[contacts]
  • اتباعِ رسول ذریعۂ نجات ہے

    عَنْ أَبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:’’إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ، جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، فَجَعَلَ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَقْتَحِمْنَ فِيهَا، فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا‘‘۔
    [صحيح البخاري:كتاب الرقاق،حدیث:6483]
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:’’کہ میری اور لوگوں کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے چاروں طرف روشنی ہو گئی تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے جو آگ پر گرتے ہیں اس میں گرنے لگے اور آگ جلانے والا انہیں اس میں سے نکالنے لگا لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آئے اور آگ میں گرتے رہے۔ اسی طرح میں تمہاری کمر پکڑ کر آگ سے تمہیں نکالتا ہوں اور تم ہو کہ اسی میں گرتے جاتے ہو‘‘۔
    راوی حدیث کا تعارف: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اصل نام راجح قول کے مطابق عبد الرحمٰن بن صخر الدوسی ہے، آپ اپنی کنیت سے زیادہ مشہور ہوئے، آپ کا تعلق یمن کے مشہور قبیلہ دوس سے تھا ۔ سن 7 ہجری میں آپ مشرف بہ اسلام ہوئے ، اور آپ ہی کے متعلق اللہ کے نبی ﷺنے دعا کی تھی:
    ’’اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هذا -يَعْنِي أَبا هُرَيْرَةَ- وَأُمَّهُ إلى عِبادِكَ المُؤْمِنِينَ، وَحَبِّبْ إلَيْهِمِ المُؤْمِنِينَ، فَما خُلِقَ مُؤْمِنٌ يَسْمَعُ بي وَلا يَرانِي إلّا أَحَبَّنِي‘‘۔
    ”اے اللہ! اپنے بندے یعنی ابوہریرہ اور ان کی ماں کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور مومنوں کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے‘‘۔
    حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں:’’پھر کوئی مومن ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے میرے بارے میں سنا یا مجھے دیکھا ہو اور میرے ساتھ محبت نہ کی ہو‘‘۔
    [صحيح مسلم:كتاب فضائل الصحابة،حدیث: 6396]

    آپ کے قبول اسلام کے بعد آپ کو صرف چار سال آپ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔ مگر اس مختصر سی مدت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان وہ مقام ملا کہ مکثرین صحابۂ کرام کی فہرست میںآپ کا نام سب سے پہلے آتا ہے، پانچ ہزار سے زائد آپ نے نبی کریم ﷺ سے احادیث نقل کی، روایت حدیث کی اس غیر معمولی خدمت کے بنیادی اسباب میں سے ایک اہم سبب یہ تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کے قوت حافظہ کے لیے دعا کی ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں آپ سے بہت باتیں سنتا ہوں، مگر بھول جاتا ہوں۔ آپ ﷺنے فرمایا: اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے اپنی چادر پھیلائی، آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کا چلو بنایا اور (میری چادر میں ڈال دی) فرمایا کہ (چادر کو) لپیٹ لو۔ میں نے چادر کو (اپنے بدن پر) لپیٹ لیا، پھر (اس کے بعد) میں کوئی چیز نہیں بھولا۔‘‘
    [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 119]

    آپ ﷺ کی اس دعا کااثر یہ رہا کہ اللہ نے آپ کو بے مثال قوت حافظہ کا مالک بنایا ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نہ صرف یہ کہ عظیم محدث تھے بلکہ فقیہ تھے، کبار صحابۂ کرام میں ٓپ کا شمار کیا جاتا تھا،امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب’’تذكرة الحفاظ‘‘ میں لکھا ہے:’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم کا ظرف تھے اور صاحب فتاویٰ ائمہ کی جماعت میں بلند پایہ مقام رکھتے تھے‘‘۔
    [تذكرة الحفاظ:1/33 ]

    آپ جب تک زندہ رہے دین کی تبلیغ اور سنت رسول ﷺ کی اشاعت و حفاظت میں لگے رہے، آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام مدینہ منورہ میں گزارے اور سن 58 ہجری میں 78 سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا اور آپ کو بقیع قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ۔( رضی اللہ عنہ وارضاہ )
    فوائد و مسائل:
    (1)ہدایت دینا اللہ کے اختیار میںہے، نبی جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتے ۔(2) حدیث میں مذکور مثال رسول اکرم ﷺ کا اپنی امت سے محبت ،شفقت، خیر خواہی اور امت کے تئیں آپ کی فکر مندی کی ایک عظیم مثال ہے۔( 3) گناہ، نفسانی خواہشات انسان کو بصیرت اور بصارت سے محروم کر دیتی ہے، جہنم میں لے جانے کا سبب بنتی ہے ۔(4) داعی کے اندر ان چند صفات کا ہونا لازمی اور ضروری ہے:
     لوگوں کو جنت کی خوشخبری کے ساتھ ساتھ جہنم اور اخروی عذاب سمیت دنیاوی عذاب سے ڈرانا بھی ضروری ہے۔ث لوگوں کی ہدایت کا فکر مند ہونا اور اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا۔ث لوگوں کے مزاج اور طبیعتوں کا خیال رکھتے ہوئے دین کی دعوت دینا۔ث لوگوں کی ہٹ دھرمی اور انکار سے مایوس نہ ہونا اور مسلسل کوشش کرتے رہنا۔ث اتباع رسول ذریعۂ نجات ہے۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings