Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • ماہ رمضان اور ہماری ذمہ داریاں

    اسلام کے عائد کردہ فرائض واحکام سے انسانوں کو دنیا وآخرت کے اعتبار سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں، دنیوی فوائد میں بالخصوص انسانی نفس کی تطہیر وتہذیب کے ساتھ عبادتیں اس کے اخلاق وکردار میں نکھار لاکرایک صالح معاشرہ کی تشکیل کا سبب بنتے ہیں نیزباہمی الفت ومحبت کی فضا قائم کرکے دائمی تعلقات کے حصو ل ہدف کو یقینی بناتے ہیں اور اخروی فوائد میں بہترین اجر کا مستحق بناکر انسان کی اخروی کامیابی کو یقینی بناتے ہوئے حصول جنت کی راہ ہموار کرتے ہیں،لیکن دنیوی واخروی فوائد سے وہی لوگ مستفید ہوتے ہیںجولوگ احکام وعبادات کی انجام دہی سے قبل ان کے اہداف ومقاصد کو ملحوظ رکھتے ہیں اور پھر سنت کی پیروی کرتے ہوئے ان اعمال کو بجا لانے کی سعی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے متعدد فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ماہ رمضان کا روزہ بھی ہے ،جوماہ کہ اپنی تمام تر سعادتوں اور برکتوںکے سا تھ جلوہ گر ہو چکا ہے ، اس ماہ مبارک کے گزرنے کے ساتھ ہماری انفرادی واجتماعی زندگیوں میں انقلاب لانے کی بڑی سخت ضرورت ہے کیونکہ جب تک ہمیں اپنے اندر انقلاب لانے کی فکر نہیں ہوگی تب تک انقلاب نہیں آسکتا کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جسے قرآن مجید کے اندر بیان کیاــ:
    {إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّي يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ}
    ’’اللہ کسی قوم کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں‘‘
    [الرعد:۱۱]
    بقول علامہ اقبالــ:
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کوخیال خود آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
    اس لئے اس ماہ مبارک کو اسی طرح گزاریں جیساکہ ہمارے اسلاف نے گزارا،اور اس مہینے سے وابستہ فوائد وثمرات سے مالا مال ہوئے،انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی اور معاشرتی زندگی میں اصلاح کی کوششوں میں کامیابی حاصل کئے۔اس کے لئے سب سے پہلے مقاصد رمضان کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کیونکہ جب تک مقاصد پر ہم غور نہیں کریں گے اور ایسے ہی عبادت کو عادت کی حیثیت سے گزارتے رہیں گے ، اس طرح سے ہماری زندگی میں ماہ رمضان متعدد بار آنے کے باوجود ہمارے اندر انقلاب لانے کا سبب نہیں بن سکتا اور اگر مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک رمضان گزاریں تو ممکن ہے کہ وہی ہماری اصلاح کاذریعہ بن جائے گا ان شاء اللہ۔ذیل کے سطور میں رمضان کے چند مقاصد کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے جنھیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
    ۱۔ماہ رمضان کے مقاصد میں سے سب سے اہم مقصد حصول تقویٰ ہے، جس کی صراحت فرضیت روزہ کے ساتھ ہی اللہ نے کیا، ماہ رمضان میں انسان کے لئے صبح سے شام تک کھانے پینے سے باز رہنے،جائز جنسی خواہشات کی تکمیل سے رکنے اورزبان کی حفاظت کرنے میں سوائے خوف الہٰی کے دوسری کوئی چیز نہیں ہوتی۔ گویا کہ اس ماہ سے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ یہی کیفیت رمضان کے علاوہ ایام میں زندگی کے ہر محاذ پرہونی چاہئے ، تب جاکر روزہ ہمارے لئے مفید تر ثابت ہو سکتا ہے۔
    ۲۔ ماہ رمضان کا دوسرا اہم مقصد انسا ن کے اندر پائی جانے والی بہیمی صفت پر ملکوتی صفت کو غالب کرنا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر دو طرح کی صفتیں پائی جاتی ہیں،ایک بہیمی یعنی جانوروں والی صفت اور دوسری ملکوتی یعنی فرشتوں والی صفت،انسان اپنی زندگی کا نصب العین جب پیٹ بھرنا ہی بنالے تو اس کے اندر بہیمی صفت غالب آتی ہے کیونکہ جانوروں کی زندگی کا بس یہی مقصد ہے،ایسی صورت میں انسان شرافت کے معیار سے نیچے کی سطح میں زندگی گزارتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس انسان جب کھانے پینے سے بے نیاز رہتا ہے جو کہ فرشتوں والی صفت ہے تو انسان کے اندر اعلیٰ اوصاف پائے جانے لگتے ہیںاور ایسے ہی انسانوں کی غایت درجہ شرافت بیان کرنے کے لئے اسے فرشتہ صفت انسان کہا جانے لگتا ہے،اور یہی وجہ ہے کہ جب انسان روزہ سے ہوتا ہے تو فرشتوں کی طرح کھانے پینے سے بے نیازی انسان کو فرشتوں کا عمل یعنی عبادت کی انجام دہی کا خوگر بنادیتی ہے اور انسان فطری طور پر اس حالت میں عبادات کی انجام دہی کی طرف مائل ہوتا ہے جیسا کہ ماہ رمضان میں ہر شخص محسوس کرتاہے۔
    ۳۔ماہ رمضان کا تیسرا بنیادی مقصد: چونکہ انسان اس دنیا میں عبادت الٰہی کی خاطر پیدا کیا گیا،انسان اپنے مقصد تخلیق میں کس حد تک مصروف عمل ہے اس رفتار کا صحیح اندازہ متعین کرنے کے لئے ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت ہوئی،جس سے ہر مسلمان کو غیر رمضان میں اپنی عبادتوں کا معمول طے کرنا چاہئے۔
    ۴۔مقاصد رمضان میں سے ایک اہم مقصدجذبۂ صبر کو عام کرنا ہے،اس اجمال کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ ایک انسان حالت صوم میںرضائے الہٰی کی خاطرجائز چیزوں مثلاً کھانے ،پینے اورجائز خواہشات کی موجودگی میں بھی ان تمام چیزوں سے اپنے کو روکتا ہے اور اسی کا نام صبر ہے جس سے یہ سنہرا پیغام ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اندر کنٹرولنگ پاؤر پیدا کرنا چاہئے اور رمضان وغیر رمضان میں منکرات سے اپنے کو روکنا چاہئے ،جیسا کہ کنٹرولنگ کا سبق ماہ رمضان میں دیا جاتا ہے۔
    ۵۔ماہ رمضان کا ایک اہم مقصدجذبۂ ایثار کو فروغ دینا ہے،کیونکہ اس ماہ میں امیر وغریب کے لئے یکساں روزے کی فرضیت سب کو بھوک کے درد کا احساس دلاتی ہے اور بالخصوص معاشرے کا مالدار طبقہ اس عبادت کی انجام دہی سے ہی غربت و افلاس کی چکی میں پس رہے افراد کے کرب کو صحیح طور پر محسوس کر تا ہے ،اور اسی وجہ سے مالدار آدمی اپنے مال سے غرباء کا تعاون کرتا ہے ۔بفرض محال اگر یہ عبادت فرض نہ ہوتی تو شدت بھوک کی تکلیف کا احساس ایک مالدار آدمی نہیں کر سکتا اور وہ غریبوں کی مدد کرنے میں اس قدر فراخدلی کا مظاہرہ نہیں کرتا جتنا کہ اس عبادت کی انجام دہی سے محسوس کرنے کے بعد کرتا ہے۔اسی مقصد کو عام کرنے کے لئے رمضان کے روزوں کی فرضیت ہوئی۔
    ۶۔ اس ماہ مبارک کے اساسی مقاصد میں سے ایک مقصد اتحاد ویکسانیت کوعام کرنا ہے،کیونکہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں تمام مسلمانوں کو یکساں عبادت کا حکم دیا گیا ہے یعنی ایک وقت سے ایک مخصوص وقت تک تمام افراد کو کھانے پینے سے بے نیاز رہنا ہے،یہ عبادت فی الاتحاد اس بات کا اشارہ ہے کہ تمام افراد مسلم ایک جیسے ہیں ، مسلمانوں کے درمیان طبقاتی تقسیم یہ اسلامی مزاج کے خلاف ہے،اسلام اس عبادت میں یکسانیت کاماحول رکھ کر سب کو اتحاد کی تعلیم دیتا ہے۔
    ۷۔ ماہ رمضان کا ایک مقصد مسلمانوں کو پابندیٔ وقت کاخوگر بنانا ہے ،کیونکہ ایک متعینہ وقت سے لے کر ایک متعینہ وقت تک کھانے پینے کی چیزوں کو ترک کرنااور ایک لمحہ دیر تک کھانا اور وقت سے ایک لمحہ پہلے کھانے کی چیز منہ میں لینا گوارہ نہیں کیا جاتا۔بعینہٖ یہی پیغام امت اسلامیہ کو دیا جاتا ہے کہ زندگی کے دیگر دوسرے مواقع پر وقت کی نزاکتوں کو سمجھ کر اس کی قدر کی جائے اور وقت سے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے۔
    ۸۔اخلاص وللہیت کا سبق بھی اس مہینے سے ملتاہے،اس لئے کہ ایک روزہ دار آدمی حقیقت میں روزہ اللہ کے لئے رکھتا ہے کیونکہ غیروں کے سامنے اپنے روزے کااظہا ر اور خفیہ طور پر کچھ کھا پی کر اپنے نفس کو تسکین پہنچا سکتاہے مگر حقیقی روزہ دار روزہ خالص اللہ ہی کے لئے رکھے گا کیونکہ خلوت وجلوت ہر مقام پر تسکین نفس سے مانع صرف اورصرف خوف الہٰی ہوسکتا ہے۔اس عبادت سے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ روزہ ہی نہیں بلکہ تمام عبادتوں کی انجام دہی میںخالص اللہ ہی کی رضا مطلوب ومقصود ہونی چاہئے۔
    ۹۔قرآ ن مجید سے وابستگی،اس ماہ مقدس کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد لوگوں کو قرآن مجید سے جوڑنا اور قرآن کے آئین کا پابند بناناہے،اسی لئے اس مہینے کی نسبت قرآن سے جوڑی گئی ہے اور اس مہینے کا ربط قرآن سے واضح کیا گیا،اس لئے تاکہ ایک آدمی اس ماہ میں جہاں روزہ رکھتا ہے وہیں رمضان سے گہرا رشتہ ہونے کی وجہ سے قرآن کی تلاوت اپنے معمول کا ایک حصہ بنائے،اور اس ماہ میں جس طرح روزہ کے اصول کی پابندی کرتا ہے اسی طرح آئینی حیثیت کی حامل کتاب قرآن مجید کو اپنی زندگی میں نافذ کرے۔
    ۱۰۔دعاؤں کی پابندی کرنا ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاںرمضان کے روزے کی فرضیت اور مسائل واحکام بیان کئے وہیں درمیان میں دعا کا تذکرہ اس بات کی دلیل ہے کہ عبادتوں کو مقبولیت کا مقام فراہم کرنے میں دعاؤں کا اہم دخل ہے ۔اس لئے ہر مسلمان کو بطور عبادت یا’’ الدعاء سلاح المومن‘‘ کے تحت دعا کا التزام کرنا چاہئے۔
    درج بالاسطور میںماہ رمضان کے مقاصد کی چند جھلکیاں پیش کی گئیں جن کی رعایت کرتے ہوئے ہمیں رمضان گزارناچاہئے۔ذیل کے سطور میں ماہ رمضان کے اہتمام میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے،مثبت ومنفی ہر دو پہلو سے چند باتیں ہدیۂ قارئین ہیں۔
    اس ماہ رمضان میں نبی ﷺ کی سخاوت زیادہ ہو جاتی تھی یعنی کہ آپ ﷺاس مہینے میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ ہی عبادات کی انجام دہی میں مستعد ہو جاتے۔(بخاری) اور ماہ رمضان کی برکتوں سے استفادہ کرنے کی خصوصی تاکید فرماتے،چنانچہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺمنبر پر چڑھے اور منبر کی ہر سیڑھی پر آمین کہا ،پھر بعد میں آپ ﷺنے فرمایا: میرے پاس جبرئیل آئے تھے اور انھوں نے کہا:اے محمد ﷺ جو شخص رمضان کا مہینہ پالے اور اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش نہ کروالے، اس پر اللہ کی لعنت ہو،تو میں نے آمین کہا،[صحیح الترغیب والترھیب]
    یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام اس ماہ کی عبادتوں میں بہت ہی زیادہ محنت فرماتے تھے،اور اسلاف کرام بھی اس مہینہ کا بہت ہی زیادہ احترام کرتے تھے اور اس میںخوب عبادتیں کیا کرتے تھے۔امام مالک کے بارے میں آتا ہے کہ وہ درس وتدریس اور فتویٰ دینے کی مصروفیتوں سے رک جاتے اور ساراوقت تلاوت اور عبادت میں گزارتے۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ عموماً ہفتہ میں ایک بار قرآن ختم کرتے تھے مگر جب رمضان آتا تھا تو ہر ہفتہ میں دو بار قرآن ختم کرتے تھے۔بعض اسلاف رمضان میں عبادتوں کی انجام دہی کے لئے چھ ماہ قبل ہی رمضان پانے کی دعا کرتے اور اس مہینہ سے بھر پور مستفید ہونے کے لئے کافی دنوں قبل ایک بہترین منصوبہ تیا ر کر لیتے تھے، اس لئے تمام مسلمانوں کو اسلاف کے منہج کو اپناتے ہوئے اس مہینے میں ثابت شدہ عبادات کو کثرت سے انجام دیتے ہوئے اس ماہ کو گزارناچاہئے۔ مثلاً پورے رمضان کے اندر روزے کی پابندی،نمازتراویح کا اہتمام،قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کے ساتھ قرآن کا مطالعہ،صدقہ وخیرات،دعاکا اہتمام،لیلۃ القدر کی تلاش میں آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب بیداری کرکے رات کو عبادت میں گزارنا،اعتکاف میں بیٹھنا،روزہ داروں کے لئے افطاری کا نظم کرنا،صدقۃ الفطر کی ادائیگی کرنا جیسے ثابت شدہ اعمال کی انجام دہی کے ساتھ اس مہینے کو گزارنا۔اس کے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت کی جاتی ہے کہ ہماری عبادات میں تسلسل ہونا چاہئے کیونکہ عموماً دیکھنے کو ملتا ہے کہ شروع رمضان میں مساجد نمازیوں اور بالخصوص تراویح پڑھنے والوں سے بھری رہتی ہیں اور پانچ ،چھ دن کے بعد مسجدیں خالی ہوجاتی ہیں اور پھر آخری عشرے کی طاق راتوں ہی میں ازدحام دیکھنے کو ملتا ہے۔یہ اور اس طریقے کی عبادات کی انجام دہی کا ثبوت ہماری شریعت میں نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے اسلاف کے طرز زندگی سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے ۔لہٰذا عبادات کی انجام دہی میں طریقہ سلف ہی کو اپنا اسوہ بنانا چاہئے۔
    رہی بات منفی پہلو کی تو رمضان المبارک میں بہت سے اعمال ایسے ہیں جن سے ہر مسلمان بالخصوص ہر روزہ دار کو اجتناب کرنا چاہئے،مثلاً حالت روزہ میں بد زبانی اور لڑائی جھگڑا سے خصوصی طور پہ بچنا چاہئے جیسا کہ نبی ﷺ نے خود اس سے منع فرمایا ہے۔[بخاری]
    اسی طرح بسیار خوری سے احتیاط برتنا چاہئے کیونکہ عموماً رمضان میں کھانے پینے کے بیشمار لوازمات کو انسان اپنے روٹین میں شامل کرتا ہے اور اس پر عمل آوری کی وجہ سے بسا اوقات نماز عشا ء وتراویح کی ادائیگی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اور کچھ تو ایسے ہیں کہ ماہ رمضان میں بسیار خوری ہی میں مصروف رہ کر عبادت کی فکر ہی سے محروم رہ جاتے ہیں۔
    ایسے ہی اس ماہ مبارک میںاوقات کے ضیاع سے بچنا چاہئے،اور بالخصوص نماز فجر تا طلوع شمس اور نماز عصر تا غروب شمس کے دوران عبادت میں گزارنا چاہئے کیونکہ ان اوقات میں عبادت کی خصوصی تاکید کی گئی،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایاـ:
    {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا}
    ’’یعنی اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے‘‘
    اور دوسرے مقام پر فرمایا:[طہ :۱۳۰]
    {وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا}
    [الدھر:۲۵]
    یہ اور اس کے علاوہ تاکیدات ان اوقات سے متعلق ملتی ہیں مگر بدقسمتی سے جن اوقات کو عبادت کے ساتھ گزارنے کی خصوصی تاکید کی گئی انہیں اوقات کو مردو خواتین ضائع کر دیتے ہیں ،بعد عصر مرد حضرات افطاری کے دسترخوان پر عمدہ چیزوں کے اہتمام میںخریداری میں یہ قیمتی وقت ضائع کردیتے اور عورتیں شام کے عمدہ پکوان میں اس قیمتی وقت کو ضائع کردیتی ہیں،ہونا تو یہ چاہئے کہ اس ماہ مقدس میں تمام اوقات بالخصوص بعد عصر عبادات میں گزار یں اور دوسرے ایام میں کھانے پینے اور اہم پکوان کا اہتمام کرلیںتاکہ اس ماہ کو کلی طور پر اپنے لئے مفید بناسکیں۔
    اسی طرح آخری عشرے کی فضیلت میں بیشمار احادیث وارد ہیں، نبی ﷺ خود اس عشرے کی آمد پر عبادتوں کے لئے کمر بستہ ہوجاتے تھے اور اپنے اہل وعیال کو عبادت پر ابھارتے تھے مگر آج آخری عشرہ عید کی تیاریوں کی نذر ہوجاتا ہے، مرد و خواتین عید کے میدان میں چند افراد کے سامنے اپنے زیب وزینت کے اظہار کے لئے رمضان کے اس اہم وقت کو ضائع کر بیٹھتے ہیں حالانکہ اس عید کی تیاری سے زیادہ فکر میدان محشر کے اولین وآخرین کے اجتماع میںزیب وزینت کی ہونی چاہئے اور اس وقت ہمارے لئے زیب وزینت ہماری نیکیاں ہو سکتی ہیں جن کے کمانے کا ایک سنہرا موقع رمضان کاآخری عشرہ ہے جسے ہم اہمیت نہ دینے کی وجہ سے اس کی سعادتوں سے محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
    اس ماہ مقدس میں بہت سے افراد سڑکوں پر بھکاریوں کی شکل بنا کر مانگتے پھرتے ہیںاور مسلمان انھیں از روئے ثواب ایک دو روپیہ دیکر بہت بڑی نیکی کی امید میں رہتے ہیں۔حالانکہ اسلام نے اضطراری حالت میں بھیک مانگنے کی اجازت دی ہے،مستحق لوگ یقینا بھیک مانگ سکتے ہیں مگر اکثر رمضان میں پیشہ ور بھکاری ہوا کرتے ہیں،اس لئے بھیک دینے والے اپنے مال کو مستحق افراد کا پتہ لگا کر ان کے گھر پہنچانے کی کوشس کریں تو اس کے عمدہ اثرات عیاں ہونگے،بالخصوص پیشہ ور بھکاری جو اسلام کی شبیہ خراب کر رہے ہیں ان سے ہمارا مال محفوظ رہے گا اور دوسرا یہ کہ مستحق افراد تک پہنچ کر ہمارے معاشرے سے غربت کے خاتمہ کا سبب بنے گا،اور تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ جب گھر بیٹھے مسکینوں کو تعاون ملتا رہے گا تو دوسرا روڈ پر بھیک مانگنے سے بچے گا،اور چوتھا یہ کہ صدقات وخیرات کو اللہ نے کسان کے دانے سے تشبیہ دیا ہے جبکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ کسان فصل اگانے کے لئے بیج کہیں غیر مناسب جگہ پر نہیں ڈالتا بلکہ ہموار زمین پر ڈالتا ہے تاکہ بھر پور فائدہ ہو ایسے ہی ہمیں اپنے صدقات بغیر تحقیق کے ہر کسی کو دینے سے بچنا چاہئے،اور مناسب جگہ پر دینا چاہئے تاکہ اس کے دنیاوی واخروی فوائد حاصل ہو سکیں۔
    ماہ رمضان میں منکر کاموں میں سے ایک کام یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ عموماً لوگ تراویح کے بعد ہوٹلوں اور مسجد کے باہری حصے میں گفتگو کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں،حالانکہ مناسب تو یہ ہے کہ عشاء کے بعد دینی گفتگو کے علاوہ گفتگو سے پرہیز کیا جائے کیونکہ نبیﷺ نے عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد غیر ضروری بات کرنے سے منع فرمایا،اس لئے اگر تراویح کے بعد مسجد میں تفسیر قرآن کا انتظام ہو تو اس نشست میں بیٹھ کر قرآنی علم حاصل کریں ورنہ فضول گفتگو کے بجائے سو جانا بہتر ہے۔
    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ آنے والا رمضان ہمارے لئے مفید بنائے ، اورہمیں زیادہ سے زیادہ عبادت کی سعادت نصیب فرمائے۔آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings