[contacts]
  • کتب ستّہ سے ہم کیسےمستفید ہوں؟ (قسط رابع)

    (لکچر از شیخ :عبد المحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ ، یہ لیکچر انہوں نےجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پیش کیا تھا۔)
    ترجمہ: صہیب حسن بن فضل حق مدنی مبارکپوری ؍ لکچرر جامعۃ الہند الاسلامیہ منی اولی مالاپورم کیرالام
    (۶) سنن ابن ماجہ:
    مشہور قول کے مطابق سنن ابن ماجہ (حدیث کی) ان چھ کتابوںمیں چھٹی کتاب ہے ۔ ان میں مقام و مرتبہ کے لحاظ سے یہ سب سے کم درجہ پر ہے ، حافظ ابن حجر ’’تهذيب التهذيب ‘‘میں ابن ماجہ کے ترجمہ میں کہتے ہیں : ’’سنن میں ان کی کتاب جامع ، عمدہ اور ابواب و غرائب کی کثرت والی ہے، اس میں ضعیف حدیثیں بہت ہیں ۔ یہاں تک کہ سدی کہا کرتے تھے : کتاب کی جس خبر میں وہ منفرد ہیں عموماً وہ ضعیف ہے ، حالانکہ میرے اپنے استقراء و تتبع کے مطابق یہ بات علی الاطلاق نہیں ہوسکتی ، اور عموماً اس میں بہت سی حدیثیں منکر ہیں ۔ والله المستعان
    سنن ابن ماجہ پانچوں کتابوں پر اپنی کثرت زوائد کی وجہ سے چھ کی چھٹی اعتبار کی گئی ہے اور کہا گیا کہ مؤطا اپنے علو اسناد کی وجہ سے چھ کی چھٹی ہے اور (یہ بھی) کہا گیا کہ چھٹے نمبر پر سنن الدارمی ہے ۔
    سنن ابن ماجہ کی سب سے عمدہ طباعت وہ ہے جو شیخ محمد فواد عبد الباقی کی اعتنا ء سے منظر عام پر آئی جس میں ان کی نمبرنگ کے مطابق حدیثوں کی تعداد چار ہزار تین سو اکتالیس (4341)ہے اس کی کتابوں کی تعدادسینتیس (37) ہے ۔
    شیخ محمد فواد عبد الباقی نے سنن ابن ماجہ کے آخر میں اپنی ایک تحریر میں یہ کہا ہے کہ پانچوں کتابوں پر اس کی زائد حدیثوں کی تعداد تیرہ سو انتالیس (1339)تک پہنچتی ہے ۔
    سنن ابن ماجہ میں پانچ حدیثوں کی سندیں ثلاثی ہیں ، یہ سب کی سب جبارۃ بن المغلس کی سند سے بواسطہ کثیر بن سلیم بواسطہ انس رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ان میں سے تین (3356)(3310)کتاب الأطعمه میں ہیں ۔ اور ایک (4222)کتاب الزهد میں اور ایک (3479)کتاب الطب میں ہے ۔یہ پانچوں حدیثیں پانچوں کتابوں پر سنن ابن ماجہ کی زوائد میں سے ہیں۔
    شیخ احمد بن ابی بکر البوصیری متوفی (840ھ)نے کتاب ’’مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه ‘‘ تالیف کی ،بعض طبعات میں اس کی حدیثیں (1552)تک پہنچتی ہیں ۔
    اِن چھ کتابوں کےاطراف و رجال کو علماء کی توجہ حاصل رہی، ان کے اطراف کے بیان میں سے بہترین تالیف ابو الحجاج المزی کی ’’تحفة الاشراف بمعرفة الاطراف ‘‘ہے ،اسے انہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے اسماءپر مرتب کیا ہے ، ہر صحابی کے ذکر کے وقت علی الترتیب ان تابعین کے اسماء کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے ان صحابی سے روایت کیا ہے ، پھر ائمہ اصحاب کتب ستہ سے تابعین تک سندوں کا ذکر کرتے ہیں ،یہ عظیم کتاب اسانید کے تعلق سے کتب ستہ کے دیگر نسخوں کے مقابل و مساوی سمجھی جاتی ہے۔
    سب سے بہترین کتاب جو نہ صرف کتب ستہ کے رجال بلکہ اصحاب کتب ستہ کی مؤلفات کے رجال کی بابت تالیف کی گئی وہ ابو الحجاج المزی کی’’تهذیب الکمال فی أسماء الرجال‘‘ہے ،یہ کتاب کتب ستہ کے اسماء رجال اور اصحاب کتب ستہ کی دیگر مؤلفات کے اسماء رجال پر مشتمل ہے ۔ مثلاً امام بخاری کی ’’الادب المفرد،جزء القرأۃ خلف الامام اور خلق أفعال العباد‘‘، وغیرہ کے اسماء رجال اس میں مذکور ہیں۔
    رہی وہ کتاب جس میں صرف کتب ستہ کے رجال مذکور ہیں وہ ذہبی کی’’الکاشف‘‘ ہے۔
    حافظ ابو الحجاج المزی نے ہر راوی کے ترجمہ کے وقت ان کے شیوخ و تلامیذ کو حروف ھجاء کی ترتیب پر ذکر کیا ہے ، اور راوی کے ترجمہ کے اخیر میں ائمہ ستہ میں سے ان لوگوں کے اسماء لے آئے ہیں جنہوں نے اپنی کتابوں میں اس کی حدیثوں کو ذکر کیا ہے ۔ ترجمہ کے شروع میں ائمہ ستہ میں سے جس کے لیے جس حرف کا رمز ہے اسے ذکر کرتے ہیں ۔
    حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب’’تهذيب التهذيب ‘‘میں اس کتاب کی تہذیب کی ہے ، چنانچہ ہر راوی کے ترجمہ میں وہ اس کے بعض شیوخ و تلامذہ اور مزی کے ذکر کردہ اس کے متعلق کہے گئے اقوال کو ذکر کرتے ہیں ، پھر (قُلتُ) کے ذریعہ کچھ دیگر اضافوں کے ساتھ ترجمہ کو ختم کرتے ہیں ۔ جس وقت طالب علم’’تهذيب التهذيب‘‘ کے اندر راوی کے ترجمہ اور اس کے مشمولاتِ جرح و تعدیل میں غور و فکر کرتا ہے تو اس وقت یہ سوال کرتا ہے کہ راوی پر حکم لگانے میں حافظ ابن حجر کس نتیجہ پر پہنچے ہیں ؟ اس سوال کا جواب حافظ ابن حجر کی کتاب’’تقریب التهذیب‘‘ میں موجود ہے ، وہ راوی کے بارے میں ثقہ یا صدوق یا ضعیف وغیرہ کہتے ہیں ۔ ذہبی نے اپنی کتاب’’ تذهیب تھذیب الکمال‘‘میں مزی کی کتاب ” تھذیب الکمال‘‘کی تہذیب کی ہے، اور خزرجی نے ’’خلاصۃ تذهیب تھذیب الکمال‘‘ میں ذہبی کی کتاب کی تلخیص کی ہے ۔
    ’’تقریب‘‘اور’’خلاصۃ‘‘کے درمیان فرق یہ ہے کہ حافظ ابن حجر’’تقریب‘‘میں راوی کے متعلق اپنی رائے ثبت کرتے اور اس کا طبقہ ذکر کرتے ہیں ، اور خزرجی ’’خلاصۃ‘‘ میں راوی کے بعض شیوخ و بعض تلامیذ اور بعض ان باتوں کا جو جرح یا تعدیل کے اعتبار سے اس پر حکم لگانے میں کہی گئی ہیں ذکر کرتے ہیں ۔ صحابی کے ذکر کے وقت کتب ستہ میں ان سے مروی احادیث کی تعداد ذکر کرتے ہیں، ان احادیث میں جتنی متفق علیہ ہیں اور جتنی کے ساتھ بخاری و مسلم میں سے ہر ایک منفرد ہیں ان کی بھی وضاحت کرتے ہیں ۔
    مزی کی’’ تھذیب الکمال‘‘ اور اس سے متفرع ہونے والی کتابوں میں ان رواۃ کا بھی ذکر ہے جن کی اصحاب کتب ستہ کے یہاں کوئی روایت نہیں ، انہیں اس لیے ذکر کیا گیا تاکہ ان کی تمیز اپنے ماقبل مذکور ان رواۃ سے ہو سکے جن کی اصحاب کتب ستہ کے یہاں کوئی روایت ہے ، جن رواۃ کی اصحاب کتب ستہ کے یہاں کوئی روایت نہیں ہے ان کے لیے ان کتابوں میں ترجمہ کے وقت کلمہ ٔ (تمییز) کا رمز ہے ۔
    جیسے کثیر بن ابی کثیر کے ترجمہ میں پانچ رواۃ ہیں ، پہلے سے ابوداؤد ،ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے تغیر میں روایت کیا ہے اور دوسرے سے بخاری نے الادب المفر د میں اور بقیہ تین راویوں کی کوئی روایت نہیں ،ان کا ذکر انہیں اپنے ماقبل کے دونوں راویوں سے تمییز کرنے کے لیے کیا گیا ہے ۔
    ابو نصرالکلاباذی نے صحیح بخاری کے رجال کو خاص تالیف میں جمع کیا ہے ، ابو بکر بن منجویہ الاصبحانی نے صحیح مسلم کے رجال کو خاص تالیف میں جمع کیا ہے ، حافظ ابو الفضل محمد بن طاہر المقدسی المعروف بابن القیسرانی نے دونوں کتابوں کو جمع کیا ہے جس کا نام’’الجمع بین رجال الصحیحین‘‘ ہے ،یہ سب کی سب مطبوع ہیں ، ابن القیسرانی کی کتاب مختصر ہے ، ان کا طریقۂ تالیف یہ ہے کہ جب وہ کسی ایک نام جیسے احمد نام کے تحت تراجم ذکرکرتے ہیں تو وہ بخاری و مسلم کے یہاں احمد نام والے کا ذکر کرتے ہیں پھر بخاری کے یہاں اس نام کے راوی پھر مسلم کے یہاں اس نام کے راوی کا ذکر کرتے ہیں ، اس کتاب کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ راوی جب کم روایت والا ہوتا ہے تو مؤلف صحیحین یا ان دونوں میں سے کسی ایک میں مروی ان حدیثوں کے مقامات کو کتاب کی صراحب کے ساتھ ذکر کرتے ہیں ۔
    شیخ یحییٰ بن ابی بکر العامری الیمنی نے ان صحابہ کے متعلق ایک کتاب تالیف کی جن کی روایت صحیحین یا ان میں سے کسی ایک میں ہے ، اِس کتاب کا نام انہو ںنے ’’الریاض المستطابۃ فی جملۃ من روی فی الصحیحین من الصحابۃ‘‘ رکھا ہے ،یہ کتاب بڑی نفع بخش ہے ۔
    یہاں یہ بات ذکر کرنا مناسب ہے کہ حافظ ذہبی کی ایک کتاب جس کا نام ’’میزان الاعتدال فی نقد الرجال‘‘ ہے ،’’تھذیب الکمال‘‘ اور اس سے متفرع ہونےوالی کتابوں میں مذکور رجال کے تراجم پر مشتمل ہے،کچھ دیگر تراجم رجال بھی اس میں آگئے ہیں ، کتاب میں علی بن المدینی اور عبد الرحمٰن بن ابی حاتم جیسے ثقات کا ذکر ان پر نقد کے بجائے ان کے دفاع کے لیے کیا ہے۔
    حافظ ابن حجر کی ایک بڑی کتاب جس کا نام انہوں نے’’لسان المیزان‘‘رکھا ہے ،اس کتاب کی بناءانہوں نے ذہبی کی کتاب’’المیزان‘‘ (مذکور) پر رکھی ہے اور اس پر بہت سارے اضافے کیے ہیں ، کتاب کو انہوں نے ان رجال کے تراجم پر مقصود و محدود کردیاہے جن کا ذکر’’ تھذیب الکمال‘‘ اور اس سے متفرع ہونے والی کتابوں میں نہیں ہے ۔ یہ کتاب اصحاب کتب ستہ کے رجال پر دیگررجال کا اضافہ سمجھی جاتی ہے۔
    ابو السعادات ابن الاثیر نے اپنی کتاب ’’جامع الاصول‘‘ میں کتب ستہ کے متون کو جن کا متن (ابن ماجہ کے بجائے ) مؤطا ہے ، جمع کیا ہے۔ یہ کتاب مطبوع و متداول ہے ، رزین العبدری نے اپنی کتاب’’التحدید للصحاح والسنن‘‘میں اس کی تہذیب کی ہے ۔ ہر حدیث کے پاس ائمہ ستہ میں سے اس کی تخریج کرنے والوں کے لیے رمزقائم کیا ہے ، اس میں کتب ستہ سے زائد احادیث ہیں ، یہ زیادات رزین کی ہیں ،’’جامع الأصول‘‘ میں ان زیادات کی علامت ان کے سامنے کسی رمز کا نہ ہونا ہے ۔
    ابن الاثیر نے اپنی کتاب جامع الاصول کی کتابوں کو حروف ھجاء پر مرتب کیا ہے ، چنانچہ وہ ہر کتاب میں اس کے موضوع سے متعلقات کو ذکر کرتے ہیں ۔
    جب طالب علم کو کتب ستہ میں کسی حدیث کی معرفت مطلوب ہو دراں حالیکہ وہ اس کا متن جانتا ہو تو اسے اس کی تلاش و جستجو اس کے گمان کی جگہ میں یعنی ان کتابوں میں کرنا چاہیے جن پر کتب ستہ مشتمل ہے ۔ مثلاً جب حدیث ایمان سے متعلق ہو تو اس کی تلاش صحیحین اور سنن کے کتاب الایمان میں کرے ۔ اور جب حدیث کی روایت کرنے والے صحابی کا نام معلوم ہو تو حافظ مزی کی’’تحفۃ الاشراف‘‘ کی طرف رجوع کرے کیونکہ کتب ستہ میں حدیث کے مقامات کو وہ بیان کرتے ہیں ، یا وہ شیخ عبد الغنی النابلسی کی کتاب’’ذخائر المواریث فی الدلالة علی مواضع الحدیث ‘‘ کی طرف رجوع کرے کیونکہ وہ طرف حدیث کے ذکر کے ساتھ ساتھ اصحاب کتب ستہ میں سے حدیث کے مخرجین ذکر کرتے ہیں ،نیز مؤطا میں اس حدیث کے مخرج امام مالک کا ذکر ان کے اس حدیث کے شیخ کے ساتھ کرتے ہیں ۔
    کتب ستہ میں حدیث کے مقامات کی طرف رہنمائی اس کے بعض مخصوص کلمات کی معرفت کے ذریعہ ممکن ہے ، اس کے لیے کتاب ’’المعجم المفھرس لألفاظ الحدیث النبوی‘‘ کی طرف رجوع کرنا ہوگا ، یہ کتاب کتب ستہ، مؤطا ،سنن دارمی اور مسند احمد پر مبنی ہے ، طالب علم معجم میں کلمہ کو تلاش کرے گا، اگر اس کلمہ کی حدیث ان کتابوں میں ہوگی تو ان میں اس کی جگہ کا پتہ حاصل ہوجائےگا ۔
    یہ معجم کتاب کا نام اور باب کا نمبر ذکرکرتی ہے ، البتہ صحیح مسلم اور مؤطا مالک (ان کتابوں کی) کی کتاب کا نام اور اس (کتاب) میں حدیث کا جو نمبر ہے وہ درج کرتی ہے۔اور مسند احمد کی چھ اجزاء والی طباعت کے جزء اور صفحہ کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
    اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم سب کو اپنی رضا کے کاموں کی توفیق دے ، اور ہمیں علم نافع کی تحصیل اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ، بیشک وہ پاک و بلند اور سخی و کریم ہے ، اور اللہ تعالیٰ کا درود و سلام اور اس کی برکتیں اس کے بندے اور رسول محمد ﷺ اور ان کی تمام آل و اولاد اور ان کے تمام اصحاب پر نازل ہوں۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings