Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • استقامت فی الدین کے نادر نمونے

    استقامت فی الدین یہ ہے کہ اللہ کے تمام احکام واوامر پر سیدھے جمے وڈٹے رہیں، اس سے ادھر ادھر راہِ فرار نہ اختیار کیا جائے بلکہ اس راہ میں جو مصائب ومشکلات ومسائل پیش آئیں ۔ مخالفتیں ہوں ستایا جائے اُس پر صبر کرلیا جائے اور حق سے منہ موڑنے کے بجائے اسی راستے پر ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھا جائے ، علامہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے استقامت کی تعریف یوں بیان کیا ہیں:
    ’’الإستقامة كلمة جامعة آخذة بمجامع الدين ،وهي القيام بين يدي اللّٰه علٰي حقيقة الصدق والوفاء ‘‘
    ’’لفظ استقامت ایک جامع کلمہ ہے جو دین کے تمام گوشے کو شامل ہے، یعنی صدق و وفا کے ساتھ اور صبر و شکیبائی کامظاہرہ کرتے ہوئے مکمل طور پر شریعت اسلامیہ پر عمل کیا جائے ‘‘
    [تہذیب مدارج السالکین: ۵۲۹]
    استقامت پر بہت ساری آیتیں موجود ہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا:
    {قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَي إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ }
    ’’آپ کہہ دیجئے میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں ،ہاں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک اللہ ہی ہے سو تم اس کی طرف متوجہ ہو جاؤاور اس سے گناہوں کی معافی چاہو‘‘
    [فصلت:۶]
    {فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ }’’پس آپ جمے رہیے جیسا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں ، خبردار تم حد سے نہ بڑھنا اللہ تمہارے تمام اعمال کا دیکھنے والا ہے ‘‘
    [ہود: ۱۱۲]
    {فَلِذٰلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَائَ هُمْ}’’پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا اس پر مضبوطی سے جم جائیںاور ان کی خواہشوں پر نہ چلیں‘‘[ الشوریٰ: ۱۵]
    ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے استقامت اختیار کرنے والوں کو بشارت دی اور کہا:
    {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ}
    ’’واقعی جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پرقائم رہے ، ان کے پاس فرشتے(یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ کیے گئے ہو ‘‘[فصلت: ۳۰]
    اس آیت کے سلسلے میں ابن جریر الطبری لکھتے ہیں کہ:
    ’’تلا عمر رضي اللّٰه عنه على المنبر (إن الذين قالوا ربنا اللّٰه ثم استقاموا) قال :استقاموا ، وللّٰه بطاعته ،ولم يروغوا روغان الثعلب ‘‘
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ منبر پر یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا رب تعالیٰ کی قسم استقامت اختیار کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوگئے ،اور لومڑیوں کی طرح اِدھر سے اُدھر دوڑتے نہ پھرئے۔[بحوالہ تفسیر الطبری]
    ایک صحابی(سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ ﷺسے کہا کہ مجھے ایسی بات بتلادیں کہ آپ کے بعد کسی سے مجھے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے آپ ﷺ نے فرمایا:
    ’’قُل:آمَنْتُ بِاللّٰهِ، فَاسْتَقِمْ‘‘
    ’’کہہ!میں اللہ پر ایمان لایا پھر استقامت اختیار کر ‘‘[صحیح مسلم:۳۸ ]
    بے نظیر عزیمت واستقامت کی چند مثالیں ۔
    واقعۂ اصحاب الاخدود ۔
    گزشتہ زمانے میں ایک بادشاہ تھا اس کا ایک کاہن تھا ، اس نے کہا مجھے ایک ذہین وفطین لڑکا دیجیے جسے میں اپنے مرنے سے پہلے اپنا علم سکھادوں ،بادشاہ نے ایک لڑکا چن کر اس کے پاس بھیج دیا وہ لڑکا اس کے پاس جانے لگا ، اس کے راستہ میں ایک گرجا تھا جس میں ایک راہب (عابد و زاہد) رہتا تھا ، لڑکا اس کے پاس بھی جانے لگا ، کچھ دنوں کے بعد راہب نے اسے بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے لڑکا اس کے پاس دیر تک رہنے لگا ، اور کاہن کے پاس جانے میں دیر کرنے لگا ،کاہن نے اس کے گھروالوں کو خبر بھیج دی کہ وہ دیر سے آیا کرتا ہے ، اور میرے پاس بہت کم وقت رکتا ہے ، جب لڑکے نے راہب کو یہ بات بتائی تو اس نے کہا :کاہن کو کہہ دیا کرو کہ گھر میں تھا اور گھر والوں سے کہہ دو کہ میں کاہن کے پاس تھا ،ایک دن اس نے دیکھا کہ ایک شیرنے لوگوں کی راہ روک رکھی ہے، اس نے ایک پتھر اٹھایا اور یہ کہ کر اسے مارا کہ اے اللہ ۔۔۔ اگر کاہن کی بات صحیح نہیں ہے تو تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میں اس شیر کو قتل کردوں۔ اور اگر کاہن کی بات صحیح ہے تو شیر اس پتھر سے نہ مرے ، چنانچہ شیر مرگیا، لوگوں نے یہ دیکھ کر لڑکے کے علم وعرفان کااعتراف کر لیا ،ایک اندھا اس لڑکے کے پاس آیا اور کہا کہ میری بصارت واپس آجائے گی تو میں تمہیں ایسا ایسا بدلہ دوں گا، لڑکے نے کہا :مجھے تم سے اس کا کوئی بدلہ نہیں چاہیے ، سوائے اس کے کہ تم اس اللہ پر ایمان لے آؤ جو تمہاری بصارت لوٹا دے گا ، اس نے کہا ٹھیک ہے ،لڑکے نے دعا کی اور اس کی بینائی واپس آگئی تو وہ اللہ پر ایمان لے آیا ، بادشاہ کو خبر ہوئی تو اس نے راہب ،سابق نابینا اور لڑکا تینوں کو اپنے دربار میں بلایا اور راہب اور سابق نابینا کو آرے سے دو ٹکڑے کردیا ،اور لڑکے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے اونچے پہاڑ سے نیچے گرادیا جائے ،جب لوگ اسے لے کر پہاڑ پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ایک ایک کرکے سبھی نیچے گر کر ہلاک ہوگئے اور لڑکا واپس آگیا ،بادشاہ نے دوبارہ حکم دیا کہ اسے سمندر میں ڈبو دیا جائے لوگ اسے لے کر سمندر میں گئے اللہ کاایسا کرنا ہوا کہ سب ڈوب گئے اور لڑکا بچ گیا ، تب اس نے بادشاہ سے کہا کہ تم مجھے ایک ہی صورت میں مار سکتے ہو کہ مجھ پر تیر چلاتے وقت ’’بسم اللہ ربّ ہذاالغلام‘‘کہو یعنی اس اللہ کے نام سے اسے مارنا چاہتا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے ۔ چنانچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا تو لڑکا مرگیا ، جب لوگوں نے دیکھا تو بیک آواز سب کہنے لگے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے، بادشاہ نے جب دیکھا کہ لوگ گروہ در گروہ ایمان لا رہے ہیں ، تو اس نے ایک آگ جلائی اور تمام لوگوں کو اس کے پاس جمع کیا ، اور ہر اس شخص کو اس میں ڈالنے لگا جو اپنے نئے دین سے نہیں پھرتا تھا،صہیب کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ’’قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ ‘‘سے’’الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ‘‘تک تلاوت کی اور کہا کہ ان آیتوں میں یہی واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔ بحوالہ[ تیسیر الرحمٰن لبیان القرآن :ص:۱۷۲۱]
    مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر جو مظالم وشدائد کیے ہیں ان کے ذکر سے روح کانپ اٹھتی ہیں، ان کے استقامت فی الدین اور ثبات علی الحق کے واقعات کو پڑھ کر ایمان کو تازگی وجلا ملتی ہیں ، علامہ قاضی سید سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ نے کہا کہ’’غرض ایسی وحشیانہ سزائیں دیتے تھے کہ صرف اسلام کی صداقت ہی ان کا مقابلہ کر سکتی تھی ، پہلی امتوں نے تو کھوٹے روپئے لے کر انبیاء کو گرفتار اور قتل تک کرا دیا تھا ‘‘۔ علامہ شبلی نعمانی نے لکھا ہے کہ’’بہر حال قریش نے جور وظلم کے عبرتناک کارنامے شروع کیے، جب ٹھیک دوپہر ہوجاتی تو وہ غریب مسلمانوں کو پکڑتے، عرب کی تیز دھوپ ریتیلی زمین کو دوپہر کے وقت جلتا توا بنا دیتی ہے، وہ ان غریبوں کو اسی توے پر لٹاتے ،چھاتی پر بھاری پتھر رکھ دیتے کہ کروٹ نہ بدلنے پائیں ،بدن پر گرم گرم بالو بچھاتے ، لوہے کو آگ پر گرم کرکے اس سے داغتے ،پانی میں ڈبکیاں دیتے ‘‘،یہ مصیبتیں اگرچہ تمام بے کس مسلمانوں پر عام تھیں لیکن ان میں جن لوگوں پر قریش زیادہ مہربان تھے ، ان کے نام یہ ہیں:
    حضرت خباب بن ارت تمیم کے قبیلہ سے تھے ،جاہلیت میں غلام بنا کر فروخت کردئیے گئے تھے ، ام انمار نے خرید لیا تھا، یہ اس زمانے میں اسلام لائے جب آنحضرت ﷺ حضرت ارقم کے گھر میں مقیم تھے ،اور صرف چھ سات شخص ہی اسلام لا ئے تھے ، قریش نے ان کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں ،ایک دن کوئلے جلا کر زمین پر بچھائے ، اس پر چت لٹایا، ایک شخص چھاتی پر پاؤں رکھے رہا کہ کروٹ نہ بدلنے پائیں ، یہاں تک کہ کوئلے پیٹھ کے نیچے پڑے پڑے ٹھنڈے ہوگئے ، خباب رضی اللہ عنہ نے مدتوں کے بعد جب یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا تو پیٹھ کھول کر دکھائی کہ برص کے داغ کی طرح بالکل سفید تھی ، حضرت خباب رضی اللہ عنہ جاہلیت میں لوہاری کا کام کرتے تھے ،اسلام لائے تو بعض لوگوں کے ذمہ ان کا بقایا تھا، مانگتے تو جواب ملتا جب تک محمد ﷺ کا انکار نہ کروگے ، ایک کوڑی نہ ملے گی یہ کہتے کہ ’’نہیں ، جب تک تم مر کر پھر جیو نہیں‘‘بحوالہ(سیرۃ النبی ﷺ:جلد اول: ص:۱۶۲)
    حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ امیہ بن خلف کے غلام تھے ، جب امیہ نے سنا کہ بلال مسلمان ہوگئے ہیں تو گوناگوں عذاب ان کے لیے ایجاد کیے گئے ، گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کے ہاتھ میں دی جاتی اور وہ مکہ کی پہاڑیوں میں انہیں لیے پھرتے ، اس کا نشان گردن میں نمایاں ہوجاتا، وادیٔ مکہ کی گرم ریت پر انہیں لٹا دیا جاتا اور گرم گرم پتھر ان کی چھاتی پر رکھ دیا جاتا، مشکیں باندھ کر لکڑیوں سے پیٹا جاتا ، دھوپ میں بٹھایا جاتا، بھوکا رکھا جاتا وغیرہ وغیرہ لیکن حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے استقامت کو دیکھیے کہ ان حالتوں میں بھی ’’أحد أحد ‘‘کا نعرہ لگاتے رہتے۔بحوالہ( رحمۃ للعالمین :جلد اول: ص:۱۵۵)
    حضرت عمار ،ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ مسلمان ہوگئے تھے، ابوجہل نے انہیں خوب مشقِ ستم بنایا اور اس قدر مظالم ڈھائے کہ یاسر ان کی تاب نہ لاکر راہیٔ ملک عدم ہوئے ، ان کی بیوی سمیہ رضی اللہ عنہا کو اس بدبخت نے شرمگاہ میں نیزہ مار کر ہلاک کردیا ، اسلام میں یہ پہلی شہیدہ ہیں جو اس بے دردی اور بے رحمی سے شہید کی گئیں ، رہے عمار رضی اللہ عنہ خود تو انہیں کبھی کڑکتی دوپہر میں پتھریلی زمین پر ننگا لٹا کر اوپر سُرخ اور وزنی پتھر رکھ دیا جاتا اور کبھی پانی میں غوطے دئے جاتے ، ایک دفعہ آپ کو ننگے بدن دوپہر کو پتھریلی زمین پر لٹا کر اذیتیں دی جارہی تھیں کہ ادھر سے رسول ﷺ کا گزر ہوا ، وہ ہستی جو سارے جہان کے لیے رحمت بن کر مبعوث ہوئی تھی یہ نظارہ دیکھ کر آپﷺکے دل پر جو بیتی ہوگی وہ اللہ ہی جانتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ آپ ﷺ صبر واستقامت کے عظیم پیکر بھی تھے پھر بھی آپﷺ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور انہیںدلاسا دیتے ہوئے فرمایا :
    ’’إصبروا آل ياسر فإن موعدكم الجنة‘‘
    ’’آل یاسر صبر پہ قائم رہنا ، تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے ‘‘
    حضرت ابو فکیہہ صفوان بن امیہ کے غلام تھے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام لائے ، امیہ کو جب معلوم ہوا تو ان کے پاؤں میں رسّی باندھی اور لوگوں سے کہا:اسے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں اور تپتی ہوئی زمین پر لٹا دیں ،ایک گبریلا راہ میں جارہا تھا ، امیہ نے ان سے کہا ،کیا یہی تو تیرا خدا نہیں؟ ابوفکیہہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ۔ میرا اور تمہارا دونوں کا خدا اللہ تعالیٰ ہے ، اس پر امیہ نے اس زور سے ان کا گلا گھونٹا کہ لوگ سمجھے کہ دم نکل گیا، ایک دفعہ ان کے سینے پر اتنا بھاری پتھر رکھ دیا کہ زبان باہر نکل آئی ۔بحوالہ( سیرۃ النبی :جلد اول:ص: ۱۳۴)
    اللہ تعالیٰ نے غزوۂ احزاب کے موقعہ پر صحابۂ کرام کی استقامت کا نقشہ کھینچتے ہوئے قرآن مقدس کے اندر فرمایا:
    {إِذْ جَاء ُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللّٰهِ الظُّنُونَا۔هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا}
    ’’جب کفار کی متحدہ فوجیں تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے چڑھ آئیں اور جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منھ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس وقت ایمان والے خوب آزمائے گئے اور بری طرح ہلا دیئے گئے‘‘ [الاحزاب:۱۰۔۱۱]
    {وَلَمَّا رَأَي الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا}
    ’’اور جب ایمان والوں نے کفارکی ان متحدہ فوجوں کو دیکھا تو بولے کہ یہ وہی ہے، جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺنے سچ ہی کہا تھا ،اور اس بات نے ان کے ایمان اور اطاعت میں اور اضافہ کیا ‘‘ [الاحزاب:۲۲]
    حضرات قارئین! امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو فتنۂ خلق قرآن میں کس طرح ستایا گیا اور آپ نے عزیمت واستقامت کا جو تاریخی نمونہ پیش کیا ہے آج بھی کتب سیر وتاریخ میں پڑھ کر طبیعت ہل جاتی ہے، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو معتصم کے سامنے ۲۸کوڑئے لگائے گئے ،ایک تازہ جلاد صرف دو کوڑئے لگاتا تھا ، پھر دوسرا جلاد بلایا جاتا تھا، امام احمد ہر کوڑے پر فرماتے تھے،’’ أعطونی شئیا من کتاب اللّٰہ أو سنۃ رسولہ حتی أقول بہ ‘‘، امام احمد نے ۲۸مہینے حبس میں گزارے ، محمد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ احمد کو ایسے کوڑے لگائے گئے کہ اگر ایک کوڑا ہاتھی پر پڑتا تو چیخ مار کر بھاگتا، امام احمد کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ انتقال کے وقت میرے والد کے جسم پر ضرب کے نشان تھے ، ابوالعباس الرقی کہتے ہیں کہ احمد جب رقہ میں محبوس تھے، تو لوگوں نے ان کو سمجھانا چاہا اور اپنے بچاؤ کرنے کی حدیثیں سنائیں ،انہوں نے فرمایا کہ خباب کی حدیث کا کیا جواب ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ پہلے بعض لوگ ایسے تھے جن کے سر پر آرا رکھ کر چلادیا جاتا تھا پھر بھی وہ اپنے دین سے ہٹتے نہیں تھے۔بحوالہ:( تاریخ دعوت وعزیمت :جلد اول: ص:۱۰۹)
    امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے ’’لتكون كلمة اللّٰه هي العلياء‘‘ کی خاطر جن تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کیا ہے ، ان کے مطالعہ سے تو عزیمت واستقامت اختیار کرنے کی شہہ ملتی ہے ، عیینہ سے شیخ کو اخراج کرنے کا حادثہ بہت ہی عبرت انگیز وپر درد ہے ، ریگستان عرب کی سخت دھوپ، شیخ آگے پیادہ پا، ہاتھ میں صرف ایک پنکھا اور پیچھے پیچھے فرید گھوڑے پر سوار ، ابن معمر نے درپردہ شیخ کے قتل کا بھی حکم دیا تھا ، شیخ آگے آگے {وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا۔وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ}کا ورد کرتے ہوئے چلے جاتے تھے ، سپاہی نے راستے میں بات نہیں کی ، جب اس نے قتل کاارادہ کیا تو خود اس کے بیان کے مطابق کسی غیبی طاقت نے اس کا ہاتھ روک لیا ، اس پر رعب طاری ہو گیا اور اسی عالم میں وہ الٹے پاؤں عیینہ کی طرف واپس ہوگیا ۔بحوالہ( محمد بن عبدالوہاب ایک مظلوم وبدنام مصلح :ص:۳۲)
    محترم قارئین ! یہ چند نمونے تھے عزیمت واستقامت کے تاکہ ہمارے اندر بھی عزیمت واستقامت کا جذبہ پیدا ہو ،ایثار وقربانی تسلیم و رضا اور صبر ومصابرت کا دامن تھامے ہندوستان کی موجودہ حالت انتہائی تشویشناک دردناک وخونچکاں ہے بالخصوص مسلمانوں کے لیے استقلال واستقامت کا وقت ہے ، بھگوا دہشت گردوں اور فرقہ پرست عفریتوں ،وانگریزوں کے گرگوں نے جو شورش اور فساد بپا کررکھا ہے ، ہجومی تشدد( mob lynching)گئو رکھشک ، لوجہاد اوراین آرسی وغیرہ وغیرہ کے نام پر نہ جانے کتنے نہتے معصوم وبے قصوروں کو موت کا گھاٹ اتار دیا کہ ۔ اللہ کی پناہ۔ اسی پر بس نہیں روزانہ کے اخبارات میں دیکھیے کتنے نفرت آمیز وبھڑکاؤ بیانات !
    الغرض یہ کہ طرح طرح سے مسلمانوں پر حملہ کیا جارہا ہے ،انہیں ڈپریشن میں مبتلا کیا جارہا ہے ، پوری فضازہرآلود ہے ، لہٰذا یہ وقت کی ندا ہے کہ استقامت اختیار کرلیجیے ، صبر وشکیب کا مظاہرہ کیجیے، حالت کاقطعاً شکوہ نہ کیجیے ،آپ اس پر غور کیجیے کہ یہ ظالم ہمارے اوپر کس گناہ اور پاپ کی وجہ سے مسلط ہوا ہے ، اپنا احتساب کیجیے اپنے ضمیر کو دیکھیے اور اپنی اصلاح کی کوشش کیجیے اور اطمینان رکھیے کیونکہ جب اندھیرا آخری درجے میں ہوتا ہے تو سحر پیدا ہوتی ہے بس اتنا سمجھیے کہ’’سحابة صيف عن قليل ثم تنقشع‘‘

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings