Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • میت کی طرف سے قربانی کا مسئلہ

    مسائلِ قربانی کے ضمن میں ایک بات یہ بھی آتی ہے کہ اگر کسی کے والدین فوت ہوچکے ہوں یا وہ کسی دوسرے فوت شدہ عزیز کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
    اس مسئلے میں اہل علم کی تین آراء ہیں۔
    ایک فریق کا کہنا ہے(حنفیہ و حنابلہ) کہ فوت شدگان کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے ۔ ان کا استدلال ایک تو ان احادیث سے ہے جو سنن ابو داؤد، ترمذی، دار قطنی و بیہقی اور مسند احمد میں مذکور ہیں ،کہ نبی اکرم ﷺ نے دو مینڈھے قربانی کے لیے ذبح کیے۔ ایک اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے اور دوسرا اپنی امت کے لوگوں کی طرف سے ۔
    اس میں طریقۂ استدلال یہ ہے کہ امت کے لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو فوت ہو چکے ہیں، لہٰذا فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہوا، لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے خصائص میں سے ہے، لہٰذا آپ ﷺ کا اپنی امت کی طرف سے قربانی دینا فوت شدگان کی طرف سے قربانی کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے :[إرواء الغلیل فی تخریج أحادیث منار السبیل للألبانی: ۴؍۳۵۱، ۳۵۵،المکتب الإسلامی بیروت ]
    فوت شدگان کی طرف سے قربانی کے جواز کی دوسری دلیل حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل ہے، چنانچہ سنن ابو داؤد و ترمذی میں حضرت حنش رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دو مینڈھے قربانی کرتے دیکھا اور پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:
    ’’إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلى اللّٰه عليه وسلم اَوْصَانِيْ اَنْ اُضَحِّيَ عَنْهُ فَاَنَا اُضَحِّيْ عَنْهُ‘‘
    ’’ مجھے نبی اکرم ﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ ﷺ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں، لہٰذا میں آپ کی طرف سے بھی ایک قربانی کرتا ہوں‘‘
    اس روایت سے یوں استدلال کیا جاتا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی طرف سے قربانی کرنا اور وہ بھی آپ ﷺ کے حکم سے تھا تو ہر کسی کے لیے یہ جائز ہوا۔
    اس روایت سے استدلال تب درست ہوتا جب یہ صحیح ہوتی جبکہ اسے خود امام ترمذی، حافظ ابن حجر، امام ذہبی، امام منذری، امام ابن حبان، علامہ عبدالرحمن مبارکپوری، علامہ احمد عبد الرحمن البنا اور علامہ عبید اللہ رحمانی رحمہم اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔دیکھیں:
    [مشکاۃ المصابیح ت الألبانی:المکتب الإسلامی، بیروت،۱؍۵۴۹،تحفۃ الأحوذی:۵؍۶۵،دارالکتب العلمیۃ ،بیروت، مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح للمبارکفوی:۵؍۹۳،إدارۃ البحوث العلمیۃ والدعوۃ والإفتاء . الجامعۃ السلفیۃ ،بنارس ،الہند ]
    امام ترمذی نے اس کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ بعض اہل علم اس کے جواز اور بعض عدم جواز کے قائل ہیں۔
    عبداللہ ابن المبارک فرماتے ہیں کہ:
    ’’أحب إلى أن يتصدق عنه ولا يضحي، وإن ضحي فلا يأكل منها شيئا ويتصدق بها كلها‘‘
    مجھے زیادہ محبوب یہ ہے کہ فوت شدگان کی طرف سے قربانی نہ دی جائے بلکہ ان کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور اگر قربانی دی جائے تو پھر اس کا گوشت خود نہ کھایا جائے بلکہ سارے کا سارا ہی تقسیم کر دیا جائے۔ علامہ عبدالرحمن مبارک پوری نے لکھا ہے کہ مجھے کوئی ایسی مرفوع اور صحیح حدیث نہیں ملی جو فوت شدگان کی طرف سے قربانی کے جواز پر دلالت کرتی ہو اور حضرت علی رضی اللہ عنہ والی حدیث ضعیف ہے۔ اگر کوئی شخص کسی فوت شدہ کی طرف سے قربانی کرے تو احتیاط اسی میں ہے کہ ایسی قربانی کا سارا گوشت تقسیم کر دے۔
    البتہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فوت شدگان کی طرف سے قربانی کے جواز کے قائل ہیں۔
    ’’وتجوز الأضحية عن الميت كما يجوز الحج عنه والصدقة عنه ويضحي عنه فى البيت ولا يذبح عند القبر أضحية ولا غيرها ‘‘
    [مجموع الفتاویٰ لإبن تیمیۃ:۲۶؍۳۰۶]
    دوسرے فریق میں شافعیہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ میت کی طرف سے قربانی کرنا صحیح نہیں الا یہ کہ میت اس کی وصیت کرجائے۔
    تیسری رائے یہ ہے کہ میت کی طرف سے قربانی مع الکراہۃ درست ہے ، مالکیہ کا یہ قول ہے۔
    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اصل تو یہ ہے کہ قربانی یہ زندوں کی جانب سے کی جاتی ہے جیسا کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے نفس اور اہل کی طرف سے کیا ہے ،برعکس اس شخص کے جو یہ گمان کربیٹھے ہیں کہ قربانی صرف مُردوں کی جانب سے کی جاتی ہے۔
    میت کی جانب سے قربانی کے تین اقسام ہیں :
    ۱’’ أن تكون تبعا للأحياء ‘‘
    ’’ کہ مُردوں کی قربانی زندوں کے ضمن میں ہو‘‘۔
    باحیات افراد کی طرف سے قربانی کے تابع ہو ، یعنی جیسے کہ کوئی شخص قربانی کرے اپنی طرف سے اور خویش و اقارب کی طرف سے (اور خویش و اقارب میں باحیات ووفات شدگان بھی شامل ہوجائے )
    ۲۔ ’’أن يضحي عن الميت استقلالا تبرعا ‘‘۔’’کہ میت کی جانب سے مستقل طور پر صدقہ وثواب پہنچانے کی غرض سے قربانی دے ‘‘۔
    فقہاء حنابلہ وغیرہ میت کی جانب سے صدقہ کرنے پر جو ثواب ملتا ہے اس پر قیاس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قربانی کی یہ صورت بہتر ہے اس میں خیر ہے میت کو فائدہ ہوگا ،ثواب ملے گا ، (لیکن یہ صورت درست نہیں ہے )
    ۳۔ ’’أن يضحي عن الميت بموجب وصية منه تنفيذا لوصيته ، كما أوصي بدون زيادة ولا نقص‘‘۔
    ’’ کہ میت کی جانب سے قربانی کیاجائے اس کی وصیت کو نافذ کرتے ہوئے ، یعنی اگر میت یہ وصیت کرجائے کہ میری جانب سے قربانی کرنا تو ان کی وصیت کو نافذ کرنا واجب ہے لیکن خیال رہے کہ وصیت کی تنفیذ میں افراط وتفریط کے شکار نہ ہوں‘‘ ۔
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا : {فَمَن بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَي الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ}
    ’’اب جو شخص اسے سننے کے بعد بدل دے اس کا گناہ بدلنے والے پر ہی ہوگا، یقیناً ہی اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے‘‘
    [البقرۃ:۱۸۱]
    تفصیل کے لیے دیکھئے:[ أحکام الأضحیۃ والذکاۃ للشیخ ابن عثیمین:۲؍۲۲۱]
    بہر کیف خلاصۃ الکلام یہ ہے کہ میت کی جانب سے مستقل طور پر قربانی کرنا نہ رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ثابت ہے اور نہ ہی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے، اور ذرا غور فرمائیں کہ رسول اللہ ﷺ باحیات تھے اور آپ کی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا( جن سے آپ بہت زیادہ محبت کرتے تھے) کی وفات ہوئی، فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سوا آپ کی تمام اولادکا آپ کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا لیکن آپ ﷺ نے کبھی بھی ان کی طرف سے مستقل طور پر قربانی نہیں کیا ہے، اگر یہ مشروع عمل ہوتا تو رسول اللہ ﷺضرورکرتے یا اپنی امت کی رہنمائی کرتے، لہٰذا قربانی یہ فاعل کے جسم وبدن سے تعلق رکھتا ہے،جیسا کہ نماز ودیگر عبادت، اور اللہ تعالیٰ نے نماز کے ساتھ قربانی کو جوڑا ہے’’فصل لربک وأنحر‘‘(یعنی جس طرح آپ کے لیے جائز نہیں ہے کہ میت کی جانب سے نماز پڑھیں اسی طرح میت کی طرف قربانی کرنا بھی جائز نہیں ہے )
    اور یہ کہ قربانی میں اصل یہ ہے کہ وہ مکلف کی طرف سے ہوتا ہے یعنی مکلف قربانی کرتا ہے اور مکلف ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ زندہ ہو،اسی طرح بہت سارے لوگ مستقل طور پر میت کی طرف سے قربانی دے کر فخر و مباہات اورشیخی بھی بگھارنے لگتے ہیں ۔
    لہٰذا معلوم ہوا کہ میت کی جانب سے مستقل طور پر قربانی کرنا درست نہیں ہے، اگر آپ میت کو ثواب پہنچانا چاہتے ہیں تو شریعت اسلامیہ نے میت کو ثواب پہنچانے کے جو طریقے بیان کیے ہیں( مثلاً صدقہ وغیرہ کرنا) اس پر عمل کیجیے ، جیساکہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا:
    ’’قال الشيخ ابن عثيمين والذين أجازوا الأضحية عن الميت استقلالاً إنما قاسوها على الصدقة عنه، ومن المعلوم أن ثبوت الحكم فى المقيس عليه أقوي من ثبوته فى المقيس، فتكون الصدقة عن الميت أولي من الأضحية عنه.‘‘
    [مجموع فتاویٰ ورسائل العثیمین]
    اور جن احادیث میں اس طرح کے الفاظ ہیں کہ ’’هذا عني وعمن لم يضح عن أمتي‘‘ ان احادیث سے بعض علماء نے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ قربانی تو زندوں کی جانب سے ہی کی جائے گی لیکن ثواب میں فوت شدگان کو بھی شامل کرلیں گے ، تو جمع وتوفیق کی یہ صورت درست ہے ،اور یہ اس قاعدہ کے موافق بھی ہے’’ يثبت تبعا ما لا يثبت استقلالا‘‘
    راجح :  دلائل کی روشنی میں راجح بات یہ ہے :
    ۱۔ میت کی جانب سے مستقل قربانی کرنا درست نہیں ہے ۔
    ۲ ۔ قربانی زندوں کی طرف سے ہوگی اور قربانی کرنے والے اپنے اہل وعیال خویش و اقارب(جس میں زندہ مردہ ) کو شامل کرلیں گے،یعنی قربانی تو زندوں کی جانب سے ہی کی جائے گی لیکن ثواب میں فوت شدگان کو بھی شامل کرلیں گے۔
    ۳۔ اگر میت نے وصیت کیا ہے کہ اس کی جانب سے قربانی کیا جائے ، تو اس کی جانب سے قربانی کرنا واجب ہے۔
    هٰذا ما ظهر لي ، واللّٰه أعلم بالصواب
    ٭٭٭

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings