-
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ-جامع المسائل قسط :(26) جامع المسائل کی دوسری اور تیسری جلد کا تعارف پیش خدمت ہے ،دوسری اور تیسری جلد کے محقق علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ ہیں۔دوسری جلد میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے کل تین رسائل شامل ہیں ۔
1 –فتوى في الغوث والقطب والأبدال والأوتاد. اس میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے غوث ،قطب ، ابدال اور جھوٹی روایات کے سہارے ان سے متعلق بہت ساری بے بنیاد باتوں کی قلعی کھول کرکے رکھ دی ہے ، یہ لوگ جوان میں سے ہر ایک کی تعداد بیان کرتے ہیں وہ بھی بے سرو پیر کی باتیں ہیں ،غوث،قطب ،ابدال کا تصور متاخرین کے یہاں سے شروع کرتاہے ،جو لوگ شرعی تعلیمات سے دور تھے ،یہ لوگ انہیں الٰہی اختیارات کی صفت سےبھی بعض چیزوں میں متصف مانتے ہیں ،حقیقی ولی کون ہے ؟ اس کی صفات کیا ہیں ؟وہ تمام باتیں اس رسالے کے اندر موجود ہیں۔
2 – قاعدة في الاستحسان. شیخ الاسلام نے حسب عادت اس رسالہ کا کوئی مستقل عنوان نہیں بیان کیا ہے، قدیم مخطوطات میں اس کا ذکر بھی نہیں ملتا ہے، بعض جگہوں پر ’’فی الاستحسان والقیاس ‘‘ بھی نام ملتا ہے۔لیکن یہ نام کتاب میں موجود مباحث سے میل نہیں کھارہا ہے،بلکہ استحسان ہی سے متعلق مستقل مباحث اس میں موجود ہیں۔اس رسالہ کو ترتیب دیتے وقت شیخ الاسلام نے خصوصی طور پر ابو یعلیٰ کی کتاب’’عدہ‘‘کو سامنے رکھاہے۔شیخ الاسلام نے اس رسالہ کے اندر استحسان کا معنیٰ ، استحسان کے تعلق سے علماء کے اختلافات بیان کی ہیں ،اس کےعلاوہ بہت ساری مفید باتیں ایسی بھی اس میں ملیں گی کہ جس پر پہلے کسی نے بھی گفتگو نہیں کی ہے۔ یہ رسالہ الگ سےبھی شائع ہوا ہے۔
3 – قاعدة في شمول النصوص للأحكام:ابن رشیق ، ابن عبد الہادی ،صفدی ، ابن شاکر الکتبی وغیرہم نے اس کتاب کانام’’قاعدۃ فی شمول النصوص لاحکام‘‘ ذکر کیا ہے۔شیخ الاسلام نے اس کتاب کی طرف اپنی دوسری کتاب قاعدۃ فی الاستحسان میں احالہ بھی کیا ہے۔شریعت کے نصوص سارے احکام کو محیط ہیں ، اور یہ نصوص قیاس صحیح کے بھی موافق ہیں ۔
تیسری جلد میں کل 28 رسائل اورفتاویٰ موجود ہیں۔تیسری جلد میں موجود اکثر رسائل و فتاویٰ ایسے ہیں کہ جن کا نام ہمیں شیخ الاسلام سے منقول نہیں ملتا ہے،اور اس کی دو بنیادی وجہیں ہیں :ایک تو یہ کہ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے اپنی اکثر مؤلفات و رسا ئل و فتاویٰ کا کوئی مستقل نام نہیں ذکر کیا ہے ،جیسا کہ بعد کے مؤلفین کے یہاں کتابوں کے نام رکھنے کا اہتمام ملتا ہے،وہ سیدھے مسئلہ پر گفتگو شروع کرتے ہیں ، طریقہ ان کا یہ ہوتا ہے کہ وہ لکھتے ہیں :فصل فی ۔۔۔۔۔ قاعدہ فی ۔۔۔۔ وغیرہ۔دوسری وجہ یہ کہ ان کے فتاویٰ و تحریریں اس قدر ہیں جن کا احصاء خود ان کے تلامذہ تک نہ کرسکے ۔ان تمام رسائل وفتاویٰ کے تعلق سے کسی قدر تفصیل سے علامہ عزیر شمس رحمہ اللہ نے تیسری جلد میں بحث کی ہے۔اور بعض مخطوطات کی تصویر بھی انہوں نے لگائی ہے۔ تیسری جلد میں مطبوع رسائل و فتاویٰ :
1- فصلٌ في الفرق بين ما أمر الله تعالى به ورسولُه من إخلاصِ الدين لله وشريعتهِ، وبين ما نهى عنه من الإشراك والبدع في زيارة القبور ونحو ذلك:اس کے اندر شیخ الاسلام نے شرک ،بدعات اور زیارت قبو ر سے متعلق باتیں ذکر کی ہیں ، مثلاً مؤمنین کے قبر وںکی زیارت، مشرکین کے قبروں کی زیارت ، معصیت والی نذر کو پورا کرنا ضروری نہیں ہے ، قبر پر مسجد تعمیر کرنا،قبر پرسجدہ کرنا شرک ہے و غیرہ ۔
2- فصل في حقّ الله وحقّ عبادته وتوحيده:اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے اس سے متعلق وارد حدیث کی شرح، انما ذالکم الشیطان یخوف اولیاءکے متعلق مفسرین کے اقوال اور قو ل راجح وغیرہ۔
3- رسالة إلى المنسوبين إلى التشيع وغيرهم في العراق ومشهد المنتظر: تفریق کی مذمت اور متحدرہنے کی تعریف ، ایمان کے وہ اصول جن پر قائم رہنا اور مضبوطی سے پکڑے رہنا ضروری ہے۔ اہل بیت سے محبت واجب ہے، آل محمد کے لیے صدقہ حرام ہے، اہل جمل اور خوارج کے تعلق سے علی رضی اللہ عنہ کے قول کی وضاحت، بہت سارے لوگوں کی گمراہی کا سبب علیرضی اللہ عنہ کے تعلق سے غلو ہے ،وغیرہ ۔
4- مسألة في قصد المشاهد المبنية على القبور للصلاة عندها والنذر لها وقراءة القرآن وغير ذلك:مشاہد و مقابر پر کئے جانے والے اعمال جیسے وہاں نماز یا تبرک کی نیت سے جانا،قبر کے ارد گرد بیٹھنا اور بدعات انجام دینا ،مشرکین کے لیے استغفار جائز نہیں ہے،نذ ر سے اصلاً منع کیا گیا ہےوغیرہ۔
5- فتوى فيمن يُعظِّم المشايخ ويستغيث بهم ويزور قبورَهم:مصیبت کے اوقات میں میت سے دعا کرنے والے گمراہ ہیں ،شرک کے مرتکب ہیں۔زندے سے جس چیز پر وہ قدرت رکھتا ہو وہ اس سے طلب کرنا جائز ہے۔قبر کے پاس جمع ہوکرکے قرآن پڑھنا ،ذکر و اذکار کا اہتمام کرنا ،دعا کرنا یہ سب بدعات میں شمارکئے جاتے ہیں۔
6- مسألة في تأويل الآيات وإمرار أحاديث الصفات كما جاءت: اس کےاندر انہوں نے اصل میں معیت والی آیات جو تاویل کرتے ہیں اس کی وضاحت اور صفات سے متعلق وارد احادیث پر گفتگو کی ہے۔
7- مسألة فيمن قال: إن نسبة البارئ تعالى إلى العلوّ من جميع الجهات المخلوقة۔
8- مسألة في العلوّ۔
9- قاعدة شريفة في الرضا الشرعي وما يحبّه الله من الرضا، وبيان أن الله لا يرضى بالكفر ولا يحبُّه ولا يشرعه، ولا يرضى بالمعاصي ولا يحبُّها ولا يُثيب فاعلها۔
10- فصل الأقوال نوعان–
11- فصل الأقوال نوعان۔
12- مسألة فيمن قال: إن عليًّا أشجعُ من أبي بكر-تمام سلف کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہلوگوں میں سب سے زیادہ جانکار اور بہادرتھے ، جو لوگ علی رضی اللہ عنہ کو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر بہادری کے باب میں یا ویسے ہی فوقیت دیتے ہیں ، ان پر ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے رد کیا ہے۔یہ رسالہ مختصر ہونے کےباوجود بے انتہا مفید ہے۔
13- تفسير أول سورة العنكبوت: اس رسالہ کی بنیادی باتیں ’’اللہ ر ب العزت کی یہ سنت رہی ہے کہ اس نے انبیاء کو لوگوں کی طرف مبعوث کیا ہے، اس دنیا میں ہر نفس کو تکلیف کے راستے سے گزرنا ہے۔
14- مسألة في قوله تعالى: (وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ … )–
15- قاعدة حسنة في الباقيات الصالحات وبيان اقتران التهليل بالتكبير والتسبيح بالتحميد–
16- مسألة في إخوة يوسف هل كانوا أنبياء؟-قرآن ، لغت وغیرہ سے یہ بات صاف طور پرمعلوم ہوتی ہے کہ وہ سب نبی نہیں تھے ۔
17- فتوى في قراءة القرآن بما يخرجه عن استقامته-18- رسالة في قوله صلى الله عليه وسلم:’’إذا دَخَل أحدكم على أخيه المسلم فأطعَمه طعامًا فليأكل من طعامه ولا يسأل عنه‘‘-19- جواب سؤال سائلٍ سألَ عن حرف’’لو‘‘-20- فصل في مؤاخذة ابن حزم في الإجماع-21- رسالة في بيان الصلاة وما تألَّفتْ منه-22- فتوى في أمر الكنائس-23- مسألة فيمن يسمِّي الخميس عيدًا-24- فصل في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر-25- مسألة في تلاوة القرآن والذكر، أيهما أفضل-26- فتوى في السماع-27- مسألة في رجلٍ شتَم شريفًا-28- قاعدة في حضانة الولد۔
جامع المسائل کی دوسری جلد اور تیسری جلد سے فوائد علمیہ :
1-مومن اور مشرک دونوں کے قبر کی زیارت جائزہے ، بس یہ بات ملحوظ رکھنی ہے کہ مشرک کے قبر کی زیارت آخرت کی یاد دہانی کے لیے ہونی چاہیے نہ کہ اس کے لیے استغفار وغیرہ ، اور مومن کے قبر کی زیارت آخرت کی یاددہانی کے ساتھ ساتھ اس کے لیے استغفار بھی ہونی چاہیے۔جیسا کہ ایک صحیح حدیث ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي ‘‘۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کے استغفار کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی اور میں نے اس سے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی‘‘۔
[صحيح مسلم:كتاب الجنائز،حدیث: 2258]
2-خانۂ کعبہ کے چاروں اراکین میں سے صرف دونوں رکن یمانی کو استلام نبی ﷺکیا کرتے تھے ، کیونکہ یہ دونوں قواعد ابراہیم پر ہی تعمیر کئے گئے تھے ،جبکہ باقی دونوں رکن کو استلام نبی ﷺ نہیں کرتے تھے اس لیے ان دونوں کو استلام کرنا ہمارے لیے بھی جائز نہیں ہے ۔
3-’’يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا۔وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا۔ (سورة الأحزاب: 28 – 29). قد روى الإمام أحمد والترمذي وغيرهما عن أم سلمةَ أن هذه الآيةَ لما نزلتْ أدارَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم كِسَاءَه على علي وفاطمةَ والحسنِ والحسينِ رضي الله عنهم، فقال:’’اللهمَّ هؤلاء أهلُ بيتي، فأَذْهِبْ عنهم الرِّجْسَ وطَهِّرْهم تطهيرًا‘‘.
[أخرجه الترمذي:3205، 3787]
اوپر موجود حدیث سے اہل بیت کو صرف پانچ لوگوں میں مقید کرنا درست نہیں ہے، اس آیت کا سیاق بتا رہا ہےکہ خطاب امہات المؤمنین سے ہے ، اور یہ اہل بیت میں شامل ہیں جیسا کہ قرآن اس بات پر دلالت کرتا ہے۔ شیخ الاسلام نے اس بات کو مزید دلائل کی روشنی میں واضح کیا ہے۔
4-’’سيكون خلافة نبوة ورحمة، ثم يكون ملك ورحمة، ثم يكون ملك وجبرية، ثم يكون ملك عضوض‘‘ … [سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها:1/ 823] معاویہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے بادشاہ ہیں ۔
5-وقد ثبت عن أمير المؤمنين علي رضي الله عنه من وجوهٍ أنه لمّا قاتَلَ أهلَ الجمل لم يَسْبِ لهم ذُرّيّةً، ولم يَغْنَم لهم مالًا، ولا أَجْهَزَ على جَريح، ولا اتبعَ مدبرًا، ولا قَتلَ أسيرًا، وأنه صلَّى على قتلَى الطائفتين بالجمل وصفين، وقال: ’’إخوانُنا بَغَوا علينا‘‘، وأخبَر أنهم ليسوا بكفَّار ولا منافقين، واتَّبعَ فيما قالَه كتابَ الله وسنةَ نبيِّه صلى الله عليه وسلم، فإنّ الله سماهم إخوةً، وجعلَهم مؤمنين في الاقتتال والبغي، كما ذكر في قوله: (وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا) سورة الحجرات: 9.
6-’’تَمرقُ مارقةُ على حينِ فُرقةٍ من المسلمين ۔۔۔۔۔الحدیث‘‘۔
[أخرجه مسلم: 1065،عن أبي سعيد الخدري]
حدیث میں مارقہ سے مراد اہل حروراء ہیں ، جنہوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہاور ان کے اصحاب کو قتل کیا ، ان کے خلاف خروج کو مباح سمجھا اور ان کی اور سارے مسلمانوں کی تکفیر کی ،ان کے جان و مال پر حملہ کو جائز قرار دیا ، یاد رہے علی رضی اللہ عنہ نے جن مقتولین کی نماز جنازہ ادا کی اور انہیں اپنا بھائی قرارد یا وہ اہل جمل تھے اور جن کی نماز جنازہ نہیں اداکی وہ اہل حروراء تھے ۔
7-شہادت حسین کے تعلق سے اہل سنت کے موقف کو شیخ الاسلام نے بیان کیا ہے اور ان لوگوں پر رد کیا ہے جو اس دن نوحہ وماتم کرتے ہیں اور بہت ساری بدعات کے مرتکب ہوتے ہیں ۔
8-عاشوراء کے دن سرمہ لگانے کا اہتمام کرنا، غسل کرنااور مصافحہ کرنا وغیرہ یہ سب بدعات میں شمار ہوتے ہیں ، ان سے متعلق جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ درست نہیں ہے۔
9-زیارت قبو ر کی دو شکلیں نکلتی ہیں ، ایک شرعی زیارت جو کہ جائز ہے اور اس کا حکم بھی موجود ہے ،دوسری زیارت بدعی ہے جس میں انسان کئی طرح کی بدعات قبر پر جاکرکے کرتاہے، مثلا ًاسے چومنا یا بوسہ دینا ، سجدہ کرنا،بیٹھ کرکے قرآن پڑھنا ، وہاں کسی بھی شکل میں روشنی کرنا،اسے گھیر کرکے بیٹھے رہنا ، یا زیارت کا مقصد ضرورت کی تکمیل ہو وغیرہ۔یہاں تک کہ یہ تمام کام نبی ﷺ کی قبر کے تئیں بھی جائز نہیں تو دوسروں کی قبرکے تئیں بدرجۂ اولیٰ کیسے جائز ہوسکتے ہیں ۔
10-استحسان شرعی دلائل میں سے ہے یا نہیں ،اس تعلق سے تین طرح کے آراء پائے جاتے ہیں ،ان میں ایک رائے ان لوگوں کی ہے جو سرے سے اس کا انکار کرتے ہیں ،وہ داؤد ظاہری اور ان کے اصحاب ، معتزلہ ،شیعہ وغیرہ یہ لوگ قیاس کے بھی منکر ہیں ۔ دوسری رائے امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کی ہے جو قیاس پر استحسان کو مقدم کرتے ہیں ،ہاں جہاں استحسان موجود نہ ہووہاں قیاس درست ہے ۔تیسری رائے ان لوگوں کی ہے جو کبھی استحسان کی مذمت کرتے ہیں اور کبھی اسے قبول کرتے ہیں ،یہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل وغیرہ کی ہے ۔
11- قطب، ابدال اور صوفیانہ تصورات و خیالات کا وجود شروعات کی تین صدیوں میں کہیں ذرہ برابر بھی نہ تھا۔
12-معتزلہ او رخوارج یہ ایسی گمراہ جماعتیں ہیں جو مرتکب کبیرہ کے لیے شفاعت نبوی کا انکار کرتی ہیں ۔
جاری …..