اسی طرح سے وہ احادیث جو نبی ﷺ کے فعل سے ثابت زیارت کے سلسلے میں ہیں اور خاص احادیث جو قبر رسول ﷺکی زیارت کے سلسلے میں وارد ہیں ۔
    وہ خاص دلائل مندرجہ ذیل ہیں :
    1: ’’مَنْ زَارَنِي بَعْدَ مَوْتِي فَكَأَنَّمَا زَارَنِي فِي حَيَاتِي‘‘۔[دارقطنى 2/378] ’’جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی، گویا اُس نے میری زندگی میں میری زیارت کی‘‘۔
    2: ’’مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي‘‘۔[دار قطنی 278/2] ’’جس نے میری قبر کی زیارت کی، اُس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی‘‘۔
    3: ’’مَنْ حَجَّ وَلَمْ يَزُرْنِي فَقَدْ جَفَانِي‘‘۔[موضوعات597/2] ’’جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی، تو اُس نے مجھ سے اعراض کیا‘‘۔
    4: ’’مَنْ زَارَنِي بِالْمَدِينَةِ مُحْتَسِبًا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا وَشَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘۔[التلخيص الحبير 904/3] ’’جو مدینہ میں میری زیارت نیتِ ثواب کے ساتھ کرے، تو میں قیامت کے دن اس کا شفیع اور گواہ بنوں گا‘‘۔
    5: ’’مَنْ حَجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ وَزَارَ قَبْرِي وَغَزَا غَزْوَةً وَصَلَّى فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ يَسْأَلْهُ اللَّهُ فِيمَا افْتَرَضَ عَلَيْهِ‘‘۔[ تذکرة الموضوعات للفتني ص73]’’جس نے حجِ اسلام کیا، اور میری قبر کی زیارت کی، اور ایک غزوہ میں شریک ہوا، اور بیت المقدس میں نماز پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کرے گا جنہیں اُس نے اُس پر فرض کیا تھا‘‘۔
    6: ’’مَنْ زَارَ قَبْرَ رَسُولِ اللَّهِ كَانَ فِي جِوَارِهِ‘‘۔[ نیل الأوطار 180/5] ’’جس نے رسول اللہ ﷺ کی قبر کی زیارت کی، وہ (قیامت میں) ان کے پڑوس میں ہوگا‘‘۔
    تردید: یہ تمام روایات ضعیف ہیں ۔
    پہلی حدیث کی سند میں ’’عن رجل من آل حاطب عن حاطب‘‘ رجل مجہول ہے ۔
    دوسری حدیث کی سند میں’’موسی بن هلال العبدی‘‘ مجہول راوی ہے ۔
    تیسری حدیث کی سند میں’’نعمان بن شبل‘‘ ضعیف جدا ہے ۔
    چوتھی حدیث کی سند میں’’سلیمان بن زید الکعبی‘‘ ضعیف راوی ہے ۔
    پانچویں حدیث کی سند میں’’ابی الفتح الأزدي‘‘ ضعیف راوی ہے۔
    چھٹی حدیث کی سند میں’’عبدالملك بن هارون بن عنبرة‘‘ ضعيف راوی ہے۔
    اس طرح سے اس سلسلے میں جتنی روایات ہیں تمام کی سند میں مقال ہے ۔
    حافظ ابن حجررحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں جو روایت صحیح ہے، جسے احمد اور ابوداؤد نے ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے:’’وَمَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَىَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ‘‘۔[سنن أبي داؤد2041] ’’جو شخص بھی مجھے سلام کہتا ہے تو اللہ مجھ پر میری روح لوٹا دیتا ہے اور میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں‘‘۔
    علامہ بیہقی نے اس کے ذریعہ سے باب باندھا ہے، لیکن اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جو قبر پر آکر سلام کر نے پر دلالت کرے، بلکہ ظاہر اس سے عام ہے ۔
    4: علامہ شوکانی کے بقول بعض حنابلہ کا مذہب یہ ہے کہ قبر نبوی کی زیارت غیر مشروع ہے ۔ (جبکہ یہ بات درست نہیں ہے ان لوگوں نے زیارت قبر رسول کے لیے سفر کو غیر مشروع کہا ہے۔ اگر زیارت بغیر سفر کے ہو تو کسی نے اس کو غیر مشروع نہیں کہا ہے)۔
    دلیل: ’’لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ‘‘۔’’ تین مساجدکے سواکسی اورجگہ کے لیے سفر نہ کیا جائے‘‘۔ [ابن ماجه 1410، جامع الترمذي 326صحيح]
    اور’’ لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا‘‘۔’’ میری قبر کو عید ( میلہ گاہ ) نہ بناؤ‘‘۔ [ابوداؤد 2042، مسند أحمد 8804، مصنف عبد الرزاق 6726صحيح]
    جاری…..

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings